All posts by Daily Khabrain

کابل ایئرپورٹ کے قریب مکان پر راکٹ حملہ، بچہ جاں‌بحق، تین شہری زخمی

کابل: افغانستان کے دارالحکومت میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب راکٹ حملہ ہوا، جس میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ تین زخمی ہوگئے۔

افغان میڈیا رپورٹ کے مطابق کابل کے علاقے خواجہ بگھرا میں ایک گھر پر راکٹ داغا گیا، جس کے دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور آسمان پر دھوئیں کے سیاہ بادل دیکھے گئے۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق راکٹ حملے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

قبل ازیں افغان میڈیا نے خبر بریک کی تھی کہ کابل ایئرپورٹ کے قریب دھماکے کی زور دار آواز سُنی گئی ، جس کا تعین کرنے کے لیے ریسکیو ٹیموں کو جائے وقوعہ کی طرف روانہ کردیا گیا۔

غیرملکی صحافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں سیاہ دھواں دیکھا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیش گوئی کی تھی کہ کابل میں مزید دھماکوں کا امکان ہے، امریکی کمانڈوز کو اس حوالے سے معلومات موصول ہوئیں ہیں۔

مزید پڑھیں: کابل دھماکا: ’امریکا نے داعش کے لیے راہ ہموار کی‘

یہ بھی پڑھیں: کابل ایئر پورٹ پر ایک اور حملے کا خدشہ

انہوں نے بتایا تھا کہ اس سے قبل کابل ایئرپورٹ کے مشرقی دروازے پر ہونے والے دھماکے میں ملوث شدت پسند گروہ داعش کے ٹھکانے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

کراچی اور حیدرآباد میں کورونا پابندیاں برقرار، سندھ کے دیگر اضلاع میں نرمی

کراچی:
محکمہ داخلہ سندھ نے کراچی اور حیدرآباد کے علاوہ صوبے بھر میں تفریحی پارک، واٹر پارک، سوئمنگ پول کھولنے کی اجازت دے دی۔

  مطابق محکمہ داخلہ سندھ نے کورونا ایس او پیز کے حوالے سے نیا حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس کے تحت کراچی ڈویژن او حیدرآباد میں پابندیاں برقرار رکھی جائیں گی، جب کہ صوبے بھر میں تفریحی پارک، واٹر پارک، سوئمنگ پول کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے، نیا حکم نامہ یکم سے 15 ستمبر2021 تک نافذالعمل رہے گا۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں شادی بیاہ کی انڈور تقریبات، انڈور ڈائننگ پر پابندی برقرار رہے گی، تاہم آؤٹ ڈور ڈائننگ کی رات 10 بجے تک اجازت ہوگی، آؤٹ ڈور شادی بیاہ کی تقریبات کے لئے 3 سو مہمانوں کے ساتھ رات 10 بجے تک اجازت ہوگی، اور صرف ویکسین کے حامل افراد کے لئے رات 12 بجے تک انڈور اور آؤٹ ڈور ڈائننگ کی سہولت ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں کاروباری اوقات رات 8 بجے تک ہوں گے، جب کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں کاروباری اوقات رات 10 بجے تک ہوں گے، کراچی میں ہفتہ وار سیف ڈیز جمعہ اور اتوار، حیدرآباد میں جمعہ اور ہفتہ جب کہ دیگر اضلاع میں صرف جمعہ کا دن سیف ڈے ہوگا، بنیادی اشیاء ضروریہ اور ادویات کی دکانوں کو ہفتے کے سات روز کھولنے کی اجازت ہوگی، جب کہ 24 گھنٹے کھلنے والے کاروبار میں بھی اعلان کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد لازمی ہوگا ۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبے بھر میں سینما گھر، انڈور اسپورٹس سرگرمیاں، انڈور سماجی، مذہبی، سیاسی اجتماعات پر پابندی ہوگی، تاہم کھلے مقامات پر تقریبات کے لئے 3 سو افراد کے ساتھ اجازت ہوگی، کراچی اور حیدرآباد میں مزارات مکمل طور پر بند رہیں گے، جب کہ دیگر اضلاع میں مزارات مقامی انتظامیہ، محکمہ صحت سے مشاورت کے بعد کھولنے کی اجازت ہوگی۔

ٹرانسپورٹ کے حوالے سے صوبائی محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی صرف 50 فیصد استعداد کے ساتھ چلے گی تاہم ایس او پیز کی مکمل پابندی کی جائے گی، پبلک ٹرانسپورٹ کے عملے کی ویکسینیشن کرانا لازمی ہوگی، پبلک ٹرانسپورٹ میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے پر مکمل پابندی ہوگی، ٹرینوں میں ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ 70 فیصد مسافروں کو سفر کی اجازت ہوگی، اندرونِ ملک پروازوں پر کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے پر پابندی عائد رہے گی۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کے علاوہ صوبے بھر میں تفریحی پارک، واٹر پارک، سوئمنگ پول کھولنے کی اجازت ہوگی، کراچی اور حیدآباد میں صرف پبلک پارکس کھولے جا رہے ہیں، ضلعی انتظامیہ مخصوص ایریا میں لاک ڈاؤن لگانے کی مجاز ہے، عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی ہے، اور ویکسین کرانے والے افراد کو ایس او پیز پر پابندی کے ساتھ سیاحت کی اجازت دے دی گئی ہے، ویکسینیشن سینٹر، فیول اسٹیشنز ہفتے کے سات روز 24 گھنٹے کھلے رہیں گے۔

پاکستان برطانیہ کی ریڈ لسٹ سے کیوں نہیں نکلا؟ وجوہات منظر پر عام آگئیں

لندن:  برطانیہ کی جانب سے اپ ڈیٹ ٹریول لسٹ میں پاکستان کے بدستور  ریڈلسٹ میں ہونے کے پیچھے چھپی وجوہات منظر عام آگئیں۔

برٹش ہیلتھ منسٹر لارڈ جیمز بیتھنل کی جانب سے رکن پارلیمنٹ یاسمین قریشی کو لکھے گئے خط کی تفصیلات جیو نیوز نے حاصل کر لی ہیں۔

یاسمین قریشی کو لکھے گئے خط میں لارڈ بیتھنل کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور  پر  پاکستان میں کورونا کا پھیلاؤ  رپورٹ ہونے والے کیسز  سے کہیں زیادہ ہے جبکہ پاکستان میں ٹیسٹنگ اور سیکوئنسنگ ریٹ کی شرح کافی کم ہے۔

ہیلتھ منسٹر لارڈ جیمز بیتھنل کے مطابق پاکستان میں ڈیلٹا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کے پیش نظر پاکستان کو جینومک اسکریننگ کی صلاحیت بڑھانے میں تعاون کیا جائے گا۔

لارڈ بیتھنل نے اپنے خط  میں مزید لکھا کہ ٹریول لسٹ سے متعلق فیصلہ جوائنٹ بائیو سکیورٹی سینٹر کرتا ہے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ  پاکستان کی وبا کے خلاف  کاوشوں کو سراہتے ہیں اور  مل کر کام کرتے رہیں گے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں برطانیہ کی جانب سے ٹریول لسٹ اپ ڈیٹ کی گئی ہے جس کے مطابق پاکستان بدستور ریڈ لسٹ میں موجود ہے جبکہ آئرلینڈ نے پاکستان کو سفری ریڈلسٹ سے خارج کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے سیاحتی ویزے کھولنے کا اعلان کردیا

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے سیاحتی ویزے کھولنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔

اماراتی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ سیاحتی ویزے کووڈ ویکسین لگوانے والے افراد کو ہی مِل سکیں گے جب کہ سیاحتی ویزوں کا اجراء 30 اگست سے کیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاح عالمی ادارہ صحت سے منظور  شدہ ویکسین لینے پر  ہی ویزے لینے کے اہل ہوں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب نے بھی سیاحتی ویزے جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے 49 ممالک کی فہرست جاری کی تھی۔

بھارت پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے منفی حرکتیں کر رہا ہے: وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان کی صورتحال بگڑتی ہے تو اس سے سب متاثر ہوں گے، ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان سے مثبت پیغام آرہا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، اگر افغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو اس کا نقصان سب کو ہو گا، ہمیں ماضی سے سبق حاصل کرنا چاہیے نہ کہ اسے دہرانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے منفی حرکتیں کر رہا ہے، بھارت نے مختلف گروہوں کو دہشت گردی کے لیےجوڑا، بھارت خطے کا امن تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔

پیپلز پارٹی نے پیٹھ پیں چھرا گھونپنے کی کوشش کی : پی ڈی ایم

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت مخالف سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اورپی ڈی ایم کے صدر مولانافضل الر حمن نے کہاہے کہ پیپلزپارٹی نے ہم پر وار کیا مگر ہمار ا ہدف وفاق پر مسلط حکمران ہیں۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے حکومت کیخلاف فیصلہ کن تحریک پراتفاق کرلیا،لانگ مارچ استعفوں کی تجویز دیدی گئی۔ اپوزیشن لیڈرشہبازشریف نے کہاکہ متفقہ طور پر آگے بڑھیں گے ۔اپوزیشن اتحاد نے اجلاس میں صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب پراحتجاج کا اعلان کردیا ۔

مینگل ، اچکزئی ، ڈاکٹر عبد المالک نہ آئے جبکہ مریم ،نوازشریف،اسحاق ڈار نے ویڈیوپر شرکت کی۔پی ڈی ایم کی جانب سے آج کراچی میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیاجائے گا،تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔تفصیل کے مطابق اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک کے لئے ملک گیرجلسوں اور احتجاجی کار واں شروع کرنے پراتفاق کرلیا ، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔

پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں جے یوآئی ف کے سربراہ اورپی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الر حمن نے حکومت مخالف تحریک کا فیصلہ کن راؤنڈ شروع کرنے کی تجویز پیش کردی اورکہا کہ حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا جائے اوراسمبلیوں سے استعفے دیئے جائیں،ان کا کہنا تھا کہ پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے ،حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے انتہائی فیصلے کرنا ہوں گے ، نالائق حکومت تین سال سے عوام پر مسلط ہے ،باقی دوسال بھی گزر جائیں گے اور ہم جلسے کرتے رہ جائیں گے ۔

ہفتہ کو ملکی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور و خوض کے لئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت اجلاس مقامی ہوٹل میں ہوا ۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کے علاوہ آفتاب شیرپائو ، پروفیسرساجد میر، اویس شاہ نورانی اور دیگرشریک ہوئے ۔سابق وزیراعظم نوازشریف اور اسحاق ڈار لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے جبکہ مریم نواز بھی لاہور سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں موجودتھیں۔پی ڈی ایم میں شامل بلوچستان کی تینوں جماعتوں کے سربراہان شریک نہیں ہوئے جن میں سردار اختر مینگل محمود اچکزئی اور ڈاکٹر عبد المالک شامل ہیں ۔سربراہی اجلاس میں بی این پی ،نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے وفود شریک ہوئے ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہاکہ عزم مصمم کرلیا ہے کہ جمہوریت کی بقا کی جدوجہد تادم مرگ جاری رکھوں گا ۔ پاکستان عالمی طور پر بدترین تنہائی کا شکار ہوچکا ہے ،عوام میں اب بھی وہی جذبہ بیدار ہے ،پی ڈی ایم کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوگی ۔اجلاس سے قبل مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ سطحی مشاورت ہوئی، سابق وزیراعظم نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپوزیشن لیڈر سمیت دیگر رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کی،سابق وزیراعظم نے بھی پی ڈی ایم کو مزید فعال اور متحرک بنانے کی تجویز دی ہے ۔میاں نوازشریف نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ جب 2018میں چیئرمین سینیٹ منتخب ہوا وہ بھی منظر سب نے دیکھا تھا،غلامی سے نجات کے لئے لاکھوں لوگ اس تحریک میں شامل ہوئے تھے ،ہم نے لوگوں کو حوصلہ اور ہمت دینی ہے ،اداروں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیاجائے ،پی ڈی ایم درست سمت میں جارہی ہے ،کون ہے جو جمہوریت کا راستہ روک رہاہے ۔

چینی ، گندم، دودھ سمیت 150 اشیا کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا حکم نامہ جاری

سلام آباد:( صباح نیوز) وفاقی حکومت نے ملک میں چینی، گندم، دودھ، گوشت اور دالوں سمیت پچاس اشیا ء کی قیمتیں کنٹرول کرنے، منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی روکنے کا حکم نامہ 2021ء جاری کردیا۔

وفاق،صوبوں اور ڈپٹی کمشنرز کی سطح پر کنٹرولر جنرل آف پرائسز کے اختیارات سونپ دیئے گئے جنہیں امپورٹرز،ڈیلرز اور پروڈیوسرز سے ماہانہ یا بہ وقت ضرورت رپورٹ کا ریکارڈ طلب کرنے،سوموٹو، ٹریڈ ایسوسی ایشن کی حدود میں سرچ اور داخلے کا اختیار ہوگا۔

وزارت صنعت و پیداوار نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پرائس کنٹرول، منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی روکنے کے ایکٹ 1977 کے تحت آرڈر 2021 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

حکم نامے کے تحت صوبائی سیکرٹری صنعت، وفاق میں متعلقہ سیکرٹریز، اسلام آباد کی حد تک سیکرٹری داخلہ اورمتعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو کنٹرولر جنرل کے اختیارات دیئے گئے ہیں۔

چینی اور گندم کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کے سیکرٹری کو دیا گیا ہے۔

خوردنی تیل،چائے، گوشت، سیمنٹ، موٹرسائیکل، سائیکل، ٹرکس، ٹریکٹرز، فروٹ جوسز، مشروبات، فیس ماسکس، آکسیجن سلنڈرز اور ہینڈ سینٹائزر سمیت 15 اشیاء کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار وفاق کی سطح پر متعلقہ وزارت یا ڈویژن کے سیکرٹری کے پاس ہوگا۔

اسی طرح دودھ، پیاز، ٹماٹر، دالوں، گوشت، انڈے، روٹی، نان اور نمک سمیت 33 اشیا ء کی قیمتیں مقرر کرنے کے اختیارات صوبائی سطح پر سیکرٹری صنعت جبکہ اسلام آباد کی حد تک سیکرٹری داخلہ اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو دیئے گئے ہیں۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق کنٹرولر جنرل آف پرائسز امپورٹرز،ڈیلرز اور پروڈیوسرز سے ماہانہ یا بہ وقت ضرورت رپورٹ کا ریکارڈ طلب کرسکیں گے۔ کنٹرولر جنرل کے پاس سوموٹو، ٹریڈ ایسوسی ایشن کی حدود میں سرچ اور داخلے کا اختیار ہوگا۔

کنٹرولرجنرل کے پاس ایف بی آر، ایس ای سی پی اور مسابقتی کمیشن سے معاونت اور قیمتیں مقرر کرنے کیلئے رکارڈ طلب کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق پروڈیوسر،ڈیلرز اور امپورٹرز کو اپیل کا حق حاصل ہوگا-حکم نامے کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق سزا دی جاسکے گی۔

ٹی ٹی پی کو طالبان سربراہ کی بات ماننا پڑے گی : ذبیح اللہ مجاہد کا دوٹوک پیغام

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان، افغانستان کا نہیں بلکہ پاکستان کا مسئلہ ہے، اس لیے اس حوالے سے حکمت عملی بنانا بھی پاکستان کا کام ہے۔

ٹی ٹی پی کو طالبان سربراہ کی بات ماننا پڑے گی : ذبیح اللہ مجاہد کا دوٹوک پیغام

جیو نیوز کے پروگرام ‘جرگہ’ میں گفتگو کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ حکومت کی تشکیل کے حوالے سے بھرپور طریقے سے کام جاری ہے، بعض معاملات کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ کابل میں اچانک داخلہ اور نظم و نسق سنبھالنا غیرمتوقع تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہ رہے ہیں کہ حکومت کی تشکیل میں وسیع تر مشاورت کریں تاکہ ایک مضبوط حکومت تشکیل دی جا سکے اور جنگ کے خاتمے کے ساتھ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جا سکے جو عوامی خواہشات کی نمائندگی کرتا ہو۔

طالبان ترجمان نے کہا کہ ہم کافی حد تک اس میں کامیاب ہو چکے ہیں لیکن اس حوالے سے کام اور تمام معاملات پر گفت و شنید جاری ہے اور آپ جلد سنیں گے کہ حکومت کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ چند روز میں ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ حکومت کی تشکیل کا اعلان کردیں اور ہمیں احساس ہے کہ حکومت کا اعلان نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں روزمرہ کے کاموں، تجارتی اور سفارتی معاملات میں مشکلات کا سامنا ہے۔

سابقہ افغان حکومت میں شامل افراد سے مذاکرات کے حوالے سے سوال پر ان کا کہناتھا کہ ہم ان سے مشاورت کررہے ہیں اور ان سے تجاویز بھی لے رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں کو حکومت میں شامل کریں جنہیں عوام کی حمایت حاصل ہو اور ایسے لوگوں سے اجتناب کریں جو کابل میں تنازعات کا حصہ رہے ہیں۔

پنج شیر کی صورتحال حوالے سے سوال پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ 60فیصد امید ہے کہ معاملہ بات چیت سے حل ہو جائے گا، ہم اس سلسلے میں تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، علما اور جہادی رہنماؤں سے بھی مدد لے رہے ہیں، بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے تاکہ جنگ کی ضرورت پیش نہ آئے اور چاہتے ہیں کہ جیسے ہم نے اکثر صوبوں میں لڑے بغیر کنٹرول حاصل کیا ہے، اسی طرح پنج شیر کو بھی کابل کے زیر اثر لایا جائے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ کی ضرورت پڑی بھی تو یہ زیادہ طویل نہیں ہو گی کیونکہ ہمارے جنگجوؤں نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، یہ معاملہ زیادہ وقت نہیں لے گا اور بات چیت سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نظربند نہیں بلکہ دیگر افغانوں کی طرح آزاد ہیں تاہم ان کی حظاظت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، انہیں سہولیات حاصل ہیں اور وہ اپنی مرضی سے ہر جگہ آ جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ ہی نہیں بلکہ ہر افغان اپنی مرضی سے ملک سے باہر جا سکتا ہے اور ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ ان کا حق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عام معافی کا اعلان اشرف غنی سمیت تمام افغانوں کے لیے ہے اور اگر سابق افغان صدر وطن واپس آنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، ہمارا کسی سے انتقام کا ارادہ نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں طالبان ترجمان نے کہا کہ سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح اگر جنگ پر اصرار چھوڑ دیں تو ان کے لیے معافی کا آپشن موجود ہے لیکن اگر وہ جنگ اور افغانستان کو دوبارہ آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں تو ان کے ساتھ ہمارا رویہ مختلف ہو گا۔

انہوں نے سی آئی کے سربراہ کی ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس طرح کی کوئی خبر نہیں ہے لیکن سابقہ معاہدوں کے سبب ہمارا افغانستان اور خطے کے مفادات کے حوالے سے امریکا سے تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ ہم نے افغانستان میں چھ ماہ تک داخل نہ ہونے کا کوئی معاہدہ کیا تھا، ہمارا اس حوالے سے کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا تھا لیکن ہم نے ازخود فیصلہ کیا تھا کہ ہم کابل کی حدود میں پہنچ کر رک جائیں گے تاکہ امن و امان کی صورتحال خراب نہ ہو۔

امریکی انخلا میں توسیع کے حوالے سے سوال پر ترجمان نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ معاہدے کی رو سے طے شدہ تاریخ تک بیرونی افواج کا انخلا 31تاریخ تک مکمل ہو جائے گا کیونکہ یہ آخری مراحل میں ہے۔

کابل ایئرپورٹ پر دھماکے کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہماری اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، ہم نے سنا ہے کہ بعض لوگ اسے داعش سے منسوب کررہے ہیں اور ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ اسی طرح کے لوگوں نے یہ کارروائی کی ہو گی۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہمارا یہ اصولی موقف ہے کہ ہم کسی کو افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال اور امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور ہم اس پر قائم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد ناہموار ہے اور ایسے علاقے موجود ہیں جہاں ہمارا کنٹرول نہیں ہے اور ایسے علاقے بھی ہیں جہاں پاکستان کی فورسز بھی موجود نہیں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) اپنے آپ کو ہمارا تابعدار سمجھتے ہیں اور ہمارے امیرالمومنین کو مانتے ہیں تو پھر انہیں ان کی باتوں پر عمل کرنا ہو گا۔

ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف کارروائی سے روکنے کے حوالے سے سوال پر افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ یہ پاکستان کا مسئلہ ہے اور اس حوالے سے ان کے عوام، علما اور پاکستانی حلقے لائحہ عمل طے کریں، یہ ہمارا قضیہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ افغانستان کا نہیں بلکہ پاکستان سے متعلق ہے اس لیے حکمت عملی بنانا بھی پاکستان کا کام ہے۔

القاعدہ کی موجودگی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے لوگ افغانستان سے تعلق نہیں رکھتے، وہ عربی بولتے تھے اور ان کا لباس اور حلیہ بھی افغانوں جیسا نہیں تھا، 2001 کے بعد عرب ممالک میں کافی تبدیلیاں رونما ہوئیں جس کی وجہ سے وہ وہاں واپس چلے گئے اور وہاں ان کی جدوجہد شروع ہو گئی جس کی وجہ سے وہ افغانستان میں موجود نہیں ہیں۔

دنیا کی توجہ اور پاکستانی سیاست کا دھارا

شوکت پراچہ
آج دنیا بھر کی توجہ افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر اپنے اپنے قومی مفاد کے تحفظ پر مرکوز ہے۔عالمی برادری افغانستان میں وقوع پذیر حالات کا سامنے کرنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوشش میں جڑی ہے۔ مغربی دنیا اپنے سفارت کاروں، شہریوں یا افغانستان میں گذشتہ ادوار میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں اور پروفیشنلز کے انخلا میں مصروف ہے۔اس خطے کی چین، روس، پاکستان، ایران جیسی بڑی طاقتیں افغانستان کی ہمسایگی کے چیلنجز کو کم کرنے میں انفرادی یا اجتمایی لاحہئ عمل طے کرنے پر توانائیاں صرف کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ اگلے ماہ یعنی ستمبر کی سولہ اور سترہ تاریخ کو تاجکستان کے دارلحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس منعقد ہونے جارہا ہے۔چین، روس، تاجکستان، کرغستان، ازبکستان، ایران کے صدور جبکہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم افغانستان کی صورت حال کوخصوصی طور پرزیرغور لائیں۔
دنیا کی ترجیحات کے برعکس پاکستان کی سیاست اپنے مخصوص ڈگر پر چل رہی ہے۔ سیاسی کھلاڑی اپنے اپنے زاویوں سے کھیلنے میں مگن ہیں۔۔میاں شہباز شریف کے خلاف دیگر کیسوں میں ضمانتوں کے بعد پروفیسر احسن اقبال کے بھای کو ٹھیکہ دینے کے الزام میں طلبی سے احتساب کا عمل آگے بڑھانے میں یقینی طور پر ماضی کی طرح بے پناہ مدد ملے گی۔پی ڈی ایم کا پہلا راؤنڈ نتیجہ خیز نہ ہو دوسرا راؤنڈ شروع تو کیا جا سکتا ہے۔پی ڈی ایم کی سٹیرنگ کمیٹی نے افغانستان کے ہمسایہ یعنی پاکستان میں جلسے جلوس اور ریلیوں کا پروگرام مرتب کر دیا۔ اب اگست بروز ہفتہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں منظوری کے بعد ملک میں جلسے جلوس ہوں گے۔دوسرے راؤنڈ کا اگلا جلسہ اگلے ہی دن یعنی اگست کو کراچی میں ہوگا۔کراچی کے مجوزہ جلسے میں سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، کراچی میں بسنے والے لاکھوں پٹھانوں کی نماندگی کی دعوے دار عوامی نیشنل پارٹی، ماضی میں کراچی کی واحد نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ۔پاکستان اور کراچی سے موجودہ قومی اسمبلی کی چودہ نشستیں رکھنے والی پی ٹی آئی بھی نہیں ہوگی۔ پھر بھی پی ڈی ایم جلسے کی کامیابی کے لیے پرامید ہے۔بلاول بھٹو زرداری انتیس اگست کے کراچی جلسے کی مخالفت نہیں کر رہے تو انہوں نے اس جلسے میں شرکت کا بھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
پی ڈی ایم تحریک کے پارٹ ون میں مریم نواز شریف صاحبہ آگے آگے تھیں۔انہوں نے تقریرکے گُر سیکھے اور یقینا موثر انداز اختیار کیا۔انہوں نے خصوصاً پنجاب میں پی ڈی ایم کے جلسے جلوسوں میں ہجوم اکٹھے کیے۔پی ڈی ایم پارٹ ون نے گجرانوالا، پشاور، کراچی میں گہرا اثرڈالا لیکن شریف خاندان کے اپنے گھر لاھور میں توقعات سے کم عوامی ردعمل نے باقی ماندہ اثرات کو انتہائی سرعت کے ساتھ زائل کر دیا۔اب کی بار میاں شہباز شریف پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں۔مریم نواز شریف بھی اطلاعات کے مطابق کراچی جلسے میں شرکت کریں گی۔تاہم خواجہ آصف کی خاموشی، خواجہ سعد رفیق کو پارٹی میں نہ سنے جانے کی شکایات اور پاکستان مسلم لیگ ن کے اندر دیگر بہت سے عوامل کی موجودگی میں کراچی سے شروع ہونے والے دوسرے راؤنڈ کی کامیابی کے بارے میں بہت سے سوالات اپنی جگہ برقرار ہیں۔
پی ٹی آئی کی حکومت ابھی تک اپوزیشن کو غیر اہم مسائل کی پچ پر کھلانے کی پالیسی میں کامیاب رہی ہے۔ ”سر سے پاؤں“ تک احتساب پر عمل پیرابیرسٹر شہزاد اکبر کی آج کل کی خاموشی کے باوجود جاری ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری، میاں شہباز شریف، فریال تالپور، سید مراد علی شاہ، آغا سراج درانی، چودھری احسن اقبال، خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق اور دیگر جیل اور ضمانتوں کے مراحل سے گذر چکے ہیں۔سید خورشید شاہ کے بارے میں اب مخالفین بھی آواز نکال رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ پی ڈی ایم اگر پارٹ ٹو شروع کر رہی ہے تو چوہدری احسن اقبال کے بھائی کے نام پر کیس شروع کرنے سے دوسری طرف سے بھی اگلے راؤنڈ کا آغاز ہوا چاہتا ہے جس میں نیب کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے اور پنجاب اینٹی کرپشن کا محکمہ بھی شامل ہے۔اپوزیشن کا پاؤں زلف دراز میں پھنسا ہوا ہے لیکن ابھی یہ کہیں سے ظاہر نہیں ہو رہا۔ اگر ایسا ہونا ہوتا تو داکٹر ظفر مرزا، ندیم بابر، راجہ عامر کیانی اور دیگر یوں سکاٹ فری اندرون و بیرون ملک نہ پھر رہے ہوتے کراچی جلسے میں اپوزیشن اپنے خلاف پیدا کردہ حالات پر بات کرے یا پھر انکے بقول احتساب کے دہرے معیار پر تنقید کرے گی حکومت ایسی سرگرمی کو اب کوئی اہمیت نہیں دے رہی۔ کیونکہ اپوزیشن تقسیم ہے اور پہل کرنے کا عمل حکومت نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔اپوزیشن جماعتیں حکومتی ایجنڈے کے مطابق حکومتی پچ پر ہی کھیلتی ہیں۔ اپوزیشن میں دم ہوتا، اصولوں پر یگانگت ہوتی، واضح لاحہئ عمل ہوتا تو پی ٹی آئی کی تین سالہ کارکردگی کو چیلنج کرتی۔ وزیراعظم ایسی تقریرنہ کرتا جیسے عمران خان نے جمعرات کو کی۔ چینی، دال، چاول، آٹا، گھی، کوکنگ آل، انڈے، گوشت، مرغی،پھل، سبزیاں، بجلی، گیس، ٹماٹر سب کچھ تو دیکھتے ہی دیکھتے عوام کی دسترس سے نکل چکا۔ احتساب کے گرداب میں پھنسی ہوی اپوزیشن کچھ بھی نہ کر سکی۔
(کالم نگارمعروف سیاسی تجزیہ نگارہیں)
٭……٭……٭

تجارتی حجم میں خاطرخواہ اضافے کی ضرروت

ڈاکٹر شاہد رشیدبٹ
افغانستان کی صورتحال میں بہت تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو ئیں ہیں،طالبان ایک مرتبہ پھر کابل کی حکومت حاصل کر چکے ہیں،اور سابق افغان قیادت ملک سے فرار ہو گئی ہے۔بہر حال سیاسی معاملات تو اپنی جگہ پر لیکن اس تمام ترصورتحال کے معاشی مضمرات پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ افغانستان ایک غریب ملک ہے اور اس سے تجارت کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں ہے لیکن حقیقت اس عمومی تاثر سے یکسر مختلف ہے۔
پاکستان تجارت کے لیے افغانستان کے لیے کلیدی حیثیت کا حامل ہے اور افغانستان سے سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ دوسری طرف افغانستان کی اہمیت بھی پاکستان کے لیے کسی طور پر بھی کم نہیں ہے اور افغانستان پاکستان کی برآمدات کے لیے دنیا کی چوتھی بڑی ما رکیٹ ہے۔اور حالیہ برسوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں خاطر خواہ اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2021ء میں پاکستان کی افغانستان کو برآمدات 15فیصد اضافے سے 869ملین ڈالرزہیں جو کہ گزشتہ برس 754ملین ڈالر تھیں۔ پاکستان نے آئندہ برس افغانستان کو 1.5ارب ڈالر تک کی برآمدات کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جو کہ مشکل ہے لیکن بہر حال محنت کے ساتھ حاصل کیا جاسکتا تھا لیکن اب افغانستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں اس ہدف کا حصول مشکل دیکھائی دے رہا ہے۔تقریباً دو ہفتے قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان سپین بولدک کا بارڈر طالبان کے قبضے کے بعد بند کر دیا گیا اور اس تحریر کے لکھتے وقت تک تجارت کے لیے بند ہے جبکہ کچھ ایسی ہی صورتحال طو رخم بارڈر کی بھی ہے۔ لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ یہ صورتحال عارضی ثابت ہو گی کیونکہ طالبان افغانستان میں حکومت قائم کر چکے ہیں،اور بڑی حد تک معاملات کو کنٹرول میں لے چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں طالبان نے کابل میں پریس کانفرنس کی ہے اور اس پریس کانفرنس میں جہاں پر طالبان نے عالمی برادری کے ساتھ مل کر چلنے کی خواہش کا اظہار کیا وہیں پر انہوں نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جا ئیں گے۔ان کی اس بات سے یہ محسوس ہو تا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت کی صورتحال آہستہ آہستہ معمول پر آنا شروع ہو جائے گی اور پاکستان کو اس حوالے سے زیادہ نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا،اور اعداد و شمار بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق 15اگست کو پاک افغان سرحد پر 415مال بردار ٹرکوں کی نقل و حمل دیکھی گئی،جو کہ ریکارڈ کم سطح پر تھی لیکن دو روز بعد ہی جیسے ہی افغانستان کی صورتحال کچھ واضح ہو ئی تو 17اگست کو پاک افغان سرحد پر 1123مال بردار گاڑیوں نے سرحد عبور کی جبکہ محرم گزر جانے کے بعد اس تعداد میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔
پاک افغان سرحد پر ابھی تک صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق ابھی تک سرحد پر مہاجرین کی آمد کے بھی کوئی آثار نہیں ہیں۔ یہ پیشرفت بھی پاکستان کے لیے بہت مثبت ہے اور افغانستان میں زندگی معمول کے مطابق ہونے کا ایک اشارہ ہی تصور کی جاسکتی ہے۔ میں پہلے بھی اپنی تحریر وں میں اس بات کاذکر کرتا رہا ہوں کہ پاکستان کی برآمدات کے لیے منڈیاں روایتی اور قلیل رہی ہیں جس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان روایتی طور پر امریکہ،یو رپ اور چین کو ہی برآمدات کرتا آیا ہے جبکہ دنیا اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے،پاکستان کو مشرق وسطیٰ،افریقا،وسطی ایشیا ء اور لا طینی امریکہ میں اپنی برآمدات کو وسعت دینے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک جن میں افغانستان اور ایران قابل ذکر ہیں ان کے ساتھ اپنی موجودہ تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف برآمدات کے شعبے کے لیے انپٹ کا سٹ کو کم کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔حالیہ کچھ عرصے میں پاکستان کی ٹیکسٹائل کی صنعت کو درکار را میٹریل جس میں بجلی،گیس،پانی کے علاوہ لیبر اور کپاس بھی شامل ہیں کی قیمتوں میں خا طر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہو ئی قیمتوں کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،جبکہ پاکستان کے تمام ہمسایہ ممالک،اور خصوصا ً بھارت اور بنگلہ دیش میں ان بنیادی ضروریات کی قیمتیں برآمدی صنعت کے لیے نہایت ہی کم ہیں۔
پاکستان کے برآمد کنندگان نے ہمسایہ ممالک میں کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے باعث فائدہ اٹھا یا اور پاکستان کی برآمدات میں اضافہ کیا لیکن اب بڑھتی ہو ئی انپٹس اور ہمسایہ ممالک کی صنعتیں فعال ہونے کے باعث اب پاکستان کے برآمد کندگان کو سخت مقابلے کا سامنا ہو گا حکومت پاکستان کو فوری طور پر اس حوالے سے توجہ دینے اور اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔خصوصا ً حکومت پاکستان کو کپاس اور کاٹن کی پاکستان میں مقامی پیدا وار میں اضافہ کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ سپننگ انڈسٹری اس وقت ٹیکسٹائل شعبے کے آرڈر پورے نہیں کر پا رہی ہے۔ بھارت میں سستے داموں میں یہ اشیا ء امپورٹ ضرور کی جاسکتی ہیں لیکن موجودہ حالات میں ایسا ممکن نہیں ہے لہذا پاکستان کو اپنے دم پر ہی اپنی ٹیکسٹائل کی صنعت میں استعمال ہونے والی اشیا ء کی پیدا وار میں خاظر خواہ اضافہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف پاکستان کی صنعت کی ضرورت پوری ہو بلکہ کپاس اور کاٹن کی قیمتوں میں بھی کمی آسکے۔
(سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس ہیں)
٭……٭……٭