All posts by Khabrain News

منشیات کی غیرقانونی سرگرمیوں کا الزام، امریکا نےکولمبین صدرپرپابندیاں عائد کردیں

امریکا نے کولمبیا کے صدر گستاو و پیٹرو  پر  منشیات اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کر دیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس  کے مطابق صدر پیٹرو پر عائد پابندیوں کے نتیجے میں ان کے امریکا میں موجود  اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں جبکہ امریکی شہریوں کو  ان کے ساتھ کسی بھی مالی لین دین سے روک دیا گیا ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ اقدام خطے میں منشیات کی اسمگلنگ اور  بدعنوانی کے خلاف واشنگٹن کے عزم کا حصہ ہے۔

دوسری جانب کولمبیا کی حکومت نے امریکی فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے سیاسی نوعیت کا قرار دیا ہے۔

صدر پیٹرو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں کولمبیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔

عالمی میڈیا نے تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈدونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا پر تمام فنڈنگ بند اور محصولات میں اضافے کی دھمکی دی تھی۔

جھانوی کپور نے ’’بفیلو پلاسٹی‘‘ کروائی ہے؟ اداکارہ کا بیان آگیا

بالی ووڈ کی کوئین آنجہانی اداکارہ سری دیوی کی بیٹی اداکارہ جھانوی کپور نے اپنے بارے میں وائرل ہونے والی کاسمیٹک سرجری کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اُنہوں نے کوئی ’’بفیلو پلاسٹی‘‘ نامی کاسمیٹک سرجری نہیں کروائی۔

ایک ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے جھانوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کچھ ’’خود کو ڈاکٹرز کہنے والے یوٹیوبرز‘‘ نے اُن کے چہرے کا تجزیہ کر کے دعویٰ کیا کہ اُنہوں نے یہ سرجری کروائی ہے، جو دراصل ایک من گھڑت کہانی ہے۔

یاد رہے کہ بفیلو پلاسٹی یا ’بل ہارن لپ لفٹ‘ ایک ایسی سرجری کو کہا جاتا ہے جس میں ناک اور اوپری ہونٹ کے درمیان کی جگہ کو معمولی سا کم کیا جاتا ہے تاکہ ہونٹ قدرتی طور پر بھرے ہوئے دکھائی دیں۔

جھانوی کپور نے اس طرح کی افواہوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ویڈیوز نوجوان لڑکیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا، ’’اگر کوئی کم عمر لڑکی اس طرح کی باتوں پر یقین کر کے غیر محفوظ طریقہ اختیار کرے تو یہ بہت خطرناک ہوگا‘‘۔

اداکارہ نے زور دیا کہ خوبصورتی بڑھانے سے متعلق معاملات میں آگاہی ضروری ہے تاکہ لوگ سوشل میڈیا کے گمراہ کن دعوؤں سے بچ  سکیں اور کوئی ایسی سرجری نہ کروا بیٹھیں جس کو کسی اداکارہ کے نام کے ساتھ جوڑا گیا ہو۔

جلد وکیل بن جاؤں گی، امریکی ماڈل کم کارڈیشیئن

امریکی ریئلٹی ٹی وی اسٹار کِم کارڈیشیئن نے اپنے وکالت کی تعلیم کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ وہ محض چند ہفتوں میں باضابطہ طور پر وکیل بننے والی ہیں۔

ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے 45 سالہ کِم کارڈیشیئن نے بتایا کہ وہ اپنے فیشن اور شوبز منصوبوں کے ساتھ ساتھ قانون کے میدان میں بھی بھرپور توجہ دے رہی ہیں۔

کِم کے مطابق، ’میں جنوری میں اپنی پہلی فلم کی شوٹنگ شروع کرنے جا رہی ہوں، اور ہم اپنی سیریز آلز فیئر کے دوسرے سیزن کے لیے بھی پُرامید ہیں‘۔

مستقبل کے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا، ’میں ہمیشہ سیکھنا، آگے بڑھنا اور خود کو بہتر بنانا چاہتی ہوں، اور دیکھنا چاہتی ہوں کہ یہ سفر مجھے کہاں لے جاتا ہے‘۔

کِم کارڈیشیئن نے مزید بتایا کہ اُن کے امتحانات کے نتائج جلد متوقع ہیں، وہ اگلے دو ہفتوں میں اہل وکیل بن جائیں گی اور اگلے دس سالوں میں وہ شوبز چھوڑ کر مکمل طور پر ٹرائل لائر کے طور پر کام کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔

وائیڈ بال سے متعلق آئی سی سی کا نئے قانون کا تجربہ

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے کرکٹ میں نئی تبدیلی کردی گئی۔

آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان پرتھ میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے کے دوران وکٹ کے دونوں جانب وائیڈ لائنز اور اسٹمپ کے درمیان نمایاں نیلے رنگ کی نئی لکیروں نے شائقین کو حیرت میں مبتلا کردیا۔

اسی طرح کی نئی لکیریں میرپور میں بنگلادیش اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلے ون ڈے میں بھی دیکھی گئیں جو اس سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ میں کبھی نظر نہیں آئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں وائیڈ بال سے متعلق قانون میں جلد تبدیلی کی جا رہی ہے اور اسی سلسلے میں آئی سی سی نے لیگ اسٹمپ کے قریب وائیڈ بال کے نئے قانون کا تجربہ شروع کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قانون فی الحال چھ ماہ کے ٹرائل مرحلے میں ہے اور اگر تجربہ کامیاب رہا تو اسے وائٹ بال کرکٹ میں باضابطہ طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔

پرانا قانون:

وائیڈ بال کے پرانے قانون کے مطابق اگر کوئی بھی گیند لیگ اسٹمپ پہ جاتی تھی تو اسے وائیڈ قرار دیا جاتا تھا۔ اس قانون سے بیٹرز کو زیادہ فائدہ ہوتا تھا اور بولرز کے پاس غلطی کی گنجائش انتہائی کم ہوتی تھی۔

نیا قانون:

نئے قانون کے تحت لیگ اسٹمپ کے قریب نئی لکیریں لیگ سائیڈ پہ جانے والی وائیڈ بال کا تعین کریں گی۔ یہ لکیریں لیگ اسٹمپ کے قدرے قریب بنائی گئی ہیں تاکہ وائیڈ بال سے متعلق قانون کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

کوئی بھی گیند جو لیگ سائیڈ پر لکیر کے اندر سے گزرے  گی، اسے وائیڈ قرار نہیں دیا جائے گا، صرف لکیر سے باہر نکل جانے والی گیند ہی وائیڈ کہلائے گی۔

ڈکی بھائی کے جوا کیس سے نوجوانوں کو سبق ملا اور ماؤں نے سکھ کا سانس لیا؛ نادیہ خان

معروف اینکر اور اداکارہ نادیہ خان نے ایک بار پھر اپنے بے باک تبصروں سے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔

جانے مانے یوٹیوبر ڈکی بھائی کو مبینہ طور پر جوا ایپس کی تشہیر اور فروغ کے کیس میں جیل اور بھاری جرمانے کا سامنا ہے۔

نادیہ خان نے اپنے شو میں اس کیس پر کہا کہ ڈکی بھائی نے خود ہی بدنامی کمائی ہے۔ جب پیسہ حرام کا ہو تو سکون کہاں سے آئے گا؟

انھوں نے مزید کہا کہ یہ سب آج کل کے نوجوانوں کے لیے ایک سبق ہے۔ بغیر محنت کے آسانی کے ساتھ کمایا جانے والا پیسہ ہمیشہ آسانی سے چلا جاتا ہے۔

نادیہ خان نے مزید کہا کہ ہم ماؤں کو خوشی ہے کہ اب ہمارے بچے سیکھیں گے کہ شہرت اور پیسہ سب کچھ نہیں، تعلیم اور محنت ہی اصلی کامیابی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جن یوٹیوبرز نے اپنی بیویوں کے ساتھ طرح طرح کے وی لاگز بنا بنا کر شہرت کمائی آج ان کے انجام سے سب نے سبق لے لیا ہوگا۔

واضح رہے کہ ڈکی بھائی نے مبینہ طور پر اس کیس کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے بطور جرمانہ ادا کیے ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف تنقید کا طوفان برپا ہے۔

شریاس تالپڑے اور الوک ناتھ پر کروڑوں کے فراڈ کیس میں ملوث ہونے کا الزام، مقدمہ درج

بالی ووڈ کے معروف اداکار شریاس تالپڑے اور الوک ناتھ ایک بڑے مالیاتی فراڈ کیس میں  ملوث قرار دیے گئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دونوں اداکاروں کیخلاف یہ مقدمہ بھارتی ریاست اتر پردیش میں درج کیا گیا ہے، جہاں ملزمان پر سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع کا جھانسہ دے کر اُن کے پیسے ذاتی استعمال میں لانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس اسکیم میں شامل افراد نے عوام کو پرکشش منافع کے وعدوں سے متاثر کر کے سرمایہ لگانے پر آمادہ کیا۔ تاہم جب منافع کی ادائیگی رک گئی اور سرمایہ ختم ہو گیا تو معاملہ منظرِ عام پر آیا، جس کے بعد ریاستی تحقیقاتی اداروں نے تفتیش شروع کر دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ معروف فنکاروں کے نام اس کیس میں آنے سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ اُٹھی ہے اور یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ سرمایہ کاری سے متعلق دھوکہ دہی کے ایسے نیٹ ورک کتنے پھیل چکے ہیں کہ فنکار بھی جن میں شامل ہیں اور لوگ ان سے متاثر ہوکر بھی ایسی سرمایہ کاری میں پیسے لگا دیتے ہیں۔

اتر پردیش پولیس کے ترجمان کے مطابق شریاس تالپڑے اور الوک ناتھ سے تحقیقات کی جاری ہیں اور تمام ملزمان کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

تاہم اس حوالے سے تاحال شریاس تالپڑے اور الوک ناتھ کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ان کے وکلا کی جانب سے جلد مؤقف سامنے آنے کی توقع ہے۔

عمران خان نے محاذ آرائی کی پالیسی تبدیل نہ کی تو 2026 اور اسکے بعد بھی جیل میں رہیں گے: ذرائع

اسلام آباد:  اگر کوئی معجزہ نہ ہوا، یا کوئی ڈیل نہ ہوئی، یا عدالتوں سے غیر متوقع ریلیف نہ ملا تو عمران خان کے جلد رہا ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، اور وہ 2026 کے دوران بلکہ ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی جیل میں رہ سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے اندر سخت گیر عناصر اب بھی تصادم کی پالیسی پر قائم ہیں لیکن پارٹی کے تحمل مزاج رہنما عمران خان کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اُن کی رائے ہے کہ جب تک یہ محاذ آرائی ختم نہیں ہوتی، عمران خان کی رہائی ممکن نہیں۔

پارٹی کے کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی مشکلات جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتیں کیونکہ ان کے اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف زیر سماعت مقدمات اور سزاؤں کی نوعیت پیچیدہ ہے۔

عمران خان اور ان کی اہلیہ کی القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کیخلاف اپیلیں تاحال اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوئیں۔ اس سے پہلے ان کی سزا کی معطلی کی درخواست کی سماعت ضروری ہے، لیکن اس حوالے سے بھی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔

ہائی کورٹ کی جاری کردہ ’’فکسیشن پالیسی‘‘ کے مطابق، اپیلوں کی سماعت کیس دائر ہونے کی ترتیب میں کی جاتی ہے۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (این جے پی ایم سی) کی ہدایت پر تشکیل دی گئی اس پالیسی میں پرانے اور سنگین مقدمات، خصوصاً سزائے موت اور عمر قید کے کیسز کو ترجیح دی جاتی ہے۔

القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، اور ان کی اپیل 31 جنوری 2024 کو دائر کی گئی تھی، لیکن تاحال اس پر کوئی سماعت نہیں ہوئی۔

موجودہ عدالتی بیک لاگ اور ترجیحی پالیسی کو دیکھتے ہوئے، ذرائع کے مطابق، اس اپیل پر رواں سال سماعت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ کئی پرانے مقدمات پہلے زیر سماعت ہیں۔

پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ’’سخت گیر عناصر‘‘ جنہوں نے مذاکرات کی مخالفت کی، انہوں نے عمران خان کیلئے معاملات مزید مشکل بنا دیے ہیں۔ جب تک القادر ٹرسٹ کیس میں سزا برقرار ہے، عمران خان جیل سے باہر نہیں آ سکتے۔ ان کے قانونی مسائل میں اضافہ کرتے ہوئے، توشہ خانہ دوم کیس اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر اس میں بھی سزا ہو گئی تو اپیلیں سماعت کیلئے مقرر ہونے سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ کو مزید قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید برآں، 9 مئی سے متعلق کئی مقدمات تاحال زیر سماعت ہیں۔ پی ٹی آئی کے ماہرینِ قانون کو علم ہے کہ استغاثہ کے پاس اتنے قانونی حربے موجود ہیں کہ ان کیسوں کو طول دیا جا سکتا ہے، جس سے عمران خان کی رہائی میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے؛ پھر چاہے وہ کچھ کیسز میں ضمانت یا بریت ہی کیوں نہ حاصل کر لیں۔

حتیٰ کہ بہترین صورتحال میں بھی، اگر عمران خان تمام بڑے مقدمات میں ہائی کورٹ سے بری ہوئے بھی تو اس میں طویل عرصہ لگے گا۔

ذرائع کے مطابق، جب تک کوئی غیر معمولی عدالتی یا سیاسی پیش رفت نہیں ہوتی، عدالتی کارروائیوں کے موجودہ وقت کا اندازہ بتاتا ہے کہ عمران خان کی قید 2026ء تک، بلکہ اس سے بھی آگے تک جا سکتی ہے۔

دہشت گردوں کیخلاف موثر اقدامات کیے، ہرجارحیت کیخلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوںگے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی اور خوارج کے خلاف موثر اقدامات کیے ہیں، دشمن کی کسی بھی جارحیت  کے خلاف پاک فوج اور عوام سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  نے مردان کی مختلف یونیورسٹیز اور مدارس کے اساتذہ اور طلبہ سے نشت کے دوران خصوصی گفتگو کی،  خصوصی نشست میں عبد الولی خان یونیورسٹی، وومن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف انجنئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور مدارس کے طلبہ اور اساتذہ شریک ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے معرکہ حق، حالیہ پاک افغان کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال سمیت مختلف اہم  موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ؛ پاکستان نے دہشت گردی اور خوارج کے خلاف موثر اقدامات کیے ہیں، دشمن کی کسی بھی جارحیت  کے خلاف پاک فوج اور عوام سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے۔

طلبہ اور اساتذہ کی جانب سے غازیان اور شہداء کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا، اساتذہ   نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی گفتگو  سے ہمارے پاک افواج کے بارے میں بہت سے ابہام دور ہو گئے ، قوم امن کی کاوشوں اور ملک کی ترقی میں پاک فوج کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

طلبہ نے کہا کہ ملکی سلامتی اور استحکام کے حصول کیلئے خیبر پختونخوا کے نوجوان پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،  ہمیں اس بات کی آگاہی ملی کہ کس طرح ملک دشمن عناصر ہمارے ملک اور افواج کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرتے ہیں۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کی ملک کو درپیش خطرات کے خاتمے کیلئے بے پناہ قربانیاں ہیں،  اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں،  طلبہ

پاکستان اور افغان طالبان مذاکرات کا ترکیہ میں آج دوسرا دور، سرحدی گزرگاہیں بدستور بند

اسلام آباد:

پاکستان نے کہا ہے کہ دوحہ جنگ بندی معاہدے کے بعد سے افغان سرزمین سے کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا ہے۔ اسلام آباد اور افغان طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور استنبول میں آج ہوگا۔دفتر خارجہ نے اس پیش رفت کو مثبت نتیجہ قرار دیا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اس وقت بند ہے اور سیکیورٹی صورتحال کے جائزے تک بند ہی رہے گی۔ دفتر خارجہ کے نئے تعینات ہونے والے ترجمان طاہر اندرابی نے اپنی پہلی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ہفتے کے اوائل میں دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی نے بڑے پیمانے پر اپنے آپ کو برقرار رکھا ہے۔

طاہر اندرابی نے کہا گزشتہ دو تین دنوں میں پاکستان میں افغان سرزمین سے کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا ہے۔ لہٰذا درحقیقت دوحہ مذاکرات نتیجہ خیز رہے ہیں۔ ہم چاہیں گے کہ یہ رجحان استنبول اور بعد از استنبول بھی جاری رہے۔ ترجمان نے کہا کہ افغان فریق سے پاکستان کی اہم توقع بدستور برقرار ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

طاہر اندرابی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد نے مقصد اور ارادے کے اخلاص کے ساتھ اس عمل سے رجوع کیا۔ بات چیت کا مقصد ایک تصدیق شدہ اور تجرباتی طریقہ کار قائم کرنا تھا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کابل میں طالبان کی حکومت پاکستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروپوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ دوحہ معاہدہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں ہوا جس میں سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے اور سرحد پر امن کی بحالی پر توجہ دی گئی۔

آج 25اکتوبر کو استنبول میں ترکیہ کی میزبانی میں اگلے اجلاس کے دوران مجوزہ نگرانی کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ نہیں معلوم کہ نمائندہ خصوصی محمد صادق دوحہ مذاکرات میں کیوں شریک نہیں ہوئے۔ باضابطہ معاہدے کے وجود کو متنازع بنانے والے افغان حکام کے حالیہ بیانات کے بارے میں سوالات کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا پاکستان اصطلاحات کو اہمیت نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم طالبان کی طرف سے منسوب کردہ ناموں کو زیادہ توجہ نہیں دیتے، چاہے یہ اتفاق ہو یا جنگ بندی ہو یا معاہدہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک ٹھوس دستاویز کو حتمی شکل دی گئی جو قابل تعریف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغان دھمکیوں اور سرحد پار سے حملوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اسلام آباد کی سلامتی اور اس کے شہریوں کی زندگیوں کو تجارتی سہولتوں پر ترجیح دی جائے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اس وقت بند ہے اور سکیورٹی صورتحال کے جائزے تک بند ہی رہے گی۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے منسلک سرحدی پوائنٹس پر پاکستان کے خلاف مسلح حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں پاکستانی مارے گئے۔ ہمارے لیے پاکستانیوں کی جانیں کسی بھی تجارت سے زیادہ اہم ہیں۔

طاہر اندرابی نے اگرچہ اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ استنبول مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت کون کرے گا تاہم انہوں نے کہا کہا کہ ایک نمائندہ پاکستانی وفد اجلاس میں شرکت کرے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے طالبان کے دریائے کنڑ پر ڈیم بنانے کے منصوبے کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاملے کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی دریا بین الاقوامی قانون کے تحت چلتے ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں پاکستان ایک بالائی اور زیریں دونوں طرح کا علاقہ ہے اور ہم اس کے مطابق اس معاملے کی پیروی کریں گے۔

اندرابی نے کہا کہ پاکستان اب بھی افغانستان میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔ کابل میں طالبان کی حکومت کے لیے ہمارا پیغام واضح ہے، سرحد پار سے حملوں کو روکیں، ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح گروپوں کے دہشت گردوں کو کنٹرول کریں اور انہیں پکڑیں تو ہمارے تعلقات دوبارہ پٹری پر آسکتے ہیں۔ ہم ان سے کوئی چاند نہیں مانگ رہے ہم ان سے اپنے وعدوں پر عمل کرنے کا کہہ رہے ہیں۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا پولینڈ کے وزیرِ خارجہ پاکستان پہنچے، جہاں پاکستان اور پولینڈ کے درمیان دو یادداشتوں پردستخط کیے گئے۔ پاکستان فلسطینی عوام کے منصفانہ کاز کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ عالمی عدالتِ انصاف نے اسرائیل کے خلاف ایک اور مشاورتی رائے دی ہے۔

جنوری 2024 سے اب تک یہ اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف کا چوتھا فیصلہ ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے رواں ہفتے تین اہم سفارتی رابطے ہوئے۔ان میں امارات، سعودی عرب اور مراکش کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ گفتگو شامل ہے۔

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا عالمی اعتراف، امریکی جریدے نے ’خطے کا فاتح‘ قرار دے دیا

امریکا کے معتبر جریدے ’’فارن پالیسی‘‘ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان کی حکومتی سفارتکاری اور عسکری ڈپلومیسی کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسلام آباد کو خطے کا سفارتی فاتح قرار دیا ہے۔ 

امریکی جریدے کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی نے عالمی منظرنامہ بدل کر سفارتکاری میں نئے افق کھول دیے ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان کی سفارتکاری نے خطے میں نئی جہتیں متعارف کراتے ہوئے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ امریکا سے تعلقات کی بحالی، ترکی، ملائیشیا اور ایران کے ساتھ معاہدوں اور چین سے تعلقات کے فروغ نے بین الاقوامی تعلقات میں نیا باب رقم کیا ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے اسٹرٹیجک دفاعی معاہدے نے خطے میں ایک نئی سفارتی لہر پیدا کی ہے جو پاکستان کی کامیابی کا واضح مظہر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے نئے تعلقات کی شروعات کچھ پیش آنے والے غیر متوقع واقعات سے ہوئی، جن میں پاکستان کا داعش خراسان کے ایک اہم دہشتگرد کو گرفتار کرنا شامل تھا، جو کابل ایئرپورٹ حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔

فارن پالیسی میگزین نے لکھا کہ امریکی سینٹ کام کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا نے پاکستان کے انسداد دہشتگردی تعاون کو ’’غیر معمولی اور مؤثر‘‘ قرار دیا ہے۔ امریکا اور پاکستان کے تعلقات کی بحالی نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے رشتوں میں دراڑ پیدا کی ہے، جبکہ بھارت کو سابق صدر ٹرمپ کے پاکستان کی طرف جھکاؤ سے 25 سالہ سفارتی محنت اور اعتماد کے ضیاع کا خدشہ لاحق ہے۔

ٹرمپ اور مودی کی تلخ فون کال کے بعد امریکا اور بھارت کے تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں، جس نے پاکستان کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔ سابق صدر ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔

جون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ کی دو گھنٹے طویل ملاقات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی گرمجوشی پیدا کی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ٹرمپ کی ملاقاتیں اور غزہ امن کانفرنس میں شرکت پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا مظہر بنیں۔

پاکستان نے ٹرمپ دور میں شاندار تجارتی پیکیج حاصل کرکے سفارتکاری میں نیا سنگ میل عبور کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مؤثر سفارتکاری کے باعث ایک امریکی کمپنی نے 500 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان نے غیر نیٹو اتحادی ہوتے ہوئے بھی امریکا، چین اور سعودی عرب سے بیک وقت تعلقات مضبوط کرنے کی قابل رشک صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس متوازن خارجہ پالیسی اور موثر سفارتکاری نے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک اہم کھلاڑی کے طور پر متعارف کرایا ہے۔