All posts by Khabrain News

کوئٹہ میں دھرنے پر بیٹھنے والے ڈاکٹرز گرفتار

کوئٹہ: (ویب ڈیسک) دھرنے پر بیٹھنے والے ڈاکٹر کو پولیس نے گرفتار کرکے بجلی گھر تھانے منتقل کردیا۔
کوئٹہ میں پولیس نے دھرنے پر بیٹھنے والے ینگ ڈاکٹرز کو گرفتار کرلیا، اور انہیں قیدی وین میں بٹھا کربجلی گھر تھانے منتقل کر دیا ہے۔
دوسری جانب گرفتاریوں کے خلاف ینگ ڈاکٹرز نے ایمرجنسی سروسز بند کردی ہیں، سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی کے دروازے بند ہونے کے باعث مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ینگ ڈاکٹرز نے ساتھیوں کی رہائی اور مطالبات پورے نہ ہونے پر بلوچستان کے اسپتالوں میں تمام سروسز معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات گئے ینگ ڈاکٹرز نے ریڈزون جانے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز کو گرفتار کر لیا۔

لاہور: دکان میں سلنڈر پھٹنے سے دو خواتین جھلس کر زخمی

لاہور : (ویب ڈیسک) لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن باگڑیاں کے قریب سلنڈر کی دکان میں سلنڈر پھٹنے سے دو خواتین جھلس کر زخمی ہوگئیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ایک زخمی کی حالت تشویش ناک ہے، زخمی ہونے والوں میں 28 سالہ طاہرہ اور 40 سالہ شاہدہ شامل ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق طاہرہ کا جسم 80 فیصد جھلس کر زخمی ہوا۔

کراچی میں شاہراہوں اور سڑکوں پر فوڈ اسٹریٹ سے کوڑے دان غائب

کراچی: (ویب ڈیسک) شہر قائد میں اہم شاہراہوں، سڑکوں، فوڈ اسٹریٹس اور شاپنگ مال میں حکومت اور شاپنگ مالز کی انتظامیہ کی غفلت کے باعث کوڑے دان(ڈس بن) غائب ہوتے جارہے ہیں اور اب ان کی جگہ بڑے کنٹینر رکھ دیے گئے ہیں لیکن ان کی تعداد کم ہونے اور شہریوں کی فوری رسائی نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر ہی کچرا گرانے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔
سندھ حکومت نے شہرکراچی کے بلدیاتی اداروں سے سالڈ ویسٹ کا کام لینے کے لیے 2016 میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم کیا، صوبائی ادارے نے آغاز میں بلدیہ عظمیٰ کراچی، ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن (ڈی ایم سی) ایسٹ اور ڈسٹرکٹ میونسپل کارپویشن ساوتھ میں صفائی کی ذمے داری سنبھالی اور بتدریج دیگر میونسپل کارپوریشنزمیں بھی سالڈ ویسٹ کا کام سینٹرلائز کردیا گیا، اس وقت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی 32 اہم شاہراؤں، ڈی ایم سی ایسٹ، ڈی ایم سی ویسٹ، ڈی ایم سی ساؤتھ، ڈی ایم سی کورنگی، ڈی ایم سی ملیر، ڈی ایم سی کیماڑی میں مکمل طور پر صفائی کے کام انجام دے رہا ہے، بلدیہ وسطی میں صرف سوئپنگ کے کام انجام دے رہا ہے۔
سروے کے مطابق ڈس بین کی کمی کی وجہ سے سب سے خراب صورتحال فوڈ اسٹریٹس اور دیگر کاروباری علاقوںکی ہے،حسین آباد، برنس روڈ، طارق روڈ، بہادرآباد، عالمگیر روڈ، پیر الہی بخش کالونی،ایم اے جناح روڈ، بولٹن مارکیٹ، صدر ایریاز، لی مارکیٹ، عائشہ منزل، شاہراہ پاکستان اور دیگر علاقوں میں روزانہ جگہ جگہ کچرے کے چھوٹے کے ڈھیر قائم ہوجاتے ہیں اگرچہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا عملہ دوسرے دن صبح وہاں صفائی کردیتا ہے لیکن ڈس بین کی کمی کی وجہ صفائی کا کلچر قائم نہیں ہوپارہا ہے،عملے کو بھی زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے،اگروہاں ڈس بین رکھ دیے جائیں تو عوام میں صفائی کا کلچر بھی پیدا ہوگا، سڑکیں اور کاروباری مراکز بھی صاف ستھرے رہیں گے اور صفائی کے عملے کو بھی اتنی محنت نہیں کرنی پڑیگی۔

سعودی عرب میں خواتین سرحدی محافظ کےفرائض انجام دیں گی

ریاض: (ویب ڈیسک) سعودی عرب میں اب خواتین سرحدی محافظ کے فرائض انجام دے سکیں گی۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے خواتین سے بطور سرحدی محافظ تعیناتی کے لئے درخواستیں طلب کی ہیں۔خواتین کوقابلیت کی جانچ اورتربیت کے بعد سرحدی محافظ تعینات کیا جائےگا۔
سعودی عرب نے فروری 2021 میں خواتین کومسلح افواج میں شمولیت کی اجازت دی تھی۔ سعودی خواتین سپاہیوں کے پہلے دستے نے ستمبر میں سعودی آرمڈ فورسز ویمنز کیڈر ٹریننگ سینٹرسے تربیت مکمل کی تھی۔
اس سے قبل مکہ اورمدینہ کے درمیان ٹرین سروس کے لئے بھی بڑی تعداد میں خواتین ڈرائیورز درخواست دے چکی ہیں۔

یوکرین نے روس کا جنگی جہاز تباہ کردیا

یوکرین : (ویب ڈیسک) یوکرین نے روس کا ایک جنگی بحری جہاز تباہ کردیا جبکہ 2جہازوں کا نقصان پہنچا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کی وزارت دفاع نے بیان میں کہا کہ روس کے زیرقبضہ شہر برجیزکی بندرگاہ پرروسی جنگی جہاز کوتباہ کردیا گیا جبکہ دیگر2جہازوں کونقصان پہنچا۔
یوکرینی فوج کے جہازکونشانہ بنانے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔یوکرین کی ڈپٹی وزیردفاع نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ روس کے بڑے ہدف کونشانہ بنایا گیا ہے۔جس روسی جہاز کونشانہ بنایا گیا اس میں 20 ٹینکس،45بکتربند گاڑیاں اور400فوجیوں کی گنجائش تھی۔
روس نے جہاز کی تباہی کے بارے میں کوئی ردعمل نہیں دیا۔

پب جی کمپنی بلاک چین اور این ایف ٹی ویڈیو گیم کی جانب گامزن

جنوبی کوریا: (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں مقبول بپ جی گیم کمپنی نے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت اب وہ بلاک چین اور این ایف ٹی ویڈیو گیم اور سہولیات شروع کرے گی۔
پب جی کی خالق کرافٹن کمپنی نے بلاک چین کمپنی سولینا لیبس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔ معاہدے کی رو سے دونوں ملکر بلاک چین اور این ایف ٹی والے گیمز کی ڈیزائننگ، تیاری اور مارکیٹنگ کرے گی۔ سولینا نے حال ہی میں ایریتھیریئم کے مقابلے میں کم خرچ اور تیزی سے مقبول کرپٹوکرنسی بھی پیش کی ہے۔
اس سے قبل کرافٹن کمپنی نے بلاک چین گیمنگ اور میٹاورس پلیٹ فارم کے لیے این ایف ٹی والے گیم اور مصنوعات سازی کا اعلان کیا تھا۔ لیکن گزشتہ کئی ماہ سے چینی حریف کمپنیوں کی جانب سے کرافٹن کو مسابقت کا سامنا ہے اور اس کے شیئر تیزی سے قدر کھورہے ہیں۔ چین میں پابندی کے بعد وہاں کی بلاک چین کمپنیوں نے جنوبی کوریا کا رخ کیا ہے اور اسی وجہ سے کرافٹن کو مقابلے کا سامنا ہے۔
دوسری جانب یورپی اور مغربی گیم ڈویلپمنٹ کمپنیوں نے صارفین اور مداحوں کے دباؤ پر خود کو این ایف ٹی اور بلاک چین گیمنگ سے دور کرلیا ہے اور بنے بنائے معاہدے تک منسوخ کئے ہیں۔ اگرچہ پب جی گیم ایک ارب موبائل فون پر ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے لیکن اب تک معلوم نہیں ہوسکا کہ کمپنی پب جی کو بھی این ایف ٹی یا بلاک چین سے متصل کرنا چاہتی ہے یا نہیں؟

کیا کپل شرما شو بند ہونے جارہا ہے؟

ممبئی: (ویب ڈیسک) بھارتی ٹی وی کے مقبول ترین کامیڈی شو ’’دی کپل شرما شو‘‘ کو بند کیے جانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رپورٹس سامنے آرہی ہیں کہ میکرز ’’دی کپل شرما شو‘‘ کو عارضی طور پر بند کررہے ہیں۔ شو کو بند کرنے کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ شو کے میزبان اور مرکزی اداکار کپل شرما اپنے امریکا کے دورے کی وجہ سے شو کی شوٹنگ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے اس لیے میکرز نے شو کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کپل شرما نے حال ہی میں لوگوں کو اپنے امریکا اورکینیڈا کے دورے کے بارے میں بتایا تھا جو کہ جون میں شروع ہوگا اور جولائی میں ختم ہوگا۔
اس دورے کے علاوہ شو کی ٹیم نے دیگر کمٹمنٹس بھی کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے کپل اور ان کی ٹیم شو کی شوٹنگ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔ لہذا میکرز نے شو سے بریک لینے اور کچھ ماہ بعد دوبارہ نئے سیزن کے ساتھ واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب کپل شرما کے امریکا کے دورے کے دوران 8 شوز شیڈول ہیں جو 11 جون سے شروع ہوں گے۔

آئینوں سے بنا لیکن آنکھ سے اوجھل، انوکھا مکان

لندن: (ویب ڈیسک) لندن کے مصروف علاقے میں ایک مکان ایسا بھی ہے جس پر بڑے آئینے نصب ہے اوردور سے دیکھنے پر یہ اوجھل ہی دکھائی دیتا ہے اور اسے ’دکھائی نہ دینے والا مکان‘ کہا گیا ہے۔
رچمنڈ سرکس چوراہے پر اے 316 روڈ پر واقع یہ مکان تعمیر کا شاہکار تو ہے ہی لیکن یہ باقاعدہ قابلِ رہائش گھر بھی ہے۔ اسے 2015 میں ایلکس ہا نے ڈیزائن کیا تھا۔ 2019 سے یہاں لوگ رہ رہے ہیں۔ وہ گھر سے باہر دیکھ سکتے ہیں لیکن باہر سے گزرنے والے افراد صرف اپنا عکس ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے لوگ یہاں رکتے ہیں اور بال وغیرہ سنوار کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
گھرکےمالک نےبتایا کہ ڈیزائنر نے یہ گھر اس لئے بنایا تھا کہ وہ اپنے ماحول سے بات کرسکے کیونکہ چوراہے کے درختوں کے عکس آئینوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اگرچہ یہ مکان ایک عرصے سے یہاں موجود ہے لیکن ریڈ اٹ ویب سائٹ پر بعض تصاویر وائرل ہونے کے بعد دوبارہ اس پر خبریں شائع ہورہی ہیں۔
اوجھل مکان کی تصاویر دوبارہ وائرل ہونے کے بعد لوگوں نے اس گھر کو دوبارہ دیکھا ہے۔ بعض صارفین نے کہا کہ وہ یہاں سے گزرے لیکن اس کا نوٹس نہیں لیا۔ بعض افراد نے سوال کیا کہ آخر اتنے بڑے آئینوں کو شفاف و صاف کیسے رکھا جاتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت نے کہا کہ وہ اس مکان کی ساخت اور ڈیزائن جاننے سے قاصر ہیں کیونکہ کسی بھی طرح یہ گھر اپنے اندرونی راز نہیں کھولتا۔
بعض افراد نے آئینوں کی مضبوطی پر سوال کئے ہیں کیونکہ ٹریفک کے ارتعاشات سے بڑے آئینے چٹخ کر ٹوٹ بھی سکتے ہیں۔

ورزش کی پرانی عادت سے پٹھوں میں اسٹیم سیل برقرار رہتے ہیں، تحقیق

کوپن ہیگن: (ویب ڈیسک) ورزش اور جسمانی مشقت کے فوائد سامنے آتے رہتے ہیں اور اب معلوم ہوا کہ ورزش کی دیرینہ عادت سے انسانی جسم کے انتہائی اہم خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) کی تعداد بہت اچھی طرح برقرار رہتی ہے۔
ڈاکٹر اور ماہرین ورزش اور جسمانی فوائد گنواتے رہے ہیں لیکن اب بھی طویل عرصے کی ورزش کے جسمانی اثرات سے ہم واقف نہ تھے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ ورزش سے عضلات اور پٹھوں میں موجود اسٹیم سیل کی تعداد برقرار رہتی ہے جس کے تحت پٹھے طویل عرصے تک توانا اور جوان رہتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسٹیم سیل وہ ہرفن مولا خلیات ہوتے ہیں جو کئی اقسام کے خلیات، پھر ٹشو (بافت) اور اعضا میں ڈھل سکتے ہیں۔ یہ خود کو نیا کرتے رہتے ہیں اور شدید چوٹ یا زخم کے اثرات کو بھی مندمل کرتے ہیں۔ دوسری جانب اعصابی اور رگوں کی کمزوری اور انحطاط بھی روک سکتے ہیں۔ اس ضمن میں جامعہ کوپن ہیگن نے باقاعدہ کچھ تجربات کیے ہیں۔
تحقیق میں 46 افراد کو شامل کیا گیا جنہیں تین درجوں میں بانٹا گیا تھا۔ اول جوان لیکن ورزش سے دور، دوم بوڑھے لیکن زندگی بھر ورزش اور جسمانی سرگرمی کرنے والے اور تیسرا گروہ ورزش نہ کرنے والے بوڑھے افراد کا تھا۔ سائنسدانوں نے ان تمام افراد کے بازو اور رانوں سے پٹھوں کے نمونے بایوپسی کے لیے جمع کیے۔
معلوم ہوا کہ عمربھرکی ورزش سے عضلات کے پٹھوں اور ریشوں میں اسٹیم سیل کی بڑی مقدار دیکھی گئی۔ یعنی مسلسل ورزش کے اچھے اثرات جسمانی عضو اور بایوپسی میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ بوڑھے اور عمررسیدہ افراد اس سے فوائد سمیٹ سکتے ہیں کیونکہ دیرینہ ورزش کی عادت خواہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو اس کے بہت فوائد تاحیات برقرار رہتے ہیں۔
اگرچہ اس مطالعے میں لوگوں کی تعداد بہت محدود ہے لیکن ماہرین کا اصرار ہے کہ اس کی شماریاتی اہمیت اپنی جگہ قابلِ اعتبار ہے۔ اب ماہرین اس پر مزید تحقیق کریں گے۔

راشن کی تقسیم؛ بد ترین مہنگائی سے مخیر افراد بھی متاثر

کراچی: (ویب ڈیسک) خوردنی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث رواں سال رمضان میں مخیر حضرات کی جانب سے مستحق خاندانوں کی مدد کے لیے راشن کی فراہمی بھی مہنگائی کی لپیٹ میں آگئی۔
دکانداروں کے مطابق راشن پیک کے آرڈرز میں نمایاں کمی کا سامنا ہے جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میںرواں سال راشن پیک کی لاگت میں2000 روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے،10 بنیادی اشیا پر مشتمل راشن پیک کی قیمت گزشتہ سال 4000 روپے تھی جواب بڑھ کر 6000 روپے پرآگئی، کراچی ریٹیل گراسرزگروپ کے جنرل سیکریٹری محمد فرید قریشی کے مطابق خوردنی اشیا کی قیمتوں میںسب سے نمایاں اضافہ خوردنی تیل میں ہوا ہے جس کی درجہ اول برانڈکی قیمت 490روپے لیٹرتک پہنچ گئی۔
رمضان سے قبل مہنگائی کی لہر میں آٹا 75 روپے کلو، چاول 170روپے کلو، کابلی چنا300روپے کلو، بیسن 210 رواپے کلو، سرخ شربت 280روپے، کھجور نصف کلو کا پیکٹ 220روپے، سویاں 80روپے کا پیکٹ، چینی 95روپے کلو، چنے کی دال 190روپے کلو جبکہ خوردنی تیل کا 5کلو کا کارٹن 2450 روپے میں فروخت ہورہا ہے، ان بنیادی اشیا پر مشتمل راشن کا پیک گزشتہ سال 3800سے 4000 روپے میں فروخت ہوا تھا جو اب 5900 روپے میں بن رہا ہے، مہنگائی کی وجہ سے مستحق افراد کی مدد کرنے والے مخیر حضرات بھی محدود پیمانے پر راشن عطیہ کررہے ہیں ،محمد فرید قریشی نے بتایا کہ دو سال کے دوران راشن پیک کے آرڈرز تقریبا 50فیصد تک کم ہوچکے ہیں۔
گزشتہ سال راشن پیک بنوانے کے رجحان میں 20سے 25فیصد کمی آئی تھی اور رواں سال 30فیصد تک آرڈر کم مل رہے ہیں جو آرڈر مل رہے ہیں ان میں سے بھی اکثر چائے کی پتی، خشک دودھ اور دیگر اشیاکم کردی گئی ہیں اور صرف بنیادی استعمال کی اشیاکو راشن پیک میں شامل کیا جا رہا ہے۔
رمضان میں خوردنی تیل سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جس کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں دگنی ہوچکی ہے اسی طرح کابلی چنا، بیسن، کھجور کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے، رمضان میں تھوک سطح پر راشن کے امدادی پیکٹ بنانے والوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے مخیر حضرات بھی نسبتاً کم لاگت کی اشیا پیک میں شامل کررہے ہیں زیادہ تر سپر اسٹورز اور آن لائن کمپنیوں سے راشن تیار کروائے جارہے ہیں۔