Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • عمران خان کی اہلخانہ سے ملاقاتیں اور بیٹوں سے فون پر گفتگو کروائی جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ
    • بین اسٹوکس کی بگ بیش میں واپسی، ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کریں گے
    • امریکی پابندیوں کے باوجود غیر ملکی کرنسی وافر مقدار میں موجود، ایران کا دعویٰ
    • باسط علی نے مائیک ہیسن کی ریڈ بال کوچ تقرری کو مذاق قرار دے دیا۔
    • ڈرے ہوئے امام الحق سن گلاسز اور ماسک پہنے لاہور واپس پہنچ گئے امام الحق کوانگلینڈ کیخلاف کھیلنے سے FAKE INJURY ظاہر کر کے انکار پرتحقیقات کا سامنا
    • مصباح الحق نے سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا
    • راول ڈیم کے اسپِل ویز کھل گئے ڈیم اوور فلو کے قریب
    • راولپنڈی میں فلیش فلڈنگ بارش سے نالہ لئی میں 27 فٹ پانی
    • عالمی عدالت کا بھارت کو حکم، سندھ طاس معاہدے پر عمل کریں
    • ناقص کارکردگی، ہیڈ کوچ،بولنگ کوچ سمیت7 کھلاڑی ریلیز
    • خان ہو اور خان کو سپورٹ نہیں کرے یہ ہو نہیں سکتا، یونس خان
    • سلمان علی آغا پاکستان ٹیسٹ ٹیم سے فارغ
    • لیونل میسی ، ریٹائرمنٹ کا اعلان
    • ٹیسٹ کوچ سر فراز، عمر گل فارغ
    • لارڈز: تاریخی میدان میں محمد عباس کا نام امر
    • روایت معافی زندہ،سہیل سمیر شرمندہ
    • سندھ طاس معاہدہ، بھارتی جواز نامنظور
    • خلا کی سیر بھی کر آیا، آئی فون نے نام کما لیا!
    • پارلیمنٹ کے سامنے دھماکے دار انٹری
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ہم پر لازم نہیں جے آئی ٹی کی فائنڈنگ کو تسلیم کر لیں: جسٹس اعجازالاحسن

    By Daily Khabrainجولائی 17, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    supreme court of pakistan
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت، جے آئی ٹی رپورٹ پر پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ کے وکلاء نے دلائل مکمل کر لئے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہم پر لازم نہیں کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگ کو تسلیم کر لیں، کسی بھی فریق کے خلاف فائنڈنگ کس طرح تسلیم کریں، بینج نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے ہل میٹل کے حوالے سے جن دستاویزات پر انحصار کیا، وہ تصدیق شدہ نہیں، ضرورت محسوس ہونے پر والیم ٹین بھی کھول دیں گے۔

    قبل ازیں شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا میں بتاؤں گا کہ جے آئی ٹی کا کام کیا تھا، جے آئی ٹی رپورٹ نا قابل قبول دستاویزات پر مبنی ہیں، رپورٹ میں قانون کی مکمل خلاف ورزی ہوئی، جے آئی ٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، رپورٹ کو ثبوت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا، جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کرنے کی درخواست دائر کی ہے، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود کو قانونی پہلوؤں تک محدود رکھیں، آپ اپنے دلائل کو ایشوز تک محدود رکھیں۔

    جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنے دلائل میں کہا وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں قوم سے غلط بیانی کی، نا اہل قرار دیا جائے۔

    عوامی مسلم لیگ کی جانب سے شیخ رشید نے خود دلائل دیتے ہوئے کہا 5 ججز نے قوم کی جو خدمت کی ہے، اللہ اس کا صلہ ضرور دے گا، لوگوں نے کہا جے آئی ٹی کی رپورٹ جنوں کی ہے، ایسی جے آئی ٹی تشکیل دینے پر سلیوٹ کرتا ہوں، میری گزارشات سویٹ، شارٹ اور سمارٹ ہوں گی، شیخ رشید نے کہا ہر کیس کے پیچھے ایک چہرہ ہوتا ہے، جے آئی ٹی رپورٹ میں بے نامیوں کا جمعہ بازار ثابت ہو چکا، شریف فیملی عام قسم کی مخلوق نہیں ہے، ایک بچے کو سعودی عرب، دوسرے کو لندن رکھا گیا، جے آئی ٹی ارکان نے بہت اچھا کام کیا، انصاف کی جیت ہوگی۔

    شیخ رشید نے دلائل دیتے ہوئے کہا وزیراعظم کے بچے مستری مجید یا کسی ڈینٹر کے بچے نہیں، جے آئی ٹی کو گالیاں نکالی گئیں، جے آئی ٹی نے گلف سٹیل کا حشر نشر کر دیا، حسن اور مریم نواز اپنے والد کے بے نامی دار ہیں، کسی ملک کا وزیراعظم دوسرا عہدہ نہیں رکھتا، جس عمر میں شناختی کارڈ نہیں بنتا، وزیراعظم کے بچے کروڑوں کے مالک تھے، نوازشریف کے اقامے سے قوم کی ناک کٹ گئی، ہمارا وزیراعظم دوسرے ملک میں نوکری کرتا ہے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کا معاملہ عدالت اور جے آئی ٹی کے درمیان ہے، رپورٹ پر اپنی معروضات پیش کروں گا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا، جے آئی ٹی رپورٹ آنے پر اب فیصلہ عدالت نے کرنا ہے،انہوں نے کہا رپورٹ میں طارق شفیع کے بیان حلفی کو جعلی قرار دیا گیا، گلف سٹیل کے شیئرز فروخت کرنے کے معاہدے کو خود ساختہ قرار دیا گیا، حسین نواز اور طارق شفیع کے گلف سٹیل سے متعلق بیانات میں تضاد ہے، رپورٹ میں قطری خاندان کو 12 ملین درہم دینے کو افسانہ قرار دیا۔

    نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا مریم نواز نے تسلیم کیا کہ انھوں نے بیئرر سرٹیفکیٹ نہیں دیکھے، جےآئی ٹی کے مطابق مخصوص فونٹ مارکیٹ میں موجود نہیں تھا، ٹرسٹی کیلئے لازم تھا کہ مریم نواز کے پاس آف شور کمپنی کے سرٹیفکیٹ ہوتے، نواز شریف نے بیان میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا، شریف خاندان 1993 سے 96 کے درمیان لندن فلیٹ میں رہ رہا تھا، شریف فیملی کے اثاثوں کی تقسیم میں لندن فلیٹس کا ذکر نہیں۔

    پی ٹی آئی وکیل نے کہا شہباز شریف بھی جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کا بیان ایسا ہے جیسے پولیس افسروں کے سامنے ریکارڈ کیا گیا ہو، شہبا زشریف کے بیان کا دائرہ کار کیا ہوگا، اس کا جائزہ ضابطہ فوجداری کے تحت لیا جاسکتا ہے۔

    نعیم بخاری دلائل دہتے ہوئے مزید کہا التوفیق کمپنی کے فیصلے میں الثانی خاندان کا ذکر نہیں،جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا عدالتی فیصلے میں قطری خاندان کا ذکر کیوں ہوتا، نعیم بخاری نے کہا عدالت فیصلہ کرے نا اہل کرنیوالے ججز کے ساتھ اتفاق کرنا ہے یا نہیں ؟، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا نا اہلی کا فیصلہ اقلیت کا تھا، جے آئی ٹی اکثریت نے بنائی۔

    پی ٹی آئی وکیل نے کہا جے آئی ٹی کو سعودی عرب سے قانونی معاونت نہیں ملی، رپورٹ میں ذرائع کی معلومات کا بھی ذکر کیا، جسٹس اعجٓز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا ذرائع کی دستاویزات مصدقہ ہیں؟، نعیم بخاری نے کہا وہ دستاویزات تصدیق شدہ نہیں لیکن جے آئی ٹی نے درست قرار دیں۔

    نعیم بخاری نے مزید کہا کہ وزیراعظم جدہ سٹیل ملز کی فروخت کی دستاویزات دینے میں نا کام رہے، جدہ فیکٹری 63 ملین کے بجائے 42 ملین ریال میں فروخت ہوئی، جے آئی ٹی نے قرار دیا حسین نواز جدہ مل کے اکلوتے مالک نہیں تھے، عباس شریف اور رابعہ شہباز بھی جدہ فیکٹری کے حصہ دار تھے۔ انہوں نے کہا دوستوں سے قرض لینا بھی ثابت نہیں ہوا، نواز شریف نے حسین نواز کو 7.5 لاکھ ریال سعودی اکاؤنٹ سے بھیجے، جے آئی ٹی کو ہل میٹل آڈٹ رپورٹ بھی نہیں دی گئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا جے آئی ٹی نے ہل میٹل کے حوالے سے دستاویزات استعمال کیں، جن دستاویزات پر انحصار کیا گیا وہ تصدیق شدہ نہیں ہیں۔

    پی ٹی آئی وکیل نے کہا ایف زیڈ ای کمپنی کے دستاویزات قانونی معاونت سے ملے، کمپنی سے نوازشریف کا اقامہ بھی جاری کرایا گیا، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا نوازشریف کے اقامے کی مدت 2015 تک تھی، نعیم بخاری نے کہا حسن نواز کے مطابق کمپنی 2014 میں ختم کر دی گئی تھی، جےآئی ٹی نے نوازشریف کا کمپنی کے ساتھ ملازمت کا معاہدہ بھی لگایا ، جسٹس اعجاز افضل نے کہا نوازشریف کا اقامہ کہاں ہے؟، نعیم بخاری نے کہا نوازشریف کا اقامہ جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ ہے۔

    نعیم بخاری نے مزید کہا کہ نوازشریف ایف زیڈ ای کمپنی کے چیئرمین بورڈ تھے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا ریکارڈ کے مطابق نوازشریف کو تنخواہ ملتی رہی، ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ تنخواہ ہر ماہ نہیں ملتی تھی، نعیم بخاری نے کہا نوازشریف کی تنخواہ 10 ہزار درہم تھی، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کیا جےآئی ٹی قانون کے مطابق دستاویزات پاکستان لے کر آئی؟، نعیم بخاری نے کہا کہ اس کا جواب جےآئی ٹی ہی دے سکتی ہے، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ضرورت پڑی تو والیوم 10 کو بھی پبلک کر دیں گے، ہر چیز صاف اور شفاف ہونی چاہیے۔

    نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جےآئی ٹی کی فائنڈنگ اور سفارشات عدالت پرلازم نہیں ہیں، نواز خاندان نے جعلی دستاویزات جمع کرائیں، اس پر فوجداری کارروائی بنتی ہے، جسٹس عظمت سعید نے نعیم بخاری سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے نتائج کیا ہوں گے؟، نعیم بخاری نے کہا عدالت نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا کہہ سکتی ہے۔

    وقفے کے بعد سپریم کورٹ میں سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو جسٹس اعجاز افضل نے پی ٹی آئی وکیل نعیم بخاری سے استفسار کرتے ہوئے کہا قطری خط بوگس ہے؟، اس حوالے سے بنائی گئی کہانی خود ساختہ ہے؟، جس پر نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا میرے خیال میں دونوں ہی بوگس ہیں، حسن نواز کی تمام کمپنیاں خسارے میں تھیں، حسن اور حسین نواز کے بیان میں تضاد ہے، حسن نواز کمپنیوں کے ذرائع آمدن نہیں بتا سکے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے نعیم بخاری سے استفسار کرتے ہوئے کہا مریم نواز سے متعلق دستاویز مصدقہ ہیں؟، نعیم بخاری نے کہا جے آئی ٹی نے دستاویز قانونی معاونت سے حاصل کیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا مریم نواز کے بینی فیشل ثابت ہونے پر نتائج ہوں گے۔ مریم کے زیر کفالت ثابت ہونے پر نواز شریف پر اثر پڑے گا، نعم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا مریم نواز کمپنیوں کی بینی فشل مالک ثابت ہوگئی ہیں، حسین نواز اور مریم کے درمیان ٹرسٹ ڈیڈ بوگس ہے، پی ٹٰی آئی وکیل نعیم بخاری سے استدعا کی عدالت نوازشریف کو طلب کرے، وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا جائے، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کیا عدالت جے آئی ٹی دستاویزات پر فیصلہ کر سکتی ہے؟، سوال یہ ہے حاصل دستاویزات کیلئے قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      عمران خان کی اہلخانہ سے ملاقاتیں اور بیٹوں سے فون پر گفتگو کروائی جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ

      عالمی عدالت کا بھارت کو حکم، سندھ طاس معاہدے پر عمل کریں

      تازہ ترین

      ڈرے ہوئے امام الحق سن گلاسز اور ماسک پہنے لاہور واپس پہنچ گئے امام الحق کوانگلینڈ کیخلاف کھیلنے سے FAKE INJURY ظاہر کر کے انکار پرتحقیقات کا سامنا

      مصباح الحق نے سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا

      راول ڈیم کے اسپِل ویز کھل گئے ڈیم اوور فلو کے قریب

      راولپنڈی میں فلیش فلڈنگ بارش سے نالہ لئی میں 27 فٹ پانی

      پمز میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ای ڈی کی تصدیق

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.