All posts by Daily Khabrain

عام انتخابات ، مخصوص نشستوں پر 2 ہزار سے زائد خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دئیے

لاہور(احسان ناز سے)الیکشن 2018میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوںپر 2000سے زائد خواتین نے اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں سے کاغذات حاصل کر کے الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کا سلسلہ جاری ہے سیاسی جماعتوں کی طرف سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے لیے درخواستیں وصول کی گئی زیادہ تر سابقہ ایم این اے اور ایم پی ایز کے سمیت پارٹیوں کے مختلف خواتین عہدیداروں نے حاصل کی جبکہ قومی سمبلی میں60اور پنجاب اسمبلی میں66 خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے جنگ 2000سے زائد خواتین لڑ رہی ہیں تفصیلات کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے 1080،پاکستان تحریک انصاف640،پاکستان پیپلز پارٹی110،ق لیگ 250جبکہ متحدہ مجلس عمل ، لبیک یارسول اللہ ،آل پاکستان مسلم لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی خواتین کی مخصوص نشستوں پر کاغذات نامزدگی جمع کر ا رکھے ہیں معلوم ہوا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں الیکشن کمیشن کو اپنی اپنی جماعت کی طرف سے ترجیحی ناموں کی فہرست جاری کریں گی اس جاری کردہ لسٹ کے مطابق جو پارٹی الیکشن2018میں جتنی ڈاریکٹ الیکشن لڑکر آنے والے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی پر محیط ہوگی کہ کونسی پارٹی کتنی سیٹیں جیت کر آئی ہے صوبائی اسمبلی میں 5ارکان اسمبلی پرایک خواتین کی مخصوص نشست حاصل ہوگی اسی طرح قومی اسمبلی میں 3.5کے حساب سے خواتین کو مخصوص نشستیں پارٹی کے حساب سے ملیں گی معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب سے مسلم لیگ (ن) 19،پی ٹی آئی 25،پاکستان مسلم لیگ5اورپاکستان پیپلز پارٹی7جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں خواتین کی مخصوص نشستوں میں سے اپنا اپنا حصہ وصول کریں گی ذرائع کے مطابق مختلف سیاسی پارٹیوں نے پارٹی ٹکٹ کی امیدوار خواتین سے قومی و صوبا ئی اسمبلی کے لیے 10,000,0،7,500,0، 5,000,0اور3,000,0ہزار پارٹی فنڈ حاصل کیا گیا ہے خبریں کے استفسار پر مختلف سیاسی پارٹی کے ذمہ د اروں نے پارٹی فنڈ حاصل کرنے کے سوال پر جواب دینے سے معذوری ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ پارٹی فنڈ حاصل کرنے کے لیے جو بھی طریقہ کار اپنایا گیا ہے ہمارے علم سے باہر ہے ۔

 

نواز ، مریم کیخلاف احتساب ریفرنس ، ایک ماہ میں فیصلے کا حکم

لاہور (کورٹ رپورٹر) سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو شریف خاندان کے خلاف نیب کی جانب سے دائر تینوں ریفرنسز کا فیصلہ ایک ماہ میں سنانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ احتساب عدالت چھٹی کے روز بھی ریفرنسزکی سماعت کرے ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس سے ملزمان اور قوم دونوں پریشان اور اذیت کا شکار ہیںاس لئے اس کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے تعطیل کے روز بھی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں احتساب عدالت کی جانب سے ٹرائل کی مدت میں توسیع کے لئے دائر درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے سماعت کے آغاز پر شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے اچھا ہوا آپ آ گئے آپ کو طلب کرنے کا نوٹس جاری کرنے لگے تھے ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں آپ کتنی مدت چاہتے ہیں جس میں ٹرائل مکمل ہو جائے ۔خواجہ حارث نے استدعا کی کہ انہیں6 ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا وقت دیا جائے۔ تاہم فاضل عدالت نے یہ استدعا مسترد کر تے ہوئے کہا کہ اسے ایک ماہ میں مکمل کر کے فیصلہ سنایا جائے اور اس کےلئے چھٹی کے روز بھی عدالت لگے گی اور عدالتی وقت کے بعد اسے سنا جائے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ وہ ہفتہ اور اتوار کے روز عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ ابھی جوان ہیں، میں بوڑھا ہو کر اتوار کو بھی سماعتیں کرتا ہوں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ان کیسز کا فیصلہ ہونا چاہیے، ملزمان بھی پریشان ہیں اور قوم بھی ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ احتساب عدالت اب ہفتے کے روز بھی تینوں ریفرنسز کی سماعت کرے گی چیف جسٹس نے خواجہ حارث کو کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز بیگم کلثوم نواز کی عیادت کے لیے جانا چاہتے ہیں تو جاسکتے ہیں، مجھے بتائیں نواز شریف عیادت کے بعد کب واپس آئیں گے، آپ تشہیر کے لیے کہتے ہیں کہ ہمیں کلثوم نواز کی عیادت کے لیے اجازت نہیں دی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ زبانی درخواست کریں ہم اجازت دیں گے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے ٹرائل مکمل کرنے کے لیے تیسری مرتبہ سپریم کورٹ سے مدت میں توسیع کی درخواست کی گئی اور ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو ایک ماہ کا وقت دیا ہے۔شریف خاندان کے خلاف زیرسماعت ایون فیلڈ ریفرنس آخری مراحل میں داخل ہوگیا جب کہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ ریفرنس کی سماعت میں بھی بیان قلمبند ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

 

نوازاور مریم کلثوم نواز کی عیادت کیلئے لندن جائینگے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نوازشریف اور مریم نواز 5 دن کیلئے لندن جائیں گے، بیگم کلثوم نواز کی عیادت، اہم ملاقاتیں کریں گے، عید کے بعد وطن واپسی ہو گی۔ نجی ٹی وی کے مطابق شریف خاندان کا کہنا ہے کہ نوازشریف اور ان کی صاحبزادی 5 دن کے لئے لندن جا رہے ہیں، لندن کے ہسپتال میں نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز زیر علاج ہیں۔ عید لندن میں گزار کر نوازشریف اور مریم نواز واپس آ جائیں گے۔ نوازشریف لندن میں قیام کے دوران اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ نوازشریف کے لندن قیام میں توسیع کا بھی امکان بتایا گیا ہے۔

.

نواز شریف لندن فلیٹس کے مالک ، قانون طاقتور کیلئے استعمال ہونا چاہئیے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ عوام اور خواص کیلئے الگ الگ پاکستان ہمارا بڑا المیہ ہے۔ کمزور کیلئے قانون کا معیار ایک اور طاقتور کیلئے دوسرا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر لکھی اپنی ٹویٹس میں پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ نیب کے پراسیکیوٹر کا آج کا بیان کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پر نواز شریف کی 1993ءسے ملکیت ثابت کرنے کیلئے کافی شواہد موجود ہیں، ظاہر کرتا ہے کہ کیسے کمزور کیلئے قانون کا معیار ایک ہے اور طاقتور کیلئے دوسرا۔ عوام اور خواص کیلئے الگ الگ پاکستان ہمارا بڑا المیہ ہے۔ نیب کے پراسیکیوٹر کا آج کا بیان کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پر نواز شریف کی 1993 ءسے ملکیت ثابت کرنے کیلئے کافی شواہد موجود ہیں، ظاہر کرتا ہے کہ کیسے کمزور کیلئے قانون کا معیار ایک ہے اور طاقتور کیلئے دوسرا۔ عوام اور خواص کیلئے الگ الگ پاکستان ہمارا بڑا المیہ ہے۔انہوں نے لکھا کہ نون لیگی وزرا اور اہل صحافت ان فلیٹس کی حقیقت سے تین برس قبل اس وقت بھی آگاہ تھے جب پاناما لیکس آئیں لیکن اس کے باوجود سیاسی اجلاسوں اور انٹرویوز کا سلسلہ جاری رہا اور یہ سب چپ چاپ وزیرِاعظم نواز شریف کو منی لانڈرنگ، جعل سازی اور فراڈ کرتے اور اپنے بچوں سے جھوٹ کہلواتے دیکھتے رہے۔ نون لیگی وزرا اور اہل صحافت ان فلیٹس کی حقیقت سے تین برس قبل اس وقت بھی آگاہ تھے جب ”پانامہ لیکس“ آئیں۔ اس کے باوجود سیاسی اجلاسوں اور انٹرویوز کا سلسلہ جاری رہا اور یہ سب چپ چاپ وزیر اعظم نواز شریف کو منی لانڈرنگ، جعل سازی اور فراڈ کرتے اور اپنے بچوں سے جھوٹ کہلواتے دیکھتے رہے۔ سپریم کورٹ، نیب اور جے آئی ٹی کی تحقیقات پر قوم کا سرمایہ خرچ کیا گیا تاہم سزا ہونا ابھی بھی باقی ہے۔ یہ کمزور نظام اور اخلاقی دیوالیہ پن کی علامتیں ہیں۔ دنیا کی کس جمہوریت میں منی لانڈرنگ، فراڈ/جعل سازی میں ملوث وزیراعظم پکڑے جانے پر انتہائی بے حیائی سے مظلومیت کا رونا روتے ہیں؟ عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ، نیب اور جے آئی ٹی کی تحقیقات پر قوم کا سرمایہ خرچ کیا گیا، تاہم سزا ہونا ابھی بھی باقی ہے۔ یہ کمزور نظام اور اخلاقی دیوالیہ پن کی علامتیں ہیں۔ دنیا کی کس جمہوریت میں منی لانڈرنگ، فراڈ اور جعل سازی میں ملوث وزیرِاعظم پکڑے جانے پر انتہائی بے حیائی سے مظلومیت کا رونا روتے ہیں؟ پاکستان تحریک انصاف نے لوڈ شیڈنگ کیخلاف (کل)منگل کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیا ہے،پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے مرکزی و صوبائی قائدین کو قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے ذریعے یونین کونسل سطح تک بھرپور احتجاج کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہنواز شریف اور انکی حکومت نے جھوٹ بولنے اور عوام کو گمراہ کرنے میں پانچ برس صرف کئے، نواز شریف نے بجلی بحران کے خاتمے کیلئے ڈھنگ کا ایک قدم نہیں اٹھایا۔اتوار کو پی ٹی آئی ترجمان کے مطابق تحریک انصاف نے ملک بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی بندش کیخلاف ملک گیر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے،(کل)منگل کو ملک بھر میں بیک وقت احتجاج کیا جائے گا ،چیئرمین تحریک انصاف نے یونین کونسل کی سطح تک احتجاج کی ہدایت کردی ۔پارٹی چیئرمین کی جانب سے مرکزی و صوبائی قائدین کو قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے ذریعے نچلی ترین سطح تک بھرپور احتجاج کی ہدایت کی گئی ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہعوام کو بجلی جیسی بنیادی سہولت کی عدم فراہمی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، نواز شریف اور انکی حکومت نے جھوٹ بولنے اور عوام کو گمراہ کرنے میں پانچ برس صرف کئے، نواز شریف نے بجلی بحران کے خاتمے کیلئے ڈھنگ کا ایک قدم نہیں اٹھایا۔عمران خان نے کہا کہ نگران وزیر اعظم بلاتاخیر مداخلت کریں اور صورتحال میں بہتری کیلئے تدبیر کریں، نگران وزیر اعظم گردشی قرضوں اور بجلی کی حقیقی صورتحال بھی قوم کے سامنے رکھیں، قوم کو علم ہونا چاہئیے کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوں کی حقیقت کیا ہے اور کون اس بحران کا ذمہ دار ہے،بجلی میں خود کفالت کیلئے پن بجلی سمیت دیگر سستے اور دیرپا پیداواری وسائل پر منتقلی کی منصوبہ بندی ضروری ہے،نگران حکومت عوام کو بجلی کی زیادہ سے زیادہ فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔

 

آفر کر کے شرمندہ نہ ہوں ، ریٹائرمنٹ کے بعدکوئی عہدہ نہیں لونگا ، چیف جسٹس

لاہور(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی عہدہ نہیں لوں گا اور ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل اعلان کر کے جاﺅں گاکہ کوئی عہدہ آفرکرکے شرمندہ نہ ہوں،عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر نہیں نکلنا ،آئین اور پارلیمنٹ سپریم ہے ،ہمارے پاس جوڈیشل ریویوکا اختیار ہے ،اگر رولز غلط ہوں گے تو عدالت اسے دیکھے گی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میںدو رکنی بنچ نے تعطیل کے باوجود سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مختلف اہم نوعیت کے کیسز کی سماعت کی ۔ دوران سماعت ایک موقع پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس میان ثاقب نثار نے کہا کہ اگر میں کسی ہسپتال جاتا ہوں تو اس میں کیا غلط ہے؟۔بلوچستان میں بچیوں کے 6ہزار سکولوں میں ٹوائلٹ موجود نہیں ، اگر سکولوں میں سہولیات دینے کا کہتا ہوں تو اس میں کیا غلط ہے؟۔عوام کو پینے کا صاف پانی نہیں مل رہا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر نہیں نکلنا،آئین او رپارلیمنٹ سپریم ہے ،ہمارے پاس جوڈیشل ریویوکا اختیار ہے،اگر رولز غلط ہوں گے تو عدالت اسے دیکھے گی ۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ککہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی عہدہ قبول نہیں کروں گا،ریٹائرمنٹ سے ایک دن پہلے یہ واضح اعلان کر کے جاو¿ں گا کہ کوئی عہدہ آفر کر کے شرمندہ نہ ہوں۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔اس موقع پر سموگ کمیشن کے سربراہ نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی جس کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے رپورٹ اور اس میں دی جانے والی تجاویز کی تعریف کی ۔چیف جسٹس نے رپورٹ ویب سائٹ اور پرنٹ میڈیامیں شائع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ پر حکومت اور عوام کی رائے کے بعد عملدرآمد کی طرف جائیں گے۔اس پر عدالت کی جانب سے رپورٹ اور تجاویز کی تعریف کی گئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اشفاق احمد کہتے ہیں باباوہ ہوتا ہے جو سب کیلئے سہولتیں پیدا کرتا ہے۔سموگ کمیشن کے سربراہ احمد پرویز بھی آج سے ہمارے بابے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آنے والے دسمبر میں سموگ قابل برداشت نہیں۔

 

والدین سے حسن سلوک نہ کرنیوالا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے : علامہ ضیا ءاللہ بخاری ، اولڈ ایج ہومز معاشرہ کا بڑا المیہ ہیں : ہما تقوی ، والدین کی پرورش کا بدلہ ناممکن ہے : کرکٹر توفیق عمر ، چینل ۵ کی خصوصی ٹرانسمیشن ” مرحبا رمضان “ میں میزبان آمنہ کاردار اور اسامہ بخاری کیساتھ گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے پروگرام ”مرحبا رمضان“ میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ ضیاءاللہ بخاری نے کہا ہے کہ اللہ پاک نے حضور کو شب معراج کو اپنے پاس بلایا تو وہاں 14 اصول زندگی عطا کئے۔ سورة اسراءمیں اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے بیان فرمایا کہ آپ ایک اسلامی معاشرہ و ریاست تشکیل دینے جا رہے ہیں۔ وہاں پر 14 اصول لازمی طور پر نافذ العمل ہونے چاہئیں۔ معاشرے کا حسن انہی اصولوں کے ساتھ نکھرےے گا اور واضح ہو گا۔ اس میں سب سے پہلے اللہ نے فرمایا کہ ”تمہارے رب کا یہ فیصلہ ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو“ یعنی توحید باری تعالیٰ، ”والدین کے ساتھ حسن سلوک برتو۔“ اسلام میں والدین کے بڑے واضح حقوق ہیں۔ حکم ہے کہ ماں باپ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اُف“ تک نہیں کہنا۔ حضور نے ایک بار صحابہ کرام میں بیٹھے ہوئے دور سے ایک بوڑھی خاتون کو جاتے دیکھا تو تیزی سے اٹھے اور برے استقبال و احترام کے ساتھ انہیں مجلس میں لا کر بٹھایا، کسی کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ ”حلیمہ سعدیہ“ ہیں جنہوں نے آپ کو بچپن میں دودھ پلایا تھا۔ اللہ نے ”حلیمہ سعدیہ“ کو وہ مقام عطا کیا کہ وہ خود بھی صحابیہ بنی اور ان کی ساری اولاد سب صحابہ بنیں۔ ان کے خاوند بھی صحابی بنے۔ نبی پاک نے اپنی رضائی ماں و بہن سے بھی انتہائی حسن سلوک کیا۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ اگر والدین زندہ نہ رہیں تو کیسے حسن سلوک کیا جائے، آپ نے فرمایا چچا، تایا کا احترام کرو والد کے احترام جتنا ثواب ملے گا۔ خالہ کا احترام کرو والدہ کے احترام کا ثواب ملے گا۔ والدین کے درجات کی بلندی کے لئے دُعا گو رہو، اگر والدین میں سے کسی نے اپنی زندگی میں کسی سے کوئی معاہدہ کیا تھا تو اس کو پورا کرو، ایسے کام ان کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ والدین کی وجہ سے بننے والے رشتوں کا احترام کرو، ایسے کام مرحوم والدین کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بوڑھے والدین کو ”اولڈ ایج ہومز“ چھوڑ آتے ہیں، والدین وہاں بھی اولاد کے لئے دُعا گو رہتے ہیں۔ میں چھوٹی عمر میں مدینہ شریف گیا تو وہاں میرا دل نہیں لگ رہا تھا میں نے والدہ کو خط لکھا، جوابی خط میں ماں نے لکھا کہ بیٹا یہ مدینہ شریف کی تیری زندگی اتنی قیمتی ہے کہ تو ساری زندگی اس کو یاد کیا کرے گا۔ میں نے آج تک وہ خط سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ ماں کی دُعاﺅں سے زندگی میں بڑی کامیابی ملی۔ انہوں نے کہا کہ والدین کے گزر جانے کے بعد کثرت سے دُعا کرو۔ حدیث ہے کہ جب بندہ فوت ہو جائے تو نیکیوں کا رجسٹرڈ پروردگار بند کر دیتے ہیں لیکن نیک اولاد، ملاقات و خیرات کی نیکیوں کے رجسٹرڈ کھلے رہتے ہیں۔ بوڑھا شخص اگر روزے نہیں رکھ سکتا تو فدیہ کے طور پر کسی کو روزہ رکھوا دے۔ روزہ رکھنا اور کسی کو رکھوانا دونوں اللہ کی غلامی ہیں۔ مذہبی سکالر ہما تقی نے کہا کہ ”اولڈ ایج ہومز“ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے۔ اسلام میں تو جتنے والدین بوڑھے ہوتے گئے، ان کے حقوق و فرائض بڑھتے چلے گئے۔ اسلام تو کہتا ہے کہ اگر بزرگ والدین کی طرف مسکرا کر دیکھ لو تو اللہ رحمت کے 70 فرشتے تمہارے اوپر معین کر دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بوڑھے والدین کی فیوض و برکات کو سمجھ ہی نہیں سکے، جو نہیں سمجھ پاتا وہ اپنے بزرگ والدین کو ”اولڈ ایج ہومز“ میں چھوڑ آتا ہے۔ اسلام کی بنیادیں ہی قدروں کے اوپر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضور کے اپنے والدین نہیں تھے لیکن پالنے والوں کی اس قدر خدمت و احترام کر کے دکھا دیا جو ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ حدیث ہے کہ والدین فوت ہو جائیں تو ان کی قبر پر اتنی دیر بیٹھو جب تک ایک اونٹ کی قربانی کر کے اس کا سارا گوشت تقسیم کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت اویس قرنیؓ واحد صحابی ہیں جنہوں نے رسول اللہ کو بغیر دیکھے صحابی کا درجہ حاصل کیا، ان کا کمال والدین کی عطا تھا۔ انہوں نے اپنی ماں کے کہنے پر عمل کیا، ماں نے صرف اتنا کہا تھا کہ بیٹا تم جا رہے ہو لیکن شام تک پلٹ کر واپس آ جانا، جب وہ مدینہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ یہاں نہیں تو بہت روکنے پر بھی وہ نہیں رکے اور ماں کے کہنے کے مطابق شام تک لوٹ آئے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی نافرمانی گناہ کبیرہ ہے۔ اولاد کی طرح والدین کے لئے بھی وقت نکالنا چاہئے۔ ٹیسٹ کرکٹر توفیق عمر نے کہا ہے کہ والدین جو ہمارے لئے کرتے ہیں ہم اس کا بدلہ نہیں چکا سکتے۔ خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جنہیں والدین اپنی زندگی میں ملتے ہیں۔ اگر جنت کمانی ہے تو اس سے بڑا ذریعہ نہیں ہو سکتا کہ اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کریں، ان کے خود سے راضی کر لیں۔ والدین کی دُعاﺅں سے ہی زندگی میں کامیابیاں ملتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 سال کا تھا جب میرے والد کا انتقال ہو گیا لیکن ماں نے کبھی اس بات کا احساس ہی نہیں ہونے دیا۔ آج میں جو ہوں وہ والدہ کی وجہ سے ہی ہوں۔

 

نومولود بچوں کی فروخت کا کیس ، ڈاکٹر محمود ، میڈم الطاف ، مہناز روہی کے ملوث ہونیکا انکشاف ، ” خبریں “ حقائق سامنے لے آیا

فیصل آبا د (سٹاف رپورٹر )فیصل آباد میں نوزائیدہ بچوں کو اغوا کر کے بے اولاد جوڑوں کو لاکھوں روپے میں فروخت کیے جانے کا الائیڈ ہسپتال کا سامنے آنےوالا دوسرا اور بڑا اسکینڈل ہے۔ اس سے قبل فیصل آباد کے سول ہسپتال سے بچے اغوا کرنے کا اسکینڈل سامنے آ چکا ہے جبکہ نوزائیدہ بچوں کو اغوا کر کے فروخت کرنےوالی گروہ کی خاتون سرغنہ الائیڈ ہسپتال کی سرکاری ملازمہ دائی خورشید بی بی نے دوران تفتیش کچھ راز اگل دیئے ہیں۔ جس میں اس نے ڈاکٹر محمود، میڈم الطاف بشریٰ اور مہناز روہی و دیگر کا گھناﺅنے کاروبار میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے اور معاملہ ایم ایس کے علم میں بھی ہوتا تھا۔ ملزمہ کے ان انکشافات پر مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہاہے۔ پولیس نے اس صورتحال بارے میں اعلیٰ پولیس حکام کو آگاہ کر دیا ہے اور پولیس اعلیٰ حکام کے احکامات کی منتظر ہے۔ گرین سنگل ملنے کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی جا ئیں گی اور ذرائع کے مطابق کہ اس کاروبار میں ملوث ڈاکٹر قتل اور ریٹائرڈ بھی ہو چکے ہیں۔ واضع رہے کہ دو یوم قبل پولیس نے پی ایم سی کالونی میں چھاپہ مار کر پانچ یوم کی بچی کو اغوا کے بعد فروخت کرتے ہوئے خورشید بی بی دائیہ، اس کے خاوند صفدر اور ساتھی خاتون نبیلہ کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا تھا اور دوران تفتیش گروہ کی سرغنہ خورشید بی بی جو کہ الائیڈ ہسپتال میں سرکاری ملازمہ تھی اس نے 1200سے زائد نوزائیدہ بچوں کو فروخت کرنے کا انکشاف کیا تھا اور پولیس تفتیش میں مزید انکشافات کیے ہیں۔ الائیڈ ہسپتال کی دائیہ خورشید بی بی کا نوزائیدہ بچوں کو اغوا کے بعد فروخت کیے جانے کا اسکینڈل منظر عام پر آنے سے قبل فیصل اباد کے سول ہسپتال کا بھی بچہ اغواکرنے کا 2001میں اسکینڈل سامنے آیا تھا چک نمبر 109ر۔ب جڑانوالہ کی رہائشی نسیم بی بی زوجہ ظفر اقبال کا چھ ماہ کا بیٹا ظفر علی سول ہسپتال سے اغوا ہو گیا تھا جس کا سات سال گزرنے کے باوجود کوئی سراغ نہ ملا ہے۔ جس کا تھانہ سول لائن میں مقدمہ نمبر 1168درج ہے اور تقریباً تین چار سال قبل تھانہ پیپلزکالونی پولیس نے بھی ایک خاتون کو بچے اغوا کر کے فروخت کرنے کے الزام میں پکڑا تھا جس کو باعزت طور پر رہا کر دیا گیا تھا تاہم سول لائن پولیس کی گرفتار دو خواتین سمیت تینوں ملزموں سے تفتیش جاری ہے، دریں اثناءالائیڈ ہسپتال کے ایم ایس نے دائی خورشید بی بی کو معطل کرتے ہوئے انکوائری کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

 

رائیونڈ : 3 سال قبل اغواءہونیوالی لڑکی پولیس بازیاب کروانے میں ناکام ، متاثرہ خاندان نے ”خبریں ہیلپ لائن “ کی مدد طلب کر لی

رائے ونڈ (نامہ نگار) قصور کے علاقہ میں تین سال قبل 6 اکتوبر 2015ءکو اغواءہونے والی جواں سالہ لڑکی بازیاب نہ کروائی جاسکی، متاثرہ خاندان انصاف کیلئے خبریں آفس رائے ونڈ پہنچ گیا، تفصیلات کے مطابق ضلع قصور کے تھانہ تھ شیخم کے علاقہ لاکھو پورہ کے رہائشی بزرگ زمیندار محمد رشید نے بتایا کہ علاقہ کے بااثر افراد عبدالرحمن عابد، طاہر، واجد، عابد اور آصف نے اس کی 19 سالہ بیٹی سعدیہ کو کسی طرح ورغلاءکر اغواءکرلیا، جس کی رپورٹ اس نے مقامی تھانہ کو دی جنہوں نے ایک ملزم عبدالرحمن عابد کو ہماری نشاندہی پر گرفتار کیا جبکہ اس کا ایک اہم ساتھی طاہر موقع سے فرار ہوگیا، متاثرہ شخص محمد رشید کے مطابق ملزم عبدالرحمن عابد کو اسی رات ہی علاقہ کی بااثر شخصیات شوکت اور اکرم وغیرہ نے چھڑوا لیا، جس کے چند دنوں بعد ملزموں کے سرپرستوں نے ایک جعلی نکاح نامہ پنچائت کے ذریعے پیش کیا کہ لڑکی نے رضا مندی کیساتھ عبدالرحمن عابد سے شادی کرلی ہے، محمد رشید نے کہا کہ جب اس نے اپنی بیٹی کو ملوانے کا کہا تو ملزموں نے اگلی پنچائت میں ایک اور نکاح نامہ دکھا دیا کہ لڑکی نے عبدالرحمن عابد کیساتھ نہیں بلکہ طاہر کیساتھ شادی کی ہے، متاثرہ شخص محمد رشید نے بتایا کہ وہ تین سال سے مختلف جگہوں پر انصاف کیلئے دھکے کھا رہا ہے لیکن اس کو کسی ادارے اور افسر مجاذ نے انصاف فراہم نہیں کیا اور آج تک اس کی بیٹی سے نہیں ملایا گیا تاکہ وہ سچ جان سکے، اس نے کہا کہ یہ گروہ جس کو مذکورہ بااثر شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے، مقامی پولیس اور متعلقہ یونین کونسل سیکرٹریوں کے ساتھ ملی بھگت سے علاقہ کے بے آسرا لوگوں کی نوجوان لڑکیاں اغواءکرتا ہے، پھر اغواءکی گئیں لڑکیوں میں سے کسی ایک لڑکی کو آزاد کرنے کے عوض اس کی مدد سے دوسری لڑکی اغواءکرلیتا ہے اور اس طرح ان کا نیٹ ورک کئی سالوں سے یہ دھندہ کررہا ہے، ناجانے یہ لڑکیوں کو کہاں رکھتے ہیں اور ان سے کیا کام لیتے ہیں، اس نے انکشاف کیا کہ جس لڑکی ثمرین کے ذریعے ملزموں نے اس کی بچی کو اغواءکیا تھا، اس لڑکی نے چند دنوں بعد خود کشی کرلی تھی جو کہ اس کے والدین نے بدنامی کے خوف سے ملزموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کروائی، کیونکہ بااثر ملزمان کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کو تیار نہیں، ملزمان کی پشت پناہی انتہائی بااثر لوگ کرتے ہیں، جن میں کوئی کسی جج کا رشتہ دار ہے تو کوئی کسی اعلیٰ پولیس افسر اور فوجیوں کے عزیز ہیں، متاثرہ شخص نے خبریں کے چیف ایڈیٹر جناب ضیاءشاہد صاحب سے اس سلسلے میں خصوصی دلچسپی لیکر چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے انصاف دلوانے کی اپیل کی ہے۔

 

ضیا شاہد کی پانی کے مسئلہ پر کوششیں قابل تعریف ، بھٹو نے کالا باغ ڈیم پر کام شروع کروایا ، سندھ اور کے پی کے رکاوٹ بنے ، ” خبریں “ میں اہم انکشافات

لاہور(ملک مبارک سے )کچھ لوگوں کی ہٹ دھرمی ،نااہلی یا اقتدار کی ہوس کی وجہ سے پاکستان کا اہم مسئلہ پس پشت ڈال دیا گیا ہے اپنے مفادات کی خاطر قوانین میں ترامیم تو ایک منٹ میںہوجاتی ہے جبکہ ان سیاستدانوں سے 40سال سے کالاباغ ڈیم کامسئلہ حل نہ ہوسکا ۔روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے اس اہم مسئلے کا علم بلند کیا سوئے ہوئے حکمرانوں کو دریاوں کی آنے والی خطرناک صورت حال سے اگاہ کیا پھر بھی حکمران خواب غفلت کا شکار رہے ، سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے پانی کے مسئلہ کو اہم قرار دے دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ڈھائی کروڑ ایکڑ اراضی پانی نہ ہونے کی وجہ سے بے آباد پڑی ہے۔ اس میں سے 91 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی صوبہ سندھ میں ہے۔ وسیع تھر زرخیزی کے لحاظ سے کسی سے کم نہیں لیکن پانی نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑا ہے بلکہ ہر سال اوسطاً سو ڈیڑھ سو بچے قحط کے ہاتھوں لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم سے سندھ کے پانی میں جو اضافہ ہوگا، اس سے تھر کی وادی کو پانی ملے گامنگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کا مجموعہ 102.73 ملین ایکڑ فٹ لگایا گیا تھا۔ 1975 میں تربیلا ڈیم کے مکمل ہوتے ہی بھٹو مرحوم نے حکم دیا کہ کالا باغ ڈیم پر فوری کام شروع کیا جائے چنانچہ تخمینہ لگانے کا کام شروع ہوا تربیلا سے تمام تعمیراتی مشینری کالا باغ پہنچا دی گئی۔ کالا باغ ڈیم کی ڈیزائن کے مطابق تعمیر کے لئے پلاننگ کی گئی۔ رہائشی عمارات بھی تعمیر ہوئیں۔ اس دوران ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ضیاء الحق کے دور میں 1982 میں دوبارہ کام شروع کیا گیا۔ ایک برطانوی کمپنی کو سروے کا کام سونپا گیا۔ اس کمپنی کے کنسلٹنٹس نے اندازہ لگانا چاہا کہ 1929 میں بڑا سیلاب کہاں تک آیا تھا۔ اس سیلاب کے حوالے سے وہ نوشہرہ میں نشان لگا رہے تھے کہ شور مچ گیا کہ کالا باغ ڈیم بنا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا۔ عبدالغفار خان باچا خان آئے اور ہڑتال شروع ہو گئی۔ گورنر فرنٹیئر جنرل فضل حق نے بھی اس کی حمایت کی۔ جئے سندھ بھی میدان میں کود پڑی۔ اس طرح کالا باغ ڈیم خوامخواہ متنازعہ بن گیا۔ چنانچہ فرنٹیئر کے انجینئر شاہنواز اور سندھ کے دو انجینیئرز اصغر علی عابدی اور شیخ منظور احمد کا تین رکنی کمیٹی بنا دی گئی۔ جس نے 1984 میں فیصلہ کیا کہ کالا باغ جھیل کی سطح 925 فٹ سے کم کرکے 915 فٹ کر دیا جائے۔ نوشہرہ کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ حالانکہ نوشہرہ کی بلندی 961 فٹ ہے۔کے پی کے گورنمنٹ نے اس رپورٹ کو تسلیم نہ کیا جس پرکے پی کے گورنمنٹ کو اختیار دیا گیا کہ وہ پوری دنیا سے اپنی مرضی کا ماہر چن لے۔ اس کی نگرانی میں سٹڈی کروا لیتے ہیں۔ اسے مان لیں گے۔ فرنٹیئر گورنمنٹ نے امریکہ کے ڈاکٹر کنیڈی کا نام چوائس کیا۔ چنانچہ ان کی نگرانی میں سٹڈی کروائی گئی جس نے 1987 میں فیصلہ کیا کہ کالا باغ ڈیم سے نوشہرہ کو کوئی خطرہ نہیں۔ اس دوران کالا باغ ڈیم کے مقام پر اصل ڈیم کے علاوہ تمام کام مکمل ہو چکا تھا۔ دفاتر پاور ہاو¿س کی بلڈنگ ملازمین اور افسران کے لیے رہائشی کالونیاں، سکول، ڈسپنسری سب کچھ بن چکا تھا۔لیکن پھر ضیائ الحق فضائی حادثہ کا شکار ہو گئے محترمہ بینظیر بھٹو کے پہلے دور میں 1989 میں پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈویڑن میں کالا باغ ڈیم کا منصوبہ منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔ سندھ نے اعتراض اٹھایا کہ کالا باغ ڈیم بڑا منصوبہ ہے اس کی تعمیر سے پہلے صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کا فارمولا طے ہونا چاہیے کہ کس صوبے کو کیا ملے گا۔ بلوچستان نے بھی سندھ کی تائید کی۔1991 میں چاروں صوبوں کے ماہرین کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہونے کے بعد 16 مارچ کو چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم پر دستخط کئے جس کے بعد 21 مارچ 1991 کو مشترکہ مفادات کونسل نے باقاعدہ منظوری دے کر آئینی شکل دی۔معاہدے کے مطابق حاصل ہونے والے فاضل پانی میں سے صوبہ پنجاب، سندھ، فرنٹیئر اور بلوچستان کو بالترتیب 37, 37,، 14 اور 12 فیصد پانی ملے گا۔یہاں یہ واضح رہے کہ کالا باغ ڈیم کی جھیل میں مستعمل پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 6.1MAF ہے۔ ڈیم کا کام محض پانی جمع کرنا نہیں بلکہ پانی کی روانی کو کنٹرول کرنا بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ اضافی پانی کا تخمینہ 11.62MAF لگایا گیا۔ جسے فارمولے کے تحت تقسیم ہونا تھا۔ اس موقع پر سندھ نے تھر اور فرنٹیئر نے جنوبی اضلاع کی خستہ صورتحال بتائی چنانچہ پنجاب نے قربانی دے کر اپنا پانی کم کر لیا۔ جس کا تخمینہ لگانے کے بعد اس پانی کو واٹر اکارڈ میں جمع کر دیا گیا۔صوبوں کو اضافی پانی کی فراہمی کا شیڈول بھی طے پاگیا جس کے مطابق سندھ 5.72MAF،کے پی کے 2.69MAF،بلوچستان1.76MAF،پنجابF 1.45MAسندھ میں اس فاضل پانی سے ایک تو گدو سے رینی کینال نکال کر خان پور کے وسیع صحرا کو آباد کرنا تھا۔ دوسرے نارا اور تھر کے علاقوں میں بھی پانی پہنچانا تھا۔ پانی کی تقسیم کا فارمولا تو طے پا گیا۔ کالا باغ ڈیم بننے کی صورت میں بھی اس سے حاصل ہونے والے پانی کو بھی تقسیم کرکے واٹر اکارڈ میں جمع کر دیا گیا۔ مگر کالا باغ ڈیم تو نہ بنا تھا۔ یہ فاضل پانی کہاں سے آتا۔ چنانچہ جب موسم برسات کے بعد اکارڈ کے مطابق پانی کی فراہمی کا سوال اٹھایا گیا تو 16 ستمبر 1991 میں مشترکہ مفادات کونسل میں وضاحت کی گئی کہ اکارڈ میں ظاہر کیا فاضل پانی جب ملے گا جب کالا باغ ڈیم بنے گا۔اس بارے ضیا شاہد نے اپنی زندگی کا کافی حصہ صرف کیا ہے صوبوں کو اکٹھا کر نے میں عوام کو اگاہی دینے میں پانی کی بندش کے حوالے سے کئی کتابیں تحریر کر ڈالیں ۔آبی ماہرین کا کہنا ہے جو کام حکمرانوں نے کرنا تھا وہ ایک عوام کا ددر دل رکھنے والے محب پاکستان ضیا شاہد نے کردیا پنجاب اور خاص کر جنوبی پنجاب کی عوام نے ضیا شاہد کو اپنے حقوق کا علمبردار قرار دے دیا ہے پانی کے مسئلے کو اجاگر کر نے پر جنوبی پنجاب کی عوام نے بھی خراج تحسین پیش کیا ہے۔

نیواسلام آباد ایئر پورٹ پر پانی کھڑے ہونے کا معاملہ، سپریم کورٹ میں حقیقت سامنے آ گئی

لاہور(ویب ڈیسک)نیو اسلام آبادایئر پورٹ پر پانی کھڑے ہونے کے معاملے کی حقیقت سپریم کورٹ میں حقیقت سامنے آ گئی۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے نیواسلام آباد ایئر پورٹ پر پانی کھڑے ہونے کے معاملے کی سماعت کی،ایئر پورٹ انتظامیہ اور سول ایوی حکام عدالت میں پیش ہوئے،سول ایوی ایشن کے نمائندے نے عدالت کو بتایاکہ سوشل میڈیاپرجوویڈیوزوائرل ہوئی ہیں وہ ڈیڑھ سال پرانی ہیں،جب ایئر پورٹ زیرتعمیر تھا ان کا کہناتھا کہ سوشل میڈیا پر چیزوں کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ پوری دنیامیں جوایئرپورٹ بنتے ہیں اس پربیک وقت 2جہازلینڈ اورٹیک آف کرسکتے ہیں،آپ نے اربوں روپے لگادیے،اس ایئرپورٹ پرایک جہازلینڈکرسکتاہے، آئندہ سماعت پرمکمل ریکارڈلے کرآئیں،عدالت نے ایم ڈی پی آئی اے اورسٹیشن منیجر اسلام آبادکوآئندہ سماعت پرطلب کرلیا،عدالت نے پانی بھرنےوالی سی سی ٹی ویڈیواوراسلام آبادایئرپورٹ پر آنےوالی لاگت کامکمل ریکارڈ 13 جون کوطلب کرلیا۔