Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے غیرآئینی غیر قانونی اور غیر اخلاقی تسلط کے خلاف27 اکتوبر یوم سیاہ
    • بحریہ ٹان فیز 7 میں فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، 3 ملزمان گرفتار
    • منشیات سپلائر مجرم شاہ نواز کو 9 سال قید اور 80 ہزار روپے جرمانے کی سزا
    • جوڈیشنل مجسٹریٹ میانوالی افشاں سدرہ کا جرآت مندانہ فیصلہ
    • ایس ایس پی انوسٹیگیشن کی کھلی کچہری، شہریوں کی شکایات سن کر حل کیلئے احکامات جاری کیے
    • پنجاب کے عوام کو انصاف نہ ملے تو بولنا بنتا ہے: محمد صفدر
    • اسلام آباد:کمانڈنٹ ٹریننگ کالج ،ڈی آئی جی مسرور عالم لاچی پاسنگ آئوٹ پریڈ کی تقریب میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے ایک پولیس افسر کو شیلڈ دے رہے ہیں۔
    • مری ، کیری حادثہ، سات خواتین اور بچیوںکی ہلاکت پر سی ٹی او کا افسوس کا اظہار
    • بین الاضلاعی کار لفٹر گینگ کی نیو ٹان اور ویسٹریج پولیس ٹیم پر فائرنگ
    • وزیر داخلہ سید محسن نقوی سے سید ضیغم عباس اور سردار حسن علی کی ملاقات
    • پنجاب میں کل سے بارشوں کے طاقتور سلسلے کی پیشگوئی
    • کہوٹہ پولیس کی کارروائی، قتل،اقدام قتل کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری گرفتار
    • فیصل آباد سے اغوا ہونے والی لڑکی کو پیرودھائی پولیس نے بازیاب کر لیا
    • جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑھتے اخراجات عالمی معاشی نمو کیلئے خطرہ، سروے
    • راولپنڈی، 4 افرادگرفتار، 10 لیٹر سے زائد شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
    • شہر کی شاہراہوں پر دنداسہ بیچنے کی آڑ میں چوہے مار گولیوں کی فروخت کا غیر قانونی جان لیوا دھندہ عروج پر
    • راولپنڈی پولیس کی وارداتوں میں ملوث گینگز کیخلاف کارروائیاں 2 گینگز کے 6 ملزمان گرفتار
    • پاک چین سائنسی تعاون فروغ کیلئے نسٹ میں دو روزہ سمپوزیم کا آغاز
    • کینسٹونمنٹ ایگزیکٹو عرفین زبیر کی خصوصی نگرانی میں انکی پوری برانچ کلینیس ڈرائیور میں بھرپور حصہ لے کر تلسہ روڈ اور دیگر مقامات کی سفائی جاری ہے ۔
    • اٹک :پولیس کے اہلکاران ضلع بھر میں سنیپ چیکنگ کرتے ہوئے ۔
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    مہنگا پٹرول، جنگی بحران، لاک ڈاؤن نما پابندیاں اور عوام کی خاموش چیخ

    By Khabrain Newsمئی 14, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    دنیا میں جب بھی جنگ چھڑتی ہے تو عام طور پر اس کے اثرات تین ملکوں پر پڑتے ہیں، دو وہ جو جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں، اور تیسرا پاکستان۔ یہ جملہ بظاہر طنز ہے، مگر پاکستان کے معاشی حالات دیکھے جائیں تو یہ طنز نہیں، ایک تلخ قومی حقیقت محسوس ہوتی ہے۔

    پاکستان نہ ہر جنگ کا فریق ہوتا ہے، نہ ہر عالمی بحران کا ذمے دار، لیکن ہر عالمی بحران کے بعد سب سے پہلے پاکستانی عوام کی جیب کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی پٹرول مہنگا، کبھی بجلی مہنگی، کبھی گیس مہنگی، کبھی ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، اور کبھی دال، آٹا، سبزی اور دودھ تک عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگتے ہیں۔

    حالیہ دنوں میں پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک بار پھر عوامی بحث کا مرکز بن چکی ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں؛ یہ اس مزدور کا کرایہ ہے جو روزانہ کام پر جاتا ہے، اس طالب علم کی بس فیس ہے جو یونیورسٹی پہنچتا ہے، اس چھوٹے دکاندار کا خرچ ہے جو مال منڈی سے لاتا ہے، اور اس کسان کی لاگت ہے جو ڈیزل سے ٹیوب ویل اور ٹریکٹر چلاتا ہے۔

    حکومتیں عموماً یہ کہہ کر قیمتیں بڑھاتی ہیں کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوگیا ہے۔ یہ بات مکمل طور پر غلط بھی نہیں، کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن سے پورا کرتا ہے۔ اس لیے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت، ڈالر کا ریٹ، فریٹ چارجز، انشورنس لاگت اور جغرافیائی کشیدگی براہِ راست پاکستانی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مگر عوام کا سوال یہ ہے کہ جب عالمی منڈی میں قیمت کم ہوتی ہے تو فائدہ عوام تک مکمل کیوں نہیں پہنچتا؟ اور جب قیمت بڑھتی ہے تو بوجھ فوراً عوام پر کیوں ڈال دیا جاتا ہے؟

    پاکستان کا مسئلہ صرف عالمی تیل نہیں، بلکہ اندرونی معاشی کمزوری بھی ہے۔ جب کوئی ملک توانائی کے لیے باہر کی طرف دیکھتا ہو، صنعتیں مہنگی بجلی سے پریشان ہوں، ٹیکس نیٹ کمزور ہو، ذخیرہ اندوزی طاقتور ہو، اور عام صارف غیر منظم مارکیٹ کے رحم و کرم پر ہو، تو پھر ہر عالمی بحران اندرونی بحران بن جاتا ہے۔ پاکستان میں پٹرول کی قیمت بڑھتے ہی کرایہ بڑھتا ہے، کرایہ بڑھتے ہی سبزی مہنگی ہوتی ہے، سبزی مہنگی ہوتے ہی گھر کا بجٹ ٹوٹتا ہے، اور گھر کا بجٹ ٹوٹتے ہی معاشرتی دباؤ، قرض، بے چینی اور مایوسی بڑھتی ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پاکستان کے معاشی منظرنامے کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سپلائی چین میں رکاوٹیں، توانائی قیمتوں میں اضافہ، فریٹ اور انشورنس اخراجات پاکستان کی درآمدی لاگت اور افراطِ زر پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر عالمی جنگ کا حل پاکستان میں پٹرول بم گرانا ہے؟ کیا ہر بحران میں سب سے پہلے عوام ہی کو قربانی دینی ہے؟ کیا ریاستی اخراجات، اشرافیہ کی مراعات، غیر ضروری سرکاری گاڑیاں، مفت بجلی، مفت پٹرول، بڑے گھروں کی سبسڈیز اور طاقتور طبقوں کی مراعات کبھی کم نہیں ہو سکتیں؟

    المیہ یہ ہے کہ جب قربانی کی بات آتی ہے تو مائیک عوام کی طرف کر دیا جاتا ہے، لیکن جب سہولت کی بات آتی ہے تو دروازہ اشرافیہ کی طرف کھلتا ہے۔

     

    پاکستان میں لاک ڈاؤن کا لفظ صرف وبا کے دنوں تک محدود نہیں رہا۔ آج معاشی لاک ڈاؤن بھی موجود ہے۔ جب پٹرول اتنا مہنگا ہو جائے کہ شہری سفر کم کر دیں، جب دکاندار مال نہ منگوا سکے، جب مزدور کام پر جانے سے پہلے کرایے کا حساب لگائے، جب والدین بچوں کو کوچنگ یا کالج بھیجنے سے پہلے خرچ سوچیں، تو یہ بھی ایک قسم کا لاک ڈاؤن ہے۔ دکانیں کھلی ہوتی ہیں مگر گاہک کم ہو جاتے ہیں۔ سڑکیں موجود ہوتی ہیں مگر سفر مشکل ہو جاتا ہے۔ روزگار موجود ہوتا ہے مگر اس تک پہنچنے کی لاگت آمدنی سے زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔

     

    جنگیں سرحدوں پر شروع ہوتی ہیں مگر ان کا اختتام اکثر غریب کے چولہے پر ہوتا ہے۔ روس یوکرین جنگ ہو، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ہو، ایران کے گرد تیل سپلائی کا بحران ہو یا عالمی بحری راستوں میں خطرات، پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ملک پر اس کا اثر فوری پڑتا ہے۔ مگر ایک ذمے دار ریاست کا کام صرف یہ بتانا نہیں کہ عالمی حالات خراب ہیں؛ ریاست کا کام یہ بھی ہے کہ وہ عوام کو اس جھٹکے سے بچانے کے لیے سنجیدہ حکمت عملی بنائے۔

    حکومت کو چاہیے کہ پٹرولیم قیمتوں کے فارمولے کو شفاف بنائے۔ عوام کو بتایا جائے کہ ایک لیٹر پٹرول میں خام تیل کی قیمت کتنی ہے، ریفائننگ لاگت کتنی ہے، ڈیلر مارجن کتنا ہے، ٹیکس اور لیوی کتنی ہے، اور حکومت کتنا بوجھ خود اٹھا رہی ہے۔ جب تک قیمتوں کا نظام شفاف نہیں ہوگا، عوام ہر اضافے کو ناانصافی سمجھیں گے۔ دوسری طرف اگر واقعی عالمی بحران ہے تو حکومت کو اشرافیہ کے اخراجات کم کر کے ٹارگٹڈ ریلیف دینا چاہیے؛ موٹر سائیکل سوار، پبلک ٹرانسپورٹ، کسان، چھوٹے دکاندار، طالب علم اور کم آمدنی والے طبقات سب سے پہلے تحفظ کے مستحق ہیں۔

    پاکستان کو طویل مدت کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ شمسی توانائی، پبلک ٹرانسپورٹ، مقامی توانائی، ریلوے فریٹ، الیکٹرک بسیں، زرعی ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن اور توانائی بچت پالیسی محض تقریری موضوعات نہیں رہنے چاہئیں۔ جب تک ملک کا ٹرانسپورٹ نظام پٹرول اور ڈیزل کے رحم و کرم پر رہے گا، ہر جنگ پاکستانی عوام کے بجٹ پر حملہ کرتی رہے گی۔

    ہمیں عالمی جنگوں کا ذمے دار نہ بنائیں۔ اگر دنیا میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو ریاستی نظام بھی اپنا حصہ ڈالے، صرف عوام سے قربانی نہ مانگے۔ اگر بحران ہے تو سب کے لیے ہو؛ اگر کفایت شعاری ہے تو سب پر ہو؛ اگر مشکل وقت ہے تو ایوانوں، محلات، سرکاری گاڑیوں، مفت مراعات اور عوامی جیب کے درمیان فرق ختم ہونا چاہیے۔

    پاکستانی عوام نے دہشت گردی برداشت کی، سیلاب برداشت کیے، بجلی کے بل برداشت کیے، مہنگائی برداشت کی، بے روزگاری برداشت کی، اور اب عالمی جنگوں کا معاشی بوجھ بھی برداشت کر رہے ہیں۔ مگر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ قومیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان پر بحران آتے ہیں؛ قومیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب بحران کا بوجھ غیر منصفانہ طور پر صرف کمزور طبقے پر ڈالا جاتا ہے۔

    آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ پاکستان میں ہر بحران کے بعد ایک ہی طبقہ پیش کیا جاتا ہے: عوام۔ کبھی ٹیکس کے لیے، کبھی لیوی کے لیے، کبھی بل کے لیے، کبھی کرایے کے لیے، کبھی مہنگائی کے لیے۔

    مگر یاد رکھیے، جب عوام کا صبر ختم ہوتا ہے تو پھر اعداد و شمار، پریس ریلیزیں، معاشی وضاحتیں اور حکومتی بیانات عوام کے خالی چولہے کو تسلی نہیں دے سکتے۔ ریاست کو عوام کو نچوڑنے کے بجائے عوام کو سنبھالنا ہو گا، ورنہ ہر عالمی جنگ پاکستان کے گھروں میں ایک نئی معاشی جنگ بن کر اترتی رہے گی۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.