تازہ تر ین

ہم نان سرائیکی 67فیصد

اشرف قریشی …. بحث و نظر
1966-67ءمیں کچھ تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے حضرات نے حسن پروانہ میں موجود سرکاری سکول میں بیٹھ کر کچھ اہم فیصلے کئے جس میں سرائیکی لفظ کو زبان کا نام دے کر کلچر کونسل تشکیل دی گئی جو بعد میں سرائیکی ادب زبان کے بعد صوبے کے قیام پر پہنچ گئی اور اسی دوران ان حضرات نے جن کے نام اور کام سے خطے کے سب لوگ واقف ہیں بھارتی خفیہ ایجنسی سے رابطے بڑھانے اور بھارت اور افغانستان میں پاکستان دشمن سرکاری ایجنسیوں سے تعارف اور امداد طلب کی۔ انہوں نے جن کے نام تحریر کرنا ضروری نہیں، بھارت کے دورے شروع کر دیئے اور وہاں پر سرائیکی کانفرنسیں منعقد ہونے لگیں۔ آکاش وانی نے ان لوگوں کو خوب اچھالا اور پھر 2002ءکے الیکشن کے بعد انہوں نے علاقے کے وڈیروں ‘ جاگیرداروں‘ سرمایہ داروں‘ سرداروں کو اپنے ساتھ ملا کر ان کی خطے میں حاکمیت اور جاگیرداری جاری رکھنے کیلئے سرائیکی صوبے کی حمایت کے ساتھ حکومت میں شامل تعصب نسل اور نسل پرستی کے حامی افراد کو ساتھ ملایا۔یہ ملتان کی شناخت کو ختم کرنے کیلئے جو دنیا بھر میں اپنی پہچان رکھتا ہے، کی سازش ہے۔ 1965ءکی جنگ میں بھارت کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب کے علاوہ مشرقی پاکستان میں اپنے ایجنٹوں کو لسانی، نسلی اور رنگ ونسل کے نام پر انتشار پھیلانے کا کام ذمہ لگایا۔ 1971ءمیں یہ سازش کامیاب ہوئی اور مشرقی پاکستان الگ ہوگیا ۔ اسی طرز پر باقی پاکستان میں کام شروع ہے جس کو خطے کے لوگ ناکام بناتے ہیں۔ سندھ، بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخوا میں موجود گاندھی کے پیروکار کھلم کھلا ملک کیخلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں جن کےخلاف محب وطن حلقے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان قوتوں کےخلاف یہ حضرات زہر اگلتے رہتے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے ہمیشہ لسانی تعصبات کو ہوا دے کر فسادات کروائے اور اس مقصد کیلئے اپنی پوری طاقت استعمال کی۔سابق صدر آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی نے باحیثیت وزیراعظم سرائیکی صوبے کی مکمل سرپرستی کی اورسازش کو پورا کرنے کیلئے لسانی اور نسلی صوبے بنانے کا اعلان کر دیا جس پر پورے پنجاب میں قائد سرائیکی صوبہ یوسف رضا گیلانی وزیراعظم کے جہازی پینا فلیکس اور بینرز آویزاں ہوگئے۔ پورے شہر میں خوف وہراس پیدا ہوگیا اور لوگوں نے ان زہریلے بینروں کو اتار کر نذر آتش کر دیا اور پھر وزیراعظم یوسف رضا گیانی کی فیملی کے تمام لوگ ضمانتیں ضبط کر بیٹھے۔
یہ وہ حقائق ہیں جن کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ ان سرائیکی تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں کو روزنامہ خبریں کے کھاتے میں ڈالنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ”خبریں“کا قومی امیج مجروح ہوا، ان لوگو ںنے جو بھی قدم اٹھایا علاقے کی عوام نے ناکام بنا دیا۔ زبان، رنگ ونسل کسی قوم کی شناخت، ثقافت، تہذیب نہیں ہوسکتی۔ قوم ہمیشہ ملک، مذہب اور دین سے بنتی ہے ان لوگوں نے ہمیشہ خطے کی آبادی کے حقوق کا رونا رویا لیکن صدر پاکستان‘ وزیراعظم‘ وزیرخارجہ‘وزیر خزانہ‘ وزیر خوراک وزراعت ‘ وزیر دفاع اور مواصلات داخلہ سمیت چیف جسٹس آف پاکستان‘ وزیراعلیٰ‘ گورنر ہر اعلیٰ عہدہ خطے کے سیاستدانوں کو حاصل ہوا جنہوں نے خطے کا استحصال کیا، ہمیشہ پنجاب کے بڑا صوبہ ہونے کا شکوہ کیا گیا۔ آج بھی بھارت میں پا کستان سے بڑا صوبہ موجود ہے وہاں کبھی رنگ ونسل زبان کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوئی، یہ صرف پاکستان میں روایات بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ہم نے فوری طور پر جنوبی پنجاب کی تمام بڑی مذہبی، سیاسی اور کاروباری حلقوں کی آل پارٹیز کانفرنس ملتان میں منعقد کی جس میں تمام سرائیکی تنظیمیں شریک ہوئیں اور با لآخر لسانی‘ نسلی صوبے کےخلاف متفقہ قرارداد سرائیکی خطے کے لوگوں کی ترجمان کے طور پر منظور ہوئی جو میں نے خود پیش کی اس موقع پر سرائیکی کے تمام لیڈر موجود تھے۔ اچھا یہ اپنے آپ کو سرائیکی کہتے ہیں‘ اس پر ہمیں کیا اعتراض ہے۔ دھمکی ہمیں دیتے ہیں‘ خطے سے نکال دیں گے‘ واپس ہندوستان جانا ہو گا۔ جنوبی پنجاب میں بے بسی‘ غربت‘ بے چارگی کا عالم یہ تھا جب پاکستان قائم ہوا تو ملتان میں مسلمانوں کی صرف تین دکانیں تھیں ہر چیز پر ہندو‘ سکھ قابض تھے۔ ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دے کر ہجرت کی‘ کلمے اور اسلام کے نام پر آج ہمیں دشمن بن کر ڈرایا جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب میں ریکارڈ کے مطابق 67فیصد لوگ سرائیکی یا ملتانی زبان نہیں بولتے لیکن جھگڑا زبان کا نہیں غلط سوچ‘ بیمار ذہن اور مردہ ضمیری کا ہے۔ سرائیکی کے لیڈر قوم کا دعویٰ کرتے ہیں جس میں زبان بولنے کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ ہم اس مسئلے میں بولنے کی بجائے اپنے آپ کو مسلمان‘ پاکستانی اور ملتانی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ سرائیکی کے نام پر ان کے مرحوم قائد اور دیگر حضرات نے جب بھی عوام کے پاس گئے انہوں نے انہیں جوتے مارے، چند سو ووٹ عطا کئے۔ سرائیکی کے نام پر جاری ہونے والے اخبارات‘ ٹی وی چینل ادارے عوام کی توجہ حاصل نہ کر سکے‘ ناکام ہوئے۔ عربی زبان اور آقائے علیہ السلام کو عربی قرار دیتے ہیں جو گناہ کبیرہ ہے۔ آپ تمام کائنات جہانوں کیلئے تشریف لائے‘ زبان اور علاقے تک محدود نہیں۔ یہ تنگ نظر لوگ ہیں جو لڑوانا چاہتے ہیں‘ ان کے جتنے بھی گروپ ہیں وہ اپنے آقاﺅں سے فنڈنگ تک محدود ہیں‘ عوام میں کوئی جڑ نہیں۔
اسلم اکرام زئی صاحب نے ایک محترمہ کو اپنے مضمون میں دھریجی تحریر کیاجس پر انہوں نے سخت برا مناتے ہوئے تردید کی ہے۔ یہی سب سے بڑا جواب ہے ان حضرات کیلئے جو خود بھی سرائیکی بنتے ہیں اور ہمیں بھی بنانا چاہتے ہیں۔ یہ صاحبان سرائیکی کبھی ملک‘ خطے اور عوام کیلئے جدوجہد نہیں کرتے‘ ایک ظلم خواجہ فرید کی دھرتی قرار دے کر کرتے ہیں جبکہ یہاں پر شیخ الاسلام بہاﺅالدین زکریاؒ‘ شیخ المشائخ فریدالدین مسعودؒ‘ حضرت سید موسیٰ پاک شہیدؒ‘ اوچ شریف کے عظیم مشائخ حضرت عبدالرشید حقانیؒ‘ سید یوسف شاہگردیزؒ‘ شاہ رکن الدین عالمؒ سمیت بےشمار بزرگان اسلام کی آخری آرام گاہیں موجود ہیں۔ یہ عجب تماشا ہے سرائیکی کو زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیتے ہیں‘ ستر فیصد آبادی پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں جبکہ باقی ماندہ لوگ بھی اس لقب کو پسند نہیں کرتے۔ یہ چند مٹھی بھر حضرات غیروں کا کھیل عرصہ دراز سے کھیل رہے ہیں۔ حیرت کا مقام ہے روزنامہ خبریں ملتان سے لگتا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ آج کل سرائیکی ٹولے کےخلاف خبریں شائع نہیں ہو رہیں‘ ہمارے مو¿قف شائع نہ کرنے سے صوبہ نہیں بنے گا‘ یہ حضرات دلیل تسلیم نہیں کرتے‘ مرنے مارنے پر تیار رہتے ہیں۔ مسلح افراد کی حفاظت میں یہ کس کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ جنوبی پنجاب زندہ جاوید مجاہدوں کی دھرتی ہے یہاں کوئی غیرملکی سازش کامیاب نہیں ہو گی۔ امید ہے ہماری گزارش بھی شائع ہو گی۔ ضیاشاہد صاحب کا مقام اور مرتبہ لوگوں کے دلوں پر ہے‘ یہ کبھی وطن فروشوں کا ساتھ نہیں دیں گے۔٭٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain