All posts by Khabrain News

‘مجھے ڈراپ کرنے کی وجہ وہی بتا سکتے ہیں جنہوں نے یہ فیصلہ کیا، عثمان قادر بھی پھٹ پڑے

لاہور:(ویب ڈیسک) قومی کرکٹر عثمان قادر کا کہنا ہے کہ ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد ہمیشہ کیمپ میں آنے کی امید رہتی ہے۔ کرکٹر عثمان قادر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے مجھے اسپنرز کے کیمپ میں نہیں بلایا گیا ، میرا فٹنس کا کوئی مسئلہ نہیں ، یہ نہیں بتا سکتا کہ کیمپ میں کیوں نہیں تھا ۔کرکٹر کا کہنا تھا کہ ڈراپ کرنے کا وہی بتا سکتے ہیں جنہوں نے یہ فیصلہ کیا میرا مورال بلند ہے ، ہمیشہ مثبت سوچتا ہوں۔ عثمان قادر کے مطابق مجھے پہلے رنز کرنا اور وکٹیں لینا ہیں پھر بیان بازی کر سکتا ہوں ، ڈومیسٹک یا لیگز میں رنز اور وکٹیں لے کر میں کم بیک کر سکتا ہوں، میں سیکھنے کی مزید کوشش کروں گا اور ٹیم میں واپس آؤں گا۔انھوں نے مزید کہا کہ شاداب خان اور اسامہ میر کے لیے نیک خواہشات ہیں ، میں بھی اپنا مقام آل راؤنڈرز میں بنانا چاہتا ہوں ۔

چیئرمین پی سی بی کیلئے انتخابات 28 جون کو ہوں گے

لاہور: (ویب ڈیسک) چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتخابات 28 جون کو ہونگے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے قائم مقام چیئرمین اور چیف الیکشن کمشنر شہزاد رانا نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی کےلئے انتخابات 28 جون کو لاہور میں ہوں گے، الیکشن کا باقاعدہ شیڈول کاغذات نامزدگی موصول ہونے کے بعد جاری کیا جائے گا۔
قائم مقام چیئرمین پی سی بی اور چیف الیکشن کمشنر شہزاد رانا نے آئی پی سی نوٹیفکیشن کےمطابق پی سی بی بورڈ آف گورنرز تشکیل دے دیا، نجم سیٹھی نے آئی پی سی کے ایم سی تحلیل کرنے کےنوٹیفیکیشن کے باوجود بورڈ اف گورنرز کا تقرر کیا تھا۔
نجم سیٹھی نے واپڈا، کے آر ایل، سوئی سدرن، سوئی ناردرن کے چار ڈیپارٹمنٹس کو بورڈ اف گورنرز میں شامل کیا تھا ،قائم مقام چیئرمین نے نیشنل بنک، اسٹیٹ بینک، سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کو بورڈ اف گورنرز کا حصہ بنا دیا۔
چیف الیکشن کمشنر شہزاد رانا نے چاروں ریجنز کی بورڈ آف گورنرز میں نمائندگی تبدیل کردی، لاڑکانہ، ڈیرہ مراد جمالی، بہالپور اور حیدرآباد کو بورڈ اف گورنرز میں شامل کرلیا گیا۔

ہالے اوپن ٹینس: نکولس جیری، الیگزنڈر زیوروف کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے

ہالے: (ویب ڈیسک) ہالے اوپن ٹینس میں چلی کے نکولس جیری اور جرمنی کے الیگزنڈر زیوروف نے ایونٹ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔
جرمنی کے سٹار ٹینس پلیئر الیگزنڈر زیوروف نے پری کوارٹر فائنل میں کینیڈا کے ڈینس شپالوف کو شکست سے دوچار کر کے جیت اپنے نام کی۔
چلی کے نکولس جیری نے یونان کے اسٹیفنوس کو مات دی، ہالے اوپن ٹینس میں سوئٹزرلینڈ کے راجر فیڈرر کے اعزاز میں تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا۔

نجم سیٹھی کا تجویز کردہ بورڈ آف گورنرز مسترد، پی سی بی نے نیا تشکیل دے دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتخابات کا معاملہ، پی سی بی کا نیا بورڈ آف گورنرز تشکیل دے دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق نجم سیٹھی کا تجویز کردہ پی سی بی کا بورڈ آف گورنرز مسترد کردیا گیا، پاکستان کرکٹ بورڈ کےنئے چیئرمین کا انتخاب 28 جون کو ہوگا۔
نئے گورننگ بورڈ میں لاڑکانہ، ڈیرہ مراد جمالی، حیدرآباد، بہاولپور ریجن شامل نیشنل بینک، سٹیٹ بینک، سوئی ناردرن، سوئی سردرن شامل ہیں۔
ذکاء اشرف اور مصطفی رمدے پہلے ہی گورننگ بورڈ کے لئے نامزد ہیں، دونوں کا نام وزیراعظم شہباز شریف نے تجویز کیا، پی سی بی کے الیکشن کمشنر نے گورننگ بورڈ کے ناموں کا اعلان کیا۔

ریفری سے بدتمیزی، فٹ بال کلب روما کے کوچ پر 4 میچوں کی پابندی

لندن : (ویب ڈیسک) یوروپا لیگ فائنل کے بعد انگلش ریفری انتھونی ٹیلر سے بدتمیزی کرنے پر فٹ بال کلب روما کے کوچ پر چار میچوں کی پابندی عائد کر دی گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوروپا لیگ کے فائنل کے بعد انگلش ریفری انتھونی ٹیلر سے ٹکرانے پر یوئیفا نے روما کے کوچ جوز مورینہو پر چار میچوں کی پابندی عائد کر دی ہے۔
جوز مورینہو پر ریفری کے ساتھ توہین آمیز سلوک اور گالم گلوچ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
دونوں کلبوں کو میچ کے دوران اپنے مداحوں اور کھلاڑیوں کے طرز عمل پر بھی کئی الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔
روما پر اگلے سیزن کے ایک یورپی میچ کے لیے اپنے شائقین کو ٹکٹ فروخت کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ان پر اشیاء پھینکنے اور اپنی ٹیم کے نامناسب طرز عمل کے الزامات کے بعد 55,000 یورو جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

سنوکر میچ فکسنگ سکینڈل ، 5 چینی کھلاڑیوں پر عائد پابندیوں میں توسیع

بیجنگ : (ویب ڈیسک) چینی حکام کی جانب سے سنوکر میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث پانچ کھلاڑیوں پر عائد پابندیوں میں توسیع کر دی گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق ماسٹرز چیمپئن 23 سالہ یان بِنگ ٹاؤ اور سابق یوکے چیمپئن شپ کے فاتح 26 سالہ زاؤ زنٹونگ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں چائنیز بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن نے سخت ترین سزائیں دی ہیں۔
بِنگ ٹاؤ کو ابتدائی طور پر پانچ سال کی پابندی کے باوجود ساڑھے سات سال تک ورلڈ سنوکر ٹور میں واپسی سے روکا جائے گا جبکہ زاؤ زنٹونگ جولائی 2025 تک معطل رہیں گے۔
لو ننگ پر آٹھ سال، بائی لانگنگ پر چار سال اور ژانگ جیان کانگ پر پابندی کو چار سال پانچ ماہ کر دیا گیا ہے۔
گورننگ باڈی نے لیانگ وینبو اور لی ہینگ پر ورلڈ پروفیشنل بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے حوالے سے تاحیات پابندی کی بھی حمایت کی ہے۔
خیال رہے کہ اس ماہ مجموعی طور پر 10 چینی کھلاڑیوں کو میچ فکسنگ میں ملوث ہونے پر معطل کیا گیا تھا۔

غلام سرور خان نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

راولپنڈی: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر غلام سرور خان نے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے اور میرے خاندان کو سیاست میں 50 سال ہوچکے ہیں، پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے افواج پاکستان کی قربانیاں ہیں،شہدا کی یادگاروں، جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس اور میانوالی بیس پر حملہ کرنے والے ملک دشمنی کے مرتکب ہوئے ہیں، انہوں نے کورکمانڈر ہاؤس پر نہیں بلکہ پاکستان کے دل پر حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانیت پر حملے کے ان تمام ناپاک عزائم اور اقدام کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، ایسے لوگوں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے، جن لوگوں نے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی میں اس محاذ آرائی کی بھی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس محاذ آرائی کی پالیسی سے اختلاف میں نے پارٹی کے ہر فورم پر بھی کیا کہ ہمیں محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے، اداروں کے ساتھ لڑائی نہیں کرنی چاہیے، جو کچھ ہوا بہت برا ہوا، اس بنا پر تحریک ِ انصاف سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔

سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کیلئے حکم امتناع کی درخواست مسترد

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کیلئے حکم امتناع کی درخواست مسترد کر دی۔
سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف بنایا گیا نو رکنی بینچ قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق کے علیحدہ ہونے سے ٹوٹ گیا، چیف جسٹس نے نیا سات رکنی بنچ بنا دیا، چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائلز کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔
سماعت کا احوال
سماعت شروع ہوتے ہی جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کسی کو اس بنچ پر اعتراض ہے تو پہلے بتا دے، درخواست گزار اعتزاز احسن نے کہا کہ کسی کو بھی اس بنچ کی تشکیل پر اعتراض نہیں، اٹارنی جنرل نے بھی کہا کہ ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں، بعدازاں پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کر دیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کو بھی مدنظر رکھا جائے، چھٹیوں کی وجہ سے ججز مختلف رجسٹریوں میں بیٹھیں گے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ میرے کیس میں درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض عائد کیا گیا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی درخواست میں ملٹری کورٹس کے سوا بھی بہت سی استدعائیں ایک ساتھ کی گئی ہیں، کوشش کریں کہ ملٹری کورٹس کے سوا دیگر استدعا کو واپس لے لیں، اس پر وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ملٹری کورٹس بنانے کے ساتھ جوڈیشل کمیشن کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی ہم مقدمات میں ملٹری کورٹس کے معاملے پر فوکس کر رہے ہیں، ہم آپس میں مشاورت کر کے بتائیں گے کہ آپ کو الگ سننا ہے یا اسی کیس میں سنیں گے۔
دوران سماعت لطیف کھوسہ نے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کا حوالہ دیا جس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ میرے خیال میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کا نوٹی فکیشن واپس ہو گیا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ درست ہے۔
سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ 15 مئی کو کور کمانڈر میٹنگ میں کہا گیا 9 مئی کے واقعات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، فارمیشن کانفرنس کا بیان بھی موجود ہے۔
چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ پریس ریلیز میں یہ کہا گیا کہ ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اس لیے ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو گا؟ جس پر لطیف کھوسہ نے اثبات میں سرہلایا اور کہا کہ جی پریس ریلیز میں یہ ہی کہا گیا ہے بعدازاں انہوں ںے پریس ریلیز پڑھ کر سنا دی۔
لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سویلینز کا ٹرائل یا تو کوئی کرنل کرے گا یا بریگیڈیئر، جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل لطیف کھوسہ سے سوال کیا کہ یہ جو آپ پڑھ رہے ہیں اس میں آئی ایس پی آر کا نام کہاں لکھا ہے؟
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ آئی ایس پی آر کا ہی جاری اعلامیہ ہے، کابینہ نے آئی ایس پی آر کے اعلامیے کی توثیق کی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بیانات سے نکل کر اصل قانون کیا ہے وہ بھی بتا دیں۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت سے درخواست کر کے سویلینز کے کیسز فوجی عدالتوں میں منتقل کرنے کا کہا گیا، جس نے بھی تنصیبات پر حملہ کیا ان سے میری کوئی ہمدردی نہیں ہے، جس نے جو جرم کیا ہے اس کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جو تمام مقدمات بنائے گئے انہیں سننے کا اختیار تو انسداد دہشت گردی عدالت کو پہلے ہی حاصل ہے۔
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارا یہی مؤقف ہے کہ کیسز انسداد دہشت گردی عدالت میں چلیں فوجی عدالتوں میں نہیں، 9 مئی کے واقعات کی آڑ میں 9، 10 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم چاہ رہے ہیں کہ صرف حقائق میں رہیں، جو مقدمات درج ہوئے ان میں متعدد نام ہیں، مقدمات میں کچھ پولیس اہلکاروں کے نام کیوں شامل کیے گئے؟
لطیف کھوسہ نے کہا کہ کیا کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ پڑھ کرسناؤں؟ اس پر جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ درخواستوں کے ساتھ لگایا گیا ہے۔
وکیل لطیف کھوسہ نے کور کمانڈر کانفرنس اور فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے پڑھ کر سنائے اور کہا کہ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ آرٹیکل 10 اے کے خلاف ہے، فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں کرنل لیول کے اور اس کے اوپر کے افسران شریک ہوئے تھے، فارمیشن کمانڈر کانفرنس میں سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کرنے کا فیصلہ خلاف آئین ہے، سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہوسکتا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں بتائیں ایف آئی آر ہوئی؟ انسداد دہشت گردی عدالت میں کیا ہوا؟ ہمیں ایف آئی آر بتائیں کون سی دفعات لگائی گئیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں حقائق تک محدود رکھیں، اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ 9 مئی کے ذمہ داروں کو یہ نہیں کہتا کہ چھوڑ دیا جائے، کہیں بھی کسی بھی حملے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانا چاہیے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ سب بیانات میں ہمیں دکھائیں کہ ٹرائل کہاں شروع ہوا؟
لطیف کھوسہ نے انسداد دہشت گردی عدالتوں سے ملزمان کی حوالگی کے فیصلے پڑھنا شروع کردیئے اور کہا کہ ملک کی تمام ملٹری قیادت نے بیٹھ کر فیصلہ دے دیا ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
جسٹس منصور نے کہا کہ کیا یہ دستاویز ان کی ویب سائٹ پر موجود ہیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا آئی ایس پی آر کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، فارمیشن کمانڈرز نے کہہ دیا ناقابل تردید شواہد ہیں تو ایک کرنل اب ٹرائل میں کیا الگ فیصلہ دے گا؟ 7 جون کو فارمیشن کمانڈر کا اعلامیہ آیا، فارمیشن کمانڈر میں کرنل سے لے کر سب آتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ صرف متعلقہ پیراگراف پڑھیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ متعلقہ پیراگراف میں کہا گیا ذمہ داروں کو آرمی ایکٹ کے تحت جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، فارمیشن کمانڈرز اعلامیے میں ٹرائل شروع کرنے کا کہا گیا ہے اس لیے عدالت سے حکم امتناع دینے کی استدعا کی۔
جسٹس منصور نے کہا کہ یہ اعلامیہ آپ نے کہاں سے لیا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ دونوں اعلامیے آئی ایس پی آر کی ویب سائیٹ سے لیے، دونوں اعلامیوں پر کابینہ نے بھی مہر ثبت کردی ہے تو فئیر ٹرائل کہاں ہو گا؟ 9 مئی کے واقعہ کی یقیناً کوئی وضاحت نہیں، صرف جناح ہاؤس یا کور کمانڈر ہاؤس ہی نہیں میرے گھر پر حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
جسٹس منصور نے کہا کہ آپ نے اعلامیے بتا دئیے اب قانون بتادیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ لاہور، ملتان، راولپنڈی سے لوگوں کو ملٹری ٹرائل کے لیے حوالے کیا گیا، حملہ آوروں سے میری کوئی ہمدردی نہیں، مجھے ساتھی کہہ رہے ہیں کور کمانڈر ہاؤس کو جناح ہاؤس نہ کہیں، میں نے بھی جناح ہاؤس کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔
انہوں ںے کہا کہ مقدمات قتل، اقدام قتل کی دفعات کے تحت درج کیے گئے، 9 سے 10 ہزار افراد انہی مقدمات کے تحت گرفتار کیے گئے، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ان مقدمات کا آرمی ایکٹ سے تعلق بنتا نہیں ہے۔
دوران سماعت پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر ایف آئی آرز کے ناموں کے تذکرے پر دلچسپ مکالمے سامنے آئے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں ناموں سے دلچسپی نہیں۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ 10 مئی کو پورے 4 ہزار افراد کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا، جتنی بھی ایف آئی آرز درج ہوئیں ان میں آرمی ایکٹ کی دفعات کا کوئی حوالہ شامل نہیں۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی جو شقیں لگائی گئی ہیں وہ ہیں کیا؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ جو لوگ مقدمات میں نامزد ہوئے انہوں نے اسے چیلنج کیا اس پر کھوسہ نے کہا کہ کون چیلنج کرسکتا ہے؟ جسٹس عائشہ نے کہا کہ سوال یہ تھا کہ ایف آئی آرز میں لگائی گئیں دفعات چیلنج ہو سکتی ہیں یا نہیں؟ لطیفہ کھوسہ نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے آرڈر کو نہیں مانتے، یہاں کہاں مانیں گے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ پہلے ان سے پوچھ لیا جائے کن دفعات کا اطلاق کیا جا رہا ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل پوچھ لیں، ہمیں تو وہ کچھ بتاتے نہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پتا نہیں لگ رہا کن دفعات کا اطلاق کرنا چاہتے ہیں، یہ بتائیں! کتنے لوگوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہونا ہے؟ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ پورے ملک سے لوگ اٹھائے گیے آپ ججز بہترین ججز ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہمیں شرمندہ نہ کریں، اس بات پر کمرۂ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اگر ایک عمل انہوں نے شروع کیا وہ کیسے شروع ہوا؟ آپ ہمیں قانونی سوالات کا قانونی جواب دیں، جسٹس منصور نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے کس قانون کے تحت لوگ فوجی ٹرائل کے حوالے کیے؟ کیا انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے کوئی شواہد تھے جن کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا؟ کیا انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل کا فورم ہے یا نہیں؟
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت انسداد دہشت گردی عدالتوں میں ٹرائل ہوسکتا ہے؟ اس پر وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اگر دہشت گردی کا پہلو ہو تو ایسا وہ کرسکتے ہے۔
جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا کہ جن افراد کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں بھیجا گیا کیا انھوں نے اس اقدام کو چیلنج کیا؟ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ان افراد کا میں وکیل نہیں مجھے معلوم نہیں جب کہ وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ان افراد تک کسی کی رسائی ہی نہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ مقدمات دائر ہوں بھی تو کس نے سننا ہے، سپریم کورٹ کے احکامات نہیں مانے جارہے تو ان عدالتوں کا حکم کون مانے گا؟
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پہلے آرمی ایکٹ کی سیکشن ٹو ون ڈی کو پڑھیں، آرمی ایکٹ کی کس شق کے تحت ٹرائل کیا جارہا ہے یہ واضح نہیں، درخواست گزاروں نے بھی جو چیزیں لگائیں وہ نامکمل ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم ملک اور 25 کروڑ عوام کی فکر میں آئے ہیں۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جاننا چاہتے ہیں مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیجنے کا کیا طریقہ کار اپنایا گیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مقدمات ملٹری کورٹس بھیجنے کا فیصلہ تو عدالت کرے گی، ججز کو تو وجوہات کے ساتھ فیصلہ دینا ہوتا ہے، کیا پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ ان فیصلوں کو چیلنج نہیں کرےگا؟
لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالتوں میں بھی نہ ملزم پیش ہوئے نہ ہی وکلاء، جسٹس منیب نے پوچھا کہ کیا انسداد دہشت گردی کی عدالتیں آرمی ایکٹ میں آنے والوں کا ٹرائل کرسکتی ہیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مقدمات میں تو میں پیش ہوتا رہا ہوں، جسٹس عائشہ نے کہا کہ حوالگی تو ان کے اپنے افراد کی ہوسکتی ہے سویلینز کی نہیں۔
فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد
لطیف کھوسہ نے سویلینز کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے خلاف حکم امتناع کی استدعا کی، سپریم کورٹ نے فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد کر دی، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکم امتناع جاری نہیں کرسکتے، وکلاء سائلین کا دفاع کرتے ہیں تاہم وکلاء کو ہراساں کیا جارہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کتنے لوگ عام جیلوں اور کتنے فوج کی تحویل میں ہیں؟ تفصیل دیں، آپ صحافیوں کی بات کرتے ہیں میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا، صحافیوں کو رہائی ملنی چاہیے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ کا کیس تو صرف یہ ہے کہ سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوسکتا ہے یا نہیں، سمجھ نہیں آ رہی آپ آرمی ایکٹ کی شقوں کو کیوں چیلنج کر رہے ہیں؟
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جب انسداد دہشت گردی کی عدالت کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سننے کا اختیار نہیں تو وہ کسی فرد کو فوج کے حوالے کرسکتی ہے؟
بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیس کی مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے والا بنچ جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود کے اعتراضات کے بعد اٹھ کر چلا گیا تھا۔

صدر مملکت سے گورنر خیبرپختونخوا، نگران وزیراعلیٰ کی ملاقات

پشاور: (ویب ڈیسک) دورہ پشاور پر موجود صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے گورنر خیبرپختونخوا غلام علی، نگران وزیراعلیٰ اعظم خان اور صوبائی کابینہ کے ممبران نے ملاقات کی۔
ملاقات میں خیبر پختونخوا کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے اور جامعات سے متعلق مسائل پر گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے خیبرپختونخوا کی جامعات گریجویٹس کی تعداد میں اضافہ کر سکتی ہیں، خیبر پختونخوا کی جامعات آن لائن تعلیم کے حجم میں اضافہ كریں۔
انہوں نے کہا کہ جامعات زیادہ تعداد میں ہنر مند افرادی قوت پيدا کرنے کیلئے مختلف شفٹیں شروع کریں، جامعات مالی مسائل کے حل اور تحقیقی گرانٹس کیلئے گرانٹ سپیشلسٹ کی خدمات حاصل کریں۔

پولیس نے عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا

لاہور: (ویب ڈیسک) پولیس نے پی ٹی آئی رہنما عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا، سابق گورنر کی بیوی انسداد دہشت گردی عدالت اپنے شوہر سے ملنے آئی تھیں۔
قبل ازیں عمر سرفراز چیمہ کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر انسداد دہشتگری کی عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے تفتیشی افسر کو عمر سرفراز چیمہ کے خلاف چالان مکمل کر کے پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ گلبرگ میں عسکری پلازے میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں گرفتار ہیں۔