اسلام آباد‘ لاہور (خصوصی رپورٹ) پاکستانی سڑکوں پر دوڑتے آئل ٹینکر خطرناک بم بن گئے۔ ناقص میٹریل سے تیار85 گاڑیاں یو این او کے حفاظتی معیار کی نہیں۔ اوگرا نے احمد پور شرقیہ کی ابتدائی رپورٹ مسترد کردی۔ تیسری پارٹی کی تیار رپورٹ کے بعد ہی کوئی کارروائی ذمہ داران کے خلاف ہوسکے گی جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے اوگرا کے سینئر افسران کو طلب کرلیا ہے تاکہ احمدپو ر شرقیہ سانحہ کی تہہ تک پہنچا جاسکے۔ تفصیلات کے مطابقاحمد پور شرقیہ کے گذشتہ ہفتے پٹرول لے جانے والے ٹینکر کے حادثے میں 200 سے زیادہ ہلاکتوں نے پاکستان میں خطرناک مواد کی سڑک کے ذریعے ترسیل کے نظام میں بہت سی خامیوں کو اجاگر کر دیا ہے۔ خطرناک مواد کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں، عملہ اور حفاظتی انتظامات کس معیار کے ہوں اس بارے میں تیل و گیس کے شعبے کے ریگولیٹری ادارے اوگرا نے بہت جامع رہنما اصول جاری کر رکھے ہیں لیکن ان پر عمل کروانے کے لیے کسی سطح پر کوئی باضابطہ نظام موجود نہیں ہے۔ ٹینکر حادثہ: ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ٹینکر حادثہ: ‘یہ کہنا مشکل ہے کہ موقع پر کتنے بچے ہلاک ہوئے’ ریگولیٹری ادارے کی حیثیت سے اوگرا تیل بیچنے والے نجی اداروں (آئل مارکیٹنگ کمپنیز)کو لائسنس جاری کرتے وقت اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ تیل کی ترسیل کے لیے جو گاڑیاں استعمال کریں وہ دنیا بھر میں نافذ اقوام متحدہ کے حفاظتی معیار پر پورا اترتی ہوں۔ پولیس، گاڑیوں کی رجسٹریشن کے اداروں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور بعض دیگر اداروں کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف مقرر کردہ حفاظتی معیار پر پورا اترنے والی گاڑیوں ہی کو سڑک پر آنے کی اجازت دیں۔ لیکن اوگرا کے پاس ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے جس کے ذریعے وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ جو گاڑیاں پٹرول اور دیگر خطرناک مواد منتقل کر رہی ہیں وہ مطلوبہ معیار کے مطابق ہیں بھی یا نہیں۔ سانحہ احمد پور شرقیہ میںالٹنے والے آئل ٹینکرز کا لائسنس 2016ءکو ختم ہوچکا تھا۔ شیل پاکستان کمپنی کو غفلت برتنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا جاچکا ہے۔ محکمہ انسداد مواد ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش کردی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے سانحہ احمدپور شرقیہ کیس کی سماعت کی۔ عدالت میں محکمہ انسداد باوردی مواد کے ڈپٹی ڈائریکٹر مبین احمد نے رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ احمد پور شرقیہ حادثہ میں الٹنے والے آئل ٹینکر کا لائسنس گزشتہ برس ختم ہوچکا تھا۔ اس حوالے سے شیل کمپنی نے ذمہ داری پوری نہیں کی۔ چند پیسے بچانے کے لئے شیل کمپنی نے ایسے ٹینکر میں آئل بھجوایا جس کا لائسنس ختم ہوچکا تھا۔ غفلت برتنے والے غیرقانونی اقدام کرنے پر شیل کمپنی کو شوکاز نوٹس بھجوایا جاچکا ہے۔ چیف جسٹس نے شیل پاکستان کے نمائندے کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے اور آپ نے ابھی تک شوکاز نوٹس ہی جاری کیا۔ چیف جسٹس نے کہا عدالت اس معاملہ کی تہہ تک جائے گی ذمہ دار افراد قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ چیف جسٹس نے آج صبح گیارہ بجے شیل کمپنی اور اوگرا کے سینئر افسروں کو طلب کرتے ہوئے وفاقی اور پنجاب حکومت کے علاوہ موٹروے پولیس نیشنل ہائی وے اور محکمہ صحت کو آج تحریری وضاحت جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ اس بارے میں اوگرا کے ترجمان نے بتایا کہ پولیس، گاڑیوں کی رجسٹریشن کے اداروں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور بعض دیگر اداروں کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف مقرر کردہ حفاظتی معیار پر پورا اترنے والی گاڑیوں ہی کو سڑک پر آنے کی اجازت دیں۔ ‘بادی النظر میں یہ تیل ترسیل کرنے والی کمپنیوں ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو گاڑیاں وہ استعمال کر رہے ہیں وہ محفوظ ہوں۔ اگر ہمیں شکایت ملتی ہے تو ہم کارروائی ضرور کرتے ہیں لیکن ملک میں چلنے والی ہزاروں گاڑیوں کی جانچ پڑتال ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ اوگرا کی چیئرپرسن عظمیٰ عادل نے انکشاف کیا کہ پہلی ابتدائی رپورٹ مسترد کردی گئی اور تھرڈ پارٹی کو دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے
ناقص مٹریل ، 85 آئل ٹینکرز بارے دھماکے دار خبر
