All posts by Khabrain News

حکمران الیکشن نہیں کرائینگے، لانگ مارچ کی تاریخ جمعرات یا جمعہ کو دونگا: عمران

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امپورٹڈ حکمران الیکشن نہیں کرائیں گے۔ ہمارے لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان جمعرات یا جمعہ کو کروں گا، بیک ڈورچینل سے ہمیشہ بات چیت ہوتی رہتی ہے، مجھے بیک ڈورمذاکرات کا کوئی نیتجہ نظر نہیں آرہا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ روپیہ گرتا ہے تو ان کو کوئی فکر نہیں، جب سے امپورٹڈ حکمران آئے ہیں انہوں نے میری پارٹی ختم کرنے کی کوشش کی، انہوں نے میڈیا ہاؤسز کے ساتھ مل کر میرے خلاف پروپیگنڈا کیا، جب عوام باہر نکلی تو ان کو خوف آنا شروع ہو گیا۔ 25 مئی کو احتجاج پر ظلم کیا گیا، لوگوں کے گھروں میں گھس کر چھاپے مارے گئے، پوری قوم ان کو جانتی ہے،جب مشکل وقت آتا ہے یہ بیرون ملک بھاگ جاتے ہیں، یہ جمہوری لوگ نہیں یہ مافیا ہے۔
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن نے کمزور حلقے چنے تھے، کراچی میں دھاندلی قوم کے سامنے ہے، وہاں کچھ نہیں ہوگا یہ ملے ہوئے ہیں، انہوں نے جو طریقے اختیار کیے کبھی نہیں ایسا دیکھا تھا، شائد بھارت کے جاسوس سے ایسا سلوک ہوتا ہو، جو کچھ ہو رہا ہے جمہوری دورمیں کبھی نہیں دیکھا، شہبازگل پر تشدد دیکھ کر ردعمل دیا تھا، شہبازگل پرجنسی تشدد کیا گیا، میں تویقین نہیں کر رہا تھا جب تصویریں دکھائی تب مجھے اندازہ ہوا، اعظم سواتی پر تشدد، ہرفورم پر لیکر جائیں گے، مجھے افسوس ہے عدلیہ نے کسٹوڈیل تشدد پر سوموٹو نہیں لیا، اگر عدلیہ اس وقت سوموٹو لیتی تو اعظم سواتی پر تشدد نہ ہوتا۔
دوران پریس کانفرنس عمران خان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کے گھرکی دیواریں پھلانگ کر اندرگھسے، ہمارے معاشرے میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کا خیال کیا جاتا تھا، جرم ان کا تھا کسی بڑے آدمی پر تنقید کر دی تھی، کونسا قانون اس طرح کے کام کی اجازت دیتا ہے، ایف آئی اے نے ان کو پکڑ کر کسی اور کے حوالے کیا، چیف جسٹس صاحب پوچھیں، ان کو کس نے ننگا کر کے مارا، یہی کچھ شہبازگل کے ساتھ کیا گیا تھا، کیا ایسے لوگوں کے لیے ملک میں کوئی قانون نہیں؟ اگریہی کچھ ہوگا توپھرملک بنانا ری پبلک ہی بنے گا، کیا ایسے کرنے سے اداروں کی عزت ہوگی؟ نامعلوم افراد جو مرضی کریں سب لوگ نام لینے سے ڈرتے ہیں، لوگوں کو اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں عمران کے خلاف بیان دو، شہبازگل کو بار بار کہتے رہے کہو تمہیں عمران نے کہا ہے، یہ کون لوگ ہے یہ ملک کے دشمن ہیں اور ایسی حرکتوں سے ملک کو نقصان پہنچارہے ہیں، سارا کچھ جرائم پیشہ افراد کے لیے کیا جا رہا ہے، اسحاق ڈارنے بیان حلفی دیا شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کرتا تھا، شہبازشریف اوراس کے بیٹے کو16ارب کیس میں سزا ہونے والی تھی، نوازشریف مفرور، مجرم ملک کے فیصلے کر رہا ہے، زرداری کے کیسزبھی معاف ہورہے ہیں۔

عام انتخابات 11 ماہ دور، الیکشن کرانے کا کوئی ارادہ نہیں: وزیراعظم شہباز شریف

لاہور: (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ توشہ خانہ میں عمران نیازی، تصدیق شدہ خائن اور جھوٹا نکلا، یہ کوئی خوشی کا نہیں لمحہ فکریہ ہے۔ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں نا گھبرانے والی بات ہے، لانگ مارچ کے دوران قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، سرٹیفائیڈ چور کو قعطاً اسلام آباد میں گھسنے نہیں دیں گے، عام انتخابات میں ابھی 11 ماہ دور ہیں، ہمارا الیکشن کرانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان گرے لسٹ سے نکل آیا ہے، پوری قوم کو دل کی گہرایئوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، اجتماعی کاوشوں، اجتماعی بصیرت سے ایسا ہوا، گرے لسٹ کی وجہ سے کاروباری حضرات کوبہت مشکلات پیش آرہی تھیں، گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد ان مسائل سے نجات ملے گی، پاکستان نے فیٹیف کی سفارشات پرعمل کیا ہے، فیٹیف نے اعتراف کیا پاکستان نے 35 شرائط پرعملدرآمد کیا، اللہ نے پاکستان کوکامیابی نصیب فرمائی، یہ میری نہیں پاکستان کی اجتماعی کامیابی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بہت قربانیاں دیں، تمام افراد، اداروں، اتھارٹیز کی کامیابی ہے جنہوں نے دن رات محنت کی، سب سے پہلے بلاول بھٹو کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹونے حنا ربانی کھرکے ساتھ اس حوالے سے اہم کردار ادا کیا، اتحادی جماعتوں نے ہماری پوری معاونت اور سپورٹ کی، افواج پاکستان کے سپہ سالارجنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے ذیلی اداروں نے بھرپور کردار ادا کیا، یہ قومی معاملہ تھا 22 کروڑعوام کی اس سے قسمت جڑی تھی، ہم نے اس وقت اپوزیشن میں ہونے کے باوجود سینیٹ، قومی اسمبلی میں قوانین سازی میں پورا ہاتھ بٹایا، ہمیں اس وقت کیا کیا طعنے مارے گئے یہ نیب زدہ ہیں، ہم نے انتہائی تحمل سے اس وقت یہ طعنے برداشت کیے۔
شہباز شریف نے کہا کہ شبابہ روز محنت کے نیتجے میں اللہ نے کامیابی دی، کل ایک خوش قسمت دن تھا ایک اور بھی فیصلہ آیا تھا، یہ انعام اللہ تعالیٰ نے اس لیے جھولی میں نہیں ڈالا لانگ مارچ، جلوس ہوتے رہے، سب یکجا دوقالب تھے، عمران نیازی تو وزیراعظم ہاؤس میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے تھے، یہ بات جمہوریت کی کرتے ہیں اور سوچ فاشسٹ کی ہے، عمران نیازی کو فیٹیف قانون سازی کے دوران کورم پورا ہونے کی کوئی فکر نہیں ہوتی تھی، غریب پریشان ہے ادویات، تعلیم کہاں سے ملے گی، یہ چھبتے ہوئے سوالات ہیں، یتیم بچے سوال پوچھتے ہیں، جلسے، گالم، گلوچ، تقریروں سے معاملہ حل نہیں ہو گا۔ سردی شروع ہو گئی اور سیلاب متاثرین مشکلات کا شکارہیں، متاثرین کوہم نے کمبل اور خوراک دینی ہے، یہ مسائل دھرنوں سے حل نہیں ہونگے، 75سال بعد آج بھی اسی چکرمیں پھنسے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں میرٹ کی دھجیاں بکھیرنے کے سوا کچھ نہیں کیا گیا، گرے لسٹ سے نکلنے پرپوری قوم کومبارکباد دیتا ہوں، نوازشریف کے زمانے میں پاکستان گرے لسٹ میں نہیں تھا، کل دوسری خبر توشہ خانہ میں عمران نیازی، تصدیق شدہ خائن اور جھوٹا نکلا، یہ کوئی خوشی کا نہیں لمحہ فکریہ ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں مالک سے توبہ کرنی چاہیے، ہم سب نے ایک دن اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہے، یہ مقام عبرت ہے جو شخص دن رات سب کو چور، ڈاکو کہتا تھا، عمران نیازی نے چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں کہا تھا بہت ایماندار آدمی ہیں، چیف الیکشن کمشنر کا نام عمران نیازی نے دیا تھا۔ پاناما بمقابلہ اقامہ میں نوازشریف کے بارے میں فیصلہ آیا تو عمران خان کہتا تھا جب میرے بارے ایسا فیصلہ آیا تو سب کچھ چھوڑدونگا، کرپٹ پریکٹسز کے نیتجے میں عمران خان کے خلاف فیصلہ آیا، 2018ء میں جھرلو کے ذریعے اسے لایا گیا، اقتدارمیں آتے ہی اس نے کہا بھینسیں بیچ کر ایک ایک پائی بچائیں گے، اس نے 23 لاکھ میں بھینسیں بیچی تھی، کہتا تھا بجلی،پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو وزیراعظم چور ہوتا ہے، اس شخص نے کیا کیا ٹائٹل نہیں دیئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوست ممالک کے تحفوں کوبیچ کر پیسے جیب میں ڈالے، اگر تحفے بیچ کر قومی خزانے میں پیسے جمع کراتے تو میں بھی ستائش کرتا، ایک تحفہ دبئی میں بیچ دیا، گھڑی 14 سے 15 کروڑ روپے کی تھی، اسی دکاندارنے آگے شہزادوں کو آگاہ کر دیا، کہیں گھڑی چوری تو نہیں ہوئی، اندازہ کریں، انہوں نے پاکستان کی عزت کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، مجھے گھڑی ملی ہے لیکن وزیراعظم ہاؤس میں ہے، خادم پنجاب بھی مجھے ایک قیمتی گھڑی ملی تھی، مجھ سے ایک شخص نے بیچنے کے لیے رابطہ کیا میں نے انکار کیا گھڑی توشہ خانہ میں رکھیں گے، مجھے نہیں یہ تحفہ 22 کروڑعوام کو ملا ہے۔ پہلے انہوں نے قانون کی دھجیاں اڑائیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ دوسال برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے میرے خلاف تحقیقات کیں، بالآخرلندن کی عدالت میں کہا گیا ہمیں کچھ نہیں ملا، اللہ تعالیٰ نے مجھ نا چیز پر رحم کیا، مجھے دنیا کی مانی ہوئی عدالت سے سرٹیفیکیٹ ملا، عمران کی ہمشیرہ کو ایف بی آر نے این آر او دیا، کئی سال علیمہ خان نے اثاثے ڈکلیئر نہیں کیا تھا، اس نے چینی سکینڈل پر کمیشن بنایا تھا، وہ رپورٹ کدھرگئی۔ میں کہتا تھا یہ نیب نیازی گٹھ جوڑہے، خاتون کو وزیراعظم ہاؤس میں محبوس رکھا گیا، چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا گیا، مالم جبہ، ہیلی کاپٹر کیس سامنے نہ آجائے، قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے اس سے ڈرنا چاہیے، یہ خوشی کا نہیں مقام عبرت ہے، عمران نیازی جھوٹ، بدیانتی کا مجسمہ ہے، بنی گالہ کو ریگولرائز اور غریبوں کے گھروں کو گرایا گیا، ایک مرتبہ نہیں زیادہ مرتبہ کہا، آئیں چارٹر آف اکانومی کریں، اس کے بدلے میں مجھے ڈاکو، چور کہا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری ایک آئینی معاملہ ہے، پینل کو دیکھ کر اپایئٹمنٹ ہو جاتی ہے کوئی قباحت نہیں، عمران خان عدم استحکام پیدا کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں، لوگ سمجھ رہے ہیں یہ جھوٹا ہے اس لیے کل باہر نہیں نکلے، گندم امپورٹ ہو رہی ہے۔ جس نے سب سے کم بولی دی ان سے گندم لے رہے ہیں، پرائیویٹ سیکٹر کو گندم امپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جب سے اسحاق ڈار آئے 10 سے 12 روپے تک ڈالر نیچے گیا، برطانوی ایجنسی نے مجھے کلیئر قرار دیا، میری بیٹیوں کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا، میری دونوں بیٹیوں کا کسی کیس سے تعلق نہیں تھا، زرداری صاحب کی بہن کے خلاف بھی کیسز بنائے گئے، قانون اورانصاف کے مطابق کارروائی ہو گی، اگرپنجاب میں تبدیلی آتی ہے تو یہ سب کا حق ہے، عمران نیازی نے کسی بھی افسر کو نہیں چھوڑا، عمران نیازی مجھے اندر کرانے کے لیے افسران کے تبادلے کرتا رہا، عمران نیازی کو مجھے اندر کرانے کے لیے نیند نہیں آتی تھی، ہمارے خلاف پرانے کیسز کو کھولا گیا، یہ ہے مکافات عمل ہے، اللہ نے چاہا تو نوازشریف ضرورآئیں گے ان کو ایئرپورٹ لینے جاؤں گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں نا گھبرانے والی بات ہے، آج بھی کہتا ہوں آنے والی نسلوں کی بہتری کے لیے ہر در پر جانے کو تیار ہوں،شرط یہ ہے دغا، فریب نہ ہو۔ لانگ مارچ کے دوران اصل بات تو یہ ہے کیا سرٹیفائیڈ چور کے پیچھے لوگ نکلیں گے؟ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، سرٹفائیڈ چور کو قعطاً اسلام آباد میں گھسنے نہیں دیں گے، کوئی شک نہیں چیلنجز بے شمار ہے، اقتدار سنبھالا ہے، یہ کانٹوں کی مالا ہے، مخلوط حکومت نے ریاست کوبچانے کے لیے سیاست کوقربان کیا، پاکستان کی بقا اور بہتری کے لیے جان بھی دینی پڑے تو کوئی بڑی قربانی نہیں ہوگی، جن سیٹیوں پرضمنی الیکشن ہارے یہ ہم 2018ء میں بھی ہارے تھے، یہ سیٹیں ہماری نہیں تھی، الیکشن کمیشن توخودمختارادارہ ہے میں انہیں کیسے بلاسکتا ہوں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گھڑیاں پندرہ کروڑروپے کی تھی، عمران کی حکومت میں سب سے بڑا فراڈ 50 ارب کا ہوا، اس سے بڑا فراڈ کوئی اور ہوسکتا ہے؟ عام انتخابات میں ابھی گیارہ ماہ دور ہیں، موجودہ حکومت کا اختیارہے کب الیکشن ہونگے، ہم گیارہ ماہ ڈٹ کرکام کریں گے ہمارا الیکشن کرانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اللہ جانتا ہے کوئی ولی نہیں الیکشن میں کتنی سیٹیں جیتیں گے، ہٹلر بھی بڑا مقبول تھا۔ ہماری حکومت کوآئے چھ ماہ ہوئے ہیں، بجلی کی قیمتوں کا معاملہ کئی حکومتوں کا کیا دھرا ہے، فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کو 300یونٹ تک رکوایا ہے، دوست ممالک کے گھٹنوں کوہاتھ لگا کرسستی گیس مانگ رہا ہوں۔ سرٹفائیڈ چورنے قوم کے لیے سستی گیس کیوں نہ خریدی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان،بھارت تعلقات بحال کرانے میں پوری طرح سہمت ہوں، جب تک بھارت کشمیر مسئلے پر سنجیدگی سے حل نہیں کرتا، تب تک معاملات آگے نہیں چلیں گے، پاکستان اور بھارت کوغربت کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
صحافی کی طرف سے سوال پوچھا گیا کہ بیک ڈور رابطوں کے متعلق کیا کہیں گے ؟ اس پر جواب دیتے ہوئے شہباز شریفنے کہا کہ آپ بیک ڈور ملیں پھر آپ کو بتاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ گندم کی مد میں ہم نے اربوں روپے بچائے، گندم میں بچت کا تو آپ ذکرنہیں کرتے، مہنگائی کوکم کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں، عمران نیازی کی طرح نہیں لوگوں کے گھروں کا گھیراؤ کراؤں، عمران نیازی نے سب کچھ کھا لیا عوام جوبھی فیصلہ کریں گے قبول کریں گے۔

عدلیہ، انتظامیہ، فوج بحیثیت انتظامی حصہ ملک کیلئے ضروری ہیں: جسٹس قاضی فائز

لاہور: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ عدلیہ، انتظامیہ اور فوج بحیثیت انتظامی حصہ ملک کے لیے ضروری ہیں۔ پاکستان سے جمہوریت کو نکالنا ملک دشمنی ہے۔
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج ایک عظیم خاتون کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں، ناروے کا شمار دنیا کے خوبصورت ممالک میں ہوتا ہے، قانون ساز قانون بناتے ہیں،ایگزیکٹو نفاذ کراتے ہیں۔دنیا میں قیام پاکستان کی مثال نہیں ملتی، بھٹو کا ٹرائل سول کورٹ نے کیا تھا، بھٹو کا ٹرائل کسی ملٹری کورٹ نے نہیں کیا تھا، جس بنچ میں فوجی عدالتوں کے قیام کا معاملہ آیا میں اسکا حصہ تھا، میں جونیئر ترین جج تھا اور اقلیتی فیصلے کا حصہ تھا، اقلیتی فیصلہ ہونے کی وجہ سے وہ رائج تو نہیں ہو سکا تھا مگر انشاءاللہ کوشش جاری رہے گی۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نےکہا کہ آئین میں اختیارات کی تقسیم لکھی ہے،اس میں ایک ادارہ عدلیہ بھی ہے، پہلا حملہ اس وقت ہوا جب آئین کو تحلیل کیا گیا، پاکستان کو جمہوری انداز میں حاصل کیا گیا۔ سپین میرا پسندیدہ ملک ہے اسکی وجہ سب کو پتہ ہے، آئین میں اختیارات کی تقسیم لکھی ہوئی ہے اس میں سے ایک ادارہ عدلیہ بھی ہے پاکستان کو جمہوری انداز میں حاصل کیا گیا اس پر پہلا حملہ اس وقت ہوا جب آئین کو تحلیل کیا گیا، جمہوریت پر پہلا حملہ ایک بیورو کریٹ غلام محمد نے کیا، مولوی تمیز الدین نے اسمبلی کی تحلیل کو چیلنج کیا، سندھ ہائیکورٹ نے اسمبلی کی تحلیل کو کالعدم قرار دیا لیکن وفاقی کورٹ نے تحلیل کے احکامات کو برقرار رکھا، دوسرا حملہ 1956ء میں ہوا جب آئین کو بنے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی یہ حملہ سکندر مرزا اور ایوب خان نے کیا یہ بھی ایگزیکٹو کی طرف سے ایک حملہ تھا۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئر جج کا کہنا تھا کہ جج کا نام لیکر تنقید کریں ادارے پر تنقید نہ کریں، آرمی آفیسر کا نام لیکر تنقید کریں، ادارے پر تنقید نہ کریں، بیوروکریٹ کا نام لیکر تنقید کریں، بطور ادارہ تنقید نہ کریں، پاکستان کو اداروں کی ضرورت ہے۔ ایک وزیراعظم کو اس لیے نکالا گیا کہ اس نے بیٹے سے لی گئی تنخواہ ظاہر نہیں کی تو وہ اچھا مسلمان نہیں رہا لہٰذا اسے نااہل کر دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جمہوریت کی ضرور ت ہے، پاکستان کو عدلیہ اور ایگزیکٹو کی ضرورت ہے، آئین میں اختیارات کی تقسیم لکھی ہے،اس میں ایک ادارہ عدلیہ بھی ہے۔

اور بینک الحبیب کی بیرونِ مُلک پاکستانیوں کے لئے قانونی اور فری طریقہ کار سے منی ٹرانسفر کی آگاہی مُہِم

لاہور: (ویب ڈیسک) معاشی طور ترقی پذیر مُمالک کے لئے بیرونِ مُلک سے ترسیلاتِ ذر ہمیشہ سے ناگزیر رہی ہیں، جو کہ ان مُمالک کے لئے کثیر ذرِ مبادلہ کا ذریعہ بنتی ہیں، اور اسی کے ساتھ ساتھ لاکھوں گھروں کی بنیادی ضروریات کا انحصار بھی انہی رقوم پر ہوتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کم آمدنی والے مُمالک میں رواں مالی سال 2022 میں ترسیلاتِ زر کے ذریعے آمدنی 630 بلین ڈالر سے تجاوز کرے گی۔ پاکستان اس مالی سال 2022 میں 31 بلین ڈالر کی ترسیلاتِ زر کے ساتھ دُنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ یہ اعداد و شمار بیرونِ مُلک جانے والے پاکستانیوں کی سالانہ تعداد اور مُلک میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کےترسیلاتِ زر پر انحصار کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
بیرونِ مُلک سے ترسیلاتِ زر کے ہُجم میں سال ہا سال بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور اس شرح نمو کو برقرار رکھنے کے لئے جہاں حکومتِ پاکستان بہترین اقدامات بروئے کار لا رہی ہے، وہیں (-ACE Money Transfer-) اور بینک الحبیب جیسے معروف و معتمد ادارے گراں قدر کردار ادا کر رہے ہیں۔ ترسیلاتِ زر کو مزید تیز، آسان، اور محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ دونوں مالیاتی ادارے رقوم کی بیرونِ مُلک سے پاکستان منتقلی کے لئے بہترین ایکسچینج ریٹس اور بِنا فیس کے ساتھ ایک بار پھر پیش پیش ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر حالیہ غیر مُستحکم معاشی صُورتِ حال ،عالمی کرنسی مارکیٹ میں غیر معمولی اُتار چڑھاؤ ، اور پاکستان میں روپے کی گرتی ہوئی قدر بیرونِ مُلک سے رقوم کی مُنتقلی پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ بیرونِ مُلک سے آنے والی رقوم پاکستان کے ذرِمُبادلہ کے ذخائر اور معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی سی اہمیت کی حامل ہیں۔
اسی اہمیت کے پیشِ نظر (-Pakistan Remittance Initiative (PRI)-) ، جو کہ (-Ministry of Finance-) ، (-Ministry of Overseas Employees-)، اور (-State Bank of Pakistan-) کا حکومتِ وقت ساتھ مشترکہ اقدام ہے، گاہے بگاہے ترسیلاتِ زر کے فروغ کے لئے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ (-PRI-) کے اسی وژن کو فروغ دینے کے لئے برطانیہ میں قائم مشہور بین الاقوامی کمپنی (-ACE Money Transfer-) اور پاکستان کے صفِ اول میں شامل بینک الحبیب نے بیرونِ مُلک مُقیم پاکستانیوں کے لئے آگاہی مُہِم کا آغاز کیا ہے۔ اس آگاہی مُہِم میں بیرونِ مُلک پاکستانیوں کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ قانونی طریقے سے بغیر فیس کے صرف 7 سیکنڈز میں اپنی رقوم پاکستان مُنتقل کر سکتے ہیں جو کہ مُلک میں بینک الحبیب کی 1050 سے زائد برانچز میں سے کسی سے بھی وصول کی جا سکتی ہیں، اور یہ سروسز صارفین کے لئے ہفتے کے سات دن بِلا تعطل میسر ہیں۔اس آگاہی مُہِم میں 950 سے زائد ڈبل ڈیکر بسز، لندن کے 100 بس سٹاپس، اور 25 زیرِ زمین ریلوے اسٹیشن پر اشتہارات آویزاں کیئے گئے ہیں۔
ایس منی ٹرانسفر کے سی ای او راشد اشرف کا کہنا ہے کہ بیرونِ مُلک سے اپنی محنت کی کمائی اپنے وطن بھیجنے والوں کے لئے سیکیورٹی، اسپیڈ، اور بہترین ریٹس بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ اپنوں سے دُور رہ کر اپنے خاندان کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے والے لاکھوں افراد سالانہ اپنے وطن کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ (-ACE Money Transfer-) 20 سال سے ایسے تمام اپنوں سے دُور رہنے والے محنت کشوں کی خدمت میں مصروفِ عمل ہے اور اسی سلسلہ میں بینک الحبیب کے ساتھ شراکت داری اور اس مُہِم کا مقصد قانونی ذرائع سےرقوم کی منتقلی کو فروغ دینا اور غیر قانونی ذرائع (جیسا کہ حوالہ اور ہنڈی) کی حوصلہ شکنی کرنا ہے ، جس کے لئے دونوں ادارے حکومتِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
(-ACE Money Transfer-) برطانیہ کی فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی (ایف سی اے) سےمنظور شدہ کمپنی ہے جو کہ برطانیہ، یورپ، آسٹریلیا، کینیڈا، اور سویٹزرلینڈ سے 100 سے زائد مُمالک میں انتہائی کم فیس جبکہ بہترین ایکسچینج ریٹس کے ساتھ رقوم کی منتقلی کی محفوظ ترین سروسز فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کا بیینک الحبیب کے ساتھ اشتراک سے صارفین کے لئے فری، تیز ،اور محفوظ منی ٹرانسفر سہولیات فراہم کرنا ایک قابلِ ستائش اقدام ہے جس سے ایک طرف صارفین ہر بار رقوم کی منتقلی پر خاطر خواہ بچت کرسکتے ہیں اور دوسری طرف غیر قانونی طریقوں سے رقوم کی منتقلی کی روک تھام کے ساتھ ساتھ مُلکی معیشت کے استحکام میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

میلبرن: پاک بھارت پریکٹس سیشن دیکھنے ہزاروں لوگ امڈ آئے

میلبرن: (ویب ڈیسک) پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ چاہے دنیا کے جس کونے میں ہوں کرکٹ سے محبت کرنے والے انہیں سپورٹ کرنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں، آج ملیبرن میں بھی پاک بھارت پریکٹس سیشن کو دیکھنے شائقین کی بڑی تعداد پہنچ گئی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کل میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائےگا تاہم دونوں ٹیموں کے درمیان میچ کا دارومدار موسم کی صورتحال پر ہے، اتوار کے روز بارش کے باعث میچ متاثر ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے تاہم میلبرن میں آج موسم میں تبدیلی آئی ہے اور دھوپ نکل پڑی ہے جس سے بارش کے امکان میں کچھ کمی ہوئی ہے۔
دونوں ٹیموں کے سپورٹرز پرامید ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کل میچ ضرور ہوگا اور شائقین کرکٹ کو ایک اچھا مقابلہ دیکھنےکو ملےگا۔
آج ہلکی سی بارش ہوئی اور اب مکمل دھوپ ہے، دونوں ٹیموں نے آج ٹریننگ کی جوکہ کل تک موسم کے باعث مشکل نظر آرہا تھا، اس دوران شائقین کی بڑی تعداد پریکٹس سیشن دیکھنے کے لیے آگئی، اس موقع پر پاکستانی صحافی کا کہنا تھا کہ کم ازکم 2 سے 3 ہزار پاکستانی اور بھارتی شائقین صرف پاک بھارت پریکٹس سیشن کو دیکھنے کے لیے آگئے۔
شائقین کے جوش و خروش کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کل کے میچ میں کتنا جوش ہوگا۔

بھارت کیخلاف کون سا اہم کرکٹر پلئینگ الیون کا حصہ نہیں ہوگا؟

میلبرن: (ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کا کہنا ہے کہ جارح مزاج اوپنر فخر زمان مکمل فٹ نہیں ہوئے، وہ بھارت کے خلاف پہلے میچ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔
ٹی20 ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ سے قبل پریکٹس سیشن کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 20 اوورز کا مقابلہ چاہتے ہیں لیکن موسم کسی کے ہاتھ میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کے تمام پلئیرز مکمل فٹ ہیں اور میچ کے دوران 100 فیصد پرفارمنس دینے کی کوشش کریں گے، بھارت کے خلاف پلیئنگ الیون ذہن میں ہے تاہم پچ دیکھ کر حتمی فیصلہ کریں گے۔
بابراعظم نے کہا کہ آف دی فیلڈ تمام پلئیرز کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، بطور اسپورٹ مین یہی ذمہ داری ہے کہ سب سے اچھے طریقے سے ملیں، انہوں نے کہا کہ ٹی20 فارمیٹ میں تمام ٹیمیں خطرناک ہوسکتی ہیں کسی ٹیم کو کمزور نہیں سمجھتے۔
کپتان نے فخر زمان کے سوال کہا کہ وہ مکمل فٹ نہیں ہوئے، وہ بھارت کے خلاف پہلے میچ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے تاہم شان مسعود کی تمام رپورٹس کلیئر ہیں، وہ بھارت کے خلاف پلیئنگ الیون کا حصہ ہوں گے۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی اڈیالہ جیل سے رہا

راولپنڈی: (ویب ڈیسک) پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا۔
اسلام آباد کے اسپیشل جج نے گزشتہ روز اعظم سواتی کی ضمانت منظور کی تھی اور انہیں 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
اعظم سواتی کو اداروں کے خلاف متنازع ٹوئٹس کے الزام میں اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اسلام آباد کی عدالت نے اعظم سواتی کی ضمانت کے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ بغاوت پراکسانےکی دفعات کے تحت کیس میں مزید انکوائری کی ضرورت ہے، ٹرائل میں شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد ثابت ہوگا کہ پٹیشنر کا ٹوئٹ کرنے کا مقصد اور ارادہ کیا تھا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: انگلینڈ کا افغانستان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

پرتھ: (ویب ڈیسک) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سُپر 12 مرحلے کے دوسرے میچ میں انگلینڈ نے افغانستان کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ میچ آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں کھیلا جارہا ہے جہاں انگلینڈ کی قیادت جوز بٹلر اور افغانستان ٹیم کی کپتانی محمد نبی کر رہے ہیں۔
افغانستان کی پلیئنگ الیون میں حضرت اللہ زازئی، وکٹ کیپر رحمٰن اللہ گُرباز، ابراہیم زادران، نجیب اللہ زادران، عثمان غنی، محمد نبی، عظمت اللہ عمر زئی، راشد خان، فضل حق فاروقی، مجیب الرحمٰن اور فرید احمد ملک شامل ہیں۔
اس سے قبل سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے جانے والے میچ میں نیوزی لینڈ نے آسٹریلیا کو 89 رنز سے شاندار شکست دی۔

پی ٹی آئی کیساتھ مذاکرات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں: خواجہ آصف

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کیساتھ مذاکرات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر خبر پھیلائی گئی کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں تو قطعاً طور پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، مارچ اپریل میں الیکشن کے لیے بیک ڈور رابطے کی خبر پروپیگنڈا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن نے قانونی فیصلہ سنایا ہے اور عمران خان نے اپنے اوپر لگے الزامات کی تردید کی اور گزشتہ روز ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا، کوئی بھی حکومتی نمائندہ توشہ خانہ سے تحفہ نہیں لے سکتا شہباز شریف کو 6 سے 7 ماہ میں جو تحفے ملے وہ وہاں محفوظ ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ 4 ماہ قبل وزیر اعظم نے کمیٹی بنائی جس کی ذمہ داری مجھے دی گئی تھی اور کمیٹی نے کچھ سفارشات وزیر اعظم کو بھیجی ہیں۔ قانون اور آئین کے مطابق اگلے ماہ آرمی چیف کی تعنیاتی ہو گی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی میں توڑ پھوڑ شروع ہوچکی ہے اور آئندہ دنوں میں پی ٹی آئی میں جوڑ توڑ شروع ہوجائے گی تاہم ڈیڑھ 2 ماہ میں سب کچھ واضح ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کا سلسلہ زیادہ دیر تک چلنے والا نہیں ہے اور جو حالات اب ہوں گے ان میں غلط بیانی کی گنجائش نہیں ہو گی۔ آئندہ دنوں میں عمران خان کی جو پوزیشن ہو گی پرویز الہٰی ان کے ساتھ نہیں ہوں گے۔ پی ٹی آئی والوں کو پرویزالہٰی کا خیال کرنا چاہیے وہ کہیں اور نہ چلے جائیں اور بتا رہا ہوں پرویز الہٰی چھوڑ کر جانے والوں میں سب سے آگے ہوں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

لاہور : (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں ججز تقرری کے معاملے پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھ دیا۔
خط میں سپریم کورٹ کیلئے نامزد تین ناموں پر اعتراض اٹھایا گیا ہے، جن ججز کے ناموں پر جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا ہے ان میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس شفیع صدیقی شامل ہیں۔