All posts by Khabrain News

نیپال اور بھارت میں شدید زلزلہ

نیپال میں 6.2 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جن کی گہرائی 10 کلو میٹر زیرِ زمین بتائی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سمیت بھارت کے دیگر حصوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق زلزلے کے جھٹکے ڈیرا دون، اتر پردیش اور دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگ خوفزدہ ہو کر عمارتوں سے باہر نکل آئے۔

اسرائیل میں میکسیکو کے سابق سفیر جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار

میکسیکو سٹی: خواتین کو ہراساں کرنے کے الزام میں میکسیکو کے سابق سفارت کار اور مصنف آندریس رومر کو اسرائیل میں گرفتار کرلیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آندریس رومر کی گرفتاری سے آگاہ کرتے ہوئے میکسیکو کے صدر آندریس مینوئل لوپیز اوبراڈور نے بتایا کہ سابق سفارت کار کو اسرائیل میں گرفتار کیا گیا اور ملک بدر کردیا جائے گا۔

اسرائیل ممکنہ طور پر میکسیکو کے سابق سفارت کار کو ان کے ملک کے حوالے کردے گا جہاں آندریس رومر کے خلاف جنسی زیادتی اور ہراسانی کے مقدمات چلائے جائیں گے۔

خیال رہے کہ 60 سالہ آندریس رومر میکیسکو کے سان فرانسسکو میں قونصل جنرل اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو میں اپنے ملک کی نمائندگی کرچکے ہیں جب کہ وہ ملک کے معروف لکھاری اور پروڈیوسر بھی ہیں۔

سابق سفارت کار آندریس رومر پر سب سے پہلے فروری 2021 میں سوشل میڈیا پر چلنے والی ’’می ٹو مہم‘‘ کے دوران میکسیکو کی معروف رقاصہ اٹزل سناس نے جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا جس کے بعد سے تقریباً 60 سے زائد جنسی جرائم کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

ان خواتین نے الزام عائد کیا تھا کہ آندریس رومر نے کام کے دوران نامناسب انداز سے چھوا اور نازیبا حرکات کیا کرتے تھے جس کے باعث کچھ خواتین کو ملازمت چھوڑنا بھی پڑی تھی۔

دوسری جانب آندریس رومر نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی قطعی طور پر تردید کی تھی تاہم وہ سوشل میڈیا سے دور ہوگئے تھے۔

ان الزامات کے بعد میکسیکو نے اپنے ہی سفارت کار کے خلاف اسرائیل سے درخواست کی تھی کہ آندریس رومر کو ملک بدر کر کے واپس میکسیکو بھیجا جائے۔

ٹرمپ پر ایک اور مقدمہ، ہار گئے تو سڑک پر آجائیں گے

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میرے خلاف مقدمہ ”وِچ ہنٹ“ (انتقام) کا اب تک کا سب سے بڑا تسلسل ہے، سادہ الفاظ میں یہ مقدمہ انتخابی مداخلت ہے۔

نیویارک کے ایک جج نے گذشتہ ہفتے سول فراڈ کے مقدمے میں ٹرمپ اور ان کے بیٹوں کو دھوکا دہی میں ملوث قرار دیا تھا۔

نیو یارک کی عدالت میں اپنے خلاف سول فراڈ مقدمے کی سماعت کے موقع پر کمرہ عدالت میں جانے سے پہلے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہماری ایک بڑی کمپنی ہے۔ ہم نے ایک عظیم کمپنی بنائی ہے، ہماری کمپنی کے پاس دنیا کی بڑی جائیدادیں ہیں اور اب مجھے ایک نامعقول جج کے پاس جانا ہے، میرے خلاف مقدمہ انتخابی مداخلت ہے۔

نیویارک کی اٹارنی جنرل نے ٹرمپ پر کاروباری اثاثوں کی زائد مالیت بتا کر بینکوں، بیمہ کنندگان کو دھوکا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت سے ٹرمپ پر کم از کم 250 ملین ڈالر جرمانے اور ٹرمپ اور ان کے بیٹوں کے نیویارک میں کاروبار پر مستقل پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

اگر الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں کئی سو ملین ڈالر جرمانے اقور جائیداد کی ضبطگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مقدمے میں ٹرمپ کا سامنا نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز سے ہوگا، جنہوں نے 2022 کے ایک مقدمے میں ٹرمپ پر بینک قرضوں اور سازگار شرائط پر انشورنس پالیسیاں حاصل کرنے کی اسکیم میں اپنی مجموعی مالیت کو اربوں ڈالر تک بڑھانے کا الزام لگایا تھا۔

جیمز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس 50 سے زائد گواہ ہیں جن میں اکاؤنٹنٹ، بینکرز اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے ملازمین شامل ہیں۔

جیمز کا کہنا ہے کہ یہ گواہ ڈونلڈ ٹرمپ کے کاروباری طریقوں کو ظاہر کریں گے۔ اس سے پتہ چل جائے گا کہ رئیل اسٹیٹ مغل سے سیاست دان بنے ٹرمپ ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کا حصہ تھے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ٹرمپ کی قانونی ٹیم جیمز کے مقاصد پر سوال اٹھا رہی ہے اور اس بات پر اصرار کر رہی ہے کہ زیر بحث لین دین منافع بخش تھے، جس میں قرض کی ادائیگی یا تاخیر سے ادائیگی کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔

انہوں نے صحیح تعداد بتانے سے گریز کیا لیکن اشارہ دیا کہ وہ 100 گواہ لے سکتے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ کو سیاسی وجوہات کی بنا پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ڈیموکریٹس دنیا کے مشہور ”ٹرمپ ٹاور“ کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ اسے مسلط کرنا چاہتے ہیں جسے کچھ لوگ مجھ پر ’کارپوریٹ موت کی سزا‘ قرار دے رہے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ لیٹیا چاہتی ہیں کہ ٹرمپ اور ان کی کمپنی پر نیویارک ریاست کے تجارتی رئیل اسٹیٹ کے حصول میں داخل ہونے اور ریاستی رجسٹرڈ قرض دہندگان کے ساتھ قرضوں کے لیے درخواست دینے پر پانچ سال کے لیے پابندی لگائی جائے۔

لیٹیا جیمز مطالبہ کر رہی ہیں کہ ایک آزاد آڈیٹر ٹرمپ کی مجموعی مالیت کا درست حساب کتاب فراہم کرے اور ایسا حکم دے جو ٹرمپ آرگنائزیشن کو ایسا کرنے پر مجبور کرے۔

بالی ووڈ فلم میں اکشے کمار کی والدہ کا کردار آفر ہوا تھا، بشریٰ انصاری

  کراچی: لیجنڈری اداکارہ بشریٰ انصاری کا کہنا ہے کہ انہیں بالی ووڈ کی ایک فلم میں اداکار اکشے کمار کے کردار کی پیشکش ہوئی تھی۔

ایک انٹرویو میں پاکستانی شوبز کی لیجنڈ اداکارہ، گلوکارہ ، کامیڈین اور میزبان بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ بھارت میں کچھ پاکستانی اداکاراؤں کی عزت نہیں کی جاتی اور نہ ہی انہیں اچھا سمجھا جاتا ہے۔

بشریٰ انصاری  نام لینے سے گریز کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارت میں موجود ایک رائٹر دوست نے بتایا کہ پاکستان سے 2،4  اداکارائیں خود سے ہی  کام کرنے بھارت گئی تھیں جن کی وہاں عزت نہیں کی جاتی جبکہ بعض اداکاروں کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ خود ہی بھارت گئے اور پھر واپس آگئے۔ نصرت فتح علی خان راحت فتح علی،  فواد خان، علی ظفر، ماہرہ خان اور عاطف اسلم کی بہت عزت کی جاتی ہے۔

سینئر اداکارہ نے کہا کہ چند سال قبل انہیں بالی ووڈ کے بڑے پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے انہیں فلم کی پیشکش ہوئی تھی جس میں انہیں اکشے کمار کی والدہ کا کردار ادا کرنا تھا تاہم پلواما حملے کے باعث پروجیکٹ پر کام نہ ہوسکا۔

بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کامیڈی کے شعبے میں معین اختر اور عمر شریف مرحوم کا کوئی مدمقابل نہیں اور نہ ہی کوئی ان جیسی شخصیت ہے۔

نگراں وزیر خارجہ ہمالیہ فورم میں شرکت کیلئے چین پہنچ گئے

نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی چینی دارالحکومت بیجنگ پیہنچ گئے۔

جلیل عباس جیلانی چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی خصوصی دعوت پر تبت کے علاقے نینگچی میں منعقد ہونے والے تیسرے ٹرانس ہمالیہ فورم برائے بین الاقوامی تعاون میں شرکت کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ٹرانس ہمالیہ فورم کا آغاز 2018 میں علاقائی ممالک کے درمیان جغرافیائی رابطے، ماحولیاتی تحفظ اور ثقافتی روابط کو بڑھانے سمیت متنوع موضوعات پر عملی تعاون کو گہرا کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔

فورم کا آخری اجلاس 2019 میں ہوا تھا جب کہ اس سال کے فورم کا تھیم ’ماحولیاتی تہذیب اور ماحولیاتی تحفظ‘ ہے۔

بھارت نے کینیڈا کے 41 سفارت کارملک سے نکال دیے

بھارت نے کینیڈا سے کہا ہے کہ وہ 10 اکتوبر تک اپنے 41 سفارت کاروں کو واپس بلالے۔

وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی جانب سے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔

کینیڈا کی وزارت خارجہ اور بھارتی حکومت نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم اس سے قبل نئی دہلی نے کہا تھا کہ وہ ہر ملک کے سفارت کاروں کی تعداد اور گریڈ میں دوسرے ملک کے مقابلے میں ’برابری‘ چاہتا ہے۔

فنانشل ٹائمز نے کے مطابق بھارت نے دھمکی دی ہے کہ 10 اکتوبرکے بعد باقی رہ جانے والے سفارت کاروں کا سفارتی استثنیٰ منسوخ کردیا جائے گا۔

 

 

کینیڈا کے ہائی کمیشن میں بھارت کے مقابلے میں کئی درجن زیادہ سفارت کارموجود ہیں، کیونکہ تقریبا 1.3 ملین کینیڈین شہریوں کے رشتہ داروں کے لیے بڑے قونصلر سیکشن کی ضرورت ہے۔

فنانشل ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق بھارت میں کینیڈا کے 62 سفارت کار ہیں اور نئی دہلی کا کہنا ہے کہ وہ ان میں 41 افراد کی کمی کریں۔

اس سے قبل بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کا کہنا تھا کہ کینیڈا میں ہمارے سفارت کاروں کیخلاف تشدد کی فضا اور ڈرانے دھمکانے والا ماحول تھا جہاں سکھ علیحدگی پسند گروپوں کی موجودگی نے بھارت کو تنگ کررکھا ہے۔

واضح رہے کہ خالصتان کے حامی سکھ رہنماہردیپ سنگھ نجار 18 جون کو کینیڈا کے شہرسرے میں قتل کیے گئے تھے۔ 18 ستمبر کو کینیڈا کی حکومت نے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

دوسرا وارم اَپ میچ؛ آسٹریلیا کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ

آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف وارم اَپ میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

راجیو گاندھی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ کوشش کریں گے تاکہ اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع فراہم کریں۔

اس موقع پر کپتان شاداب خان نے کہا کہ کوشش ہوگی آسٹریلیا کے خلاف میچ شاندار کم بیک کریں اور تمام شعبوں میں بہترین کارکردگی پیش کریں۔دوسری جانب کینگروز کے خلاف میچ شاداب خان کپتانی کے فرائض سونپے گئے ہیں جبکہ کپتان بابراعظم بیٹنگ کیلئے آئیں گے تاہم فیلڈنگ کیلئے دستیاب نہیں ہوگے۔ اسی محمد رضوان کی جگہ محمد حارث کو موقع دیا گیا ہے۔

نواز شریف ضمانت لیکر پاکستان آئیں گے اور عدالت میں سرنڈر کریں گے، رانا ثنا

 لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ قائد نواز شریف ضمانت لیکر پاکستان آئیں گے اور عدالت میں سرنڈر کریں گے۔

انہوں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے ن لیگ اور نواز شریف کیساتھ تجاوز کیا ہے کسی کو نہیں بھولیں گے، وقت آنے پر معاملات سیٹل ہوں گے، لیکن اس وقت اگر ہم بھی وہی سب کو پکڑلیں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے کی گردان کریں گے تو خود سے اور ملک دونوں سے زیادتی کریں گے۔

رانا ثنا کا کہنا تھا کہ نواز شریف آکر سب سے پہلے ملک کو مضبوط کریں گے، اس کے بعد 9 مئی واقعات کے ملزمان کے حوالے سے قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، سانحے کی تحقیقات کا کچھ حصہ قوم کے سامنے لایا جائے گا، لیکن شاید سارا نہ لایا جاسکے۔

وائس ایڈمرل نوید اشرف پاک بحریہ کے نئے سربراہ مقرر

کراچی: وائس ایڈمرل نوید اشرف پاک بحریہ کے نئے سربراہ مقرر ہوگئے۔

ترجمان پاک بحریہ کے مطابق وائس ایڈمرل نوید اشرف کو 7 اکتوبر 2023 کو ایڈمرل کے عہدے پر ترقی دی جائے گی اور تبدیلی کمانڈ کی تقریب اسلام آباد میں ہوگی۔

پاک بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وائس ایڈمرل نوید اشرف نے 1989 میں پاک بحریہ کی آپریشنز برانچ میں کمیشن حاصل کیا، نوید اشرف نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد، امریکی نیول وار کالج اور برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹیڈیز سے فارغ التحصیل ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ وائس ایڈمرل نوید اشرف اہم کمانڈ اور سٹاف عہدوں پر کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، وائس ایڈمرل نوید اشرف کمانڈر پاکستان فلیٹ اور کمانڈنٹ پاکستان نیول اکیڈمی کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

نوید اشرف ڈپٹی چیف آف نیول سٹاف آپریشنز، ڈپٹی چیف آف نیول سٹاف ٹریننگ اینڈ پرسنیل، ڈپٹی چیف آف نیول سٹاف ایڈمن اور ڈپٹی پریذیڈنٹ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

ترجمان کے مطابق وائس ایڈمرل نوید اشرف اس وقت نیول ہیڈکوارٹرز میں چیف آف سٹاف کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں، غیر معمولی پیشہ ورانہ خدمات اور بہادری کے اعتراف میں نوید اشرف کو ہلالِ امتیاز ملٹری اور تمغہ بسالت سے نوازا جا چکا ہے۔

پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کی سماعت: کوشش ہوگی آج کیس نمٹا دیں، چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023ء کے خلاف دائر 9 درخواستوں پر سماعت شروع ہوگئی، سپریم کورٹ کا فل بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تشکیل کردہ فل کورٹ بینچ ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023ء‘ کے خلاف دائر 9 درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے جسے براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون سے چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین ججز متاثر ہوئے، ایک طرف چیف جسٹس کے اختیارات محدود نہیں تو کم ضرور کیے جا رہے ہیں، دوسری طرف وہی اختیارات سینئر ججوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ قانون مستقبل کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے سینئر ججز پر بھی لاگو ہوگا، میں نے محسوس کیا ہے کہ انہیں سماعت کرنے والے بینچ کا حصہ نہیں بننا چاہیے لیکن چونکہ اس نے تمام ججوں کو متاثر کیا ہے اس لیے یہ مناسب سمجھا گیا کہ فل کورٹ کیس کی سماعت کرے۔

سپریم کورٹ میں پیش وکلا سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ان پر زور دیا کہ وہ ایسے نکات پر بات کریں جو کیس سے متعلق ہوں، انہوں نے کہا کہ ہم آج کیس کو نمٹانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں، سپریم کورٹ میں پہلے ہی بہت سے کیس زیر التوا ہیں، ایک کیس کو ہی لے کر نہیں بیٹھ سکتے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر وکلا اضافی دلائل دینا چاہیں تو عدالت میں تفصیلی تحریری جواب جمع کروا سکتے ہیں۔

درخواست گزار نیاز اللہ نیازی کے وکیل اکرام چودھری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سادہ اکثریت سے آئین کے آرٹیکل نہیں بدل سکتی لہٰذا یہ شق بھی آئین سے متصادم ہے، وکیل اکرام چودھری نے عدالت میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق خبر پڑھ دی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ اپنے دلائل خبروں کی بنیاد پر دے رہے ہیں، آپ سینئر وکیل ہیں کیا اب خبروں کیا بنیاد پر دلائل دیں گے؟۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل اکرام چودھری سے کہا کہ آپ قوم کے نمائندے نہیں درخواست گزار کے وکیل ہیں، آپ عدلیہ کی آزادی کی بات کر رہے ہیں، اس کو لوگوں کے نفع و نقصان سے جوڑ نہیں رہے، عدالتی آزادی کا ہمیں ہر حالت میں دفاع کرنا چاہیے، اگر عدالتی آزادی نہیں ہوگی تو عوام وخاص کے مسائل کا آزادانہ تعین نہیں کیا جاسکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانونی دلائل دیجیے، یہ دلیل دیں کہ پارلیمنٹ نے کیسے عدلیہ کے حق کو سلب کیا، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اب قانون بن چکا ہے، پارلیمنٹ قانون سازی کر سکتی تھی یا نہیں اس بحث میں نہیں جانا چاہیے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آئین سے متصادم ہے یا نہیں یہ بتائیں۔

وکیل اکرام چودھری کی جانب سے حسبہ بل کیس کا حوالہ دیا گیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حسبہ بل قانون بنا ہی نہیں تھا، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ قانون بن چکا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اکیسویں ترمیم کیس میں عدالت کہہ چکی ہے کہ آئینی ترمیم کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر اگر آئینی ترمیم سے آتا تب بھی فیصلہ آپ کے راستے میں رکاوٹ تھا، جب آپ عدالت کی آزادی کی بات کرتے ہیں تو کیا یہ آزادی ازخود نایاب چیز ہے یا یہ لوگوں کیلئے ہوتی ہے؟۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کل پارلیمنٹ قانون بناتی ہے کہ بیوہ عورتوں کے کیسز کو ترجیح دیں تو کیا اس قانون سازی سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہو گی؟ قانون سازی سے اگر لوگوں کو انصاف دینے کا راستہ ہموار یا دشوار کر رہی ہے تو یہ بتائیں، کیا ہماری آزادی خود ہی کافی ہے یا اس کا تعلق کسی اور سے بھی ہے؟۔