نیویارک، واشنگٹن(این این آئی، صباح نیوز) ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ اسے بھی اس بات کا یقین ہے کہ پاک،چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ متنازع علاقے سے گزر رہا ہے۔ امریکی ٹی وی کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع جمیز
میٹس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈانفورڈ سینیٹ اور ہاو¿س آرمڈ سروسز پینل کے سامنے پیش ہوئے اور قانون سازوں کو پاک ،افغان خطے کی موجوہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ چین کا منصوبہ ون بیلٹ ون روڈ (جس میں سی پیک بھی شامل ہے) متنازع علاقے سے گزر رہا ہے اور میرے خیال میں اس طرح سے وہ خود ہی اپنی کمزوری کو ظاہر کر رہا ہے۔امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے کہا کہ امریکا ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں کئی سڑکیں اور گزرگاہیں موجود ہیں تاہم کسی بھی قوم کو ون بیلٹ ون روڈ پر اپنی من مانی نہیں کرنی چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت کی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان سے گزرنے والے اس منصوبے کا ایک حصہ متنازع علاقے سے ہوکر گزرے گا۔امریکی سیکریٹری دفاع نے مزید کہا کہ ہم انسدادِ دہشگردی کے حوالے سے چین کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کو چین کے بارے میں کسی بھی ابہام میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ حکمت عملی کے تحت ہمیں چین کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، جہاں ہمارا خیال ہے کہ جس راستے پر وہ چل رہے ہیں، وہ غیر فعال ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلی سفارت کار اور فوجی مشیر چند ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کریں گے جس کے بعد وزیر خارجہ جم میٹس بھی جائیں گے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دونوں اعلی حکام پاکستان کو مسلح جہادی تنظیموں کی حمایت ختم کرنے کا سخت پیغام دیں گے۔رواں ہفتے امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے امریکی کانگریس کو بتایا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے ایک کوشش اور کریں گے جس میں ناکامی کی صورت میں صدر ٹرمپ ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تاحال ہم نے دونوں ملکوں کے فوجی تعلقات میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھا اور جم میٹس کے دورے کے بعد بھی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہونے والی۔2011میں ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈو آپریشن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات شدید کشیدہ ہوگئے تھے اور اس کے بعد سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ برسراقتدار آنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ پاکستان کے ساتھ امریکا کی مایوسی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ اگست میں انہوں نے پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام بھی لگایا۔






































