ناقص مٹریل ، 85 آئل ٹینکرز بارے دھماکے دار خبر

اسلام آباد‘ لاہور (خصوصی رپورٹ) پاکستانی سڑکوں پر دوڑتے آئل ٹینکر خطرناک بم بن گئے۔ ناقص میٹریل سے تیار85 گاڑیاں یو این او کے حفاظتی معیار کی نہیں۔ اوگرا نے احمد پور شرقیہ کی ابتدائی رپورٹ مسترد کردی۔ تیسری پارٹی کی تیار رپورٹ کے بعد ہی کوئی کارروائی ذمہ داران کے خلاف ہوسکے گی جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے اوگرا کے سینئر افسران کو طلب کرلیا ہے تاکہ احمدپو ر شرقیہ سانحہ کی تہہ تک پہنچا جاسکے۔ تفصیلات کے مطابقاحمد پور شرقیہ کے گذشتہ ہفتے پٹرول لے جانے والے ٹینکر کے حادثے میں 200 سے زیادہ ہلاکتوں نے پاکستان میں خطرناک مواد کی سڑک کے ذریعے ترسیل کے نظام میں بہت سی خامیوں کو اجاگر کر دیا ہے۔ خطرناک مواد کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں، عملہ اور حفاظتی انتظامات کس معیار کے ہوں اس بارے میں تیل و گیس کے شعبے کے ریگولیٹری ادارے اوگرا نے بہت جامع رہنما اصول جاری کر رکھے ہیں لیکن ان پر عمل کروانے کے لیے کسی سطح پر کوئی باضابطہ نظام موجود نہیں ہے۔ ٹینکر حادثہ: ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ٹینکر حادثہ: ‘یہ کہنا مشکل ہے کہ موقع پر کتنے بچے ہلاک ہوئے’ ریگولیٹری ادارے کی حیثیت سے اوگرا تیل بیچنے والے نجی اداروں (آئل مارکیٹنگ کمپنیز)کو لائسنس جاری کرتے وقت اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ تیل کی ترسیل کے لیے جو گاڑیاں استعمال کریں وہ دنیا بھر میں نافذ اقوام متحدہ کے حفاظتی معیار پر پورا اترتی ہوں۔ پولیس، گاڑیوں کی رجسٹریشن کے اداروں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور بعض دیگر اداروں کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف مقرر کردہ حفاظتی معیار پر پورا اترنے والی گاڑیوں ہی کو سڑک پر آنے کی اجازت دیں۔ لیکن اوگرا کے پاس ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے جس کے ذریعے وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ جو گاڑیاں پٹرول اور دیگر خطرناک مواد منتقل کر رہی ہیں وہ مطلوبہ معیار کے مطابق ہیں بھی یا نہیں۔ سانحہ احمد پور شرقیہ میںالٹنے والے آئل ٹینکرز کا لائسنس 2016ءکو ختم ہوچکا تھا۔ شیل پاکستان کمپنی کو غفلت برتنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا جاچکا ہے۔ محکمہ انسداد مواد ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش کردی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے سانحہ احمدپور شرقیہ کیس کی سماعت کی۔ عدالت میں محکمہ انسداد باوردی مواد کے ڈپٹی ڈائریکٹر مبین احمد نے رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ احمد پور شرقیہ حادثہ میں الٹنے والے آئل ٹینکر کا لائسنس گزشتہ برس ختم ہوچکا تھا۔ اس حوالے سے شیل کمپنی نے ذمہ داری پوری نہیں کی۔ چند پیسے بچانے کے لئے شیل کمپنی نے ایسے ٹینکر میں آئل بھجوایا جس کا لائسنس ختم ہوچکا تھا۔ غفلت برتنے والے غیرقانونی اقدام کرنے پر شیل کمپنی کو شوکاز نوٹس بھجوایا جاچکا ہے۔ چیف جسٹس نے شیل پاکستان کے نمائندے کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے اور آپ نے ابھی تک شوکاز نوٹس ہی جاری کیا۔ چیف جسٹس نے کہا عدالت اس معاملہ کی تہہ تک جائے گی ذمہ دار افراد قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ چیف جسٹس نے آج صبح گیارہ بجے شیل کمپنی اور اوگرا کے سینئر افسروں کو طلب کرتے ہوئے وفاقی اور پنجاب حکومت کے علاوہ موٹروے پولیس نیشنل ہائی وے اور محکمہ صحت کو آج تحریری وضاحت جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ اس بارے میں اوگرا کے ترجمان نے بتایا کہ پولیس، گاڑیوں کی رجسٹریشن کے اداروں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور بعض دیگر اداروں کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف مقرر کردہ حفاظتی معیار پر پورا اترنے والی گاڑیوں ہی کو سڑک پر آنے کی اجازت دیں۔ ‘بادی النظر میں یہ تیل ترسیل کرنے والی کمپنیوں ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو گاڑیاں وہ استعمال کر رہے ہیں وہ محفوظ ہوں۔ اگر ہمیں شکایت ملتی ہے تو ہم کارروائی ضرور کرتے ہیں لیکن ملک میں چلنے والی ہزاروں گاڑیوں کی جانچ پڑتال ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ اوگرا کی چیئرپرسن عظمیٰ عادل نے انکشاف کیا کہ پہلی ابتدائی رپورٹ مسترد کردی گئی اور تھرڈ پارٹی کو دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے

ریمنڈ ڈیوس سے ملاقات کس نے کی؟ رحمن ملک کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد ، لاہور ( نمائندگان خبریں ) پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ میرا فرض ہے پاکستان کے خلاف سازش کہیں بھی ہو اس کے بارے میں قوم کوآگاہ کروں،ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کے حوالے سے اتنا کہوں گا کہ” را“ ایجنٹ جانتھن کمار نے 2016 میں ملاقات کی تھی، را ایجنٹ نے ایک گھوسٹ رائٹر دیا تاکہ پاکستان کے خلاف کیچڑ اچھالا جائے ،ریمنڈ ڈیوس نے 2014 میں دوبار خود کشی کی کوشش کی ،مجھے جان کیری کا فون آیا تھا کے ریمینڈڈیوس کے لیے کوئی راستہ نکالا جائے مگر میں نے اسے مسترد کردیا کیونکہ وہ استثنی کا حق دار نہیں تھا ۔وہ جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ میرا فرض ہے پاکستان کے خلاف سازش کہیں بھی ہو اس کے بارے میں قوم کو آگاہ رکھوں۔ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کے حوالے سے اتنا کہوں گا کہ” را“ ایجنٹ جانتھن کمار نے 2016 میں ملاقات کی تھی۔را ایجنٹ نے ایک گھوسٹ رائٹر دیا تاکہ پاکستان کے خلاف کیچڑ اچھالا جائے ۔ریمنڈ ڈیوس نے 2014 میں دوبار خود کشی کی کوشش کی۔دستاویزاتی ثبوت کے تحت بات کررہا ہوں ۔رحمان ملک نے کہا کہ مجھے جان کیری کا فون آیا لیکن میں اسے مسترد کردیا کیونکہ وہ استثنی کا حق دار نہیں تھا ۔جیسے ہی مجھے پتہ چلا تو میں اس کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا تھا۔ایوان صدر میں صدر, حکومت اور عسکری قیادت نے یہ ایک متفقہ فیصلہ تھا کہ کسی بھی صورت ریمنڈ کو استثنی نہیں ملے گا۔اس کے بعد دوسری ملاقات جان کیری سے ایوان صدر میں ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ عدالت سے رجوع کری گے ،ہم نے بھی کہاکہ عدالت جو فیصلہ کرے گی ہم بھی آئین و قانون کے تحت چلے گا ۔انہوں نے کہا کہ ریمنڈ نے جن افراد کو قتل کیا ان کے لواحقین نے دستاویزی طور پر کہاکہ ہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے اس معاملے کو منسلک کرنا چاہتے ہیں۔جنرل شجاع پاشا پر لگنے والے الزامات کو مسترد کرتا ہوں ہر ڈی جی آئی ایس آئی حکومت کو جواب دہ ہوتا ہے۔ہمیں ریمنڈ ڈیوس کے جھوٹ کے پلندے کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیئے۔ سابق وزیرداخلہ نے کہا کہشہباز شریف اس معاملے پر پیچھے نہ ہٹیں بصورت دیگر اس کو پبلک کرسکتا ہوں۔ہم نے بھی چلینجز کا سامنا کیا،پی پی حکومت بھی میموگیٹ سکینڈل میں بھنسی تھی لیکن کبھی حکومت کو ڈیمج نہیں ہونے دیا ۔بھارت اسرائیل تعلقات ہوں یا کلبھوشن کا معاملہ ہوافسوس آج حکومت تنہائی کا شکار ہوگئی ہے ۔پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمرزمان کائرہ نے کہا ے کہ کرپشن کے الزامات میں انکوائری ہورہی ہے، مگر حکمران خاندان وکٹری کا نشان بنارہاہے، لاہور ہائیکورٹ بار کے تحت پی پی کے یوم سیاہ پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں قمرزمان کائرہ نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کہتے ہیں ، سازش ہورہی ہے ، ان کی اپنی حکومت ہے ، کون سازشیں کررہاہے، انہیں کھل کر قوم کو بتاناچاہئے، ان کا مزید کہنا تھا کہ 5جولائی کو ایک آمر نے منتخب حکومت کا خاتمہ کیا، یہ ملکی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، آج بلاول بھٹو ملک کی بقاءکی جنگ لڑرہے ہیں، قمرزمان کائرہ نے کہا کہ نوازشریف کہتے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی سے ملکی سیاست کو خطرہ لاحق ہو جائیگا، وہ کہتے ہیں کہ اگر ملک کی سیاست کو کوئی نقصان پہنچا تو پھر وہ کرپشن سے بھی بڑے جرم کے مرتکب قرار پائیں گے، پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے صدر و سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود نے کہا ہے کہ پانامہ کیس قومی سلامتی کا مسئلہ نہیں کہ خفیہ رکھا جائے،تحقیقات کھلی ہوتیں تو پتہ چلتا کہ حسین نواز نے کیا جوابات دئیے، تمام حکومتی وزراءاور عہدیداران کو معلوم ہے کہ تالاب میں گندی مچھلیاں ہیں،پکڑے جانے کے خوف سے ان کا جھوٹ پر مبنی ضمیر اندر سے بول رہا ہے۔پارٹی کی فیڈرل کونسل کے رکن عبدالقادر شاہین کے ہمراہ پارٹی میڈیا آفس سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ شریف خاندان کی جب سے تفتیش شروع ہوئی ہے انہوں نے عدلیہ سے جنگ کی صورت حال اختیار کرتے ہوئے اسے فتح کرنے کی ٹھان لی ہے اور اس طرح لگ رہا ہے کہ وہ جے آئی ٹی پر حملہ آوار ہو کر عدلیہ پر حملہ کرنے کی اپنی تاریخ دہرانے جارہے ہیں۔

عمران خان کی رینجرز کے ذریعے گرفتاری ،نیا سیاسی دھماکہ

اسلام آباد (کرائم رپورٹر) انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ایس پی عصمت اللہ تشدد کیس کی سماعت کے دور ان عمران خان پھر پیش نہیں ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز نے 2014 کے دھرنوں کے دوران ایس ایس پی آپریشن عصمت اللہ جونیجو پر تشدد سے متعلق کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے مقدمے میں اشتہاری قرار دیئے گئے ملزم عمران خان کو رینجرز کے ذریعے گرفتار کرنے کی درخواست کی ہے۔ جمعرات کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں 2014 کے دھرنوں کے دوران ایس ایس پی آپریشن عصمت اللہ جونیجو پر تشدد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز پیش ہوئے ¾سماعت میں استغاثہ کے گواہ کا بیان قلمبند کیا گیا۔دانیال عزیز نے عدالت سے درخواست کی کہ عمران خان اس کیس میں اشتہاری ہیں جنہیں رینجرز کے ذریعے گرفتار کیا جائے۔ عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ چالان کی بنیاد پر کیس آگے بڑھارہے ہیں اور جلد بیانات مکمل کرکے کیس نمٹا دیں گے۔ (ن) لیگ کے رہنما نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 3 سال ہوگئے کیس میں کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی جس پر عدالت نے دانیال عزیز کو جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے درخواست دینے کی ہدایت بھی کی۔ سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز نے کہا کہ عدالت نے عمران خان کو اشتہاری مجرم قرار دیا ہوا ہے، خیبرپختونخوا حکومت بتائے کہ اس نے کیوں ایک اشتہاری مجرم کو سرکاری ریسٹ ہاﺅس میں پناہ دے رکھی ہے۔دانیال عزیز نے کہاکہ معلوم نہیں کیوں عمران خان کے معاملے پر تمام ادارے مفلوج ہوجاتے ہیں کیوں انہیں سانپ سونگ جاتا ہے۔ عمران خان 780اے کے مجرم ہیں۔ عدالت نے عمران خان کو باقاعدہ اشتہاری قرار دیا ہے۔ دوسروں کے احتساب کی باتیں کرنے والوں نے اپنے صوبے میں احتساب کے ادارے کو تالا لگا رکھا ہے۔ عمران خان کو ایک ادارے کی رپورٹ میں حیوان لکھا گیا ہے ¾لیگی رہنما نے کہا کہ سارے پاکستان نے دیکھا ایس ایس پی کے سر پر ڈنڈے مارے گئے۔ عمران خان کے خلاف ایس پی تشدد کیس 3 سال سے چل رہا ہے۔ عمران خان روز پریس کانفرنس کرتے ہیں، سب کو معلوم ہے وہ کہاں ہیں۔ عدالتی اہلکار بنی گالا میں عمران خان کی رہائش گاہ پر اشتہار چسپاں کرکے آئے ہیں۔ عمران نے نتھیا گلی میں سرکاری ریسٹ ہاﺅس میں پناہ گاہ بنائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کے اداروں کا مذاق نہ بنایا جائے۔دانیال عزیز نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو غلیظ اور حیوان قرار دیا۔ عمران خان حکومتی اداروں کی تذلیل کرتے ہیں۔ یہ کیسا نیا پاکستان ہے جو عمران خان عوام کو دکھا رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن )کے رہنما دانیال عزیز نے کہا کہ عدالت نے عمران خان کو اشتہاری مجرم قرار دیا ہوا ہے ¾خیبرپختونخوا حکومت بتائے کہ اس نے کیوں ایک اشتہاری مجرم کو سرکاری ریسٹ ہاﺅس میں پناہ دے رکھی ہے۔

جمائما کی بنی گالا منی ٹریل عدالت پیشی ،اب کیا ہو گا ؟؟

اسلام آباد (این این آئی) عمران خان نااہلی کیس میں جمائما خان کی جانب سے دی گئی بنی گالہ کی منی ٹریل سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں نااہلی کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کی جانب سے اضافی دستاویزات جمع کرائے گئے۔اضافی دستاویزات میں جمائما خان کی جانب سے عمران خان کوبھجی گئی منی ٹریل عدالت میں جمع کرائی گئی،اضافی دستاویزات میں بنی گالہ کی پراپرٹی خریدنے کیلئے جمائما سے راشد علی خان کودی جانے والی رقم کی تفصیلات شامل ہیں۔جمائمہ خان کی جانب سے بھیجی گئی اضافی دستاویزات میں کہا گیا کہ 4 کروڑ 84 لاکھ 48 ہزارروپے 10اقساط میں راشد خان کوٹرانسفر کئے۔جمع کرائے گئے جواب میں عمران خان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک کمائی گئی آمدن پرٹیکس لاگو ہوتا ہے نہ ہی پاکستان میں ظاہر کرنا ضروری ہے ¾بنی گالہ کی ایڈوانس رقم میں نے خود جمع کرائی جبکہ باقی رقم جمائما سے ادھار لےکرپاکستان بھجوائی۔عمران خان نے کہاکہ 2002 کے کاغذات نامزدگی میں ادا کی گئی رقم کوظاہرکیا۔عدالت کے پاس ریکارڈ طلب کرنے کا اختیارہے تاہم لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں ¾ عمران خان کے خلاف (ن) لیگ کے رہنما حنیف عباسی کی متفرق درخواستوں پر سپریم کورٹ کا 3رکنی بینچ 11جولائی کو سماعت کرے گا۔

”اڑھائی سال سے جواب نہیں دیا ،اوپر سے دھونس جماتے ہو “چیف الیکشن کمیشن عمران خان کے وکیل پر برہم

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)چیف الیکشن کمشنر نے عمران خان نااہلی کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے درخواست پر اعتراض کرنے پر ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک تو آپ اڑھائی سال سے جواب نہیں دے رہے اور اوپرسے دھونس ڈالتے ہیں۔ جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا کی زیر صدارت عمران خان کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پرسماعت ہوئی اس موقع پر عمران خان کے وکیل شاہد گوندل نے ایک بار پھر درخواست گزار ہاشم بھٹہ کی درخواست پراعتراض کرتے کہا کہ درخواست گزار( ن )لیگ کے سابق رکن قومی اسمبلی نصیر بھٹہ کے بیٹے ہیں اور انہوں نے (ن )لیگ کی ایماءپر یہ درخواست دائر کی ہے۔شاہد گوندل نے کہا کہ قانون کے مطابق عمران خان کی نااہلی کےلئے الیکشن کمیشن میں براہ راست درخواست دائر نہیں کی جاسکتی لہذا پہلے فیصلہ کرلیا جائے کہ پٹیشن قابل سماعت ہے یا نہیںجس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ اصل بات کا جواب دینے کی بجائے اس معاملے پر بھی گریز کررہے ہیں آپ کی جانب سے اس کیس میں اڑھائی سال سے کوئی جواب نہیں آیا ہے ¾ہم ایسا کرتے ہیں کہ اس کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کردیتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ آپ جواب دینے کے بجائے ہم پر ہی دھونس ڈالے جارہے ہیں بعد ازاں چیف الیکشن کمشنر نے عمران خان کے اعتراضات پر دلائل کے لئے سماعت کو بارہ جولائی تک ملتوی کردیا ۔

نئے گورنر سٹیٹ بنک کا نام فائنل ،کون بنے گا ،دیکھئے خبر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے سٹیٹ بنک کے گورنر کی تعیناتی کا اصولی فیصلہ کرلیا۔ نئے گورنر سٹیٹ بنک کیلئے 2 نام فائنل کرلئے گئے ان میں سے ایک کا تقرر کئے جانے کا امکان ہے۔ سٹیٹ بنک گورنر کیلئے طارق باجوہ اور وقار مسعود کے نام سامنے آئے ہیں۔ طارق باجوہ سابق چیئرمین ایف بی آر، سیکرٹری خزانہ رہ چکے ہیں اور اسحاق ڈارکے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے بھائی ارشد باجوہ محکمہ شماریات کے سربراہ اور رورل سپورٹ پروگرام کے بھی سربراہ ہیں۔ دوسرے امیدوار وقار مسعود سابق سیکرٹری خزانہ، 5 سال تک سٹیٹ بنک بورڈ کے ممبر رہے ہیں۔

ارسلہ سلیم دراصل کون ہیں؟تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر انہیں سلیوٹ اور جھک کر نیچے گرنے والی قلم اٹھا کر دینے والی اسلام آباد پولیس کی خاتون آفیسر ارسلہ سلیم کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر ایسے میں اسلام آباد کے سابق دبنگ انسپکٹر جنرل آف پولیس طاہر عالم خان نے خاتون پولیس آفیسر کے حق میں میدان میں آتے ہوئے ارسلہ سلیم کی شخصیت اور ان کی پولیس میں نوکری بارے میں ایسے انکشاف کر دیئے ہیں کہ ناقدین کے منہ بند کر دیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ پولیس میں انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھے جانے والے اسلام آباد کے سابق آئی جی طاہر عالم خان نے ارسلہ سلیم پر ہونے والی تنقید کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خاتون پولیس آفیسر ایس پی ارسلہ سلیم کے ساتھ میڈیا اور سیاستدانوں کے رویہ کے بارے میں خبریں سنیں، دیکھیں اور پڑھیں اور اس رویہ پر بہت افسوس ہوا۔ اسلام آباد پولیس کے سابق انسپکٹر جنرل کے طور پر میں نے ارسلہ سلیم کا کام بہت قریب سے دیکھا اور اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک غیر مجاز شخصیت ( میڈم مریم نواز) کو سلام کر سکتی ہیں مگر اپنے سینئرز کے کسی غیر قانونی حکم کی تعمیل نہیں کر سکتیں، یہ وہ افسر ہیں جن کو اگر مریم نواز صاحبہ کے والد جو کہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں بھی کوئی غیر قانونی حکم دیں تو اسے رد کرنے کی بھی جرا¿ت رکھتی ہیں۔ بہت سے سینئر بیورو کریٹ جن کی گردنوں میں لوہے کے سریے ہیں کو میں نے ذاتی مفادات اور منافع بخش پوسٹوں کے لئے اپنے سیاسی سرپرستوں کے جوتے چاٹتے دیکھا ہے لیکن وہ کیمروں کی آنکھوں سے بچے ہوئے ہیں جبکہ ان کیمروں نے ایک غریب ارسلہ کو پکڑ لیا جو کہ ایک بہت ہی نرم، سادہ اور نظم و ضبط کی پابند آفیسر ہے۔ اس کو میں نے دیکھا کہ ایک مرتبہ جب وہ میرے دفتر میں آئی تو میرے دفتر کے ٹیبل سے کچھ کاغذ نیچے گر گیا جسے اس نے دفتر کے اردلی سے پہلے اٹھا کر ٹیبل پر رکھ دیا۔ ایسے تمام افراد سے درخواست ہے جو ان کے سلیوٹ پر تنقید پر تنقید کر رہے ہیں وہ اپنے سیاسی مخالفین پر تو تنقید کریں لیکن ایک سیدھی اور ایماندار خاتون افسر کو سزا نہ دیں جو کسی شخصیت کو عزت دینے کے لئے سلا م تو کر سکتی ہیں لیکن میرٹ سے ہٹ کر کسی کے آگے جھک نہیں سکتی۔

جے آئی ٹی کی ویڈیو کاروائی بارے اہم خبر

لاہور (خبرنگار)پاکستان پیپلز پارٹی نے پاناما کیس کی جے آئی ٹی کارروائی کی ویڈیو ریکارڈنگ منظر عام پر لانے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ اگر کارروائی کی ویڈیو ریکارڈنگ سامنے نہ لائی گئی تو مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی کارروائی مشکوک رہے گی ۔تفصیلکے مطابق سینٹ میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ حکومت جے آئی ٹی کو دھمکیاں دے رہی ہے ، ویڈیو ریکارڈنگ سامنے نہ لانے سے جے آئی ٹی کی کارروائی مشکوک رہے گی۔سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ویڈیو منظر عام پر نہ لانے کی وجہ سے الزامات لگتے رہیں گے، وہ نہیں سمجھتے کہ سرکاری افسران نے نواز شریف کے بچوں کے ساتھ کوئی سختی برتی ہو گی، ویڈیو ریکارڈنگ سامنے لانے سے شریف خاندان کے جے آئی ٹی پر الزامات کی حقیقت بھی معلوم ہو جائے گی۔اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اگر شریف خاندان کے پاس جے آئی ٹی سوالات کے جواب ہوتے تو یہ 3 اپریل 2016 کو ہی دے دیتے،جے آئی ٹی کے معاملے پر حکومت ٹوپی ڈرامے کر رہی ہے۔ انھوں نے دعوی کیا کہ حکومت جے آئی ٹی کو دھمکیاں دے رہی ہے۔

شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک ) وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کر دیا، عمران خان کی طرف سے جھوٹے الزام لگانے پر دائر کیا گیا‘عدالت نے عمران خان سے 21جولائی تک جواب طلب کرلیا ہی تفصیلات کے مطابق وزیراعلی شہبازشریف نے چیرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف سول کورٹ میں ہتک عزت کا دعوی دائر کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان ان پر لگائے گئے الزامات کا ثبوت پیش کریں، عدالت نے عمران خان سے 21جولائی تک جواب طلب کرلیا ہے۔اس سے قبل وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے چیرمین تحریک انصاف عمران خان کو نوٹس بھجوایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کی جانب سے 10 ارب روپے کی پیشکش کا الزام بے بنیاد ہے، عمران خان نے الزام لگا کر ان کی ساکھ کو مجروح کیا ہے جس پر وہ شہباز شریف سے معافی مانگیں، عمران خان اگر وزیراعلی پنجاب سے معافی نہیں مانگتے تو 10 ارب روپے ہرجانہ دیں۔