تحریک انصاف نے زعیم قادری کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دیدی

لاہور (آن لائن) تحریک انصاف نے زعیم قادری کوپار ٹی میں شمولیت کی دعوت دیدی،تحریک انصاف کے رہنما عبد العلیم خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ کارکنوں کا استحصال کیا ہے۔ زعیم قادری تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کریں ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ تحریک انصاف کے رہنما عبد العلیم خان نے زعیم قادری کو پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دیدی۔ انہوں نے کہا کہ زعیم قادری تحریک انصاف میں آجائیں ہم ان کااستقبال کریں گے۔ مسلم لیگ ن کی اصلیت سامنے آچکی ہے۔ اس پارٹی نے ہمیشہ کارکنوں کا استحصال کیا ہے۔ زعیم قادری تحریک انصاف میں آنے کا فیصلہ کریں ہم ان کا خیر مقدمہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زعیم قادری پختہ سیاسی رہنما ہیں ان کو ان کا حق ملنا چاہئے۔

پٹرول ٹیکس کا حساب لینگے

کراچی(صباح نیوز‘ این این آئی) سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور اضافی ٹیکس سے متعلق کیس میں سیکریٹری پٹرولیم، سیکریٹری وزارت توانائی، چیئرمین ایف بی آر کو آج (جمعہ کو) طلب کر لیا۔ عدالت نے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات، 6ماہ کے آکشنز اور قیمتوں کے تعین کا ریکارڈ بھی مانگ لیا۔جمعرات کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور اضافی ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دالت نے ڈپٹی ایم ڈی پی ایس او کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ٹیکس لگا لگا کر لوگوں کو پاگل کر دیا، کس بات کا ٹیکس ہے، ساراحساب دینا ہوگا، پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کا عمل مشکوک لگتا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کس طریقہ کار کے تحت 62.8روپے فی لٹر کا تعین کیا گیا ؟ ڈپٹی ایم ڈی پی ایس او نے عدالت کو بتایا کہ مختلف ادارے 300ارب روپے کے نادہندہ ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ان اداروں سے 300ارب روپے واپس کیوں نہیں لے رہے ؟ اس کا مطلب ہے آپ بینکوں سے قرض لے کر معاملات چلا رہے ہیں۔یعقوب ستار نے انکشاف کیا کہ بینکوں سے 95 ارب روپےقرض لے رکھا ہے، ہر سال 7 ارب بینک سود کی مد میں جاتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ڈپٹی ایم ڈی پاکستان سٹیٹ آئل کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا لگا کر لوگوں کو پاگل کردیا ہے۔ یہ کس بات کا ٹیکس ہے سارا حساب دینا ہوگا۔ پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کا عمل بھی مشکوک لگتا ہے۔ کس قانون اور طریقہ کار کے تحت 62.8 روپے فی لٹر کا تعین کیا گیا؟ سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات گزشتہ 6 ماہ کے آکشنز (بولی) اور قیمتوں کے تعین کا ریکارڈ بھی طلب کرتے ہوئے سیکرٹری پٹرولیم‘ سیکرٹری وزارت توانائی‘ چیئرمین ایف بی آر ‘ ایم ڈی پی ایس او اور دیگر کو جمعہ کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

 

خانپور نور نگاہ ،خاتون اغواءپولیس کا ملزموں سے ملکر ”مک مکا“ورثاءکا خبریں ہیلپ لائن سے رابطہ

خان پور نورنگا (محمد اعجاز بلوچ) زمین کھا گئی یا آسمان؟ امسال 4 ماہ گزر گئے اغوا ہونے والی شادی شدہ خاتون تاحال بازیاب نہ ہوسکی شوہر اور آخری امید خبریں اور ضیاشاہد ہیں۔ شوہر محمد لطیف کی فریاد۔ تفصیل کے مطابق تھانہ مسافر خانہ کے علاقے موضع جلال آباد بستی بڈھن شاہ کے رہائشی محمد لطیف نے ”خبریں“ ٹیم کو بتایا کہ 4 سال قبل میری شادی چچا کی بیٹی شیشم بی بی سے ہوئی ایک بیٹی پیداہوکر فوت ہوگئی۔ میں اپنے سسر کے مراہ رہتا تھا۔ محنت مزدوری کرکے گزر اوقات کررہے تھے کہ مورخہ 25-3-17 کو میری بیوی شیشم بی بی کو میرے قریبی ہمسایوں اللہ بخش‘ مرتضیٰ‘ سکینہ‘ شکیلہ نے میرے ایکسیڈنٹ کی جھوٹی اطلاع دے کر اغوا کرلیا بعد میں برادری میں واپسی کا وعدہ کیا لیکن واپس نہ کی جس پر میرے سسر کی مدعیت میں پولیس تھانہ مسافر خانہ نے مقدمہ درج کرلیا لیکن میری بیوی بازیات نہ کروائی پولیس اور عدالتوں کے چکرلگا لگا کر تھک گیا۔اب بھی لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بنچ میں میری 491 کی رٹ چل رہی ہے جس کی گزشتہ روز پیشی تھی۔ وہاں پر مجھے ایس ایچ او مسافر خانہ نے دھمکی دی کہ رٹ واپس لے لو ورنہ چوری کے پرچہ دے کر تمہیں گرفتار کرلوں گا خبریں ٹیم جب بستی بڈھن شاہ معلومات لینے کے لئے پہنچی تو مردوں اورخواتین کی کافی تعداد جمع ہوگئی جنہوں نے شیشم بی بی کی بازیابی کے لئے احتجاج کیا لوگوں نے بتایا کہ ملزمان بااثر ہیں واپسی کا وعدہ کرتے رہے اب کہتے ہیں لڑکی مر چکی ہے یا بھاگ گئی ہے ہمیں کچھ پتہ نہیں۔ ملزمان کی ساتھی شکیلہ نے اپنی معافی کے لئے تحریر لکھ کر دی کہ شیشم بی بی کو اللہ بخش میرے گھر لے کر آیا تھا۔ بعد میں شیشم بی بی نے اللہ بخش وغیرہ کی بات نہ مانی تھی جس کو انہوں نے غائب کردیا ہے یا مار دیا ہے۔ اس موقع پر اہالیان علاقہ حافظ کریم بخش‘ محمد رفیق‘ محمد امین‘ شبیر احمد‘ عبدالمالک‘ عبدالحمید‘ جام بشیر احمد‘ محمد طارق ‘ حاجی عبدالستار‘ غلام مصطفی‘ غلام حسین‘ محمد شفیع‘ جام راشد‘ جام شاکر‘ محمد شبیر‘ جام محمد نذیر‘ جام سعید احمد‘ محمد آصف ‘ محمد طاہر و دیگر نے بتایا کہ ملزمان کی پشت پناہی علاقے کے بااثر لوگ کرتے ہیں چوری و جسم فروشی کا دھندا کرنے کی وجہ سے ملزمان کیخلاف لوگ گواہی دینے سے ڈرتے ہیں محمد لطیف کے والد محمد رفیق نے الزام عائد کیا کہ مجھے ایس ایچ او مسافر خانہ نے ہائی کورٹ کے باہر نکلتے ہوئے کہا کہ اپنے بیٹی اور بھائی کو سمجھاﺅ کہ وہ کیس کی پیروی چھوڑ دیں ورنہ نقصان اٹھاﺅ گے لڑکی کے والد غلام یٰسین نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ مجھے سابقہ تفتیشی نے مثل لکھ کر دکھائی کہ شکیلہ بی بی نے بتایا کہ میرے گھر کراچی میں اللہ بخش وغیرہ کے ہمراہ شیشم بی بی میرے گھر آئی تھی شوہر محمد لطیف نے بتایا کہ ہمیں کہیں سے انصاف نہیں ملا ہماری آخری امید روزنامہ خبریں اور ضیاشاہد صاحب ہیں ہمارا ساتھ دیں اور ہمیں انصاف دلائیں۔

 

سعد رفیق کی سر گرمیاں مشکوک ہیں ،میا ں حبیب ابھی ایک اینٹ نکلی قطار شروع ہونے والی ہے ،خالد فاروقی اثاثے سامنے لانے کے لیے اصول واضح کئے جائیں ،خمیر آفاقی زعیم قادری ابھی مزید بھید کھولیں گے ، سیف الرحمن چینل ۵ کے پروگرام ”کالم نگار “میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار خالد فاروقی نے کہا ہے کہ جیسے جیسے ن لیگ پر زوال آئیگا ایک زعیم قادری نہیں بلکہ آپکو قطار نظر آئیگی۔ چینل ۵ کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زعیم قادری صرف رکن اسمبلی نہیں تھے وہ ن لیگ کے رجمان بھی تھے، یہ پارٹی کیلئے شرمندگی کی بات ہے کہ پارٹی میں کوئی ضابطہ نہیں، نوازشریف سے ملنے کیلئے پارٹی ممبر ترستے تھے لیکن ملاقات نہیں کی جاتی تھی، زعیم قادری کا سیاست کا انداز بہت جارحانہ تھا، انکا پارٹی چھوڑنا معمولی بات نہیں، دیوار سے ایک اینٹ نکلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص ٹیکس چور اور اثاثے چھپا کر بیٹھا ہے، الیکشن میں آرمی کی تعیناتی کا مقصد شفاف الیکشن اور لوگوں کا خوف دور کرنا ہے، کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا کہ زعیم قادری جیسے لوگ علاقائی سطح کے لوگ ہیں انکے جانے سے پارٹی کو فرق نہیں پڑتا ، اس قسم کے لوگ شور مچاتے ہیں ، اسلئے انکو رکھا جاتا ہے، اس طرح کے لوگ مفادات کی خاطر جڑے رہتے ہیں اور کسی کے ساتھی نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی اصول وضع ہونا چاہئے کہ سیاستدانوں کے اصل اثاثے سامنے آئیں۔ کالم نگار میاں حبیب نے کہا کہ میری رائے کے مطابق سعد رفیق کی سرگرمیاں بڑی مشکوک رہتی ہیں اس سے قبل وہ جاوید ہاشمی کے ساتھ نتھی تھے وہ بھی گھر چلے گئے اب زعیم قادری نے پارٹی چھوڑ دی ، لگتا ہے وہ منانے نہیں جاتے کان میں کہنے جاتے ہیں کہ ڈٹے رہو۔ لاہور میں بغاوت مسلم لیگ ن کے پاو¿ں اکھڑانے کے مترادف ہے، میں نے اپنے کانوں سے سنا ن لیگ کے سربراہان کہتے تھے یہ لوگ ہماری وجہ سے وزیر بنے انکی کیا اوقات ہے۔ کالم نگار میاں سیف الرحمن نے کہا کہ اس میں شک نہیں سیاسی حقائق تبدیل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ ہر چیز کو طاقت سے جوڑا نہیں جاسکتا‘ ابھی زعیم قادری سامنے آئیں گے اور اندورنی کہانی سامنے آئیگی، زعیم قادری کو ٹکٹ ملنے کی امید نہیں تھی، اثاثوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اثاثے ڈکلیئر کرنے کیلئے بھی ایک قانون ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ پولنگ ایجنٹ کی باقاعدہ تربیت ہونی چاہئے۔

 

قومی ٹیم کےلئے بیٹنگ میں بھی رنزبناکردکھاناچاہتاہوں،نواز

کراچی(یوا ین پی)قومی آل راو¿نڈر محمد نواز کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ میں کھیلنے کے بعد ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ محمد نواز نے بتایا کہ سینئر کرکٹرز سے بھی انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔محمد نواز کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹنگ پر بھی کام کر رہے ہیں۔

اور چاہتے ہیں کہ مستقبل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے کارآمد آل راو¿نڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں۔انہوں نے اسکاٹ لینڈ کیخلاف کپتان سرفراز احمد کے چوتھے نمبر پر کھیلنے کے فیصلے کو بھی سراہا۔

 

گلوبل لیگ ختم کرنے پرپروٹیز بورڈنئی مشکل میں

لاہور(نیوزایجنسیاں)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائز لاہور قلندرز کے مالکان نے معاہدے کی خلاف ورزی پر جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرلیا۔پی ایس ایل کی مقبول فرنچائز لاہور قلندرز نے جنوبی افریقہ گلوبل لیگ میں ڈربن قلندرز کے نام سے فرنچائز خریدی تھی تاہم لیگ ختم کردی گئی جس کے بعد ڈربن قلندرز کے پاکستانی فرنچائز مالکان نے کرکٹ جنوبی افریقہ کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر قانونی چارہ جوئی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈربن قلدرز کے مالکان کا کہنا ہے کہ ہمارے بغیر جنوبی افریقہ میں کسی لیگ کا انعقاد معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔یاد رہے کہ لاہور قلندرز کے مالکان نے گزشتہ سال گلوبل لیگ میں ڈربن قلندرز کے نام سے ٹیم خریدی تھی۔ جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ نے گزشتہ سال پہلے یہ ٹی ٹوئنٹی لیگ ملتوی کی اور پھر اس لیگ کو ختم کرکے نئے نام سے لیگ کرانے کا اعلان کردیا۔گلوبل لیگ کے روحِ رواں ہارون لوگارٹ کو بھی بدانتظامی کی وجہ سے ملازمت سے فارغ کردیا گیا تھا اور نئی لیگ میں تمام آٹھ پرانے مالکان کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔لاہور قلندرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) رانا عاطف نے بتایا کہ ہم نے اپنے قانونی مشیر کے ذریعے کرکٹ جنوبی افریقہ کو لیگل نوٹس بھیجا ہے جس میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ ہمارے بغیر جنوبی افریقہ میں کوئی ٹی ٹوئنٹی لیگ نہیں ہوسکتی، ہم آپ کے ملک میں کرکٹ کا فروغ چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ڈپازٹ کے طور پر ڈھائی لاکھ ڈالرز جمع کرائے تھے ہمیں ساڑھے تین فیصد انٹرسٹ کے ساتھ مزید ایک لاکھ 80 ہزار ڈالرز واپس کئے گئے ہیں کیوں کہ ہم نے ٹیم خریدنے کے دوران خرچے بھی کئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے علاوہ تمام فرنچائزز نے رقم واپس لے لی ہے لیکن ہم نے قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری ٹیم کو نئی لیگ میں شامل کیا جائے۔لاہور قلندرز آئندہ ماہ سے بڑے پیمانے پر پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام شروع کررہے ہیں جس میں گلگت سے بھی نئے ٹیلنٹ کی تلاش شروع کی جائے گی۔

ٹاپ آل راونڈرز کی فہرست میں جگہ بنانا ہدف فہیم

ایڈنبرا (نیوزایجنسیاں ) قومی کرکٹ ٹیم کے آل راو¿نڈر فہیم اشرف نے کہا تمام فارمیٹس میں ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اچھا آل راﺅنڈبنناچاہتاہے اوراپنی پرفارمنس سے دنیا کے ٹاپ آل راﺅنڈرزکی فہرست میں اپنانا درج کراناہدف ہے۔ایک انٹرویوکے دوران نوجوان آل راﺅنڈرزنے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک مستحکم یونٹ کے طور پر کامیابی کے ساتھ کھیل رہی ہے جو ٹیم انتظامیہ کی بہترین کاوش اور محنت کا نتیجہ ہے۔سکاٹ لینڈ کیخلاف ٹی 20سیرزکے دوسرے میچ میں تین وکٹیں لے کر فتح کی ضمانت بننے والے فاسٹ باﺅلر کا کہنا تھا کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی ہمیشہ یہ ہدایت ہوتی ہے کہ اپنے لحاظ سے بالنگ کرتے ہوئے فیلڈنگ کی بھرپور سپورٹ حاصل کرو اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔فہیم اشرف کے مطابق دونوں میچز میں انہوں نے اپنا ٹوٹل زیادہ نہیں سمجھا لیکن دونوں میچوں میں بالنگ بہت اچھی رہی کیونکہ انگلینڈ کیخلاف سیریز سے جو سیکھا وہ یہاں کارآمد رہا۔

سب حمزہ کا کیا دھرا ، میری ایک نہ سنی گئی ،زعیم قادری شاید بلدیاتی سر براہوں کے اختیارات معطل کرنا پڑیں ،نگران وزیر داخلہ ن لیگ نے ناجائز حربوں سے الیکشن جیتنے کی کوشش کی تو انتخابات نہیں ہونگے،ضیائشاہد ملتان میں گورنر رجوانہ کا بیوروکریسی پر مکمل کنڑول ہے ،میاں غفار پولیس تبادلوں کی لسٹ آئی جی ،ڈپٹی کمشنر نے بنائی،طلال اشتیاق گورنر ہاوس ن لیگ کا الیکشن سیل بنا ہواہے ،احسان ناز چینل ۵کے پروگرام ”ضیاء شاہد کے ساتھ “میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ زعیم قادری کافی پرانے سیاسی ورکر ہیں۔ ان کے والد جسٹس شمیم قادری تھے۔ بڑی اچھی پولیٹیکل فیملی ہے۔ انہوں نے بڑی بھاگ دوڑ کی ہے مسلم لیگ ن کے لئے۔ حیرت ہے ان لوگوں کو اتنی دیر بعد کیوں یاد آ رہا ہے کہ ادھر کوئی جوتے پالش کرنے پڑتے ہیں۔ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔ میری اطلاع کے مطابق اگلے میں زعیم قادری پہلے آم نہیں ہیں جو اُوپر سے ٹپکے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق 3 سے 4 آدمی اگلے 10 دنوں میں مسلم لیگ کے درخت سے ٹوٹنے والے ہیں۔ وہ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز انکشافات کریں گے۔ زعیم قادری بہت مہذب انسان ہیں ان کو کبھی ایگریسو سٹائل سے کسی سے بات کرتے نہیں دیکھا۔ بعض چیزیں تبدیل نہیں ہو سکتیں۔ جو جملہ انہوں نے آج فرمایا یہی جملہ بہت برس پہلے میرے گھر پر آئے ”میرے دوست محمد نوازشریف“ کی قسطیں لکھ رہا ہوں اس میں لکھا ہے کہ میاں اظہر جب میرے پاس آئے تو یہی الفاظ ان کے تھے کہ میں ان کا مالشیہ نہیں ہوں میں ان کے جوتے نہیں پالش کر سکتا۔ یہ بدقسمتی سے مسلم لیگ ن میں جو سب سے زیادہ قبل اعتماد، سب سے زیادہ محنتی لوگ رہے ہیں نوازشریف فیملی کا پرابلم رہا ہے ایک ایک کر کے ایک صاحب تو مجھ سے بحث کر رہے تھے کہ آپ پنسل کاعذ لے لیں میں آپ کو لکھواتا جاتا ہوں کہ جو پہلے 10,5 چہرے نظر آ رہے تھے نوازشریف کے دائیں بائیں جب یہ پہلی دفعہ وزیر بنے کیا وہ وزیراعلیٰ بنے تو نظر آئے اور جب وزیراعلیٰ تھے تو وہ جب وزیراعظم بنے تو اس وقت نظر آئے۔ میاں صاحب کے انداز تکلم، انداز گفتگو پریہی جملے آپ ذوالفقار کھوسہ سے سنیں گے۔ ان کے بیٹے کو اتنا قابل اعتماد سمجھا جاتا تھا کہ شہباز شریف کی جگہ اس کو وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ میاں غفار نے کل کے پروگرام میں کہا تھا کہ آپ شہباز شریف کی بات کر رہے ہیں آخری پانچ سال تو ایس ایس پیز کے انٹرویو تو حمزہ شہباز کرتے ہیں۔ حمزہ بطور ایم این اے قومی اسمبلی جاتے نہیں تھے۔ وہ تو ڈپٹی وزیراعلیٰ کے طور پر تقرریاں، تبدیلیاں وہ کرتا تھا۔ ایس ایس پی اور ڈی سی او حضرات کے انٹرویو وہ لیتا تھا نوازشریف فیملی میں برابلم رہا ہے کہ بادشاہوں کا ایک خاندان ہے مغل شہزادوں کا مزاج رکھتے ہیں۔ کاش میرا دوست نوازشریف اداروں کو مضبوط کرتے اور نظام کو مضبوط کرتے، میں نے اپنی زندگی میں بہت قریب سے دیکھا ہے کبھی مسلم لیگ ن میں کبھی کوئی سسٹم اور سٹرکچر نہیں دیکھا۔ ریاض پیرزادہ والی بات ہے اس سے پہلے خلیل رمدے کے بھائی کا بڑا مسئلہ تھا۔ کیوں زعیم قادری کو 10 سال خیال نہ آیا۔ نوازشریف کے گرد بڑے شاطر لوگ تھے۔ یہی اصل وجہ ہے۔زعیم قادری نے کہا ہے کہ بیس سال کا قصہ ہے مجھے روز پیچھے اس لئے دھکیلا جاتا تھا کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ میں بار بار اس بات کا عندیہ قیادت کی خدمت میں رکھتا رہا کہ قیادت نے اس پر کان نہیں دھرے، قیادت نے سب کچھ حمزہ کو سونپے رکھا۔ میری برداشت سے باہر ہو گیا اور میں نے چھوڑ دیا۔ میں اپنے حلقے سے الیکشن لڑوں گا اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑوں گا۔ ضیا شاہد نے کہا کہ حمزہ شہباز ایم این اے تھے ان کا کام نہیں تھا کہ وہ صوبے میں سرکاری افسروں کے انٹرویو کرتے۔ آپ جیسے سمجھدار باعزت لوگ اب آپ کو الیکشن کے موقع پر یاد آیا۔ کیا 5 سال نہیں دیکھ رہے تھے کہ ساری نوکریاں حمزہ شہباز دے رہے ہیں۔ سارے انٹرویو وہ کرتے ہیں۔ ضلع کے افسر وہ لگاتے ہیں اس وقت آپ لوگ کس خوشی میں خاموش تھے اور جب کوئی سیاسی ٹرننگ ہوتی ہے تو اس وقت آپ کو یاد آتا ہے کہ یہ تو مالشیوں کو پسند کرتے ہیں۔ آپ باصلاحیت انسان ہیں۔ ن لیگ کا ورکر تو جائے گا۔ یہ فرد کی لڑائی نہیں ہے آپ سسٹم کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ بات یہ ہے مسلم لیگ سارے افسر، سارے ایس ایس پی ان کے ہیں۔ گنتی کروا دیتا ہوں۔ گورنر ہاﺅس ن لییگ کے میڈیا سیل بنے ہوئے ہیں اور آج دن بھر گورنر ہاﺅس لاہور میں کون کون لوگ آتے رہے اور کتنے لوگ وہ تھے جن کی تقرری ضلعوں میں ہو چکی ہے وہ سلام کرنے آ رہے تھے جناب۔ ڈالی لے کر گئے تھے وہ سلام کرنے گئے تھے کہ ہم آپ کے خدمت گزار ہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر مسلم لیگ ن نے جو 2013ءکی طرح یہ کوشش کی کہ الیکشن کو اپنے طریقے سے جیتنے کی تو الیکشن نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کوشش کی کہ ہر قیمت پر جائز ناجائز جیتیں اور دوبارہ پنجاب میں اور وفاق میں ان کی حکومت آ جائے تو الیکشن نہیں ہوں گے۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمشن کنور دلشاد نے کل بتایا تھا کہ میں نے 2008ءکے الیکشن میں خود دستخط کئے تھے کہ فلاں مرکز کے تحت جو میئر اور چیئرمین ہیں اور ضلع کونسل کے ارکان ہیں ان کو ہم معطل کر دیا تھا الیکشن کے انعقاد کے عرصے میں۔ میرا سوال ہے کہ اگر 2008ءمیں لوکل گورنمنٹ کو معطل کر دیا تھا تو اس بار کیوں معطل نہیں کیا۔ چونکہ گورنر سیاسی ہیں کتنے ہی وہ ایمانداری کریں کس طرح سے ہو سکتا ہے۔ گورنر صوبے کا آئینی سربراہ ہوتا ہے لاہور میں سب سے بڑا گھر گورنر ہاﺅس ہے ہر صوبے میں سب سے بڑا گھر کراچی، پشاور، کوئٹہ میں سب سے بڑا گھر ان کا ہے۔ پٹواری بھی اپنے گھر میں شیر ہوتا ہے آپ اتنے بڑے عہدے کی بات کر رہے ہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بیگم صاحبہ آئیں تو چراغ بجھا دیا کہ اس میں سرکاری تیل جل رہا ہے۔ تم مجھ سے ذاتی بات کر رہی ہو۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ اچکزئی صاحب حضرت عمر بن عبدالعزیز ثانی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے بہت فون آئے، کہا جاتا ہے کہ بیورو کریسی کے تبادلے ضلعوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ نے اس کی منظوری دی۔ ملتان جیسے شہر میں جہاں تحریک ختم نبوت کا ہیڈ آفس ہے وہاں ملک اللہ بخش کو بھیج دیا گیا ہے جو قادیانی ہے۔ اس حوالے سے ختم نبوت کے اجلاس بھی ہو رہے ہیں۔ ملک اللہ بخش پر قادیانی ہونے کا الزام ہے، شہباز شریف کی ناک کا بال شمار ہوتے ہیں۔ ضلعوں کے درمیان ادلیٰ بدلی کوئی تبدیلی نہیں، حسن عسکری صاحب ان الیکشن کو کوئی نہیں مانے گا اور آپ کے خلاف بڑی تحریک شروع ہو گی۔ شوکت جاوید کے خلاف تو باقاعدہ تحریک شروع ہو چکی ہے کہ وہ اپنے فرائض میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ پولیس تبادلوں کے خلاف لوگوں نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے۔
خبریں لاہور کے چیف رپورٹر احسان ناز نے کہا ہے گورنر ہاﺅس لاہور مسلم لیگ ن کا الیکشن سیل ہے اور ان کے بیٹے بھی ملتان سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ وہاں آنے والے لوگوں میں زیادہ تر بیوروکریٹ ہیں جن کو نیا نیا پوائنٹ کیا گیا ہے اور کچھ لوگ وہ ہیں جو سیاسی ہیں جو ملتان اور دیگر حلقوں سے آتے ہیں وہ آتے ہیں۔ بعض صحافی بھی وہاں سے ڈکٹیشن وغیرہ لے رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی جو الیکشن کی پالیسی ہے ان کو آگے بڑھایا جائے۔ میں نے دیکھا کہ پہلے وہاں آنے جانے والوں کی تلاشی ہوتی تھی اور ان کے لسٹوں پر نام لکھے جاتے تھے۔ جب میں نے وہاں یہ محسوس کیا کہ وہاں نام بھی نہیں پوچھا جاتا ان کے لئے راستے کھول دیئے جاتے ہیں۔ اور ان کی گاڑیاں ڈائریکٹ اندرجاتی ہیں۔ دوسری جماعتوں کے بندنوں کے لئے تو جیسے نوگوایریا ہے۔
میاں غفار صاحب نے کہا مسلم لیگ ن میں اگر کسی نے عزت سے وقت گزارا ہے اور نوازشریف اور شہباز شریف کو صاف بات کہہ دیتا تھا وہ ایک ہی آدمی تھا میاں اظہر۔ موجودہ گورنر رفیق رجوانہ صاحب ملتان میں مکمل کنٹرول بیورو کریسی، پولیس پر ان کا تھا۔ یونیورسٹی میں پوسٹنگ ہو حتیٰ کہ پٹواری کی ٹرانسفر بھی ان کے بیٹے، ان کے حکم پر ہوتی تھی۔ ڈی سی کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا۔ گورنر ہاﺅس یا رجوانہ ہاﺅس سے ٹیلی فون جاتا تھا۔ ایسے حالات رہے ہوں کہ تو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ اب الیکشن ہو رہا ہے تو پیچھے ہٹیں گے ساری سرکاری ذرائع استعمال ہوں گے۔ ہو رہے ہیں ان کے ڈیرے پر۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کا جھکاﺅ اس وقت نون لیگ کی طرف ہے۔ بلدیاتی ادارے معطل ہونے چاہئیں۔ لوکل گورنمنٹ سندھ میں پیپلزپارٹی اور پنجاب میں نون لیگ کو سپورٹ کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے ابھی تک کوئی منظم احتجاج نظر نہیں آیا۔ رہنما عوامی تحریک خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے کہ الیکشن کسی صورت شفاف نہیں ہوں گے، چیف جسٹس و چیف الیکشن کمشنر سارا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ 26جولائی کو ساری پارٹیز دھاندلی کا الزام لگائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز کہتی تھی کہ لندن میں تو کیا پاکستان میں ان کی کوئی جائیداد نہیں، 2 سال میں 85 کروڑ روپے کی جائیداد نکل آئی۔ عمران خان کی ڈھائی ارب روپے کی جائیداد نکل آئی ہے۔ بلاول سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات کے اثاثوں کی تفصیلات حیرت انگیز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ، سی پیک سمیت دیگر ملکی ایشو ہیں، لوٹے ادھر سے ادھر چلے گئے یہ ایشو نہیں ہے۔ جب تک اشرافیہ کا ہولڈ نہیں ٹوٹے گا،جمہوریت کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔ چیف رپورٹر خبریں طلال اشتیاق نے کہا ہے کہ حالیہ پولیس تبادلوں میں حیرانگی ہوتی کہ الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب و چیف سیکرٹری کو اس کی اجازت کیسے دے دی۔ سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے اس طرح سے تبادلے ہوتے ہیں۔ ان کو صوبہ بدر کرنا چاہئے تھا۔ اسی طرح بیورو کریسی الیکشن پر اثر انداز ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس میں تبادلوں کی لسٹ آئی جی پنجاب اور ڈپٹی کمشنرز و کمشنر کی لسٹ وزیراعلیٰ نے بنائی ہے۔ یہ دونوں خود متنازعہ ہو گئے۔ زعیم قادری نے کہا ہے کہ اپنے حلقے سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑوں گا۔ قیادت کو بار بار شکایات کیں لیکن انہوں نے کان نہیں دھرے، میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ یہ قصہ آج کا نہیں 20 سال کا ہے۔ نگران وزیر داخلہ پنجاب شوکت جاوید نے کہا ہے کہ ان لوگوں کو فیلڈ میں لائے ہیں جو پہلے سٹاف ڈیوٹیوں پر لگے ہوئے تھے۔ ایسے بہت کم لوگ ہیں جو پہلے بھی فیلڈ میں تھے اور انہی کو دوبارہ لگا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تبادلوں میں صوبہ بندر کر دیا جائے تو پنجاب اتنا بڑا ہے کہ یہاں کے تمام افسران تینوں صوبوں اور وہاں سے تمام پنجاب میں لے آئیں تو بھی پورا نہیں پڑتا۔ الیکشن میں پولیس کا کام صرف لاءاینڈ آرڈر کو برقرار رکھنا ہے، پولنگ سکیم میں تعلیم سمیت دیگر محکموں کے لوگ ہوں گے۔ وزیراعلیٰ سے درخواست کی ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو درخواست کریں کہ جو پولنگ سکیم بیورو کریسی نے ان کو بھیجی ہے، اس کو انتخابات سے قبل کمپیوٹر میں ڈال کر شفل کر دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میئر شپ اور بلدیاتی اداروں کو معطل کرنے کے حوالے سے کچھ حلقوں سے آوازیں ابھرنا شروع ہو گئی ہیں۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ انتخابات سے پہلے لوکل باڈی کو عارضی طور پر معطل کر دیا جاتا ہے لیکن یہ کام وزارت داخلہ کا نہیں، میں صرف اپنی رائے دے سکتا ہوں۔ اب بھی یہ کام ہونا چاہئے۔

 

مکی نے پی سی بی میڈیکل پینل سے پلیئرزکی فٹنس رپورٹ لے لی

لاہو(آئی این پی) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے پی سی بی میڈیکل پینل، قومی سلیکشن کمیٹی سے کھلاڑیوں کی فٹنس کے بارے میں رپورٹ لی ہے۔ذرائع کے مطابق یاسر شاہ، عماد وسیم اور رومان رئیس کی فٹنس کو جانچنے کیلئے انہیں لاہور طلب کیا گیا ہے جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹرینرز اور فزیو کی موجودگی میں ان کی فٹنس کا جائزہ لیا جائیگا ،بابراعظم کی زمبابوے کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شرکت مشکوک ہے ، و ہ ون ڈے میچز تک فٹ ہوجائیں گے۔

میسی سے ملاقات کی خواہش،ٹیچر کا سائیکل پر انڈیا سے روس کا سفرشروع

نئی دہلی (سی پی پی) انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں ریاضی کے استادکلفین فرانسس نے کہا ہے۔فٹبال دیکھنے کا شوقین اور میسی کا مداح ہوں۔ورلڈکپ فٹبال کے میچز دیکھنے کا شوق تھا لیکن وسائل نہ ہونے کے باعث سائیکل پر روس جانے کا شفر شروع کردیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے دبئی کا فضائی سفر کیا پھر وہ دبئی سے فیری کے ذریعے ایران پہنچے جہاں سے سائیکل پر روس کا دارالحکومت اب بھی ہزاروں کلو میٹر دور تھا۔فرانسس نے بتایا کہ مجھے سائیکلنگ سے محبت ہے اور میں فٹبال کے بارے میں پاگل ہوں۔ میں نے اپنے دونوں جذبات کو اکھٹا کیا۔انھوں نے پاکستان کے ذریعے سفر کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم انڈیا کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے انھیں یہ خیال ترک کرنا پڑا۔فرانسس نے بتایا کہ منصوبے میں تبدیلی مجھے بہت مہنگی پڑی ،میں اپنی سائیکل دبئی نہیں لے جا سکتا تھا اور وہاں مجھے نئی سائیکل خریدنی پڑتی جس کی قیمت 700 امریکی ڈالر تھی ،یہ طویل فاصلے کے سفر کے لیے بہترین نہیں تھا لیکن یہ سب کچھ میں برداشت کر سکتا تھا۔انھوں نے کہا کہ اب ٹامبوف شہر تک پہنچ چکا ہوں جو ماسکو سے 460 کلومیٹر دور ہے ، مجھے 26 جون تک روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچنا جہاں فرانس اور ڈنمارک کے درمیان فٹبال کے عالمی کپ کا میچ کھیلا جائیگا فرانسس نے بتایا کہ یہ واحد میچ تھا جس کا ٹکٹ حاصل کرنے میں، میں کامیاب رہا۔میں ارجنٹائین کی ٹیم کو سپورٹ کرتا ہوں اور لیونل میسی میرے پسندیدہ کھلاڑی ہیں ،میں ان کی پوجا کرتا ہوں۔ میرا خواب ہے کہ میں ان سے ملوں اور ان سے درخواست کروں کہ وہ میری بائیسکل پر دستخط کریں۔