ق لیگ ، پی پی اور ن لیگ سے مزید پنچھی اُڑنے کو تیار کس پارٹی میں جائینگے ،دیکھئے خبر

اسلام آباد (نیٹ نیوز)چاروں رہنماو¿ں نے جہانگیر ترین سے الگ الگ رابطے کئے ہیں اور اس حوالے سے تمام معاملات طے پا گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے معظم جتوئی تحریک انصاف میں شامل ہوں گے۔ ق لیگ سے نعمان لنگڑیال اور دیوان اخلاق تحریک انصاف میں شامل ہو گے جبکہ مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے فیض وٹو کپتان کے کھلاڑی بنیں گے۔ نعمان لنگڑیال، دیوان اخلاق اور فیض وٹو کل نتھیا گلی میں پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے معظم جتوئی ہفتے کو تحریک انصاف میں شامل ہوں گے۔ سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کے ہمراہ چاروں رہنماءکل نتھیا گلی جائیں گے۔

”عمران نیازی دہشتگردی عدالت کا مفرور “, تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ عمران خان جواب دیں کہ چترال سے اسلام آباد کس کے ہیلی کاپٹر پر آئے ہیں ؟خیبر پختون خوا کے عوام سے جھوٹ ¾ دھوکہ ¾ عدالتوں سے مفروری اور دوسروں پر جھوٹے الزامات لگانا آپ کا طرہ امتیاز ہے ¾ چترال میں دوسروں کے منصوبوں پر نئی تختیاں لگا کر کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں ؟ پی ٹی آئی سربراہ چور مچائے شور کی زندہ مثال ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی چترال سے روانگی کے موقع پر گفتگو پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مریم اور نگزیب نے کہاکہ عمران خان چترال میں دوسروں کے منصوبوں پر نئی تختیاں لگا کر کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟پرانے منصوبے پر آپ کے نام کی تختی کی قیمت خیبرپختونخوا کے عوام کو 50لاکھ روپے یومیہ پڑ رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ عمران صاحب اگر آج آپ نے نئے منصوبے پر تختی لگائی ہوتی تو ہم سب آپ کو مبارکباد دیتے۔ مریم اور نگزیب نے کہاکہ عمران خان چور مچائے شور کی زندہ مثا ل ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ آپ نے اپنی حکومت کی کرپشن اور جھوٹ چھپانے کیلئے احتساب کمیشن کو تالہ لگایا۔انہوںنے کہاکہ آج پھر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں عمران نیازی کے نام کو پکارا گیا۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ آج پھر الیکشن کمیشن میں ایک مفرور کے وکیل نے استثنیٰ مانگا۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن کمیشن گزشتہ ڈھائی سال سے آپ کے جواب کا منتظر ہے۔ مریم اور نگزیب نے کہاکہ عمران صاحب !نئے منصوبے کیسے لگتے ہیں ¾وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے تربیت لے لیں۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ خیبرپختونخو اکے عوام سے جھوٹ ¾دھوکہ ¾عدالتوں سے مفروری اور دوسروں پر جھوٹے الزامات لگانا آپ کا طرہ امتیاز ہے۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان جواب دیں کہ چترال سے اسلام آباد کس کے ہیلی کاپٹر پر آئے ہیں۔مرےم اورنگزےب نے کہا ہے کہ عمران خان چورمچائے شور کی زندہ مثال ہےں،وہ الزامات کی بنےاد پر قوم کو مزید بے وقوف نہےں بنا سکتے بلکہ ان کے چہرے سے نقاب بہت جلد اتر جائے گا۔انہوں نے اس ردعمل کا اظہار گذشتہ روز عمران خان کے بےان پر کےا۔مرےم اورنگزےب نے کہا ہے کہ عمران خان شرےف خاندان کو مجرم ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہےں حالانکہ ان کی اپنی مثال چور مچائے شور کی مانند ہے،وہ نوازشرےف اور ان کے خاندان سے احتساب مانگنے کےلئے تو شور مچا رہے ہےں لےکن خود اڑھائی سال سے الےکشن کمےشن مےں جواب نہےں دے پائے ہےں۔انہوں نے کہا کہ تختےاں لگانے اور شرےف برادران کے خلاف الزامات کو ہوا دےنے سے عمران خان کے ہاتھ کچھ نہےں آئے گا بلکہ ان کی اصلےت بہت جلد عوام کے سامنے بے نقاب ہو جائے گی۔

کارگل کے شیر نشان حیدر حوالدار لالک جان کا آج یوم شہادت ، دعائیہ تقریبات

لاہور (خصوصی رپورٹ) معرکہ کارگل میں نشان حیدر اعزاز حاصل کرنے والے شہید حوالدار لالک جان کا 18 واں یوم شہادت آج 7 جولائی بروز جمعہ منایا جائے گا۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں شہید لالک جان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔ حوالدار لالک جان شہید 15 فروری 1967ءکو پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1999ءمیں ناردرن لائٹ انفنٹری کے جونیئر افسر کی حیثیت میں بھارت کے خلاف کارگل کے معرکے میں حصہ لے کراپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے پاک فوج کا اعلیٰ ترین اعزاز نشان حیدر حاصل کیا۔ حوالدار لالک جان کی مادری زبان کھوار تھی لیکن انہیں برشسکی اور شیناز زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔ وہ نشان حیدر اعزاز حاصل کرنے والے اب تک کے آخری فوجی ہیں۔ وہ 7 جولائی 1999ءکو جام شہادت نوش کرگئے تھے۔

فلسطین کی 80 مساجد شراب خانوں ، نائٹ کلبوں میں تبدیل ، شرمناک انکشافات

لاہور (خصوصی رپورٹ) فلسطینی سرزمین پر قابض یہودی انتظامیہ نے فلسطین کی تاریخی مسجد کو شراب خانہ بنادیا۔ صہیونی انتظامیہ نے پرفضا مقام قیساریہ میں واقع جامع مسجد قیساریہ میں 90انواع کی شراب مہیا کرنے کی منظوری دی ہے۔ قدیم ترین مسجد کی تعمیر اموی خلفیہ عبدالملک بن مروان نے کی تھی۔ بحیرہ روم کے ساحل پر واقع مسجدقیساریہ جامع مسجد تھی جسے 1948ءمیں اسرائیل نے قبضے میںلے لیا تھا۔ مسجد قیساریہ کا نام ان 80مساجد کی لسٹ میں شامل تھا جنہیں سیاحتی مقامات پر واقع ہونے کی بنا پر اسرائیلی انتظامیہ نے شراب خانہ‘ ریستورانوں‘ اصطبل‘ نائٹ کلب اور دیگر سرگرمیوں کے مراکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسرائیلی انتظامیہ نے قیساریہ جامع مسجد مقبوضہ علاقوں میں ریستوران چلانے والی ایک کمپنی کو ٹھیکے پر دے دیا تھا۔ کمپنی نے مسجد کے اندر تبدیلیاں کرنے کے بعد انٹرنیٹ پر اپنی سائٹ پر اس کی تصاویر جاری کر دی ہیں۔ تصاویر میں یہودی کمپنی کے افراد شراب کی گلاس لئے مسجد کے پاس کھڑے ہیں۔ مسجد قیساریہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں فتح ہوئی تھی۔ قیساریہ مسجد کے اولین معمار اموی خلفیہ عبدالمالک بن مروان تھے جنہوں نے بحیرہ روم کے کنارے واقع اس خوبصورت مقام پر عبادت کیلئے مسجد بنانے کا حکم دیا تھا‘ بعدازاں مملوکی دور میں اس کی دوبارہ مرمت ہوئی۔ تیسری مرتبہ انیسویں صدی عیسوی میں بوسنیا میں آسٹریا کے استبدادی اداروں کے مظالم سے فرار ہونے والے بوسنیائی مسلمانوں نے اس مسجد کی مرمت کی۔ 975ءمیں یہاں بیزنطی قابض ہوئے جنہوں نے فاطمیوں کو شکست دے کر قیساریہ پر قبضہ کیا تاہم کچھ عرصے بعد فاطمی دوبارہ اس علاقے کا کنٹرول واپس لینے میں کامیاب ہوئے۔ 1101ءتا 1265ءکی درمیانی مدت اس علاقے پر مسلمانوں اور انگریزوں کے درمیان شدید کشمکش رہی۔ 1011ءمیں صلیبی حملہ آوروں نے قیساریہ مسجد اور الناصریہ میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا۔ 1878ءمیں اسرائیلی قبضے کے بعد صہیونی وزیراعظم اسحاق رابین نے الناصریہ سے مسلمانوں کی بے دخلی کا نہ صرف حکم دیا بلکہ وہ خود مسلمانوں کی یہاں سے جبری بے دخلی کی نگرانی کر رہے تھے۔ اسرائیل نے اس جگہ قیساریہ کے نام سے اسرائیلی دولت مند اور کاروباری یہودی بسانے کیلئے ایک پوش بستی بسائی ہے جسے سدوت یام کا نام دیا گیا ہے۔ بعدازاں فلسطینی مسلمانوں نے اس مسجد کی تاریخی حیثیت کے پیش نظر اس کا مقدمہ لڑا اور کئی عالمی فورموں پر مسجد کا مسئلہ لے جا کر ماضی میں انہیں بالآخر ایک مرتبہ کامیابی بھی ہوئی۔ 1993ءمیں اسرائیلی انتظامیہ نے عالمی دباﺅ میں آ کر قیساریہ جامع مسجد کو دوبارہ نماز کیلئے استعمال کی اجازت دے دی تھی جہاں فلسطینی مذہبی رہنما شیخ رائد صلاح نے نماز جمعہ کی امامت کی۔ یہ النکبہ کے بعد اس مسجد میں پہلی نماز تھی۔

”را“کو 258 اہم رہنماﺅں کے قتل کا ٹاسک ، سنسنی خیز خبر

لاہور (خصوصی رپورٹ) مقبوضہ کشمیر میں مجاہد کمانڈر برہان مظفر وانی شہید کے پہلے یوم شہادت کے موقع پر بھارت کے خلاف متوقع احتجاج کے پیش نظر دہلی حکومت نے مقبوضہ وادی میں سکیورٹی ایجنسیوں کے ذریعہ سے آپریشن آل آﺅٹ شروع کر دیا ہے۔ آزادی کی تحریک کے سرگرم کارکنوں کو جعلی مقابلوں میں قتل اور مقامی آبادی کو خائف کرنے کی خاطر سری نگر سمیت پوری وادی میں گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کیا جا چکا ہے، عوامی مقامات پر پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے اور تحریک آزادی کے 258 کارکنوں کو ہر حال میں قتل کے حکم کے ساتھ ہٹ لسٹ تیار کرکے سکیورٹی ایجنسیوں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ سری نگر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے وادی میں سکیورٹی ایجنسیوں نے آزادی مخالف آپریشنز میں تیزی پیدا کردی ہے۔ بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ دریں اثنا وادی میں عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں سے بچنے کی خاطر بھی حفاظت کے غیر معمولی انتظامات عمل میں لائے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اہم شاہراہوں پر بھارتی فورسز کے لوگ مسافر برادر اور نجی گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لے رہے ہیں جبکہ مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے ساتھ ساتھ جامہ تلاشی بھی لی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ عیدالفطر کے روز سے ہی بھارتی فورسز نے وادی کے کئی علاقوں میں سرگرم جنگجوﺅں کیخلاف بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کیا ہے، تاہم کئی مقامات پر حریت پسند بچ نکلنے میں کامیب رہے۔ معلوم ہوا ہے کہ آنے والے دنوں کے دوران آپریشن میں تیزی آنے کا امکان ہے تاکہ تحریک آزادی کو دبایا جا سکے۔ سرینگر میڈیا کے مطابق ممکنہ حملوں کو روکنے کیلئے حفاظت کے غیر معمولی انتظامات عمل میں لائے گئے ہیں، اہم سرکاری عمارتوں، پولیس اسٹیشنوں اور فورسز کے کیمپوں کی حفاظت سخت کر دی گئی ہے، شاہراہوں پر مسافروں کو بار بار اتار کر تلاشی کے عمل سے گزارنے کے سبب عوام کے غم و غصہ میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کئی مقامات پر عوامی سطح پر اس کے خلاف ردعمل بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سرینگر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سوف، شالی اور کرناگ میں آپریشن آل آﺅٹ کے دوران لوگ مشتعل ہوگئے اور تشدد بھڑک اٹھا، مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے ٹیرگیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔ دریں اثنا نیوکالونی چاڈورہ میں بھی آپریشن کے دوران لوگوں نے فورسز پر پتھراﺅ کیا، مجاہدین کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس و فورسز کی مشترکہ پارٹی نے گزشتہ شام سوف شالی کو کرناگ کے گاﺅں کو محاصرے میں لیکر جونہی جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا اس دوران لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے پتھراﺅ کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ کئی گھنٹوں تک فورسز نے گاﺅں میں تلاشی لی، تاہم وہ کسی بھی مجاہد کو تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہاں لشکر طیبہ کا ایک کمانڈر چھپا ہوا تھا جو سنگ باری کے دوران بچ کر نکلنے میں کامیاب رہا۔ وسطی ضلع بڈگام کے چاڈورہ علاقہ میں بھی فورسز نے نیو کالونی گاﺅں کو محاصرے میں لیکر آپریشن شروع کیا۔ جونہی پولیس و فورسز کی بھاری نفری نے گاﺅں کو محاصرے میں لیا اس دوران نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور فورسز پر شدید پتھراﺅ کیا، پولیس و فورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی جس کی وجہ سے پورے علاقہ میں خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ دوسری جانب آپریشن کے سلسلہ میں عید کے ایام سے ہی سری نگر کے مختلف علاقوں میں کرفیو لگایا جا چکا ہے، تاہم اس کے باوجود بھی شمال و جنوب میں لوگوں نے سڑکوں پر آ کر احتجاج کیا جس دوران فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے جبکہ صفاکدل میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔شمالی کشمیر سے اطلاع ملی کہ جامعہ مسجد سوپور سے نوجوانوں کی کثیر تعداد نے جلوس نکالا، تاہم فورسز نے مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے لاٹھی چارج اور ٹیئر گیس شیلنگ کی۔ ذرائع کے مطابق فورسز اور مظاہرین کے درمیان کافی دیر تک تصادم جاری رہا، دریں اثنا شہر خاص میں امکانی احتجاجی مظاہروں کو ٹالنے کیلئے انتظامیہ نے پانچ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین کرفیو نافذ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق صبح سویرے فورسز کی گاڑیوں پر لگے لاﺅڈ سپیکروں پر سے اطلاعات کیے گئے کہ لوگ گھروں سے باہر آنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فورسز اہلکاروں نے نوہٹہ اور گوجوارہ میں کئی افراد کی ہڈی پسلی ایک کردی۔ کرفیو کے باعث جامع مسجد میں ایک دفعہ پھر نماز جمعہ ادا نہ کی جس کی۔ مقامی لوگوں کے مطابق پولیس فورسز نے کیس کو بھی جامع مسجد کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جبکہ تاریخ مسجد کے اردگرد خاردار تار بھی نصب کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہےنئی دہلی(خصوصی رپورٹ)بھارت کی سابق مذاکرات کار برائے جموں وکشمیر پروفیسر رادھا کمارنے کہا ہے کہ اگلے دس سال میں کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل جائے گا ، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دن بدن خراب ہورہی ہے۔ پروفیسر رادھا کمار نے ان خیالات کا اظہار کشمیر پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سنجیدہ کوشش نہ کی گئی تو اگلے دس سال میں کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ جس طرح آج کشمیر کی صورتحال خراب ہے پہلے کبھی اس طرح نہیں تھی۔ حکومت کام کرتے ہوئی نظر نہیں آ رہی اورصورت حال کو ٹھیک کرنے کے لیے نہ ہونے کے برابر کام کیا جا رہا ہے۔تاریخ میں پہلی بار جب کشمیر کے حوالے سے پیشقدمی ہوئی تھی جس میں پاکستان اور کشمیریوں کو مذاکرات کی میز پر لایاگیا تھا وہ اس وقت ہوا جب جنرل پرویز مشرف پاکستان کے صدر تھے اور سول سوسائٹی بیک چینل پر بھارت اور کشمیریوں کیساتھ مذاکرات کر رہی تھی اور پرویز مشرف پر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے دبا ڈال رہی تھی۔واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے اکتوبر 2010میں راداکمار سیمت تین لوگوں کو مقبوضہ جموں وکشمیر پر مذاکرات کار مقررکیا تھا ان کو کیبنٹ کمیٹی برائے سکیورٹی کی سفارش پرمقرر کیاگیاتھا۔ادھر مجاہد کمانڈر برہان وانی کا کل یوم شہادت بھارت کیلئے درد سر بن گیا، وادی میں کرفیو، گھر گھر تلاشی میں حریت قیادت گرفتار، بھارت نے موبائل، انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کر دیا۔

نیول چیف کا چیمپئنز کو خراج تحسین, وہ بات کہہ دی جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز تھی

کراچی ( آن لائن )آئی سی سی چمپیئنز ٹرافی جیتنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں پاک بحریہ کا عشائیہ۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق عشائےے میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکااللہ کی خصوصی شر کت۔ بحریہ چیئر مین شہر یار احمد خان، پی سی بی حکام ،ٹیم مینجمنٹ اور سول شخصیات کی بھی عشائےے میںشرکت ۔ترجمان پاک بحریہ چمپیئنز ٹرافی بالخصوص فائنل میچ کے دوران کھلاڑیوں کا ٹیم ورک اور جذبہ کامیابی کا باعث بنا۔ نیول چیف نے کہا کہ چمپیئن شپ میںفتح کی خوشی کو کرکٹ ٹیم کے ہیروز کے ساتھ منانا ہمارے لئے باعث ِمسرت ہے۔ایڈمرل ذکا اللہ پاک بحریہ میںخدمات سر انجام دینے اور7 سال تک پی این کرکٹ ٹیم کا حصہ رہنے والے پاک بحریہ کے سابقہ اہلکار فخر زمان کی کا رکردگی متاثر کن رہی۔ نیول چیف نیول چیف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار احمد خان، چیف سلیکٹر انضمام الحق ،ہیڈ کوچ، کرکٹ ٹیم کے عہد یداران اور مینجمنٹ کی تعریف کی۔

عدلیہ اور فوجی اداروں کو متنازعہ بنانا ملک دشمنی ہے

لاہور، اسلام آباد (نمائندگان خبریں)چودھری شجاعت حسین اور سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ عدلیہ اور فوجی اداروں کو متنازعہ بنانا پاکستان کے ساتھ دشمنی ہے، پاکستان مسلم لیگ کو فعال اور مضبوط بنانا ہر مسلم لیگی کا فرض ہے۔ وہ اپنی رہائش گاہ پر پاکستان مسلم لیگ ضلع جہلم کے پارٹی رہنماﺅں کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں چودھری وجاہت حسین، سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ، چیف آرگنائزر محمد بشارت راجہ اور امتیاز رانجھا کے علاوہ سابق ضلع ناظم جہلم چودھری فرخ الطاف، سابق تحصیل ناظم عابد جوتانہ، ٹکٹ ہولڈر عارف چودھری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ اجلاس میں پارٹی کو مزید مضبوط و مقبول بنانے کیلئے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چودھری شجاعت حسین نے اجلاس میں بتایا کہ چودھری پرویزالٰہی جلد ضلع جہلم کا تنظیمی دورہ کریں گے۔ پاکستان مسلم لیگ کے قائدین نے مزید کہا کہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس نے انہیں بدحال کیا اور ملک کو قرضوں میں ڈبو دیا، وہ عدلیہ اور فوجی اداروں کو متنازعہ بنانے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے، عوام کو یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ کون ان کے ساتھ مخلص ہے، کس نے ان کی نیک نیتی اور دیانتداری سے خدمت کی، ان کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے ایسے تاریخی اور نتیجہ خیز کام کیے جو ملک کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سچا پاکستانی مضبوط اور خوشحال پاکستان چاہتا ہے۔ انہوں نے پارٹی رہنماﺅں کو ہدایت کی کہ وہ ہر سطح پر پارٹی کو متحرک اور فعال بنائیں، عوام اور کارکنوں سے رابطے بڑھائیں کیونکہ اپنے ڈراموں اور جھوٹے وعدوں کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے اور ان کا مینڈیٹ چوری کرنے والے بے نقاب ہو چکے ہیں اور عوام باالخصوص عام و غریب آدمی، کسان اور محنت کش ان سے بیزار ہے۔

لڑائی کے بعد بیگم کو منانے کا بہترین طریقہ

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا میں شاید ہی کوئی میاں بیوی ہوں، جن میں کبھی لڑائی نہ ہوئی ہو، لیکن اصل مسئلہ لڑائی کے بعد بیگم کو منانے کا ہوتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے بیوی کو منانے کاسب سے بہترین طریقہ بتا دیا ہے لیکن یہ طریقہ پاکستانی شوہروں کو قطعاً پسند نہیں آئے گا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ”لڑائی کے بعد شوہر حضرات کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ازدواجی قربت اختیار کریں جبکہ بیویاں روتی دھوتی ہیں اور آرزومند ہوتی ہیں کہ شوہر ان سے معافی مانگے اور ان کے ساتھ کچھ معیاری وقت گزارے۔“ لہٰذا اگر شوہر لڑائی کے بعد بیوی کو منانا چاہتا ہے تو اپنی خواہش کو دبا کر اس کی مذکورہ خواہش پر عملدرآمد کرے۔ اس تحقیق میں امریکی ریاست پنسلوانیا کی بک نیل یونیورسٹی (Bucknell University)کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں ہزاروں مردوخواتین سے آن لائن سوال پوچھا کہ ”آپ لڑائی کے بعد اپنے شریک حیات سے مصالحت کے لیے کون سا مطالبہ یا کام کرنا پسند کرتے ہیں؟“ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر جوئیل ویڈ کا کہنا تھا کہ ”مردوں کی اکثریت نے جواب دیا کہ لڑائی کے بعد وہ ازدواجی تعلق کی خواہش کرتے ہیں کیونکہ اس سے انہیں یہ احساس ملتا ہے کہ لڑائی کے باوجود ان کا رشتہ ختم نہیں ہوا۔ مردوں کے خیال میں اس سے بیویوں کو بھی تعلق ختم نہ ہونے کا اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس خواتین کی اکثریت کا کہنا تھا کہ وہ لڑائی کے بعد شوہر سے معافی کی طلبگار ہوتی ہیں اور لڑائی پر پچھتاوے کے اظہار کے لیے رونے کو ترجیح دیتی ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑائی کے بعد ان کا شوہر ان کے ساتھ کچھ معیاری وقت گزارے تاکہ لڑائی کے اثرات مکمل طور پر زائل ہو سکیں۔“ ایک دوسری تحقیق کے مطابق بیویوں کو راضی رکھنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔اکثرتو بیچارے شوہر لاکھ جتن کرلیں مگر نصف بہتر نے ان کی ایک نہیں سننی ہوتی۔سعودی عرب میں بھی ایک شوہر نے ناراض بیگم کو منانے کیلئے کچھ انوکھا کر ڈالا مگر بدلے میں تنقید بھی سننے کو ملی۔غیرملکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ سعودیہ کے اسکول میں عملے کی ایک خاتون رکن کے شوہر نے بیوی کے ساتھ لڑائی کے بعد اسے راضی کرنے کے لیے ان کے اسکول کا کمرہ سجا ڈالا۔ مختلف انداز میں محبت کا اقرار کیا اور ساتھ ہی خواتین کی کمزوری یعنی گولڈ کا تحفہ بھی دیا۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ایک گرلزاسکول کی پرنسپل نے خاتون رکن کا کمرہ کھولا اور ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ کمرے میں ہر طرف گلاب کی پتیاں اور کرنسی نوٹ بکھرے تھے۔ دیواروں پرغباروں اور آرائشی اشیاءسے سجاوٹ کی گئی تھی اور کمرے کے ایک کونے میں ڈھیروں گلدستوں کے بیچوں بیچ سونے کا سیٹ رکھا تھا۔صرف یہی نہیں کمرے کے وسط میں میز پر ایک بڑا کیک اور اطراف میں مختلف اقسام کے چھوٹے کیک بھی موجود تھے۔ دیوار اور مختلف اشیائ پر خاتون کا نام ”خلود “‘ بھی درج تھا۔ شوہر کی اس کاوش کی ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پروائرل ہوئی جو کسی کے من کو بھائی تو کسی نے خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔صارفین نے سوالات اٹھائے کہ ایک مرد گرلز اسکول میں داخل کیسے ہوا کیونکہ سعودی عرب میں لڑکے اور لڑکیوں کو ایک ساتھ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں۔ اور اسی طرح مردوں اور خواتین کو عوامی مقامات پر ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ایک صارف نے لکھا کہ اپنی بیوی کا احترام کرنا اچھائی اور وفاداری کی انتہا ہے لیکن اگر یہ سب کرنا تھا تو اپنے گھر میں کرنا چاہیے تھا۔بعد میں تحقیقات پر علم ہو اکہ مذکورہ شخص محکمہ سکیورٹی اینڈ سیفٹی کارکن ہے جو اسکول بند ہونے کے بعد کمرے میں داخل ہوا تھا

کرکٹ کھیلنے اور ملک چلانے میں فرق ہے آصف زرداری بھی عمران خان کیخلاف میدان میں آگئے

کھپرو (نمائندہ خبریں) سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ یہ حکمران صرف سریا بیچ سکتے ہیں، کرکٹ کھیلنے اور پاکستان چلانے میں بہت فرق ہے ، وقت آئے گاتو ہم بتائیں گے پاکستان کیسے چلایا جاتا ہے ؟نیب والے روز ہمیں تنگ کرنے کیلئے آتے ہیں مگر جو ضیائ الحق کی مارشل لا ، پھانسیوں اور کوڑوں سے نہیں ڈرے وہ ان بونوں سے کیا ڈریں گے ؟پورے سندھ میں سولو پمپ لگوائیں گےجس سے زمینیں دوبارہ زرخیز ہوں گی۔کھپرومیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر ا?صف زرداری نے کہا کہ بھٹوازم ایک فلاسفی، ایک جذبے اور سوچ کا نام ہے ،اس کو مجھ سے زیادہ کسی نے قریب سے نہیں دیکھا ، ہم اس دھرتی کے لوگ ہیں ہمیں معلوم ہے کیا مسائل و مشکلات ہیں؟ جب بی بی کی شہادت ہوئی تو مجھے پتہ تھا یہ پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش ہے، کچھ بھولے بھٹکے بچوں نے یہ ضرور نعرہ مارا کہ پاکستان نہ کھپے، مگر میں نے انہیں کہا کہ پاکستان کھپے ، آپ دیکھیں یمن ،شام ، افغانستان اور عراق میں کیا ہورہا ہے ؟ آج بھی اسی بات کا خوف ہے کہ پاکستان کی ڈوریں ان بیووقوفوں کے ہاتھ میں ہیں جو سریا بیچنا جانتے ہیں ، حکومتیں بنانااور چلانا نہیں جانتے ، نہ یہ سی پیک سمجھتے ہیں ، یہ سی پیک کو صرف دو رویہ سڑک سمجھتے ہیں ،یہ چائنہ کے ساتھ ہمارا الائنمنٹ سمجھتے ہیں نہ ان کو یہ پتا ہے کہ چائنہ کے الائنمنٹ سے چائنہ کو فائدہ ہے اور یقیناًہمیں بھی فائدہ ہے ، اب دنیا بہت آگے بڑھ چکی ہے اور یہ دن بدن پیچھے جارہے ہیں ، ان کو کوئی اور مسئلہ نہیں ہے ، ان کو صرف اپنا مسئلہ ہے ، اب جے آئی ٹی سے ان کو تکلیف ہے۔ا?صف زرداری کا ہنا تھا کہ عمران خان کو تکلیف ہے کرکٹ کھیلنے اور پاکستان چلانے میں بہت بڑا فرق ہے ،باو?لنگ اور بیٹنگ سے پاکستان چلانے میں بہت بڑا فرق ہے ، انشائ اللہ وقت آئے گاہم انہیں بتائیں گے اور دکھائیں گے ، مجھے کسی نے نہیں کہا تھا کہ تھر میں پانی کا مسئلہ ہے، مجھے خود علم تھا، صرف تھر میں ہی نہیں پورے پاکستان میں پانی کا مسئلہ ہے اور ہمیں اس مسئلے کے حل کی طرف جانا ہے اور جانا پڑے گااور انشائ اللہ ہم جائیں گے ،میں نے وزیراعلی سندھ سے بات کی ہے ، ہم پورے سندھ میں سولو پمپ لگوائیں گے ،جس کی وجہ سے آپ کی زمینیں دوبارہ زرخیز ہوں گی ، ہم نے پائلٹ پراجیکٹس مکمل کئے ہیں ،جس سے آپ کی 30-30ہزار ایکڑزمین بہتر ہوگئی ہے ،ضرور نیب بیچ میں ہے وہ روز ہمیں تنگ کرنے کیلئے آتے ہیں ، مگر جو ضیائ الحق کی مارشل لائ پھانسیوں اور کوڑوں سے نہیں ڈرے وہ ان بونوں سے کیا ڈریں گے؟ الحمداللہ شہیدوں کی پارٹی کی اتنی سمجھ اور سوچ ہے۔

قتل کا خوف یا کچھ اور ،بھارت میں مرد مسلمانو ں کا حیرت انگیزاقدام

لاہور (نیٹ نیوز) بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں قتل کے خوف سے مسلمان نوجوان برقع پہن کر سفر کرنے لگے۔ علی گڑھ ریلوے سٹیشن پر مسافروں کی اطلاع پر پولیس نے برقع پہنے مسلمان مسافر نجم الحسن کو گرفتار کر لیا۔ نجم الحسن نے بتایا کہ اس نے قتل کئے جانے کے ڈر سے برقع پہن کر سفر کیا۔