All posts by Khabrain News

انگلش پریمیئر لیگ میں آرسنل 24 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست

لندن: (ویب ڈیسک) انگلش پریمیئر لیگ میں آرسنل کی ٹیم ٹیبل پر 24 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر براجمان ہے، دفاعی چیمپئن مانچسٹر سٹی کی ٹیم 23 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے اور ٹوٹنہم ہاٹسپر کی ٹیم 20 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
پریمیئر فٹ بال لیگ کے دلچسپ مقابلوں کا سلسلہ انگلینڈ میں جاری ہے، اب تک کھیلے گئے میچز میں آرسنل کی ٹیم اب تک کھیلے گئے 9 میچز میں سے 8 میں کامیابی کے بعد 24 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
دفاعی چیمپئن مانچسٹر سٹی نے 9 میچ کھیل کر 7 میں کامیابی حاصل کی ہے اور وہ 23 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ٹوٹنہم ہاٹسپر کی ٹیم بھی 9 میچز کھیل چکی ہے اور وہ 6 میچز جیت کر 20 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
چیلسی کی ٹیم 16 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے، مانچسٹر یونائیٹڈ کی ٹیم 15 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے، نیو کیسل یونائیٹڈ اور برائٹن اینڈ ہوو البیون کی ٹیمیں 14، 14 پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب چھٹے اور ساتویں نمبر پر ہیں۔
بورن ماؤتھ کی ٹیم 12 پوائنٹس کے ساتھ آٹھویں نمبر پر ہے، فلہم کی ٹیم 11 پوائنٹس کے ساتھ نویں جبکہ لیور پول، برینٹ فورڈ اور ایورٹن کی ٹیمیں بالترتیب 10، 10 پوائنٹس کے ساتھ دسویں، گیارہویں اور بارہویں نمبر پر ہیں۔

عثمان قادر کی جگہ فخر زمان قومی ٹی 20 ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل

لاہور: (ویب ڈیسک) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے عثمان قادر کی جگہ فخر زمان کو 15 رکنی سکواڈ میں شامل کر لیا گیا،عثمان قادر بحیثیت ٹریولنگ ریزرو کھلاڑی قومی اسکواڈ کے ہمراہ آسٹریلیا میں ہی رہیں گے۔
عثمان قادر 25 ستمبر کو انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ کے دوران انجری کا شکار ہوگئے تھے۔عثمان قادر کے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے میں ہیرلائن فریکچر کی تشخیص ہوئی تھی۔وہ 22 اکتوبر تک سلیکشن کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔
اس سے قبل فخر زمان ان تین کھلاڑیوں میں شامل تھے جو ریزرو کرکٹر کی حیثیت سے پاکستان کے سکواڈ میں شامل تھے۔ وہ شاہین شاہ آفریدی کے ہمراہ ہفتے کے روز لندن سے برسبین پہنچ جائیں گے۔پاکستان کو برسبین میں انگلینڈ اور افغانستان کےخلاف بالترتیب 17 اور 19 اکتوبر کو وارم اپ میچز کھیلنے ہیں۔

اوپن مارکیٹ میں ڈالر 4 روپے مہنگا ہوکر 226 روپے کا ہوگیا

کراچی: (ویب ڈیسک) ملک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوگیا۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر 4 روپے مہنگا ہو کر 226 روپے کا ہوگیا۔ انٹربینک میں بھی ڈالر 5 پیسے بڑھ گیا اور کاروبار اختتام پر ڈالر کا بھاؤ 218 روپے 43 پیسے ہے۔
انٹربینک میں گزشتہ روز کاروبارکےاختتام پر ڈالر کا بھاو 218.38 روپے تھا۔
دوسری جانب انٹربینک میں رواں ہفتے ڈالر 1.92 روپے سستا ہوا ہے۔

عارف علوی نے صدارتی اقبال ایوارڈز برائے سال 2020-2015 کی منظوری دے دی

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے صدارتی اقبال ایوارڈز برائے سال 2020-2015 کی منظوری دے دی۔ محمد اکرام چغتائی کو اردو زبان میں ”اقبال اور جرمنی” کے عنوان پر شائع ہونے والی کتاب پر اقبال ایوارڈ عطا کرنے کی منظوری دی گئی۔
صدر مملکت نے ڈاکٹر عبدالخالق کو انگریزی زبان میں اقبالیات پر کتاب ”علامہ اقبال، خودی اور دیگر تصورات” پر اقبال ایوارڈ عطا کرنے کی بھی منظوری دی۔ صدر مملکت نے غوث بخش صابر کو بلوچی زبان میں اقبالیات پر کتاب لکھنے پر صدارتی اقبال ایوارڈ عطا کرنے کی بھی منظوری دی۔
صدر مملکت نے ایوارڈز کی منظوری آئین کے آرٹیکل 48 ایک اور اقبال اکیڈمی آرڈیننس 1962 کے تحت دی۔ صدر مملکت اقبال اکیڈمی پاکستان کے پیٹرن ان چیف (سرپرست اعلیٰ) ہیں۔

عالمی صرافہ کے بعد ملک میں بھی سونے کے دام گرگئے

کراچی: (ویب ڈیسک) ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت کم ہوگئی۔
صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 800 روپےکمی کے بعد ایک لاکھ 47 ہزار 300 روپے ہوگئی۔
10 گرام سونا 686 روپے کم ہو کر ایک لاکھ 26 ہزار 286 روپے ہوگیا جبکہ عالمی صرافہ میں سونے کا بھاؤ 20 ڈالر کم ہوکر 1656 ڈالر فی اونس ہے۔

وزیراعظم سے آرمی چیف کی ملاقات، ملکی داخلی صورتحال پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہبازشریف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کی سکیورٹی اور داخلی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈاکو اس بار کامیاب ہو گئے تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں: عمران خان

کراچی: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ڈاکو اس بار کامیاب ہو گئے تو ہمارے ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔
کراچی میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ کراچی بارکا دعوت دینے پرشکرگزارہوں، یہ ملکی تاریخ کا سب سے فیصلہ کن وقت ہے، آپ کے سامنے ایک پیغام لیکر آیا ہوں، اگر بڑے مجرموں کو این آر او ٹو کامیاب ہو گیا تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں، وکلا برادری قانون کی حکمرانی کوسمجھتے ہیں۔ چوروں کے خلاف سیاست نہیں جہاد کر رہا ہوں، چاہتا ہوں وکلا برادری میرا ساتھ دے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک موومنٹ کی طرح وکلا حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہو جائیں، ڈاکو ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر اور پھر این آر او لیکر واپس آ جاتے ہیں، اگر یہ ڈاکو اس بار کامیاب ہو گئے تو ہمارے ملک کا کوئی مستقبل نہیں،امید کرتا ہوں سب وکلا میرے ساتھ چلیں گے، قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں توملک کا کوئی مستقبل نہیں،اگر چھوٹا چور جیل اور بڑا ڈاکو اسمبلی میں جائے گا تو پھر ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔

ملک بھر میں 18 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) ملک بھر میں مہنگائی کی مجموعی شرح 28.44 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ 18 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔
ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کرہد ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 1عشاریہ 57 فیصد کی کمی ہوئی، آلو، دال مونگ، بیف سمیت 18 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، دال مونگ کی فی کلو قیمت میں 1 روپیہ 21 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد قیمت 251.85 روپے ہو گئی۔
حالیہ ہفتے کے دوران فی کلو آلو کی قیمت میں 1.21 روپے کا اضافہ ہوا، خشک دودھ کی قیمتوں میں 22.42، بیف کی فی کلو قیمت میں 3.81 روپے، ماچس، باسمتی چاول ٹوٹا، واشنگ صابن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق ٹماٹر 30 روپے فی کلو سستے ہوئے، ایل پی جی گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 72 روپے 87 پیسے کی کمی ہوئی جس کے بعد نئی قیمت 2644 سے کم ہو کر 2571 روپے ہوگئی، پیاز 2 روپے 15 پیسے، دال مسور 6.16 روپے سستی ہوئی، چینی، زندہ مرغی، دال ماش، دال چنا کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ہاشم ڈوگر کو پنجاب کا وزیر آبپاشی بنا دیا گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) پنجاب کے سابق وزیر داخلہ کرنل (ر) ہاشم ڈوگر کو پنجاب کابینہ میں نئی ذمہ داری دے دی گئی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے ہاشم ڈوگر کو وزیر آبپاشی مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ہاشم ڈوگر کو نئے ذمہ داری کے حوالے سے آگاہ کر دیا گیا۔ نئے قلمدان کا نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کیلئے خطرہ ہے: سپریم کورٹاسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ رکن اسمبلی کا پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے تباہ کن ہے۔ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔ ارکان کا منحرف ہونا نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا، مذکورہ فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا۔ یہ فیصلہ 95 صفحات پر مشتمل ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلہ سے اختلاف کیا تھا، سماعت کے دوران چیف جسٹس جسٹس عمر عطاء بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب نے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ تحریری فیصلے میں فیصلے کا آغاز چیف جسٹس مارشل کے قول سے کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا کام صرف آئین کی تشریح کرنا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ منحرف رکن کا پارٹی ہدایات کے خلاف ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمار نہیں ہوگا، منحرف رکن کی نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمنٹ کرے، آئین میں پارٹی ہدایات کے لیے پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہے پارٹی ہیڈ کا نہیں، اراکینِ پارلیمنٹ کو اظہارِ رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے، اظہارِ رائے کی اس آزادی کا استعمال آرٹیکل 63 اے کی روشنی میں ووٹ ڈالتے ہوئے نہیں ہو سکتا۔ اکثریتی فیصلے کے مطابق صدارتی ریفرنس کے قابلِ سماعت ہونے پر اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کرتے ہیں، صدارتی ریفرنس پر اٹھائے گئے اعتراضات کے جوابات وکلاء محاذ کیس میں سپریم کورٹ پہلے بھی دے چکی ہے، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ پارلیمانی پارٹی میں اعتماد کھو بیٹھے تو اسے عدم اعتماد یا اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، رکن اسمبلی کا پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے تباہ کن ہے۔ فیصلے کے مطابق ارکان اسمبلی کے اظہارِ رائے کے حق کو وکلا محاذ کیس میں بھی تحفظ دیا گیا ہے، ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، جب معاملہ ووٹ ڈالنے کا آئے گا تو پھر صورتحال مختلف ہوگی، فیصلہ ووٹ ڈالتے وقت آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، یہ دلیل دی گئی منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے سے پارلیمانی پارٹی میں امریت کو فرغ ملے گا، آمریت کو فروغ ملنے کی دلیل سے ہم متفق نہیں ہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔ فیصلے کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے آئین میں دیئے گئے حقوق برابر ہیں، تمام سیاسی جماعتیں آئین کی نظر میں برابر ہیں، چھوٹی جماعتوں کو بھی کام کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیئے، ارکان کا منحرف ہونا سیاسی جماعتوں کی سالمیت اور ہم آہنگی پر براہ راست حملہ ہوتا ہے، ارکان کا جماعت سے منحرف ہونا سیاسی پارٹی کے آئینی حقوق کیخلاف ہے، ارکان کا منحرف ہونا نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا۔

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ رکن اسمبلی کا پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے تباہ کن ہے۔ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔ ارکان کا منحرف ہونا نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا۔
سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا، مذکورہ فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا۔ یہ فیصلہ 95 صفحات پر مشتمل ہے۔
یاد رہے کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلہ سے اختلاف کیا تھا، سماعت کے دوران چیف جسٹس جسٹس عمر عطاء بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب نے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ تحریری فیصلے میں فیصلے کا آغاز چیف جسٹس مارشل کے قول سے کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا کام صرف آئین کی تشریح کرنا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ منحرف رکن کا پارٹی ہدایات کے خلاف ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمار نہیں ہوگا، منحرف رکن کی نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمنٹ کرے، آئین میں پارٹی ہدایات کے لیے پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہے پارٹی ہیڈ کا نہیں، اراکینِ پارلیمنٹ کو اظہارِ رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے، اظہارِ رائے کی اس آزادی کا استعمال آرٹیکل 63 اے کی روشنی میں ووٹ ڈالتے ہوئے نہیں ہو سکتا۔
اکثریتی فیصلے کے مطابق صدارتی ریفرنس کے قابلِ سماعت ہونے پر اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کرتے ہیں، صدارتی ریفرنس پر اٹھائے گئے اعتراضات کے جوابات وکلاء محاذ کیس میں سپریم کورٹ پہلے بھی دے چکی ہے، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ پارلیمانی پارٹی میں اعتماد کھو بیٹھے تو اسے عدم اعتماد یا اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، رکن اسمبلی کا پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے تباہ کن ہے۔
فیصلے کے مطابق ارکان اسمبلی کے اظہارِ رائے کے حق کو وکلا محاذ کیس میں بھی تحفظ دیا گیا ہے، ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، جب معاملہ ووٹ ڈالنے کا آئے گا تو پھر صورتحال مختلف ہوگی، فیصلہ ووٹ ڈالتے وقت آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، یہ دلیل دی گئی منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے سے پارلیمانی پارٹی میں امریت کو فرغ ملے گا، آمریت کو فروغ ملنے کی دلیل سے ہم متفق نہیں ہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔
فیصلے کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے آئین میں دیئے گئے حقوق برابر ہیں، تمام سیاسی جماعتیں آئین کی نظر میں برابر ہیں، چھوٹی جماعتوں کو بھی کام کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیئے، ارکان کا منحرف ہونا سیاسی جماعتوں کی سالمیت اور ہم آہنگی پر براہ راست حملہ ہوتا ہے، ارکان کا جماعت سے منحرف ہونا سیاسی پارٹی کے آئینی حقوق کیخلاف ہے، ارکان کا منحرف ہونا نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا۔