اسلام آباد(ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ لوگ نسلوں سے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں اور چیف جسٹس دودھ کی کوالٹی چیک کر رہے ہیں۔احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں، سارا کام چیف جسٹس کو دے دینا چاہئیں، لوگ نسلوں سے عدالتوں میں اپنے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں اور چیف جسٹس دودھ کی کوالٹی چیک کرنے میں لگے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان میں حالیہ تبدیلیاں مشکوک ہیں، اندر کی کہانی نہیں جانتا لیکن ا?صف زرداری جو کام کررہے ہیں وہ شرمناک ہے اور اس مکروہ کھیل میں نامی گرامی سیاستدان شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ مشکوک شخص کو بنایا گیا، جنہوں نے ووٹ خریدے وہ کیا جواب دیں گے کیونکہ وہ خریدے ہوئے لوگ ہیں، مشکوک کاموں کا وزیراعظم کو نوٹس لینا چاہیے جب کہ انہوں نے اس بارے میں اشارہ بھی دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئین میں الیکشن کے التوا کی گنجائش نہیں اور کوئی نظریہ ضرورت قبول نہیں کیا جائے گا۔سابق وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے ایک اور فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بنی گالہ پراپرٹی سے متعلق کیس میں عمران خان کے دھوکے پر کارروائی کے بجائے اسے ریگولرائز کردیا گیا، تضا دیکھیے ہمارے ساتھ کیا اور لاڈلے کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ عمران خان نے آصف زرداری کو بیماری قرار دیا اور کہا تھا کہ ہاتھ نہیں ملاو¿ں گا اب وہ بتائیں کیا ان کے لوگوں نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لئے تیر کے نشان پر مہر نہیں لگائی، سیاستدان کا کوئی اصول اور مو¿قف ہونا چاہیے۔ملک میں حالیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھنے کی وجوہات جاننے کے لئے حکومت سے بات کروں گا، پچھلے پانچ برسوں کے دوران ہزاروں میگاواٹ بجلی سسٹم میں آئی، جب تک میں وزیراعظم تھا لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی تھی۔نواز شریف نے کہا کہ کسی کمپنی کے واجبات ادا کرنے ہیں یا کوئی اور وجہ ہے، اس حوالے سے وزیراعظم سے معلوم کروں گا۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس ملاقات پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بات نہیں ہوئی اور اگر ہوئی تو آگاہ کروں گا۔
لوگوں کو نسلوں سے فیصلوں کا انتظار، چیف جسٹس دودھ کی کوالٹی چیک کررہے ہیں،نواز شریف پھٹ پڑے

