All posts by Daily Khabrain

این ایل ای ٹیسٹ کے خلاف لاہور میں کلمہ چوک پر ڈاکٹرز کا احتجاج

لاہور :  این ایل ای ٹیسٹ کے خلاف لاہور میں کلمہ چوک پر ڈاکٹرز نے احتجاج کیا۔

این ایل ای امتحان کیخلاف میڈیکل کے طلباء اور ینگ ڈاکٹرز سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے کلمہ چوک پر احتجاج کرتے ہوئے برکت مارکیٹ روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا۔ مظاہرین نے امتحانی مراکز میں داخل ہونے کی کوشش کی تو پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کر دیا۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی جس سے متعدد ڈاکٹرز زخمی جبکہ 15 سے زائد مظاہرین کی طبیعت خراب ہو گئی۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کیلئے آئے تھے جو ہمارا حق ہے۔

ادھر احتجاج کے باعث شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔

بعدازاں صورتحال خراب ہونے پر مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا ان کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر میں اوپی ڈیز بند کر دینگے۔

لاہور میں خاتون کو نوکری کا جھانسہ دیکر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناڈالا

لاہور: گڑھی شاہو میں ملزمان نے خاتون کو نوکری کا جھانسہ دیکر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔

لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں خاتون کو نوکری کا جھانسہ دیکر ملزمان نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا، مغلپورہ کی رہائشی خاتون کو سیف نامی ملزم نے نوکری دلوانے کے لیے بلوایا اور پھر رکشہ میں بٹھاکر گڑھی شاہو پہنچ گیا، ملزم نے رکشہ کو ناچ گھر گراؤنڈ کے قریب کھڑا کیا اور خاتون کو گراونڈ میں لے گیا جہاں پہلے سے ہی دو افراد موجود تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق ایک شخص نے گن پوائٹ پر خاتون سے بچی چھین کر اسے یرغمال بنایا جب کہ باقی دونوں افراد نے باری باری خاتون کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے جب کہ پولیس نے روایتی کارروائی کا مظاہرہ کرتے مقدمہ درج کرلیا۔

کابل ائیرپورٹ پر دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 100سے تجاوز کر گئی

کابل ائیرپورٹ پر ہونے والے یکے بعد دیگرے تین دھماکوں میں ہلاک افراد کی تعداد 90 سے تجاوز کر گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق دھماکوں میں 140 افراد زخمی ہونے جبکہ ہلاک ہونے والوں میں 13 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق کابل ائیر پورٹ دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاغ پر دکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

اد رہے کہ امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا نے جمعرات کو ہی دہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو کابل ائیرپورٹ کے قریب جانے سے منع کیا تھا۔

پاکستان میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 92 ہزار 844 ہوگئی

پاکستان میں اب تک 11 لاکھ 44 ہزار 341 کورونا کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں سے 10 لاکھ 26 ہزار 82 صحتیاب ہونے میں کامیاب رہے جبکہ 25 ہزار 415 انتقال کرگئے۔

اس وقت ملک میں فعال کیسز کی تعداد 92 ہزار 844 ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں رپورٹ ہونے والے کیسز اور اموات کی تعداد کچھ یوں رہی:

  • پنجاب: ایک ہزار 320 کورونا کیسز، 40 اموات
  • سندھ: ایک ہزار 467 کورونا کیسز، 24 اموات
  • خیبرپختونخوا: 519 کورونا کیسز، 25 اموات
  • بلوچستان: 86 کورونا کیسز
  • اسلام آباد: 414 کورونا کیسز، 4 اموات
  • آزاد کشمیر: 184 کورونا کیسز، ایک موت
  • گلگت بلتستان: 26 کورونا کیسز، ایک موت

کراچی: کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی سے 13 مزدور جاں بحق

کراچی کے علاقے کورنگی میں ایک کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی سے 13 مزدور جاں بحق ہو گئے۔

کورنگی کے علاقے مہران ٹاؤن میں واقع کیمیکل فیکٹری میں صبح 10 بجے کے قریب آگ لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے پوری فیکٹری میں پھیل گئی۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں جس کے باعث آگ پھیل گئی۔

فائر بریگیڈ کا عملہ فیکٹری میں لگی آگ بجھانے کے لیے موجود ہے اور آگ بجھانے کی کوشش کے دوران 2 فائر فائٹرز بھی زخمی ہوئے جبکہ فیکٹری کی دیواریں توڑنے کے لیے ہیوی مشینری کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

ریسکیو ذرائع کا بتانا ہے کہ فیکٹری سے اب تک 13 مزدوروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جس میں سے 10 لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ عینی شاہدین کا بتانا ہے کہ فیکٹری میں اب بھی لوگ موجود ہیں۔

یکم ستمبر سے کورونا ویکسی نیشن نہ کروانے والے افراد پیٹرول سے محروم

لاہور میں یکم ستمبر سے کورونا ویکسی نیشن نہ کروانے والے افراد کو  پیٹرول نہیں دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق کورونا ویکسین نہ لگوانے والوں کے لیے نئی پابندیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے،جس کے  پیش نظر لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے پیٹرول پمپس پر  بینر ز بھی آویزاں کروا دیئے ہیں۔

پیٹرول پمپس پر  آویزاں بینرز  پر لکھا گیا ہے کہ یکم ستمبر  2021 سے کورونا ویکسین نہ لگوانے والوں کو پیٹرول نہیں ملے گا، یکم ستمبر سے پیٹرول صرف کورونا ویکسی نیشن کروانے والوں کو  ہی  دیا جائے گا۔

دوسری جانب موٹر  وے پولیس نے بھی موٹر ویز اور ہائی ویز  پر کورونا ویکسی نیشن  سرٹیفکیٹ کے بغیر سفر پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ  15 ستمبر کے بعد شہری ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر سفر نہیں کر سکیں گے، لہذا مسافر دوران سفر  ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ لازمی ساتھ رکھیں۔

سابق حکمران شوبازیوں ، بزدار عوامی خدمت کے قائل ہیں، فیاض چوہان

لاہور ( لیڈی رپورٹر سے ) وزیر جیل خانہ جات و ترجمان حکومت پنجاب فیاض چوہان نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت کی شوبازیوں اور پھڑکنے بھڑکنے کے برعکس وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار \”نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو\” کے قائل ہیں۔

شہباز شریف ایک کروڑ کا پراجیکٹ لگا کر بارہ کروڑ ذاتی تشہیر پر خرچ کرتے تھے ۔ شریف خاندان نے سرکاری خزانے کے باون ارب ڈالر صرف یہ ثابت کرنے پر لگا دیئے کہ انہوں نے عوام کے لیے کچھ کیا ہے ۔ حکومت پنجاب کی تین سالہ کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ بزدار حکومت نے محکمہ صحت کے مجموعی بجٹ میں 118 فیصد اضافہ کیا، حکومت سات لاکھ بیس ہزار کی سالانہ ہیلتھ انشورنس فراہم کر رہی ہے ، سال کے آخر تک ساڑھے 11 کروڑ لوگوں کو یہ سہولت میسر ہو گی۔

تعلیم کے لیے مجموعی طور پر 442.1 ارب روپے مختص کیے سرکاری اراضی واگزار، آبپاشی، زراعت کو ترقی دی پریس کانفرنس

شریف خاندان نے 52 ارب ڈالر اپنی تشہیر پر لگا دئیے ، عوام کئ لیے کچھ نہیں کیا

کابل ائیرپورٹ دھماکے: امریکی صدر کا داعش پر حملوں کا حکم

امریکا کے صدر جو بائیڈن نے کابل ائیرپورٹ دھماکوں کا ذمہ دار  داعش خراسان کو  قرار دیتے ہوئے شدت پسند تنظیم کی قیادت پر حملوں کا حکم دے دیا۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے صدر جوبائیڈن نے بتایا کہ کابل ائیرپورٹ پر دھماکوں کے حوالے سے داعش اور طالبان کے درمیان گٹھ جوڑ کے کوئی شواہد نہیں ملے، ان کا کہنا تھا طالبان اچھے لوگ نہیں ہیں لیکن کابل ائیرپورٹ تک راستہ کھلا رکھنا ان کے اپنے مفاد میں ہے۔

صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکی اہلکاروں پر حملے کی منصوبہ بندی داعش اور کابل کی جیلوں سے نکلنے والے افراد کر رہے تھے، حملے کے ذمہ دار جہاں کہیں بھی ہوئے انھیں ڈھونڈ نکالیں گے اور انھیں اس حملے کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کر دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کابل ائیرپورٹ پرحملے کے ذمہ داروں کو اپنی طاقت سے اور اپنی مرضی کے مقام پر بھرپور جواب دیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز کابل ائیرپورٹ پر ہونے والے خودکش دھماکوں میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 90 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوئے۔

کابل ائیرپورٹ پر ہونے والے خودکش دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ بمبار نے امریکی فوج کے سکیورٹی حصار کو توڑتے ہوئے 50 میٹر اندر جا کر  خود کو اڑایا۔

3سالہ کارکردگی پر فخر ، غربت ،ختم روزگار میں اضافہ کیا : وفاقی وزرا

اسلام آباد: (نامہ نگار خصوصی ) وفاقی وزیر اطلاوات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں جن جماعتوں نے 30 سال حکومت کی ، آج وہ اپنا منہ چھپا رہی ہیں۔

تحریک انصاف واحد حکومت ہے جوعوام کے سامنے اپنی کارکردگی فخر کے ساتھ پیش کر رہی ہے۔ تما  وزارتوں کی کارکردگی پیش کرنا نئی روایت ہے۔

اسحاق ڈار معیشیت کا جنازہ نکال کر کر فرار ہوئے ، ہماری حکومت نئے ڈیم اور بجلی گھر بنا رہی ہے: فرخ حبیب

پاکستان میں30 سال حکومت کرنیوالی جماعتیں آج اپنا منہ چھپا رہی ہیں، ہم نے فلسطین ، کشمیر کی پوری دنیا میں آواز اٹھائی : فواد چوہدری

میں جانتا ہوں کہ میں نہیں جانتا

ڈاکٹرعبدالقادر مشتاق
اے پروردگار ہمیں اکیلا نہ چھوڑنا۔ بے شک تو بہترین وارث ہے۔ انسان بہت کمزور ہے، جذبات کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ جذبات کو قابو میں رکھنے کے لئے نفس کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ میں نے قربانی عید پر ایک دوست سے پوچھا کہ اس دفعہ آپ کس جانور کی قربانی دے رہے ہو تو اس کا کیا خوبصورت جواب تھا کہ سر! ہم نفس کو قربان کرنے جارہے ہیں۔ میں اس کی بات سن کر حیران بھی ہوا اور خوش بھی ہوا کہ دنیا میں اور خاص طور پر آج کے دور میں بھی ایسے انسان موجود ہیں جو نفس کی قربانی دینے کا سوچتے ہیں۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ نفس کسے کہتے ہیں۔ وہ بولا حرص کو، لالچ کو، کینہ اور بغض و عناد کو، انا کو۔ میں نے سوال کیا کہ یہ ساری قربانیاں ایک ہی موقع پر؟ وہ سوچ میں پڑ گیا۔ میں نے اس کی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے کہا کہ
روز یہ کہتا ہوں کہ اب نہ تجھے دیکھوں گا لیکن
روز تیرے کوچے میں کوئی کام نکل آتا ہے
دوست نے خاموشی توڑی اور واہ واہ کرنے لگا۔ میرے شعری انتخاب کی داد دینے لگا۔ میں نے کہا بس کر میرا نفس تیری واہ واہ پر خوش ہو رہا ہے۔ واہ واہ انسان کو تباہی کی طرف بھی لے کر جاتی ہے اور اگر نفس قابو میں رہے تو اصلاح کی طرف بھی۔ درگاہ گولڑہ شریف کے ایک صاحبزادے بہت بڑے شاعر بھی تھے۔ ان کے والد گرامی ان کو مشاعروں میں جانے سے روکتے تھے۔ اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے تھے کہ مشاعروں میں شاعری پر ہونے والی واہ واہ انا کے پودے کو پانی دیتی ہے جس سے اس کی افزائش ہوتی ہے۔ اور جب انا کا پودا پروان چڑھ جاتا ہے تو پھر اسے کاٹنے میں وقت لگتا ہے۔ وقت بھی کتنی عجیب چیز ہے۔ کبھی مستقل کسی کا نہیں ہوتا۔ آج میرے ساتھ ہے تو کل کسی اور کے ساتھ۔ لیکن اس کی ایک خوبی ضرور ہے کہ یہ جب کسی کے ساتھ ہوتا ہے تو پھر منافقت سے پاک ہوکر انسان کا ساتھ دیتا ہے۔ منافقت بھی عجیب چیز ہے انسان سوچتا ہے کہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے اس کا استعمال جائز ہے۔ میرا ایک دوست کہتا ہے کہ مفادات کے حصول کے لئے ڈپلومیسی سے کام لینا چاہیے منافقت سے نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے لوگ ڈپلومیسی اور منافقت میں فرق نہیں کرتے۔ کیا فرق ہے دونوں میں؟ منافقت کا استعمال ہمیشہ منفی مقاصد کے حصول کے لئے کیا جاتا ہے، چور دروازوں سے داخل ہونے کے لئے کیا جاتا ہے۔ انسان کو دھوکہ دینے کے لئے کیا جاتا ہے، قول و فعل میں تضاد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
ڈپلومیسی کی بنیاد گفت و شنید پر ہوتی ہے اور پھر جو معاہدات وجود میں آتے ہیں ان کی پاسداری من وعن فرض ہو جاتی ہے۔ ڈپلومیسی ایک سکل ہے جو ہر شخص میں نہیں ہوتی۔ اس معاشرے میں ہنرمند افراد کی ویسے بھی کمی ہے۔ ویسے تو انسانوں کی بھی کمی ہے کیونکہ انا پرست زیادہ ہیں۔ اور اپنی انا کو برقرار رکھنے کے لئے کوئی بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ ہر انسان فرشتہ بننے کی کاوش میں لگا رہتا ہے۔ بشر بننے کی خواہش کسی کے اندر نظر ہی نہیں آتی۔ انا پرستی کو قابو میں رکھنے کے لئے “میں ” کی نفی کرنی پڑے گی۔ ہمارے دوست انجم سلیمی نے اپنی کتاب کا نام “میں ” رکھ دیا لیکن ”میں“ کو مارنے کا کوئی طریقہ نہ بتا سکا۔ ہمارے ایک اور دوست اپنے آپ کوبہت بڑے محقق سمجھتے ہیں اور اکثر اپنی تعریف خود کہہ جاتے ہیں کہ میں بڑا دعویٰ نہیں کرتا لیکن تیرے ادارے میں میرے جیساکوئی ہے تو سامنے لے کر آئیں۔ جب اس کی بات پر سب خاموش رہیں تو پھر کہتا ہے کہ مجھے ہر بندہ نہیں جان سکتا ہے کیونکہ ان کے بس میں نہیں ہے اگر کوئی جان سکتا ہے تو وہاں بیٹھے ہوئے کسی دوست کا نام لے لے گا کہ میرے بارے میں جاننا ہے تو اس سے پوچھو۔ ہم پروفیسر لوگ اپنی قابلیت کا یقین دلوانے کے لئے دوسروں کی گواہی ضروری سمجھتے ہیں ورنہ ہمیں خود اپنی قابلیت پر شک ہونے لگتا ہے۔ میں نے بزرگوں سے سنا ہے اور صوفیہ کرام کی شاعری میں پڑھا بھی ہے کہ انسان پر جیسے جیسے علم کا بوجھ پڑتا ہے وہ عاجزی اور انکساری کی طرف جاتا ہے۔
کسی نے کہا کہ عارف وہ ہے جو علم کا سمندر پی جائے اور پتہ بھی نہ چلے۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ علم جذب کرنا بھی بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ جذب کرنے کے لئے ریاضت کرنی پڑتی ہے۔ اور ریاضت کسی استاد کے بغیر ممکن نہیں۔ اب استادوں پر بات آگئی ہے لہٰذا محتاط ہو کر گفتگو کرنی پڑے گی ورنہ فتوے استادوں کی جیب میں ہوتے ہیں۔ جو وہ اکثر اپنے دوست پروفیسروں پر ہی استعمال کر جاتے ہیں۔ اچھے خاصے مسلمان انسان کو قادیانی بنا دیتے ہیں، محب وطن شخص کو پاکستان مخالف بنا دیا جاتا ہے، اخلاقی اور معاشی الزامات کی بوچھاڑ تو ہر وقت مخالف کی تلاش میں رہتی ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کا درس دے کر یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ ہمارے جیسا کوئی دنیا میں مسلمان ہے ہی نہیں۔ بس نہیں چلتا ورنہ نعوذ باللہ نبوت کے دعوے بھی ہونے لگیں۔ خیر ہم ایسے استادوں پر بات کرکے اپنے کالم کی خوبصورتی ختم نہیں کرنا چاہتے۔ ہماری تاریخ دان ہیں۔ ڈاکٹر تنویر انجم ان کا خیال ہے کہ جو ساری عمر احساس محرومی میں گزارتے ہیں ان کے پاس جب علم آتا ہے تو وہ بہت خطرناک ہوجاتے ہیں۔ انسانوں کو آپس میں لڑواتے ہیں، ان کو عزت ملتی ہے تو وہ فوری طور پر فرعون بن جاتے ہیں انسانوں سے ہتک آمیز رویہ اختیار کر لیتے ہیں جب بس نہیں چلتا تو شدید منافقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ لیکن من کو مارنے کے لئے ان استادوں کی ضرورت ہے جو نمی دانم کے فلسفے کے قائل ہیں اور بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔ جنھوں نے اپنی ذات کی نفی کی وہ امر ہوگئے۔
سارے پنجابی صوفی شاعر اسی بات کا پرچار کرتے کرتے دنیا سے چلے گئے کہ میں ناہیں سب توں، کسی نے کہا کہ ”میں نوں مار کے مُنج کر۔۔۔نکی کر کے کُٹ۔۔۔بھرے خزانے رب دے جو بھاویں سو لٹ“۔ ایسے استادوں کی تلاش ضروری ہے جو عاجزی اور انکساری کا درس دیتے ہوں اپنے شاگردوں کو تاکہ خودغرضی، نفسانفسی، انا پرستی، منافقت،دکھاوا اور انسانوں کو نیچا دیکھانے کی حرص سے جان چھوٹ سکے۔ خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے کہ اپنے سوا کوئی دکھائی نہ دے۔ دیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان کے پاس بصارت ہونی چاہیے اور بصارت کے لئے ضرورت ہے کہ آنکھوں کے کُکرے صاف کرواے جائیں تاکہ آنکھیں صحیح کام کر سکیں اور انسان کی معاونت کر سکیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پے آ سکتا نہیں۔۔۔۔۔محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔ دنیا میں زاوئیے بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اشفاق احمد کا خیال ہے کہ زاویہ بدلنے سے انسان تکبر سے بچ جاتا ہے۔ جب تکبر ختم ہو جائے تو پھر وہ زمین پر نہ تو اکڑ کر چلتا ہے اور نہ ہی انسانوں کو تباہ و برباد کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔ ویسے تو اس ملک میں کئی منصوبہ ساز آئے اور چلے گئے لیکن ملک کی ترقی کا انحصار شعور پر ہے۔ جو انسانوں میں یکدم نہیں آجاتا بلکہ وقت درکار ہوتا ہے۔ اس لئے تبدیلی بھی فوری ممکن نہیں ہوتی۔ تبدیلی افراد کی تبدیلی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ نظام کی تبدیلی ہے۔ نظام کی تبدیلی مثبت تنقید کی گود میں جنم لیتی ہے۔ تنقید برائے تنقید کے ہم لوگ عادی ہوچکے ہیں۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ اپنی ہر تخلیق ہمارے لئے باعث رحمت بنائے۔آمین
(کالم نگار جی سی یونیورسٹی فیصل آبادکے
شعبہ ہسٹری کے چیئرمین ہیں)
٭……٭……٭