All posts by Khabrain News

بہاولپورمیں روزنامہ ”خبریں“کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر سیمینار، صدارت گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمن نے کی،مہمان خصوصی مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما ڈاکٹر رانا محمدطارق تھے

بہاولپور: (رپورٹ رانا منور، تصاویر اقبال قریشی) روزنامہ”خبریں“کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر روزنامہ ”خبریں“ کے زیر اہتمام ”عوامی مسائل کے حل میں خبریں کا کردار“ کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت گورنر پنجاب انجینئر میاں محمد بلیغ الرحمن نے کی مہمان خصوصی مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما ڈاکٹر رانا محمدطارق تھے تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اس کے بعدنعت رسول مقبولؐ پیش کی گئی جس کی سعادت قاری اکرام الدین جلالی نے حاصل کی تقریب کی نظامت کے فرائض سینئر رپورٹر”خبریں“وانچارج کلچرل ونگ ایس ایم لطیف شاہ اور عیشاریاض نے انجام دیئے ابتداء میں خبریں کی 30ویں سالگرہ کا کیک کاتا گیا اس کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف رپورٹر رانا منور علی نے کہا کہ روزنامہ”خبریں“صرف اخبار ہی نہیں بلکہ ایک نظریے کا نام ہے اور وہ نظریہ”جہاں ظلم وہاں خبریں“کاہے وہ نظریہ ظالم کیخلاف ڈٹ کرکھڑے ہونے اور مظلوم کا ہرممکن طریقے سے ساتھ دینا ہے چاہے اس کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ہمارے چیف ایڈیٹر جناب امتنان شاہد صاحب کی جانب سے بہاولپور میں ”خبریں“آفس بنانے کا مقصد خطہ بہاولپور کی محرومیوں،پسماندگی اور عوام کے مسائل کی ہرممکن طریقے سے نشاندہی کرکے ان کے حل کیلئے کلیدی کردار ادا کرنا ہے نہ صرف یہ بلکہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں موجود ٹیلنٹ کو بھی اجاگر کرنا ہے کیونکہ خطہ بہاولپور میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں اگر کمی ہے تو یہاں کے ٹیلنٹیڈ افراد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے بہترین مواقع فراہم کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ہے۔انشاء اللہ روزنامہ”خبریں“ اس کمی کو دور کرنے میں بھی ہرممکن کردار ادا کریگا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم لطیف شاہ اور شبیہ الحسن رمزی نے کہا کہ روزنامہ”خبریں“ اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بانی وقائد جناب ضیا شاہد صاحب (مرحوم) اور چیف ایڈیٹرجناب امتنان شاہد صاحب کے وژن کے مطابق ہمیشہ وڈیرہ شاہی کیخلاف آواز بلند کرتا رہے گا اور عام آدمی کی آواز اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچا کر انکے مسائل حل کروانے میں اپنا کرداراداکرتا رہے گا۔گورنر پنجاب انجینئر میاں بلیغ الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ روزنامہ”خبریں“ کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر چیف ایڈیتر جناب امتنان شاہد صاحب،چیف رپورٹر رانا منور،انچارج کلچرل ونگ سید محمد لطیف شاہ،سینئر رپورٹر امین باسط،سید شبیہ الحسن رمزی و دیگر سٹاف کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔”خبریں“ کی مزید ترقی کیلئے بھی دعا گو ہوں۔روزنامہ ”خبریں“ بلاشبہ خطے کا سب سے بڑا اخبار ہے صحافت کی تعریف میں جناب ضیاء شاہد صاحب مرحوم کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے صحافت کی تاریخ میں جناب ضیاء شاہد صاحب کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائیگا کیونکہ جناب ضیاء شاہد صاحب نے ”جہاں ظلم وہاں خبریں“ کا سلوگن دے کر صحافت کو نہ صرف ایک مشن بنادیا بلکہ عبادت کا درجہ دے دیا مجھے خوشی ہے کہ ان کے ہونہار فرزندجناب امتنان شاہد صاحب بھی اپنے والد گرامی کے مشن کو بڑے احسن انداز ے آگے لیکر چل رہے ہیں بلاشبہ روزنامہ”خبریں“ نے ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیا اور ظالم کیخلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوا ”خبریں“ نے ہمیشہ عام آدمی کے مسائل اجاگر کیے اور عام آدمی کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائی اور ان کے مسائل حل کرانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔سیاسی حلقوں میں بھی روزنامہ”خبریں“ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔مزید انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ روزنامہ”خبریں“ بہاولپور کی ٹیم بھی چیف رپورٹر رانا منور کی قیادت میں بہت محنت اور لگن سے کام کررہی ہے یہ ٹیم خطہ بہاولپور کی محرومیوں،پسماندگی اور عوامی مسائل کی بہتر انداز میں نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ خطہ کی تاریخی اہمیت،ثقافت اور یہاں کے روشن پہلوؤں کو بھی بڑے خوبصورت انداز میں اجاگر کررہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار پھر چیف ایڈیٹر جناب امتنان شاہد صاحب اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں اورجن افرا د کو تعریفی شیلڈز دی گئی ہیں ان کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آخر میں تقریب میں شریک معزز مہمانوں عبدالرحمن بٹ،چوہدری مبشر شہزاد،راؤ منیر احمد، عبدالرزاق طیبی،اکرام الدین جلالی،طاہر خان نیازی،شہزاد خالد،فرحان مصطفی نقوی،حافظ محمد اسحاق،سائرہ عباسی،مسعود ناصر چوہدری،خضرعمران صدیقی،ڈاکٹر شیرمحمد،بشیر احمد چنڑ،ڈاکٹرعزیراحمد قریشی،سمیرا صالحہ راؤ،ڈاکٹر محمدطارق ملک،الطاف نواز چنڑ ایڈووکیٹ،محمدرضوان،محمد فیصل ندیم،چوہدری عدیل طارق،عبدالغفور شاہ، ڈاکٹر غلام یسین،رانا منور،ایس ایم لطیف شاہ،شبیہ الحسن رمزی،امین باسط،عبدالکریم طاہر،عبیداللہ راجپوت،محمدعدنان لودھی،اقبال قریشی ودیگر کو شیلڈز بھی دی گئیں۔

پیپلزپارٹی اور پولیس ملکر دھاندلی میں مصروف رہے: عمران اسماعیل

کراچی: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ این اے 237 میں دھاندلی کے کئی واقعات سامنے آئے، پیپلزپارٹی اور پولیس دونوں ملکر دھاندلی میں مصروف رہے۔
ضمنی الیکشن کے حوالے سے اپنے بیان میں عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن صرف بیانات تک محدود ہے، ای سی پی کی زبان اور نوٹس دونوں حکمران جماعت کے لیے ناکارہ ہیں، الیکشن کمیشن ایک بار پھر بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی کوشش ہے اپنے کمیشن والے امیدوار کو کامیاب کرائیں، ہر انتخابات میں الیکشن کمشن بے بس اور ناکام نظرآتا ہے، موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے ہوتے ہوئے شفاف انتخابات ایک خواب ہیں، تمام تر سازشوں ملی بھگت سے دھاندلی کے باوجود ہم جیت رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ووٹرز عمران خان کی منافقت کو سمجھ گئے ہیں: عطا تارڑ

لاہور: (ویب ڈیسک) وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کی سیاست جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے، اس مشکل وقت میں ہم نے ریاست کو بچایا جبکہ عمران خان نے اپنی سیاست کوبچایا، پی ٹی آئی کے ووٹرز عمران خان کی منافقت کو سمجھ گئے ہیں اس لئے ووٹ ڈالنے نہیں نکلے، شاہ محمود قریشی کا پورا کنبہ ہی الیکشن میں کھڑا ہے، پی ٹی آئی والے ایک طرف قومی اسمبلی میں جانا نہیں چاہتے جبکہ دوسری طرف ضمنی الیکشن بھی لڑ رہے ہیں، عمران خان قوم کا وقت اور پیسہ ضائع کر رہے ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ضمنی الیکشن کا نتیجہ آتے ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، پی ٹی آئی نے بدنیتی کی بنیاد پر استعفے دیئے، ایک ممبر آٹھ جگہوں سے الیکشن لڑنے نکلا ہے اور عمران خان اب بھی پارلیمنٹ کے رکن ہیں، عمران خان موروثی سیاست کو گالی دیتے ہیں لیکن ان کی پارٹی یہی کچھ کر رہی ہے، ایک جماعت کی پوری سیاست تضادات کا مجموعہ ہے، پی ٹی آئی واویلا کر رہی ہے کہ ووٹر لسٹوں میں خرابی ہے، جھوٹا واویلا نہ کریں اگر خرابی ہے تو نشاندہی کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی خود الیکشن کے خوف میں مبتلا ہے، ہم کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنائیں گے اگر عمران خان کے پاس اختیار نہ ہوتا تو فرح گوگی ایک پائی کا ڈاکہ نہ ڈال سکتی، ضمنی الیکشن میں اس جھوٹے اور فراڈیئے شخص کو شکست ہوگی، مونس الٰہی پنجاب میں بڑے ڈاکے مار رہا ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، عمران خان اپنی سیاسی ناکامی دوسروں پر ڈالنے کی بجائے خود کو ذمہ دار ٹھہرائیں، ہم نہ ڈرنے والے ہیں اور نہ جھکنے والے اور نہ ہی پیچھے ہٹنے والے ہیں، حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی اور پٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھائیں، پی ٹی آئی والوں نے قومی اسمبلی سے استعفے حکومت پر پریشر ڈالنے کیلئے دیئے جبکہ حقیقت میں ان کا الیکشن لڑنے کا نہیں بلکہ واپس اسمبلی میں جانے کا ارادہ تھا، عمران خان کو ووٹ ڈالنے کا مطلب ووٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنا ہے، اگر عمران خان کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی سیٹوں پر دوبارہ ضمنی الیکشن ہوگا کیونکہ عمران خان پہلے ہی پارلیمنٹ کے ممبر ہیں، اس وقت سیلاب چل رہا ہے اور ضمنی الیکشن کا انعقاد کرنا قوم کا پیسہ ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ اراکین کی منڈیاں لگتی ہیں خرید و فروخت ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف آپ خود کہہ رہے ہیں کہ میں نے پانچ ایم این اے خریدے ہیں، اس پر عمران خان نے اپنی سیاست کو ترجیح دی ہے جبکہ ہم نے ریاست کو بچایا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے امیدوار آج سینہ تان کے کھڑے ہیں جبکہ آپ کا ووٹر باہر نہیں نکل رہا، ووٹرز کو سمجھ آ گئی ہے کہ عمران خان کو ووٹ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اسمبلی میں جانا نہیں، کبھی آپ کہتے ہیں میں اسمبلی آنا چاہتا ہوں قانون سازی میں حصہ لینا چاہتا ہوں جبکہ ایک طرف آپ استعفے دے رہے ہیں اور دوسری طرف ضمنی الیکشن لڑ رہے ہیں اور تیسری طرف عدالتوں میں کیسز درج کئے ہوئے ہیں کہ ہمارے استعفے منظور نہ کئے جائیں، ضمنی الیکشن کے تمام حلقوں میں حالات مکمل طورپر کنٹرول میں رہے البتہ اکا دکا واقعات رونما ہوئے، ملتان میں شاہ محمود قریشی نے اپنے سارے خاندان کو الیکشن میں کھڑا کیا ہے کیا ملتان میں کوئی اور قابل شخص نہیں تھا جس کو انتخابی ٹکٹ دیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان سے بڑا کوئی اورفراڈیا نہیں ہو سکتا کہ وہ بند کمرے میں کوئی اور بات کرتا ہے اور باہر کوئی اور، ہم پرامید ہیں کہ ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) ،پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادی امیدوار جہاں جہاں بھی کھڑے ہیں بھاری اکثریت سے کامیاب ہونگے، بہتان تراشی کی سیاست کو اور عمران خان جیسے جھوٹے ، فراڈیئے کو شکست فاش ہوگی۔
معاون خصوصی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ الزام لگا رہے ہیں کہ ووٹر لسٹوں میں خرابی ہے، واویلا کرنے کی بجائے اگر ووٹر لسٹوں میں خرابی ہے تو نشاندہی کریں، الیکشن کمیشن بھی اس بارے میں تردید کر چکاہے جو شخص اپنی ناکامی کو بین الاقوامی سازش کہتاہے اور کبھی پاکستان کے اداروں کو گالیاں دیتا ہے کبھی کہتا ہے کہ ایم این ایز خرید لئے ہیں یہ وہ شخص ہے جس نے پاکستان کی ریاست نہیں بلکہ اپنی سیاست کو ترجیح دی ہے اور آج بھی جو اداروں کے خلاف محاذ آرائی ہوتی ہے وہ قابل مذمت ہے، وہ ادارے جو پاکستان کی سرحدوں کے محافظ ہیں اور پاکستان کی آئین کی بالادستی کیلئے کام کرتے ہیں ان کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں جو انتہائی قابل شرم بات ہے، اگر عمران خان کے پاس اختیار نہ ہوتا تو فرح گوگی ایک پائی کا ڈاکہ بھی نہیں مار سکتی تھی، آپ کے پاس اختیارتھا تو آپ نے فرح گوگی سے ڈاکے مروائے اور غبن کروائے ۔انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں پنجاب کا ہیلی کاپٹر استعمال کیا گیا، پی ٹی آئی والے اگر الیکشن چاہتے ہیں تو پنجاب اور کے پی کے کی اسمبلیاں تحلیل کر دیں، پنجاب میں ہر جگہ زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں، اینٹی کرپشن کے چار ڈی جی تبدیل کئے جا چکے ہیں۔

عالمی برادری خوراک کے چیلنجوں سے نمٹنے میں پاکستان کا ساتھ دے، وزیر اعظم

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی ترقیاتی شراکت داروں اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سیلاب کے بعد تعمیر نو بالخصوص خوراک کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے کی جانے والی کوششوں میں پاکستان کا ساتھ دیں، پاکستان میں زرعی شعبہ کی بہتری کے لئے جلد کسان کانفرنس کا انعقاد کرنے جارہے ہیں جہاں حکومت کی جانب سے زرعی شعبہ کی بہتری کے لئے پیکج کا اعلان کیا جائے گا، خوراک کے عالمی دن کے موقع پر آئیے ہم یہ عہد کریں کہ برادریوں، معاشروں اور دنیا کے لئے بڑے پیمانے پر خوراک کو محفوظ بنانے کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔
خوراک کے عالمی دن کے موقع پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ بہتر پیداوار، بہتر غذائیت، بہتر ماحول اور بہتر زندگی میں ہم نے کسی کو پیچھے نہیں چھوڑنا، ہم ایک ایسے نازک لمحے پر خوراک کا عالمی دن منا رہے ہیں جب پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں تباہ کن سیلابوں سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بحالی کی راہ پر گامزن ہے، یہ دن عالمی سطح پر بھوک، غذائیت کی کمی اور سب کے لیے خوراک اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال کا موضوع کسی کو پیچھے نہ چھوڑیں ہے جو ہمیں غربت اور بھوک کے خاتمے کے لیے اجتماعی جدوجہد کرنے کی یاد دلاتا ہے اور اس بات کا ادراک کریں کہ ہم جو خوراک منتخب کرتے ہیں اور جس طرح سے ہم اسے کھاتے ہیں وہ ہماری زمین اور ہماری صحت پر اثر اندازتو نہیں ہو رہی، پاکستان زراعت کے لیے قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، ہمیں اپنی قدیم وادی سندھ کی تہذیب پر فخر ہے جس کی بنیاد زراعت پر تھی، تاہم بہت سے عوامل جن میں موسمیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل میں کمی، ان پٹ کی قیمتوں میں اضافہ، فارم مشینری کی کمی اور منڈیوں میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں، کی وجہ سے پاکستان میں زرعی پیداوار کے شعبہ کو کافی مشکلات درپیش ہیں، بدقسمتی سے پاکستان میں شدید موسمی حالات کی وجہ سے فصلوں کا نقصان ایک معمول بنتا جا رہا ہے، اس لیے موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنا، فصلوں کے نقصانات کو کم کرنا، پیداوار کو بہتر بنانا اور ذرائع معاش کو بڑھانا ہمارے بڑے چیلنجز ہیں، اس سال کے مون سون کے دوران تباہ کن سیلاب نے پاکستان میں تباہی مچائی ہے جس سے 33 ملین سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں مویشیوں، کھڑی فصلوں اور ضروری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ جو ملک کی غذائی سپلائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ پیدا کرتا ہے، بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جس نے صوبے کی کل فصلوں کے تقریباً 50 فیصد کو نقصان پہنچایا ہے، سیلابی پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے اس موسم خزاں میں گندم کی بوائی کے سیزن میں تاخیر کا بھی خطرہ ہے، جس سے اگلے سال تک خوراک کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کا امکان بڑھتا جارہا ہے، یہ ایک ایسے ملک کے لئے تشویشناک ہے جس کا انحصار گندم کی پیداوار پر ہے اور یہ متوقع قلت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گندم کی عالمی سپلائی غیر یقینی ہو، اس صورتحال نے پاکستان میں غذائی تحفظ کے ہمارے چیلنجوں میں اضافہ کر دیا ہے، پاکستان کے زرعی شعبے کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کئے جائیں گے، پاکستان دنیا میں کپاس اور چاول کی پیداوار اور برآمد کنندگان میں سے ایک ملک ہے جنہیں سیلاب سے نقصان پہنچا ہے، ملک کی کپاس کی نصف فصل تباہ ہو چکی ہے جو کہ ایسے سال میں کپاس کی عالمی پیداوار کے لیے ایک دھچکا ہے جب کپاس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں کیونکہ امریکہ سے لے کر چین تک دیگر بڑے پیدا کنندگان بھی شدید موسم کے اثرات کی زد میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلاشبہ صورت حال بہت مشکل ہے تاہم پاکستان اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے جس کا مقصد غربت کے خاتمے، صحت اور تعلیم کو بہتر بنانا اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے، ان مشکل وقتوں سے نکلنے، کاشتکار برادری کو ریلیف فراہم کرنے اور زرعی معیشت کو فروغ دینے کے لیے حکومت جلد ہی کسان کانفرنس کا اہتمام کرنے جا رہی ہے جہاں زرعی شعبے کی بہتری کے لیے پیکج کا اعلان کیا جائے گا، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی اشد ضرورت ہے بالخصوص فارم میکانائزیشن، فوڈ پروسیسنگ، مویشیوں کی نسلوں کی بہتری اور اعلیٰ قیمت والی باغبانی فصلوں کے شعبے میں بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی اشد ضرورت ہے، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سیلاب کے بعد تعمیر نو سے نمٹنے کی کوششوں میں خاص طور پر خوراک کے چیلنجوں سے نمٹنے کے حوالے سے پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔
شہباز شریف نے کہا کہ خوراک کے عالمی دن کے موقع پر آئیے ہم یہ عہد کریں کہ برادریوں، معاشروں اور دنیا کے لئے بڑے پیمانے پر خوراک کو محفوظ بنانے کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے مل کر کام کریں، آئیے ہم بھی موسمیاتی تبدیلی سے غذائی تحفظ کو لاحق خطرات پر قابو پانے کے لیے کام کرنے والی فورسز میں شامل ہونے کا عزم کریں۔
قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ تباہ کن سیلاب نے پاکستان میں لاکھوں ایکڑ رقبے پر تیار فصلوں کو تباہ کردیا ہے، پاکستان جیسے زرعی ملک کو بھی اشیاء خوردونوش درآمد کرنا پڑیں گی، موسمیاتی تبدیلی ہماری زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے جس میں عالمی سطح پر غربت اور بھوک میں اضافہ سرفہرست ہے۔
اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب نے لاکھوں ایکڑ پر تیار فصلوں کو تباہ کر دیا ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کو بھی اس نقصان کے ازالے کیلئے اشیاِ خوردنوش درآمد کرنا پڑیں گی۔ آج خوراک کا عالمی دن دنیا کے مختلف ممالک کے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے مجموعی عالمی اقدامات کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے قدرتی آفات اور عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں سے غذائیت سے بھرپور خوراک، جس کی پہلے سے ہی کمی تھی کی عالمی سطح پرمزید قلت کا خدشہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی ہماری زندگیوں پرکئی طریقے سے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے جس میں عالمی سطح پرغربت اور بھوک میں اضافہ سر فہرست ہے۔

رانا ثنااللہ کی میڈیا بریفنگ کے خلاف ایکشن

لاہور: (ویب ڈیسک) ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر فیصل آباد نے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی میڈیا بریفنگ کے خلاف ایکشن لے لیا۔
قومی اسمبلی کے 8، پنجاب اسمبلی کے 3 حلقوں پر ضمنی انتخابات،پولنگ ختم، گنتی جاری
صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر فیصل آباد نے وفاقی وزیرداخلہ کو فوری طور پرحلقے کی حدود سے باہر نکالنے کے احکامات جاری کیے۔
ترجمان صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کے مطابق عوامی عہدیدار کی پولنگ ڈے پرحلقے کی حدود میں پریس کانفرنس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔
ضمنی انتخابات: پشاور میں پی ٹی آئی اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان آمنے سامنے
واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر نے 15 اکتوبر کو بھی وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرنوٹس جاری کیا تھا۔

شاہین شاہ آفریدی انگلینڈ کیخلاف وارم اپ میچ کیلئے دستیاب

برسبین : (ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی کل انگلینڈ کے خلاف وارم اپ میچ کیلئے دستیاب ہوں گے۔
پی سی بی ترجمان کے مطابق شاہین شاہ آفریدی میچ پریکٹس کیلئے وارم اپ میچ کھیلیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ فخر زمان ابھی مزید ری ہیب میں حصہ لیں گے وہ برسبین میں کرکٹ ٹریننگ بھی جاری رکھیں گے۔

ایران میں قیدیوں کی ہنگامہ آرائی؛ آتشزدگی میں 4 ہلاک اور61 زخمی

تہران:(ویب ڈیسک) ایران کی ایک جیل میں قیدی آپس میں لڑ پڑے اور ہنگامہ آرائی کے دوران آگ بھڑک اُٹھی جس کے نتیجے میں 4 ہلاک اور 61 زخمی ہوگئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی ’’ایون زنداں‘‘ میں قیدیوں کے درمیان جھگڑے کے بعد خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔ ہنگامہ آرائی اور آتشزدگی میں مجموعی طور پر 4 افراد ہلاک اور 61 زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو پولیس اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں 5 زخمیوں کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا جن کی حالت تشویشناک ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ہنگامہ آرائی اور ہلاکتوں کے بعد قیدیوں کے اہل خانہ بڑی تعداد میں جیل پہنچ گئے تاہم انھیں نہ تو ملاقات کرنے دی گئی اور نہ ہی ہلاک اور زخمی ہونے والے قیدیوں کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔ جس پر اہل خانہ نے شدید احتجاج کیاْ مظاہرین میں زیادہ تعداد خواتین کی تھی جنھوں نے پولیس حراست میں ہلاک ہونے والی نوجوان لڑکی مھسا امینی کے حق میں بھی نعرے بازی کی۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے پہلے تو ایون زنداں میں حالات معمول کے مطابق ہونے کا دعویٰ کیا تاہم بعد میں 4 قیدیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ تاحال یہ معلوم نہ ہوسکا کہ جیل میں ہنگامہ قیدیوں کے کن گروپ کے درمیان ہوا اور آگ لگنے یا لگائی جانے سے متعلق بھی تحقیقات کے نتائج سامنے نہ آسکیں۔

حسن منہاج کو ان فالو کرنے پر ملالہ کو پریانکا چوپڑا کی شاباشی

لندن: (ویب ڈیسک) بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا نے ملالہ یوسف زئی کے امریکی کامیڈین حسن منہاج کو ان فالو کرنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اداکارہ نے اپنی انسٹا اسٹوری پر حسن منہاج کے انسٹا گرام اکاؤنٹ کا ایک اسکرین شاٹ شیئر کیا ہے۔ اُنہوں نےخوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ وہی لڑکی ملالہ ہے۔ اُنہوں نے حسن منہاج پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ لگتا ہے کہ یہ معمولی چیزوں کو مزاح پر ترجیح دیتے ہیں۔ امریکی کامیڈین حسن منہاج نے اس مہینے کے آغاز پر انسٹا گرام پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں اُنہیں ملالہ یوسف زئی کا مذاق اڑاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں حسن منہاج کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی مجھے انسٹا گرام پر فالو کرتی ہیں اور میں اُنہیں فالو نہیں کرتا۔ حسن منہاج کی جانب سے یہ ویڈیو شیئر ہونے کے بعد ملالہ یوسف زئی نے اُنہیں انسٹا گرام پر اَن فالو کر دیا۔ اب حسن منہاج نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر ’ملالہ کلیپس بیک‘ کے عنوان سے ایک اور ویڈیو شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو میں اُنہوں نے بتایا ہے کہ 4 اکتوبر کو میں نے مذاق میں یہ کہا تھا کہ ملالہ مجھے انسٹا گرام پر فالو کرتی ہیں اور میں انہیں فالو نہیں کرتا جس کے بعد جواباً ملالہ نے آن لائن ایک پول کروانے کے بعد مجھے اَن فالو کر دیا۔ اُنہوں نے طنزیہ انداز میں مزید کہا کہ ملالہ میں معذرت چاہتا ہوں مجھے دوبارہ فالو کر لیں، اگرچہ مجھے نہیں معلوم کہ میں آپ کو فالو کروں گا یا نہیں، میں اتنا بھی اہم نہیں ہوں۔

گفتگو سے کیا جانے والا علاج ڈیمینشیا کے مریضوں کےلیے مفید قرار

لندن:(ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ڈیمینشیا میں مبتلا افراد جو بے چینی یا ڈپریشن سے گزرتے ہیں ان کو نیشنل ہیلتھ سروسز میں دستیاب گفتگو کے طبی طریقہ علاج سے افاقہ ہوسکتا ہے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن میں کی جانے والی تحقیق میں محققین نے گفتگو کے طریقہ علاج کے ڈیمینشیا میں مبتلا افراد کے لیے مؤثر ہونے کی تصدیق کی۔ انگلینڈ میں محققین نے 25 لاکھ 15 ہزار 402 ایسے افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جو شدید بے چینی یا ڈپریشن میں مبتلا تھے اور انہوں نے 2012 سے 2019 کے درمیان علاج کرایا تھا۔ سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ تحقیق میں ایسے شواہد سامنے آئے جو ڈیمینشیا میں مبتلا لوگوں میں بے چینی اور ڈپریشن کے علاج کے لیے کونسلنگ جیسے علاجوں کے استعمال کے حق میں تھے۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ طریقہ علاج مطبی اعتبار سے ڈیمینشیا کے مریضوں کے لیے فائدہ مند تھا اور 63 فی صد مریضوں نے ڈپریشن اور بے چینی کی علامات میں کمی دیکھی۔جبکہ تقریباً 40 فی صد مریض مکمل طور پر صحت یاب ہوئے۔ دوسری جانب ایک اور گروپ جس میں وہ افراد تھے جن کو ڈیمینشیا کی بیماری نہیں تھی، ان میں 70 فی صد افراد نے ان علامات میں کمی محسوس کی اور 47 فی صد افراد مکمل صحت یاب ہوگئے۔ تحقیق کی مصنفہ اور یونیورسٹی کالج لندن میں ڈاکٹریٹ کی طالب علم کا کہنا تھا کہ بے چینی اور ڈپریشن ڈیمینشیا کے مریضوں میں بہت عام ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ ڈیمینشیا کے مریضوں کی صحت یابی کے امکانات ان لوگوں کی نسبت کم ہوتے ہیں جو اس کیفیت میں مبتلا نہیں ہوتے۔ ایسے افراد کے لیے بنیادی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کافی مفید ہوسکتی ہے۔ یہ تحقیق الزائمرز سوسائیٹی اور ویلکم نامی اداروں کی مالی اعانت سے کی گئی۔

مردہ کیڑوں کے اعضا سے جنگجو اور فرضی کردار بنانے والا فنکار

برسلز:(ویب ڈیسک) بیلجیئم میں حیاتیات کےنوجوان طالبعلم نے اپنی غیرمعمولی صلاحیت سے دنیا کو حیران کردیا۔ وہ مرد کیڑے مکوڑوں کے اعضا کو الگ کرکے ان سے جنگجو کردار اور نت نئی مخلوقات بناتے ہیں۔ 28 سالہ جوز ہبراکن ایک تخلیق میں 20 سے 30 گھنٹے لگاتے ہیں اور انہیں ’فرینکنسٹائن حشرات‘ کا نام دیتےہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دوران وہ اپنے تخیل اور مطالعے کو کام میں لاتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی درازوں میں رکھے لاتعداد حشرات سے ایک نیا جہاں بنارہے ہیں جسے سائنس اور آرٹ کا ایک نیا ملاپ قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اب تک انہوں نے حشرات کو نہیں مارا بلکہ مردہ کیڑے مکوڑے جمع کرکے ان سے اپنے شوق کی تسکین کرتے ہیں۔ جوز کیڑوں کے باریک اعضا کے بھی ماہر ہیں اور حشریات ان کے لیے جنون کا درجہ رکھتا ہے۔ کالج کے بعد رائل بیلجیئن انسٹی ٹیوٹ آف نیچرل سائنس میں کام کے دوران انہوں ںے کیڑے مکوڑوں سے نئے کردار بنانے پر کام شروع کیا۔ اب ان کا ذخیرہ وسیع ہوچکا ہے اور لوگ ان کے کام کی تعریف کرتے ہیں۔ یہاں تک انہیں مردہ تتلیاں جہاں سے بھی ملیں لیتے ہیں اور ان کے اعضا کو فاضل پرزہ جات کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ کام بہت محنت طلب اور صبر آزما ہے۔ ایک فن پارہ بنانے میں کئی دن بھی لگ جاتے ہیں۔ البتہ ہر کردار میں آہنی تار یا سلاخ کثرت سے لگائی جاتی ہے تاکہ دیومالائی کرداروں کو ایک سیدھا رخ دیا جاسکتے۔ انہوں نے ایک ہیرو کا کردار بنایا ہے جس میں کیڑوں کے 26 سر اور 70 دیگر اعضا استعمال ہوئے ہیں اسے انہوں 1000 چہرے والا ہیرو کہا ہے۔ اب وہ ہر کردار کی کوئی نہ کوئی کہانی بھی بناتے ہیں اور اسے اپنی تخلیق سے جوڑتےہیں۔