All posts by Khabrain News

قومی اسکواڈ دوبارہ جوائن کرنے کیلئے پرجوش ہوں، شاہین شاہ آفریدی

لاہور: (ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اسکواڈ کو دوبارہ جوائن کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔
پی سی بی کے مطابق شاہین شاہ آفریدی لندن میں پی سی بی ایڈوائزری پینل کی زیر نگرانی ری ہیب مکمل کرنے کے بعد آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے 15 اکتوبر کو برسبین میں قومی اسکواڈ کو جوائن کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ میگا ایونٹ کے لیے پاکستان کے 17 اور 19 اکتوبر کو بالرتیتب انگلینڈ اور افغانستان کے خلاف شیڈول وارم اپ میچز میں شرکت کے لیے دستیاب ہوں گے، جہاں ان کی فٹنس کا جائزہ لیا جائے گا۔
پی سی بی کے مطابق شاہین کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دس روز سے روزانہ بغیر کسی درد کے تیزرفتاری سے چھ سے آٹھ اوورز پھینک رہے ہیں۔

سائفرکے معاملے پر کریڈبل ججز پر مشتمل کمیشن بننا چاہیے: عمران خان

ننکانہ صاحب: (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کا شکر گزارہوں سائفر کا معاملہ دوبارہ اٹھا دیا، سائفرکے معاملے پر کریڈبل (معتبر) ججز پر مشتمل کمیشن بننا چاہیے۔ چور مجھے گندہ کرنے کے لیے ڈیپ فیک ویڈیو تیار کر رہے ہیں، میں عدالت میں جا رہا ہوں، وزیراعظم آفس، گھر کی سکیورلائن کو کس نے ٹیپ اور کس نے لیک کی؟ وزیراعظم کے فون کو ٹیپ کریں لیکن اس کو لیک کرنا جرم ہے، عدالت میں پتا چلاؤں گا کونسی ایجنسیز یہ کام کر رہی ہے، میرے ساتھ دشمنوں والا سلوک کیا جا رہا ہے۔
ننکانہ میں پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ بجلی،ڈیزل، پٹرول کی قیمتیں دگنا ہو چکی ہیں، بجلی کی قیمت دگنی سے بھی اوپرچلی گئی ہے، یہاں پر کوئی یونیورسٹی نہیں ہے، تحریک انصاف نے ایک تعلیمی نظام بنانے کی کوشش کی، ہماری حکومت کو بیرونی سازش کے تحت گرایا گیا، مجھے ہٹا کران کے جوتے پالش کرنے والے نوکر کو لایا گیا، حکومت کا شکرگزارہوں سائفر کا معاملہ دوبارہ اٹھا دیا، سائفر معاملے پر کمیشن یہ حکومت نہیں بناسکتی یہ تو خود سازش کا حصہ تھے،سائفرکے معاملے پر کریڈبل (معتبر) ججز پر کمیشن بننا چاہیے، مدینہ کی ریاست میں عدل اور انصاف تھا، عدل اورانصاف کا مطلب قانون سے کوئی اوپرنہیں ہوسکتا۔
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ بڑا ڈاکو چوری کرے تو این آر او مل جائے وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، سایئکل چور کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، نواز شریف، مریم نوازکہتے ہیں بڑا ظلم ہوا بے، قصور ہے، نوازشریف نے بیٹی کے نام پرلندن میں چاراربوں روپے کےمحلات خریدے۔ لندن فلیٹس بارے یہ جھوٹ بولتے رہے، پاناما انکشافات ہوئے توسب کچھ سامنے آگیا، دس سال پہلے مریم نواز سے فلیٹ بارے پوچھا تو کہا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں، اس بیچاری کو نہیں پتا تھا اللہ سچ سامنے لے آئے گا، پاناما انکشافات کے بعد حسین نوازنے چارلندن فلیٹ کوتسلیم کیا، اب اگلا سوال یہ ہے لندن فلیٹس کا پیسہ کدھرسے آیا، مریم نوازاپنے دادا کوارب پتی کہتی ہیں، شہبازشریف نے کہا ان کےوالد کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا، تم لوگ چوری چھپانے کے لیے کتنے جھوٹ بولوگے، قوم وسائل کی کمی سے نہیں جب اس طرح کے ڈاکومسلط ہوتب تباہ ہوتی ہے، ڈاکوپہلے پیسہ چوری کرتے ہیں پھر ملک سے منی لانڈرنگ کرتے ہیں۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب یہ منی لانڈرنگ کرتے ہیں تو ملک میں ڈالروں کی کمی ہوتی ہے، پیسہ باہر بھیجنے کے لیے ملک کے اداروں میں اپنے آدمی رکھواتے ہیں، یہ اپنی چوری بچانے کے لیے نیب کے قانون بدلتے ہیں، قانون بدلنے کے بعد پھران کو اپنے جج چاہیے ہوتے ہیں، جسٹس سجاد علی شاہ کو انہوں نے ڈنڈے کے ذریعے عدالت سے بھگایا تھا، اگرایف آئی اے مقصود چپڑاسی کیس کی غیر جانبدار طریقے سے انویسٹی گیشن کرے تو شہبازشریف پکڑا جائے گا، ان کا سارا ماضی یہ ہے اپنے آئی جیز بھی رکھتے ہیں، اس ملک میں میرٹ کا قتل عام کرتے ہیں، جب ان کی چوری نہ پکڑی جائے تو ملک مقروض ہو جاتا ہے، مشرف نے دونوں ڈاکوؤں کو 2008ء میں این آر او دیا، مشرف کے این آر او کے بعد ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا، قرضوں کی قیمت عوام مہنگائی کی شکل میں ادا کررہی ہے، ملک کے اندرمیرجعفر، میرصادق ملک تباہ کرتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ آپ سب تیاری کریں،کال میں زیادہ دیرنہیں ہے، پوری تیاری کر رہا ہوں، چور مجھے گندہ کرنے کے لیے ڈیپ فیک ویڈیو تیار کر رہے ہیں، میں عدالت میں جا رہا ہوں، وزیراعظم آفس، گھر کی سکیورلائن کو کس نے ٹیپ اور کس نے لیک کی؟ وزیراعظم کے فون کو ٹیپ کریں لیکن اس کو لیک کرنا جرم ہے، عدالت میں پتا چلاؤں گا کونسی ایجنسیز یہ کام کر رہی ہے، میرے ساتھ دشمنوں والا سلوک کیا جا رہا ہے، چیلنج کرتا ہوں یہ جو مرضی کریں عوام کے انقلاب کو نہیں روک سکیں گے، اپنے آپ کو بچانے کے لیے یہ گند پھیلانا چاہتا ہے، اب آپ سمجھ گئے ہیں ن لیگ والے اس طرح ڈی فیک ویڈیو بنا رہے ہیں، یہ چورایک طرف اور قوم ہمارے ساتھ کھڑی ہے، یہ خوف میں ہرقسم کے حربے استعمال کریں گے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ نے موقع دیا تو ننکانہ کو خوشحال ڈسٹرکٹ بنائیں گے، ننکانہ جلسے میں خواتین کی آمد پرسلام پیش کرتا ہوں۔
جلسے کے دوران شریک عمران خان خود سمیت کارکنوں سے حلف لیا گیا، سینیٹرفیصل جاوید نے حلف لیا، عمران خان کی موجودگی میں حلف لیا گیا ہم پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ کریں گے، ہم کبھی بھی اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، ہم پاکستان کی اس حقیقی آزادی کی جہاد میں عمران خان کے شانہ بشانہ جدوجہد کریں گے، ہم ہرقسم کی قربانی کے لیے تیاررہیں گے۔

حکومتی درخواست مسترد، ضمنی انتخابات معمول کے مطابق ہی کرانیکا اعلان

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزارت داخلہ کی جانب سے 90 روز کے لیے ضمنی الیکشن ملتوی کیے جانے کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات معمول کے مطابق ہوں گے۔
یاد رہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو آف پاکستان کو خط ارسال کیا گیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ضمنی انتخابات 90 روز کے لیے ملتوی کر دیئے جائیں کیونکہ ایک سیاسی جماعت اسلام آباد پر قبضہ کرنے کے لیے آ رہی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں اجلاس ہوا اجلاس کے دوران ضمنی الیکشن کے بارے میں سکیورٹی سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری دفاع، سیکرٹری دفاع نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ ضمنی انتخابات مقررہ وقت پر کروائے جائیں گے، این اے 45 کرم میں امن و امان کے حالات کے باعث الیکشن ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی ڈویژن کے تمام اضلاع میں بلدیاتی انتخابات بھی شیڈول کے مطابق ہوں گے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات 16اکتوبر کو ہی کروائے جائیں گے، کراچی ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات اعلان کردہ تاریخ 23اکتوبر کو ہونگے۔

سپریم کورٹ: نیب سے 23 سال کے ہائی پروفائل کرپشن کیسز کا ریکارڈ طلب

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) نیب قانون میں ترامیم کے خلاف مقدمے میں سپریم کورٹ نے 23 سال کے ہائی پروفائل کرپشن کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا۔
نیب قانون میں حالیہ ترامیم کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ‏جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔
دوران سماعت پی ٹی آئی وکیل وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں تبدیلی سے بے نامی دار کی تعریف انتہائی مشکل بنا دی گئی ہے۔ اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس آئینی شق کو بنیاد بنا کر نیب قانون کو کالعدم قرار دیں۔ وکیل نے استدعا کی کہ معاملہ اہم سیاسی رہنماؤں کے کرپشن میں ملوث ہونے کا ہے جہاں عوامی پیسے کا تعلق ہو، وہ معاملہ بنیادی حقوق کے زمرے میں آتا ہے جعلی بینک اکاؤنٹس کیسز میں بھی بے نامی کا معاملہ تھا، معاشی پالیساں ایسی ہونی چاہییں کہ بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ معاشی پالیسیوں کو دیکھنا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے۔ اگر کسی سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو قانون میں مکمل شفاف ٹرائل کا طریقہ کار موجود ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ معیشت پالیسی کا معاملہ ہوتا ہے جس میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ عوام کے اثاثوں کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔ بے تحاشا قرض لینے کی وجہ سے ملک بری طرح متاثر ہوا ہے۔ قرضوں کا غلط استعمال ہونے سے ملک کا یہ حال ہوا۔ زیادہ تر غیر ضروری اخراجات ایلیٹ کلاس کی عیاشی پر ہوئے۔ ملک میں 70 سے 80 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عدالت حکومت کو قرض لینے سے نہیں روک سکتی۔ معیشت کے حوالے سے فیصلے کرنا ماہرین ہی کا کام ہے۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں معاشی پالیسی کے الفاظ واپس لیتا ہوں۔
دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ پاکستان میں جائیداد اور دولت بنانے پر کوئی کنٹرول نہیں، نہ ہی احتساب ہے۔
نیب قوانین میں ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1996ء میں ایک کیس میں زندہ درخت کی مثال دی۔ زندہ درخت گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے گا۔ قانون نہیں ہوگا تو مافیاز ہوں گے ۔ پاکستان میں بہت سے مافیاز ہیں۔ میں کسی مافیا کا نام نہیں لوں گا ، لیکن مافیاز کی وجہ سے بد امنی اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارے نظام میں مناسب ریگولیٹر موجود نہیں۔دنیا میں جائیداد اور دولت پر ٹیکس لیا جاتا ہے، ہمارے ہاں 2001ء میں ویلتھ ٹیکس کو ختم کردیا گیا۔ ملک میں جائیداد بنانے پر کوئی کنٹرول نہیں، نہ احتساب ہے ۔ یہ سب نکات ہیں جو سیاسی نوعیت کے ہیں ،جو پارلیمان نے طے کرنے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ احتساب تندرست معاشرے اور تندرست ریاست کے لیے اہم ہے۔ کرپشن دنیا میں ہر جگہ موجود ہے۔ کچھ نقائص بھی موجود ہیں۔ نقص یہ بھی ہے کہ کچھ سرکاری ملازمین جیلیں کاٹ کر بری ہو چکے ہیں۔ کچھ کاروباری شخصیات بھی نیب سے مایوس ہوئیں، نیب ترامیم میں کچھ چیزیں بھی ہیں جن سے فائدہ ہوا۔ کچھ ایسی ترامیم بھی ہیں جو سنگین نوعیت کی ہیں۔ ہم نے توازن قائم کرنا ہے۔ نیب قانون میں حالیہ تبدیلی کے سبب ملزمان کو فائدہ بھی پہنچا۔ پلی بارگین اور 500 ملین روپے کی حد مقرر کرنے سے ملزمان کو فائدہ ہوا۔
چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ معیشت پالیسی کا معاملہ ہوتا ہے جس میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ عوام کے اثاثوں کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔ بے تحاشا قرض لینے کی وجہ سے ملک بری طرح متاثر ہوا ہے۔ قرضوں کا غلط استعمال ہونے سے ملک کا یہ حال ہوا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ زیادہ تر غیر ضروری اخراجات ایلیٹ کلاس کی عیاشی پر ہوئے۔ ملک میں 70 سے 80 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عدالت حکومت کو قرض لینے سے نہیں روک سکتی۔ معیشت کے حوالے سے فیصلے کرنا ماہرین ہی کا کام ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ہمیں پہلے یہ بتائیں کہ نیب ترامیم کے ذریعے کس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟۔ فرض کریں پارلیمنٹ نے ایک حد مقرر کردی اتنی کرپشن ہوگی تو نیب دیکھے گا۔ سوال یہ ہے عام شہری کے حقوق کیسے متاثر ہوئے ہیں؟۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ نیب قانون سے زیر التوا مقدمات والوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ایسی عدالتی نظیر موجود ہے جہاں شہری کی درخواست پر عدالت نے سابقہ قانون کو بحال کیا ہو؟۔ شہری کی درخواست پر عدالت پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟۔ وکیل نے جواب دیا کہ پبلک منی کے معاملے پر عدالت قانون سازی کالعدم قرار دے سکتی ہے۔عوام کا پیسہ کرپشن کی نذر ہونا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے ریکارڈ طلب کیا کہ اب تک کتنے ایسے کرپشن کے کیسز ہیں، جن میں سپریم کورٹ تک سزائیں برقرار رکھی گئیں؟ اب تک نیب قانون کے تحت کتنے ریفرنسز مکمل ہوئے؟،نیب قانون میں تبدیلی کے بعد کتنی تحقیقات مکمل ہوئیں؟۔عدالت نے نیب سے 1999ء سے لے کر جون 2022ء تک تمام ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر سمیت 12 میجر جنرلز کی لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدے پر ترقی

راولپنڈی: (ویب ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار سمیت 12 میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدے پر ترقی دے دیدی گئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق میجر جنرلز سے لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدے پر ترقی پانے والوں میں میجر جنرل انعام حیدر ملک، میجر جنرل فیاض حسین شاہ، میجر جنرل نعمان زکریا، میجر جنرل محمد ظفر اقبال، میجر جنرل ایمن بلال صفدر شامل ہیں۔
بیان کے مطابق دیگر ترقی پانے والوں میں میجر جنرل احسن گلریز، میجر جنرل سیّد عامر رضا، میجر جنرل شاہد امتیاز، میجر جنرل محمد منیر افسر، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار، میجر جنرل یوسف جمال، میجر جنرل کاشف نذیر شامل ہیں۔

پاکستان کو فوری طور پر قرض کی ادائیگی میں ریلیف کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ

جنیوا: (ویب ڈیسک) اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کورونا اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سمیت عالمی بحرانوں نے 54 غریب ممالک کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے ان ممالک کو فوری طور پر قرضوں میں ریلیف دیا جانا چاہیئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی ترقی پذیر ممالک میں ترقیاتی پروگرام کی نگرانی کرنے والی ایجنسی ’’UNDP‘‘ نے پاکستان سمیت 54 ممالک کو قرضوں میں فوری ریلیف دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یو این ڈی پی نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے 54 ممالک اس وقت قرضوں کے بوجھ تلے بری طرح دبے ہوئے ہیں اور ادائیگیوں کے سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث ان ممالک کے غیر فعال ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قرضوں میں فوری ریلیف کے بغیر کم از کم 54 ممالک غربت کی سطح میں مزید اضافہ دیکھیں گے۔ یہ ممالک دنیا میں سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرے سے بھی دوچار ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے سرمایہ کاری اشد ضرورت ہوگی تاکہ اس کی شدت میں کمی واقع ہوسکے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 54 میں سے 46 ممالک نے 2020 میں مجموعی طور پر 782 ارب ڈالر کا عوامی قرضہ لیا جس میں سے ایک تہائی سے زیادہ ارجنٹائن، یوکرین اور وینزویلا نے لیا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے، اس سال کے آغاز میں 10 ترقی پذیر ممالک ایسے تھے جو کسی ملک کو قرض دینے کی پوزیشن میں نہیں رہے تھے تاہم اب یہ تعداد 19 تک جاپہنچی ہے۔
خیال رہے کہ یو این ڈی پی کی یہ رپورٹ واشنگٹن میں عالمی مالیاتی فنڈ، ورلڈ بینک، اور جی 20 کے وزرائے خزانہ کے اجلاسوں کے بعد شائع ہوئی ہے جن میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور قرضوں کی ادائیگی کے سلسلے میں اقدامات اُٹھانے کی تجویز دی گئی تھی۔

بھارت میں میلاد النبیﷺ کا جشن منانا جرم بنادیا گیا؛18 افراد گرفتار

بنگلورو: (ویب ڈیسک) بھارت میں میلاد النبی ﷺ کے جلوس میں نوعمر لڑکوں نے بے ضرر دھات کی بنی تلواریں اور لاٹھیاں چلانے کا مظاہرہ تھا جسے مودی سرکار نے بڑا جرم قرار دیتے ہوئے 18 افراد کو گرفتار کرلیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلورو پولیس نے 13 نوعمر لڑکوں سمیت 18 مسلمانوں کو جشن میلاد النبی ﷺ کے جلوس میں تلواریں اور لاٹھیاں چلانے کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی شہر میں کھلے عام ہتھیاروں کی نمائش کرنے پر کی گئی تاہم ان کا یہ ماننا ہے کہ گرفتار شدگان میں سے کوئی ایک بھی کریمنل ریکارڈ نہیں رکھتا لیکن اس کے باوجود متعصب پولیس نے تمام افراد کو شخصی ضمانت پر بھی رہا کرنے کو تیار نہیں۔
مقامی مسلم قیادت نے پولیس کے رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام گرفتار شدگان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا بچے جو تلوار چلا رہے تھے وہ بے ضرر تھی جس سے سبزی بھی نہیں کاٹی جاسکتی۔
جس پر پولیس نے پینترا بدلتے ہوئے گرفتار شدگان کو اسلحے کی نمائش پر گرفتاری کے اقرار کے بعد غیر قانونی اور بلا جواز مجمع جمع کرنے، امن عامہ میں خلل ڈالنے اور آئی پی سی کی دفعات بھی ڈال دیں۔
میلادالنبی ﷺ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب تلوار یا لاٹھی بازی کی گئی یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے لیکن اچانک اس بار پولیس کو یہ اسلحے کی نمائش لگ رہی ہے۔ پولیس گرفتار شدگان کو عدالت میں پیش کرنے کا شوق پورا کرلے، وہاں فتح ہماری ہوگی۔
خیال رہے کہ پولیس نے یہ کارروائی جلوس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر انتہا پسند ہندوؤں کے اعتراض پر کی جس میں مبینہ طور پر بی جے پی کی مقامی قیادت ملوث ہے۔

امیتابھ بچن کی 80 ویں سالگرہ، جیا بچن نے شوہر سے شکوہ کر دیا

ممبئی: (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں بگ بی کے نام سے مشہور بالی ووڈ کے لیجنڈری سُپر اسٹار اامیتابھ بچن 80 برس کے ہوگئے۔
امیتابھ بچن کی سالگرہ کے موقع پر ان کی اہلیہ جیا بچن اور بیٹے ابھیشیک بچن بھی شو’ کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں شریک ہوئے۔
شو کے پرومو کی ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں امیتابھ بچن کی اہلیہ ان سے دلچسپ انداز میں شکوہ کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔
جیا بچن اپنے شوہر سے شکوے بھرے انداز میں کہتی ہیں کہ انہوں نے کبھی دیکھا تو نہیں ہے لیکن سنا ہے کہ جب آپ کسی کے کام یا رویے سے متاثر ہوتے ہیں تو انہیں اپنے ہاتھ سے خط لکھ کر یا پھول بھیجتے ہیں، ویسے آج تک مجھے کبھی نہیں بھیجی۔
اس پر امیتابھ نے مذاحیہ انداز میں کہا کہ ’یہ پروگرام بہت ذاتی ہورہا ہے یہ غلط ہے’، ابھیشیک نے والد کی بات پر فوری رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ‘نہیں نہیں بالکل نہیں، آپ آگے دیکھیں کیا کیا ہوتا ہے‘۔
بالی ووڈ نگری پر دہائیوں تک راج کرنے والے امیتابھ بچن 11 اکتوبر 1942 کو الٰہ آباد میں پیدا ہوئے امیتابھ بھارتی فلم انڈسٹری کی تاریخ کے مشہور ترین اسٹار ہیں انہوں نے 1969 میں فلم ’سات ہندوستانی‘ کے زریعے بڑے پردے پر اپنا ڈیبیو دیا وہ اس سے قبل تھیٹر میں پرفارم کیا کرتے تھے۔

عامر خان پر ہندو مذہب کی ’بے حُرمتی‘ کا الزام عائد

ممبئی: (ویب ڈیسک) بھارتی انتہا پسندوں نے ایک مرتبہ پھر بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکٹ عامر خان پر ہندو مذہب اور اس کی روایات کی بےحرمتی کا الزام عائد کر دیا ہے۔
اس مرتبہ عامر خان کو بھارت کے ایک بینک کے اشتہار میں کام کرنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس اشتہار میں عامر خان کے ہمراہ کیارہ اڈوانی نے بھی پرفارم کیا ہے۔
اس اشتہار میں کیارہ اڈوانی کو دلہن اور عامر خان کو دلہا بنے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ ہندو مذہب کے روایتی طریقے کے برعکس دلہن کے بجائے عامر خان گھر میں پہلے داخل ہوتے ہیں جبکہ دلہن کو رخصتی کے وقت روتا ہوا بھی نہیں دکھایا گیا۔
اس اشتہار کا مقصد بینک کی جانب سے روایتی طریقے کار اور شرائط سے ہٹ کر منفرد اقسام کے قرضے دینے کی مشہوری کرنا ہے۔
تاہم عامر خان کے اس اشتہار کے بعد ٹوئٹر پر ان کے خلاف ایک مرتبہ پھر بائیکاٹ مہم کا آغاز ہو گیا ہے اور ان پر ہندو مذہب کے عقائد کی ’بے حرمتی‘ کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
ہدایت کار ویویک اگنی ہوتری اپنے ٹوئٹ میں کہتے ہیں کہ ’مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ بینک کب سے سماجی اور مذہبی روایات کو تبدیل کرنے لگ گئے ہیں؟میرے خیال سے اے یو بینک کو کرپٹ بینکنگ سسٹم کے خلاف آواز اٹھانا چاہیے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسی بکواس کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہندو تنقید کر رہے ہیں‘۔
ایک ٹوئٹر صارف نے کہا کہ’ یہ اشتہار دیکھنے کے بعد میں نے اس بینک سے رقم نکلوا لی ہے‘۔
دوسری جانب عامر خان کے مداحوں کی جانب سے ان کی حمایت میں بھی ٹویٹس کی جارہی ہیں۔
ادوے سنگھ نے کہا ہے کہ ’لوگ کسی بھی چیز کا بُرا منا جاتے ہیں، عامر خان کی داد دینا پڑے گی کی انہوں نے یہ ایڈ کیا ہے، اگر کوئی گھر جمائی بنتا ہے یا لڑکی اپنا گھر چھوڑ کر نہیں جاتی تو اس پر تحفظات نہیں ہونے چاہییں‘۔
واضح ر ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ عامر خان کو مسلمان ہونے کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو بلکہ اسےسے قبل بھی 2014 میں فلم ’پی کے‘ کے بعد بھی ان پر ہندو مذہب کی ’بے حرمتی کرنے اور اس کا مذاق اڑانے‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔

کسی بھی جنگلی جانور کو آسانی سے کنٹرول کر سکتی ہوں، رابی پیرزادہ

لاہور: (ویب ڈیسک) رابی پیرزادہ ایک انتہائی متنازعہ مشہور شخصیت رہی ہیں جو کبھی نازیبا وائرل ویڈیو اور کبھی خطرناک جانوروں کے ساتھ بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر کی وجہ سے سُرخیوں کا حصہ رہی ہیں۔
زندگی میں بڑے تنازعات سے گزرنے کے بعد رابی نے شوبز سے دوری اختیار کرلی اور تمام سابقہ ​​دلچسپیوں اور طرزِ زندگی کو پیچھے چھوڑ کر مذہبی سفر کا آغاز کیا۔
حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے رابی پیرازاہ نے ایک دلچسپ راز سے پرد ہ اُٹھایا ہے۔
انٹرویو کے دوران ماضی میں خطرناک جانوروں کے ساتھ وائرل ہونے والی اپنی تصاویر اور ویڈیوز کے بارے میں بات کرتے ہوئے رابی نے انکشاف کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے جنگلی جانور، شیر، سانپ، اژدھے یا پھر بھیڑیے کو باآسانی کنٹرول کر سکتی ہیں اور یہ ہنر انہیں خدا کی طر ف سے ملا ہوا ایک تحفہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے خلاف بغیر لائسنس کے جنگلی جانوروں کو رکھنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جوکہ اب ختم ہو چکا ہے۔
رابی نے واضح کیا کہ’میرے پاس کوئی جانور نہیں اُن تصاویر میں جو جانور تھے وہ کشمیر میں جب میں پروگرام کرنے گئی تو وہاں موجود تھے جن کے ساتھ میں نے مودی کو دھمکانے کیلئے تصاویر اور ویڈیوز بنائیں جو وائرل ہو گئیں اور وائلڈ لائف والوں نے مجھ پر کیس کر دیا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے انہیں کہا کہ آپ مجھےمعاف کریں میں آپ کو معاف کرتی ہوں‘، ربی پیرازادہ نے دعویٰ کیا کہ ’جب کبھی آپ کے گھر سے کوئی سانپ، شیر یا بھیڑیا نکلے تو آپ مجھے بلانا میں اسے آپ کے سامنے پرسکون کر کے دکھاؤں گی تھوڑی دیر میں وہ میرے پاس صوفے پر سکون سے بیٹھا ہوگا‘۔
خیال رہے کہ رابی پیرازادہ ماضی میں گلوکارہ، اداکارہ، ماڈل اور بطورِ آرٹسٹ شوبز انڈسٹری میں کام کر چکی ہیں تاہم مذہب کے خاطر شوبز سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد اب وہ فلاحی ادارہ چلا رہی ہیں۔