Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • بھارت میں 600 سالہ شاہی مسجد کی مجوزہ مسماری کے خلاف ہزاروں مسلمانوں کا احتجاج
    • یمنی فوج کا دعویٰ: 72 گھنٹوں میں حملوں کے دوران 2,316حوثی ہلاک یا زخمی
    • سعودی فضائی حملہ، یمن کی مارکیٹ میں 7 افراد جاں بحق، 40 زخمی
    • صدر زرداری کی سیاحت میں اے آئی کے اخلاقی استعمال کی ضرورت پر زور
    • پنجاب بھر میں ہائی بیم لائٹس کے خلاف موٹروے پولیس کا کریک ڈاؤن
    • فلسطین کا مسئلہ خودمختاری اور انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے
    • مارک زکربرگ کو ایک ہی دن میں تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان
    • اسرائیل سے متعلق عالمی سروے کے حیران کن اعدادوشمار، 98.75 فیصد منفی رائے رپورٹ
    • پروین ہُڈا کی شاندار کامیابی، ایشین گیمز میں ایک اور باکسنگ میڈل یقینی
    • شدید بارشوں نے اتر پردیش میں تباہی مچا دی، 4 افراد ہلاک، گورکھپور زیرِ آب
    • امریکا میں نارایسٹر طوفان کا شدید حملہ بڑے پیمانے پر سیلاب اور بجلی کی بندش
    • ایران کا دعویٰ، آبنائے ہرمز میں 48 گھنٹوں کے دوران 19 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا
    • بابر اعظم کا زوال جاری، ڈومیسٹک کرکٹ کی دونوں اننگز میں 10 اور 4 رنز پر آؤٹ
    • پاکستان بمقابلہ ہانگ کانگ ایشین گیمز کرکٹ کوارٹر فائنل طے
    • اسلام آباد میں انٹرنیٹ سروس مکمل بحال، صورتحال معمول پر آگئی
    • نیپال کے ہملنگ ہمال بیس کیمپ پر برفانی تودہ گر گیا
    • سونے کی قیمت میں پھر کمی 10 گرام 3 لاکھ 80 ہزار روپے پر آگیا
    • وارث خان پولیس کی کارروائی، قتل، اقدام قتل کے مقدمہ میں مطلوب مرکزی ملزم گرفتار
    • چیئرمین سی ڈی اے کا سیکٹر کا دورہ، ترقیاتی پیش رفت کا جائزہ لیاE-12
    • پی ایس ڈبلیو کا لمز میں خدیجہ پروگرام کے تحت خواتین کیلئے رہنمائی سیشن
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    موٹاپا اور حمل

    By Daily Khabrainجولائی 25, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ڈاکٹر نوشین عمران
    دوران حمل وزن بڑھ جانا ایک قدرتی بات ہے۔ لیکن ایسی خواتین کے لئے حمل میں پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں جن کا وزن حمل سے پہلے ہی نارمل سے زیادہ ہو، یعنی موٹی خواتین کے لئے محفوظ حمل اور زچگی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان کے لئے رسک اور مسائل دوسری خواتین کی نسبت بہت بڑھ جاتے ہیں۔ طبی ماہرین اور امریکن ”آبس اینڈ گائنی“ کے مطابق خواتین کا دوران حمل وزن تقریباً 20 سے 35 پاﺅنڈ بڑھ جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ حمل کے دوران خاتون دو آدمیوں کا کھانا کھائے بلکہ اس کی روٹین کی خوراک میں تین سے پانچ سو کیلوریز روزانہ کا اضافہ ضروری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ خوراک متوازن ہو جس میں صرف چکنائی یا موٹا کرنے والی چیزیں نہ ہوں بلکہ پروٹین، وٹامن اور منرل والی غذائیں لازمی ہوں۔ جو خواتین پہلے ہی موٹاپے کا شکار ہوں، دوران حمل اگر ان کے وزن میں 25 پاﺅنڈ سے زائد وزن کا اضافہ ہو جائے تو ان کے اپنے اور ان کے بچے کے لئے کافی خطرناک ہے۔ ایسی خواتین کو ابتدا سے ہی ہائی بلڈ پریشر، حمل کی ذیابیطس، فٹ یا جھٹکے لگنا، حمل ضائع ہونا یا قبل از وقت زچگی جیسے مسائل ہو سکتے ہیں۔ ان خواتین میں سیزیرین سیکشن آپریشن کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔”آبس اینڈ گائنی کے ماہرین کے مطابق ماں کا بے تحاشا موٹاپا بچے کے لئے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ ان بچوں میں کئی طرح کے مسائل دوران حمل ہی ہو جاتے ہیں جیسا کہ ان کے دماغی صلاحیتیں کم ہو سکتی ہیں، دماغی نشوونما رک سکتی ہے، وزن ضرورت سے زیادہ یا کم ہو سکتا ہے، دوران زچگی یا پہلے بچے کی موت ہو سکتی ہے۔ بچوں میں پیدائشی طور پر دل کے نقائص ہو سکتے ہیں۔ زچگی کے بعد ان خواتین میں ٹانگوں میں خون کا لوتھڑا بن جانے کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ ایسی خواتین میں بار بار حمل ضائع ہونے کارسک بھی زیادہ ہے۔
    موٹاپے کا درست اندازہ لگانے کے لئے BMI معلوم کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز کے پاس بی ایم آئی نکالنے کا انٹرنیشنل یونٹ فارمولا ہے جس کے تحت معلوم کیا جاتا ہے کہ قد اور وزن کی مناسبت سے بی ایم آئی کیا ہے۔ اگر یہ 25 سے زائد نکلے تو موٹاپا موجود ہے جو حمل میں مسائل پیدا کرے گا۔
    ضروری نہیں کہ تمام خواتین کو ایسے مسائل ہوں لیکن بے تحاشا یا درمیانے درجے کا موٹاپا دوران حمل یا زچگی کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دوران حمل ان بچوں میں فولک ایسڈ اور آکسیجن کی کمی کے علاوہ خون کی فراہمی بھی کم ہو سکتی ہے۔ ماں کے خون میں ٹرائی گلسرائڈ اور یورک ایسڈ بڑھ جاتے ہیں جو بچے کی نشوونما متاثر کرتے ہیں۔
    ٭٭٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ایچ آئی وی پھیلنے کا معاملہ، کراچی کے ہسپتال کے خلاف کارروائی کا حکم

      ڈی آر کانگو میں ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز 2,181، ہلاکتیں 864 تک پہنچ گئیں

      پنجاب فوڈ اتھارٹی کا لاہور میں کریک ڈاؤن، شاہدرہ، پارک ویو اور ریلوے روڈ پر 3 فوڈ یونٹس سیل

      تازہ ترین

      صدر زرداری کی سیاحت میں اے آئی کے اخلاقی استعمال کی ضرورت پر زور

      پنجاب بھر میں ہائی بیم لائٹس کے خلاف موٹروے پولیس کا کریک ڈاؤن

      فلسطین کا مسئلہ خودمختاری اور انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے

      مارک زکربرگ کو ایک ہی دن میں تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان

      اسرائیل سے متعلق عالمی سروے کے حیران کن اعدادوشمار، 98.75 فیصد منفی رائے رپورٹ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.