نیویارک کی اٹارنی جنرل نے ٹرمپ پر کاروباری اثاثوں کی زائد مالیت بتا کر بینکوں، بیمہ کنندگان کو دھوکا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت سے ٹرمپ پر کم از کم 250 ملین ڈالر جرمانے اور ٹرمپ اور ان کے بیٹوں کے نیویارک میں کاروبار پر مستقل پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
اگر الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں کئی سو ملین ڈالر جرمانے اقور جائیداد کی ضبطگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مقدمے میں ٹرمپ کا سامنا نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز سے ہوگا، جنہوں نے 2022 کے ایک مقدمے میں ٹرمپ پر بینک قرضوں اور سازگار شرائط پر انشورنس پالیسیاں حاصل کرنے کی اسکیم میں اپنی مجموعی مالیت کو اربوں ڈالر تک بڑھانے کا الزام لگایا تھا۔
جیمز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس 50 سے زائد گواہ ہیں جن میں اکاؤنٹنٹ، بینکرز اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے ملازمین شامل ہیں۔
جیمز کا کہنا ہے کہ یہ گواہ ڈونلڈ ٹرمپ کے کاروباری طریقوں کو ظاہر کریں گے۔ اس سے پتہ چل جائے گا کہ رئیل اسٹیٹ مغل سے سیاست دان بنے ٹرمپ ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کا حصہ تھے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ٹرمپ کی قانونی ٹیم جیمز کے مقاصد پر سوال اٹھا رہی ہے اور اس بات پر اصرار کر رہی ہے کہ زیر بحث لین دین منافع بخش تھے، جس میں قرض کی ادائیگی یا تاخیر سے ادائیگی کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔
انہوں نے صحیح تعداد بتانے سے گریز کیا لیکن اشارہ دیا کہ وہ 100 گواہ لے سکتے ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ کو سیاسی وجوہات کی بنا پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ڈیموکریٹس دنیا کے مشہور ”ٹرمپ ٹاور“ کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ اسے مسلط کرنا چاہتے ہیں جسے کچھ لوگ مجھ پر ’کارپوریٹ موت کی سزا‘ قرار دے رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ لیٹیا چاہتی ہیں کہ ٹرمپ اور ان کی کمپنی پر نیویارک ریاست کے تجارتی رئیل اسٹیٹ کے حصول میں داخل ہونے اور ریاستی رجسٹرڈ قرض دہندگان کے ساتھ قرضوں کے لیے درخواست دینے پر پانچ سال کے لیے پابندی لگائی جائے۔
لیٹیا جیمز مطالبہ کر رہی ہیں کہ ایک آزاد آڈیٹر ٹرمپ کی مجموعی مالیت کا درست حساب کتاب فراہم کرے اور ایسا حکم دے جو ٹرمپ آرگنائزیشن کو ایسا کرنے پر مجبور کرے۔