لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کا بیان ”ووٹ کا تقدس پامال کیا“ سیاسی بیان ہے۔ نااہل ہونے کے بعد انقلاب کی بات کرتے ہیں۔ 4 سال وزیراعظم رہے اس وقت انقلاب کیوں نہیں لائے؟ جتنی دیر انہوں نے حکمرانی کی ان کے لئے بات کرنا مشکل ہے یہی وجہ ہے کہ وزارت عظمیٰ کے دوران وہ عوام میں نہیں آتے تھے صرف بیرون ممالک کے دورے کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے غیر مسلم خادمہ کے اقامہ کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا۔ نچلے طبقے کا کوئی آدمی ایسا کرے تو بات سمجھ میں ااتی ہے لیکن حکومتی سربراہان کے لئے فری ویزہ لینا کون سا مشکل کام ہے۔ سلطان ایان یا ان کے بیٹے اگر چاہتے تو وہ اپنے مہمان کے طور پر مستقل اقامہ دے سکتے ہیں۔ دبئی میں بادشاہی نظام ہے وہاں کوئی قانون نہیں۔ نوازشریف کو مشورے دینے والے جاہل لوگ ہیں شاید میاں صاحب اور ان کے ساتھی مرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ سلطان ایان نے ایک دفعہ لاہور کے ایک مالی کو دبئی سے ابوظہبی تک سڑک کے درمیان گھاس اگانے کا کام دیا تو 80 آدمیوں کے اوپن ویزے بھجوائے گئے تھے حتیٰ کہ مٹی بھی یہاں سے جہازوں میں بھر کر لے جائی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کی جانب سے نظرثانی اپیل دائر کرنا خوش آئند ہے، یہی صحیح راستہ ہے۔ قانونی کیس قانونی سطح پر لڑے جاتے ہیں، سڑکوں پر شور شرابہ کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مودی جھوٹا آدمی ہے، ایسے جھوٹ بولتا ہے جیسے اُس گلہ کھاتے ہیں۔ ساری دُنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارتی فوج کشمیر میں کس طرح مظالم ڈھا رہی ہے۔ مودی کے گلے لگنے سے مسائل حل ہونے کا بیان سیاسی ہے۔ اگر وہ اپنے بیان پر 50 فیصد بھی عمل کر دے تو کشمیر میں بڑی حد تک امن آ جائے گا۔ تحریک انصاف کے سابق رہنما ضیاءاللہ آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر بینک میں ربوں کی کرپشن ہوئی، اس کے سارے اثاثے فروخت کر دیئے اور اب جھوٹ موٹ کی آمدن و شیئر کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کا دست راست راشد خان بورڈ آف ڈائریکٹر ہیں۔ جنہوں نے بنی گالہ کی منی ٹریل جمائمہ کے ذریعے ان کے اکاﺅنٹ میں دی۔ خیبر بینک کے تمام عملے کو میرٹ کے خلاف رکھا گیا جس کی منظوری وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے دی۔ خیبر بینک کے سکینڈل میں جماعت اسلامی و تحریک انصاف ملوث ہیں جو ایک دوسرے کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ خیبر بینک کے حوالے سے پوری صوبائی اسمبلی کے الزامات ہیں۔ عمران خان کنٹینر پر چڑھ کر عوام کو بے و قوف بناتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ضیاءاللہ آفریدی کا بیان بددیانتی و بدنیتی پر مبنی ہے۔ خیبر بینک سکینڈل پر کابینہ کی کمیٹی بنی تھی جس میں جماعت اسلامی کے لوگ نہیں تھے۔ کمیٹی نے کلیئر کر دیا تھا کہ اس میں جماعت اسلامی اور ان کے وزیر کا کوئی تعلق نہیں بنتا۔ بہتر ہو گا اگر ضیا آفریدی اس معاملے کو اسمبلی میں لائیں تا کہ ہم اس کو زیادہ بہتر طریقے سے کلیئر کر سکیں۔ ماہر قانون احمد رضا قصوری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ووٹ کے تقدس کا کوئی تعلق نہیں۔ عدالت کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ نوازشریف کو اگر عوام نے ووٹ دے کر وزیراعظم بنایا تھا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ڈاکے ڈالیں، قتل کریں۔ اگر کوئی جرم کریں گے تو اس کی سزا بھی ملے گی۔ الیکشن کمیشن نے بھی نون لیگ کو نوٹس بھیج دیا ہے کہ نیا پارٹی صدر بنائیں۔ سابق وزیراعظم فیصلے کے خلاف کوئی غلط طریقہ اختیار کریں گے تو سپریم کورٹ توہین عدالت لگانے کا اختیار رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ویو پوائنٹ ہے کہ نون لیگ نوازشریف کے نام پر رجسٹرڈ تھی اس لئے ان کے نااہل ہونے کے بعد پوری پارٹی نااہل ہو جاتی ہے۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ نوازشریف کے فیصلے پر الیکشن کمیشن، ہائیکورٹ یا سپیکر کا دائرہ اختیار نہیں۔ کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن جانچ پڑتال کرے گا۔ ان کے لیگل ایڈوائزروں نے فارم ٹھیک طرح سے پُر نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ بند گلی میں کھڑی ہیں اور نااہلیت کے بہت نزدیک چلی گئی ہیں۔ کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی میں بہت سارے معاملات کو چھپایا گیا۔ مری میں 15 کروڑ کا گھر ہے لیکن اس میں موجود فرنیچر کا اور اقامہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ شاید جان بوجھ کر یہ کسر چھوڑی گئی ہو کہ یہ نااہل ہو جائیں تو پھر اس کو سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکے۔






































