تازہ تر ین

ن لیگ میں بغاوت روکنے کیلئے وزیراعظم ان ایکشن

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) نواز لیگ میں ممکنہ بغاوت روکنے کیلئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سرگرم ہو گئے ہیں۔ پارٹی قیادت نے انہیں فوری طور پر ارکان کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کر دی۔ وزیراعظم نے جمعہ کو 37اراکین قومی اسمبلی سے ملاقات کی جن میں سے بیشتر کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا۔ ان ارکان کے نام آئی بی سے جوڑی جانے والی مبینہ فہرست میں تھا‘ جس میں ان کے کالعدم تنظیموں سے تعلقات کاذکر کیا گیا تھا۔ جمعرات کو ان ارکان نے اسمبلی سے واک آﺅٹ بھی کیا تھا۔ جمعہ کو وزیراعظم کی موجودگی میں آئی بی چیف آفتاب سلطان نے تحفظات دور کرنے کیلئے ان ارکان کو بریفنگ دی اور مبینہ لسٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ دوسری جانب ختم نبوت حلف نامے کے معاملے پر شدید قومی ردعمل نے بھی حکومت کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ مزید ارکان کی ناراضگی روکنے کیلئے 11اراکین قومی اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹری بنا دیا گیا ہے جبکہ وزیراعظم نے پارٹی ارکان سے ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھادیا ہے۔ بدلتی ہوئی صورتحال میں حکومت نے اسٹیبلشمنٹ کو بھی مصالحت کے اثارے دینے شروع کر دیئے ہیں۔ رینجرز کے معاملے پر بعض وزراءنے جو سخت مو¿قف اپنایا تھا اسے اب ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صورتحال کے پیش نظر مجوزہ آئینی پیکیج کا معاملہ موخر کرتے ہوئے پیشرفت روک دی گئی ہے۔ مزیدبرآں حکومت کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کو مصالحتی اشارے دینے کے حوالے سے فوج کے قریبی معروف عسکری تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر فوج کیا مذاکرات کرے گی‘حکمرنوں کے کرپشن مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ وہ اپنی چوری چھپانے کیلئے مصالحت کا تاثر دے رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق لیگی ارکان کی ممکنہ بغاوت روکنے کیلئے وزیراعظم سرگرم ہو گئے ہیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی سے ایک وزیر سمیت 2درجن حکومتی ارکان کے واک آﺅٹ نے حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی‘ جس پر جمعہ کو کالعدم تنظیموں سے تعلق کے حوالے سے آئی بی سے منسوب مبینہ خط سے ناراض 37ارکان قومی اسمبلی سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق‘ وزیر قانون زاہد حامد و آئی بی چیف بھی موجود تھے۔ ملاقات میں ڈی جی آئی بی نے ارکان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بریفنگ میں کہا کہ ارکان پارلیمنٹ سے متعلق منظرعام پر آنے والے خط کا آئی بی سے کوئی تعلق نہیں‘ تاہم ذرائع کے مطابق ناراض ارکان مکمل مطمئن نہیں ہوئے۔ خط سے آئی بی چیف کی لاتعلقی پر متاثرہ اراکین پارلیمنٹ نے وزیراعظم سے کہا یہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور مخالفین اس کی بنیاد پر ان کے خلاف سازشیں کر سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن میں اس بنیاد پر درخواستیں دائر ہو سکتی ہیں۔ کل کہا جائے گا ہم آرٹیکل 62‘ 63پر پورا نہیں اترتے۔ انہوں نے وزیراعظم پر زور دیا کہ حکومت الیکشن کمیشن‘ وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ پر واضح کر دے کہ یہ خط جعلی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوان وزیر قانون زاہدحامد نے ارکان کو آئی بی کے خلاف تحریک استحققاق لانے کی تجویز دی تاہم ناراض ارکان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے فہرست کو جعلی قرار دیئے جانے کے بعد اس کی تحقیقات ضروری ہیں۔ کالعدم تنظیموں سے روابط کے حوالے سے آئی بی کی مبینہ فہرست میں شامل رکن عمران شاہ کا کہنا ہے کہ ہم تو ویسے ہی دم درود والے ہیں‘ بم بارود والے نہیں۔ فہرست جعلی ہے تو آئی بی اسے منظرعام پر پر لانے والے ٹی وی چینل اور اینکرپرسن کے خلاف کارروائی کرے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain