پانی والا پائپ ہمسائے کو کیوں دیا ؟ ٹیکسلا میں سنگدل باپ نے بیٹی کو قتل کر دیا

ٹیکسلا(بیورورپورٹ)ٹیکسلا میں سنگدل باپ نے پڑوسیوں کو پانی کا پائپ دینے پر اپنی 12سالہ بیٹی کو طیش میں آ کر ڈنڈوں کے وار کر کے قتل کر دیا بچی کی چیخوں کی آوازیں سن کر اہل علاقہ اکٹھے ہو گئے اور واقعہ کی فوری طور پر ٹیکسلا پولیس کو اطلاع دی اطلاع ملتے ہی تھانہ ٹیکسلا کے ایس ایچ او یار محمد نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ آئے اور قاتل کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور تھانہ ٹیکسلا میں مقدمہ دررج کر کے تفتیش شروع کر دی دوسری طرف ٹیکسلا پولیس نے 12سالہ عائشہ مقتولہ کی نعش کو قبضے میں لے کر سول ہسپتال پہنچایا اور پوسٹمارٹم کے بعد ننھی عائشہ کی نعش جب گھر پہنچی تو کہرام مچ گیا ہر آنکھ اشکبار تھی تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز تھانہ ٹیکسلا کے علاقہ پنڈ گوندل میں سنگدل باپ معروف شاہ نے اپنی ننھی منھی 12سالہ بیٹی عائشہ کو پڑوسیوں کو پانی کا پائپ دینے کی پاداش میں ڈنڈوں کے وار کر کے قتل کر دیا ننھی عائشہ اپنے سنگدل باپ کے سامنے ہاتھ جوڑ جوڑ کر مافیاں مانگتی رہی اور چیختی چلاتی رہی مگر بے رحم باپ نے ایک نہ سنی اور اپنی ننھی عائشہ کو ابدی نیند سلا دیا عائشہ کی آواز چیخوں کی آواز سن کر اہل علاقہ اکٹھے ہو گئے اور پولیس کو اطلاع دی تو ٹیکسلا پولیس کے ایس ایچ او یار محمد نے نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ کر قاتل معروف شاہ کو گرفتار کر لیا اور مودمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ٹیکسلا پولیس کی بروقت کاروائی اور قاتل کی گرفتاری پر اہل محلہ نے ٹیکسلا پولیس زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔

 

حجرہ شاہ مقیم : وڈیروں کا 2 بھائیوں پر برہنہ کرکے تشدد ، پھندا ڈال کر گھسیٹتے رہے ، پیٹھ سے کھال اڈھیر ڈالی

حجرہ شاہ مقیم (نمائندگان خبریں) مزدوری سے انکار پر دو مزدور بھائیوںکو برہنہ کرکے تشدد کانشانہ بناڈالا، وڈیرے جسم کے نازک حصوں پر برف والے سوﺅں سے وارکرتے رہے ،پولیس نے موقع پرپہنچ کرہسپتال پہنچایا،ملزمان خواہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں معاف نہیں کیاجائے گا،ڈی ایس پی سرکل انعام الحق چوہدری کی صحافیوں سے گفتگو ۔ تفصیلات کے مطابق حجر ہ شاہ مقیم کے نواحی گاﺅ ں موضع جیٹھ پور کے محنت کش دو حقیقی بھائیوں نے مقام زمیندار محمد اسلم چوہدری،حنیف چوہدری اور محمد دین وغیرہ کی زرعی زمینوں پر زبردستی کام کرنے سے انکار کردیاتو گاﺅں کے وڈیرے اسلم وغیرہ دس افراد نے گزشتہ روز صبح نوبجے کے قریب دونوں محنت کش بھائیوں ساجد علی اور شرافت علی پسران نور محمد چھینبہ کو انکے گھر سے اغوا کرلیااورانکے گلوں میں پھندے ڈال کربرہنہ کرکے گاﺅں کی گلیوں میں گھسیٹتے ہوئے انہیں اپنے ڈیرہ پرلے گئے جہاں لے جاکر ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیاگیا اوران پرسرعام برہنہ تشدد کچھ اس انداز میں کیاگیاکہ آہنی تاروں سے ان کی پیٹھ کی کھال اتار دی گئی جبکہ برف والے سوﺅں کے وار کرکے ان کے جسم کے نازک حصوں میں سوراخ کیے گئے ملزمان اتنے بااثر ہیں کہ گاﺅں میں سے کوئی بھی مظلوموں کو انکے چنگل سے آزاد کروانے نہ پہنچا۔ اسی دوران خفیہ اطلاع پاکر مقامی پولیس نفری موقع پرپہنچی جسے آتادیکھ کرملزمان فرارہوگئے پولیس نے محنت کشو ں کو تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایاجنہیں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے دوسری طرف واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی چوہدری انعام الحق نے مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس پارٹی تشکیل دیکر ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کردیئے۔ میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے ڈی ایس پی نے کہاملزمان خواہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں انہیں قانون کی گرفت میں لایا جائے گا اورکیفرکردارتک پہنچاکردم لیں گے۔ دریں اثنا تشدد کانشانہ بننے والے محنت کشوں کی میڈیکو لیگل رپورٹ مرتب کی جارہی ہے ۔

 

وزیر آباد میں شیطان صفت تایا نے 10 سالہ بھتیجی کو تیسری بار زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ، ملزم فرار

وزیرآباد(تحصیل رپورٹر) نواح موضع دھونکل میں تایا نے 10سالہ بھتیجی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنا ڈالا۔ بچی کا والد بیرون ملک مقیم ہے۔تایا بھتیجی کو اپنے ساتھ گھر لے گیاتھا۔بچی کی ماں اور ماموںنے رنگے ہاتھو پکڑ لیا۔ماں کی مدعیت میں مقدمہ درج۔ملزم گرفتار۔ تفصیلات کے مطابق برائے ملازمت بیرون ملک مقیم شخص کی فیمیلی دھونکل میںرہائش پذیر ہے جس میں ماں، 4بیٹے اور 3بیٹیاںشامل ہیں۔قریب ہی بچوںکا تایا بھی مقیم ہے۔شام کے وقت تایا محمد امین بھائی کے گھر آیا اور جماعت چہارم کی طالبہ بھتیجی کو بہانے سے اپنے ساتھ گھر لے گیا۔کافی دیرتک گھر واپس نہ آئی تو ماں اپنے بھائی کے ہمراہ بیٹی کی تلاش میں محمد امین کے گھر پہنچ گئی جہاںتایا امین کو اپنی بھتیجی کو جنسی درندگی کا نشانہ بناتے ہوئے پایا۔ محمد امین بچی کی ماں کو دیکھ کر موقع سے فرار ہو گیا۔بچی کے مطابق تایا نے اسے تیسری بار زیادتی کا نشانا بنایا ہے۔ بچی کی ماں ربیعہ زوجہ نے تھانہ صدر میں ملزم کے خلاف درخواست داخل کر دی ہے۔پولیس نے ملزم محمد امین کے خلاف مقدمہ نمبر 180/18زیر دفعہ 376ت پ درج کر کے ملزم کو گرفتار کرلیاہے۔

 

کوٹ رادھا کشن ، اوباش نوجوان نے 2 بچوں سے زیادتی کے بعد ویڈیو بنا لی ، سنسنی خیز خبر

کوٹ رادھاکشن(تحصیل رپورٹر)کوٹ رادہاکشن نوجوان کی 2بچوں سے زیادتی ،ویڈیو بھی بنالی۔تفصیلات کے مطابق تھانہ کوٹ رادہاکشن کے نزدیک (م۔ الف) کے13سالہ بیٹے (د)اور 12سالہ بھتیجے (س) سے ملزم تنویر نے اسلحہ کے زور پر زبردستی زیادتی کی اور ان کی وڈیو بھی بنائی اور جب بچوں نے چیخ و پکار کی تو مقامی لوگوں کے پہنچنے پر ملزم فرار ہوگیا،پولیس نے بعد ازاں ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا۔

 

سسرالیوں نے بہو کو تیزاب پلا دیا ، خاتون جاں بحق ، شوہرساس سسر سمیت فرار ’ ’ خبریں ہیلپ لائن “میں خوفناک انکشاف

لاہور(خصوصی ر پو رٹر ) جنوبی چھاونی کے علاقے میں سسرالیوں نے مبینہ طور پر بہو کو تیزاب پلا کر قتل کر دیا اور فرار ہو گئے ، پولیس نے لاش پورسٹمارٹم کے لیے منتقل کر کے لواحقین کی درخواست پر شوہر ، ساس اور سسر کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی ۔ بتایا گیا ہے کہ جنوبی چھاونی چوکی نادر آباد کے علاقے سیج پال کے غلام حیدر کی بیوی یاسمین نے پرسرار طور پر تیزاب پی لیا جسے فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکی اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے کرایدھی ایمبولینس کے ذریعے پورسٹمارٹم کے لیے منتقل کر کے یاسمین کی والدہ عذرا بی بی کی درخواست پر مقتولہ کے شوہر ، ساس اور سسر کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا تاہم ملزمان موقع سے فرار ہو گئے مقتولہ کے والدہ کے مطابق اس کی بیٹی یاسمین کو جس سے اس کی شادی 5سال قبل ہوئی تھی اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے اس کا شوہر اور سسرالی اسے اکثر معمولی باتوں پرتشدد کا نشانہ بنایا کرتے تھے گزشتہ روز معمول کے مطابق دونوں میاں بیوی کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی جس پر اس کے شوہر نے اپنی والدہ اور والد کے ساتھ مل کر اسے زبردستی تیزاب پلا دیا جس کی وجہ سے وہ ہسپتال میں دم توڑ گئی ۔ دوسر ی جا نب خاتون کی مبینہ ہلاکت کیخلاف مقتولہ کے ورثاءنے بھٹہ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں خواتین اور اہل علاقہ کی کثیر تعداد شامل تھی مظاہرین نے مبینہ مقتولہ یاسمین کی لاش سڑک پر رکھ کر پولیس کیخلاف شدید نعرے بازی جسے بعدزا ں اعلی پو لیس افرسان کی مدا خلت پر ختم کردےا گےا ۔

 

عائشہ گلالئی کے الزامات سنجیدہ نوعیت کے ہیں : سعید آسی ، کلثوم بارے مخالفین سیاست کررہے ہیں : ضمیر آفاقی ، عمران خان نے دھاندلی کےخلاف آوازبلند کی : ایثار رانا ، اصل مسائل کیجانب توجہ توجہ ضروری ہے : ڈاکٹر راشد ہ قریشی ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار سعید آسی نے کہا ہے کہ این اے 53میں جوہورہا ہے وہ ایک قانونی مرحلہ ہے۔ اس میں اثرانداز ہونے والا کوئی معاملہ نہیں چینل ۵ کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انوں نے کہا البتہ عائشہ گلالئی کے عمران خان پر اعتراضات کافی سنجیدہ نوعیت کے ہیں انہوں نے کہا عمران خان بات دل میں نہیں رکھتے جو بات ہوتی ہے وہ کہ دیتے ہیں ان کو اندازہ نہیں ہوتا اس سے ان کو نقصان ہورہا ہے یا فائدہ انہوں نے کلثوم نواز کے وینٹی لیٹر کی اگر تصویر جاری ہوجاتی تو کنفیوژن دور ہوجاتی ہوسکتا ہے کلثوم نواز اتنی زیادہ سیریس نہ ہوں اور وقت لینے کی خاطر ایسا کیا جارہا ہے۔ کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا ہے کہ الیکشن کے دنوں میں اس قسم کے گڑھے مردے اکھاڑے ہوئے ہیں لیکن عمران خان پر جو الزامات ہیں یا وہ تسلیم کریں یا انکار کریں اور وضاحت دیں آپ چار یا چھ حلقوں سے کھڑے ہیں ایک یا دو سے مسترد ہوجاتے ہیں باقی سے منظور ہوتے ہیں۔ یہ تضاد ہے پنجاب میں پولیس کے تبادلے سے کچھ نہیں ہوگا۔ کلثوم نواز کے حوالے سے ڈاکٹر کی رپورٹ موجود ہے لیکن مخالفین سیاست کررہے ہیں۔ کالم نگار ڈاکٹر راشدہ قریشی نے کہا پاکستان کے اصل مسائل کی جانب توجہ دینا ہوگی۔ لیکن ناجانے ہم کن ایشوز کی بات جارہے ہیں الیکشن کمیشن کو ایک ضابطہ اخلاق دینا چاہیے کہ ذاتی نوعیت کے الزامات سے گریز کیا جائے اگر آپ کو تبدیل کرتے ہیں تو انحصار اس بات پر ہوتا ہے آنے والا کیسا ہوں سوشل میڈیا پر خبر تھی کلثوم نواز کے پھیپھڑوں پر خون جم گیا ہے۔ کالم نگار ایثار رانا نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی اس میں انہوں نے آر اوز کا ذمہ دار جسٹس (ر) افتخار چودھری کو کہا تھا بیگم کلثوم نواز کی حالت تشویشناک اور ڈاکٹر فیصلہ نہیں کرسکے وینٹی لیٹر ہٹانا ہے کہ نہیں اللہ انہیں صحت دے مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کس منہ سے آپ کرپٹ آدمی بیرونی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا اب شریف برادران پیشیوں پر شور کررہے ہیں۔

چاروں گورنر سیاسی ، تبدیل نہ ہونے سے شفاف الیکشن پر سوال اٹھنے لگے : ضیا شاہد ، اختیارات نہیں ، الیکشن پر اثر انداز نہیں ہو سکتے : پرویز رشید ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے حلقے کہہ رہے ہیں کہ شاید شاہ محمود قریشی وزیراعظم کے امیدوار ہیں ن لیگ نے اس پر بڑا ہنگامہ کیا ہوا ہے اور بڑی سیاسی لابنگ کی ہوئی ہے کہ جو اتنا بڑا وکیل یعنی سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ میدان میں اترا ہوا ہے وہ یقینا عمران خان کو ان کے کاغذات منظور نہیں ہونے دے گا۔ بہرحال یہ بھی بڑی دلچسپ بات ہے۔ ہمیشہ ہوتا رہتا ہے کہ ایک جگہ سے ان کے کاغذات منظور ہو گئے اور ایک جگہ سے مسترد ہو گئے ہیں کوئی لگتا ہے کہ کوئی کرائٹیریا متعین اور واضح نہیں ہے کیونکہ ایک ہی جیسے افسران جو ہیں جن کو الیکشن کمیشن نے اختیار دیا ہے وہ ان سارے معلوم حقائق کی بنیاد پر ایک جگہ کاغذات مسترد دوسری جگہ منظور کر رہے ہیں۔
جو پریس کانفرنس سینئر افراد کی جانب سے کی گئی ہے اس کے باوجود جتنا پروپیگنڈا ان کے خلاف ہے میرے خیال میں یہ اعتراض وزنی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ جو خفیہ کوڈ تھا۔ وہ صرف نادرا کے سربراہ یا ان کے 4,3 ڈپٹی ہیں ان کے پاس تھا اوراگر ایک اخبار کے رپورٹر کو یہ کوڈ نمبر مل گیا اور انہوں نے خبریں چھاپ دیں اور ان کو آشکارا بھی کر دیا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ الیکشن کمشن آف پاکستان نے خود اس کا نوٹس لیا تھا لہٰذا میرا خیال ہے کہ کوئی وجہ مجھے نظر نہیں آئی کہ باریش سربراہ وہ صاف ہو جائیں گے۔
مریم نواز صاحبہ کوئی معمولی شخصیت نہیں وہ اپنے وقت کے مغل بادشاہ کی بیٹی ہیں۔ میں نہیں سمجھتا ان کے راستے میں کوئی چھوٹی موٹی رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔
ضیا شاہد: پرویز رشید اب وقت تک ملک میں بحث جاری ہے سب کو یقین ہے کہ جو الزامات لگے ہیں چیئرمین نادرا پر کہ ان کے پاس کوڈ نمبر تھا یا ان کے 3 ساتھیوں کے پاس تھا اور اگر کسی اخبار کے رپورٹر کے پاس بھی یہ سارا ڈیٹا پہنچ گیا ہے تو بھی یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ آپ کی نظر میں ان کی ذمہ داری ہے یا وہ بے قصور نظر آتے ہیں۔
پرویز رشید: یہ تو کسی انکوائری کے ذریعے ہی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے نادرا کا ڈیٹا جو ہے اگر وہ کسی جگہ ٹرانسفر ہوا ہو گا تو آئی ٹی ایکسپرٹ جو ہیں اسے ٹریس کر سکتے ہیں کس کمپیوٹر سے کس کمپیوٹر میں گیا اس کا پاس ورڈ کس کے پاس تھا کون اس کمپیوٹر کو کنٹرول کرتا تھا بہت آسانی سے آئی ٹی ایکسپرٹ اس کو منطقی انجام دے نہیں پہنچا سکتے ہیں۔
ضیا شاہد:یہ جو کل رات سے بحث جاری ہے۔ میرے دوست رجوانہ صاحب سے، برے معقول اور پڑھے لکھے آدمی ہیں لیکن دو پارٹیوں سے اعتراض کر دیا ہے کہ گورنر صاحب ان کے بیٹے بھی ملتان سے الیکشن لڑ رہے ہیں ملتان سے اور چاروں صوبوں کے گورنر ہاﺅس میں باقاعدہ سیاسی جماعتوں کے رکن رہے ہیں۔ رجوانہ صاحب کا ن لیگ سے تعلق تھا سنیٹر تھے جو کے پی کے میں ہمارے دوست ظفر اقبال جھگڑا صاحب جو تھے وہ مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری رہے مسٹر زبیر صاحب مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر رہے اور بعد میں گورنر بنے۔ کوئٹہ میں محمود اچکزئی صاحب کے بھائی ہیں ان کا سارا خاندان الیکشن لڑ رہا ہے میں ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے اور ایک سنجیدہ سیاستدان کی حیثیت سے آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا یہ جو الزام ہے اس میں کوئی وزن نظر آتا ہے کہ جو سیاسی گورنر چاروں صوبوں میں گورنر ہاﺅس میں موجودگی میں جبکہ پانچ سبجیکٹ واپڈا، سوئی گیس، یونیورسٹیوں کے وہ چانسلر ہوتے ہیں زرعی ترقیاتی بینک اور ایک دو محکمے براہ راست گورنر کے ماتحت ہوتے ہیں کیا آپ کے خیال میں گورنروں کو بھی تبدیل کر کے غیر جانبدار گورنر نہیں بنانے چاہئیں۔
پرویز رشید: گورنر کے پاس ایسا کون سا اختیار ہے جس میں وہ انتخاب میں کوئی مداخلت کر سکتا ہے۔ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا ہے، ہمارے آئین میں گورنر پرائم منسٹر کی ایڈوائس پر عمل کرتا ہے جن اختیارات کی آپ نے بات کی وہ بھی گورنر خود استعمال کرتا چیف منسٹر کی ایڈوائس پر ان لوگوں کے حکم نامے پر دستخط کرتا ہے خود واپڈا کسی گورنر کے ماتحت نہیں۔ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تعیناتی صوبائی وزیراعلیٰ کرتے ہیں گورنر ان کی ایڈوائس کے مطابق اس حکم نامے پر دستخط کرتا ہے ایک رسمی سا کام ہے جو گورنر کرتا ہے اس کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ کسی کی ٹرانسفر، کسی کی ترقی نہیں کر سکتے۔ کسی کو نوکری دے نہیں سکتے کسی کو نوکری سے نکال نہیں سکتے۔ ان کی انتخابات میں مداخلت جو ہے وہ میری سمجھ سے بالاتر ہے اور اگر ہم اس مفروضے پریقین کرنا شروع کر دیں تو پھر صدر پاکستان بھی اپنے عہدے پر قائم ہیں، صدر پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا سکتا ہے اور دوسرے بہت سے اداروں کے سربراہ ہیں جن کی تعیناتی وزیراعظم کے صوابدید کے مطابق ہوتی ہے ہم یہ پنڈورا باکس کھولنے کی طرف جا رہے ہیں۔ جو ہماری اٹھارہویں ترمیم تھی تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر پاس کی جس میں تحریک انصاف کے اراکین بھی شامل تھے اور انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں تحریک انصاف نے پورا کام کیا اور تحریک انصاف نے متفقہ طور پر ان قوانین کی منظوری اور ترامیم کی منظوری دلوائی قومی اسمبلی سے پھر سینٹ سے جن کو ہم انتخابی اصلاحات کہتے ہیں اس میں کوئی اس چیز کا ذکر نہیں تھا کہ گورنرز کو تبدیل کیا جائے گا۔ اب اگر انہیں آج خیال آ رہا ہے تو انہیں چائے تھا کہ انتخابی اصلاحات میں اس چیز کو شامل کروا لیتے جیسے ہی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی تو گورنر بھی تبدیل کر دیئے جائیں گے صدر پاکستان کو اپنے گھر بھیج دیا جائے گا اور جو دوسرے عہدیدارن کی وزیراعظم نے تعیناتی کی ہو گی ان سب کو بھی ان کے گھروں میں بھیج دیا جائے گا۔ یا معطل کر کے بٹھا دیا جائے گا۔ یہ انتخابات میں ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آئی جس کی وجہ سے ہمیں ایسے اقدامات کرنے پڑیں۔
ضیا شاہد: جب سے ہم نے ہوش سنبھالی، ہم نے حکومتوں کو آتے جاتے دیکھا، ایک زمانے میں گورنر حضرات جو ہوتے تھے عام طور پر غیر سیاسی ہوتے تھے۔ سابق بیورو کریٹ یا سابق جرنیل ہوتے تھے یہ پچھلے چند برسوں سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جناب خالد مقبول صاحب کے دور میں ایک بڑی سیاسی ٹینشن شروع ہو گئی تھی کہ خالد مقبول جب دوروں پر جاتے تھے تو وہ ان شعبوں، ان محکموں میں بھی دخل دیتے تھے جو اس وقت مسلم لیگ کے وزیراعلیٰ کے پاس ہوتے تھے چنانچہ جب ان کی شکایت ہوئی صدر پرویز مشرف کے پاس مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ ان کو منع کر دیا گیا۔ میں خود 3,2 یونیورسٹیوں کے دورے میں ساتھ گیا تھا اور پھر وہ یونیورٹیوں میں جاتے تھے، نمبر2 زرعی ترقیاتی بینک کے بارے میں پوچھتے تھے نمبر3 واپڈا کے کنکشنوں کے بارے میں پوچھتے تھے نمبر4 وہ نادرا کے بارے میں پوچھتے تھے۔ پانچویں سبجیکٹ میں وہ دخل نہیں دیتے تھے۔ جو یہ بات ظاہر کرتی تھی ظاہر ہے اس وقت کے وزیراعلیٰ اس کو سمجھتے تھے کہ میرے محکموں میں گورنر غلط دخل دے رہا ہے۔ جناب لاہور کے سب سے بڑے گھر میں جس کا نام گورنر ہاﺅس ہے رفیق رجوانہ صاحب فروکش ہیں۔ بڑے پڑھے لکھے بڑے مہذب آدمی ہیں لیکن میں اصولی بنیادوں پر بات کر رہا ہوں کہ ان کے بیٹے ملتان میں الیکشن لڑ رہے ہیں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر۔ کیا آپ کے خیال میں اتنے فرشتہ ہو سکتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کی کہیں کوئی مدد نہیں کریں گے۔ کوئی اچھا نہیں سوچیں گے کسی سیکرٹری سے کہیں گے بھی نہیں گورنر ہاﺅس میں سب افسروں نے آنا جانا ہوتا ہے۔ انصاف کی تو بات کریں۔
پرویز رشید: میں ایک اصول کی بات کر رہا ہوں۔ خالد مقبول صاحب کی جب آپ نے بات کی تو میں وہ ایک غیر آئینی زمانہ تھا۔ آئین سے تجاوز کر لیا گیا ہوا تھاو¿ مشرف چیف ایگزیکٹو بھی تھے ملک کے صدر بھی تھے اور ملک کے چیف آف آرمی سٹاف بھی تھے۔ ایک بے راہروی خود بھی کر رہے تھے اور ان کے گورنر صاحبان کو ایسے اختیارات دے دیئے گئے تھے مجھے بتایئے پچھلے 5 سال میں کیا خیبرپختونخوا کے بارے میں کوئی شکایت پرویز خٹک کو پیدا ہوئی جس کا انہوں نے کبھی اظہار کیا ہو کہ گورنر نے میرے کسی کام میں مداخلت کی ہے۔ گورنر ان کے کام میں مداخلت کر نہیں سکتا۔ میں نے کہا نان گورنر کے پاس اختیار نہیں ہے۔ اگر کسی کو اس کی شکل اچھی نہیں لگتی تو اس کو تبدیل کریں۔ بہرحال یہ آئین کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہو گا۔ بیٹے، بھائی، بیٹی کا انتخاب میں حصہ لینے کا تعلق ہے تو میں درجنوں ایسے حوالے دے سکتا ہوں جو انتخاب لڑ رہے ہیں جو ایسے شخص کے بھائی بھی جو خود بڑے عہدے پر موجود ہیں اور اس کے پاس اختیارات بھی ہیں جبکہ گورنر کے پاس نہیں ہیں، الیکشن کمیشن کے کچھ لوگوں کے بارے میں میں نام لیتا اچھا نہیں لگتا لیکن جو بااختیار لوگ وہ خود الیکشن کمشن کے بااختیار لوگ ہیں ان کے قریبی خون کے رشتے ہیں۔ وہ انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس طرح مثالیں دوں گا کہ بڑے بااختیار عہدوں پر آفیسر موجود ہیں ان کے خون کے رشتہ دار حصہ لے رہے ہیں۔گورنر تو بے اختیار یہاں بااختیار لوگوں کے قریبی خون کے رشتے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔
ضیا شاہد:گورنر چانسلر ہوتا ہے۔ بہت ساری مثالیں دے سکتا ہوں کہ گورنر بطور چانسلر وائس چانسلر کو تبدیل کیا، معطل کیا، یونیورسٹیوں میں تقرریوں کا نوٹس لیا و دیگر محکموں میں بھی دخل لیا۔ سارے گورنر ٹھوک بجا کر دخل دیتے ہیں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ گورنر کچھ نہیں کر سکتا۔
پرویز رشید: جس قسم کے دخل کی آپ بات کر رہے ہیں تو گورنر نہ بھی ہوں پاکستان میں آپ جیسے باوسیلہ و بارسوخ حضرات ایسا کر لیتے ہیں۔ گورنر وزیراعلیٰ کے حکم پر عمل کرتا ہے، آئینی یا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔ کہا جاتا ہے کہ اب غیر جانبدار وزیراعلیٰ موجود ہیں اگر وہ تمام اداروں، محکموں کو کہہ دیں کہ گورنر کی بات پر عمل نہیں کرنا تو نہیں ہو گا۔ سینٹ انتخابات میں گورنر خیبر پختونخوا اگر فاٹا میں کچھ کر سکتا تو وہاں سے ایسے سنیٹرز منتخاب نہ ہوتے جو ہمارے امیدوار کے بجائے سنجرانی صاحب جیسے لوگوں کو ووٹ دیئے۔
ضیا شاہد:نوازشریف و مریم نواز کے حوالے سے 4 پروگرام کئے، جج محمد بشیر کو خط بھی لکھا کہ انسانی و اخلاقی بنیادوں پر ان کے استثنیٰ کی درخواست مسترد نہیں کرنی چاہئے۔ اب بھی معلوم ہوا ہے کہ انہیں صرف مزید 4 دن کیلئے استثنیٰ ملا ہے۔ اب بھی کہتا ہوں کہ جب تک بیگم کلثوم نواز ٹھیک نہیں ہوئیں انہیں وہاں رہنے دیں۔ دُعا گو ہوں کہ کلثوم نواز صحت یاب ہوں۔ آپ کو وہاں ایک ترجمان مقرر کرنا چاہئے۔ حسن و حسین نواز ایک شخص کو کہہ دیتے ہیں وہ آگے نشر کر دیتا ہے۔ ایک ترجمان مقرر کر دینے میں مسئلہ کیا ہے؟
پرویز رشید: موجودہ حالات میں جو دوسروں کو سہولیات ہوتی ہیں وہ نواز کو نہیں ہیں۔ پانامہ مقدمے میں اپیل کا حق بھی نہیں دیا۔ ہم نہیں کبھی نہیں کہا کہ بیگم کلثوم نواز کی عیادت پر جانے کی اجازت دے دیں۔ نوازشریف کو یہ سہولت نہیں دی گئی کہ وہ ڈاکٹروں سے مشورہ کرتے تا کہ اس پر عمل ہو سکتا۔ بدقسمتی سے جب وہ گئے تو ان کی حالت زیادہ خراب ہو گئی تھی اور وہ بیہوش تھیں۔ بیٹی کو بھی والدہ سے گفتگو کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ آپ کی کاوشوں پر شکر گزار ہوں۔ آپ کی لندن میں ایک ترجمان مقرر کرنے کی تجویز ان تک پہنچا دوں گا کیونکہ یہ ان کی صوابدید ہے۔
ضیا شاہد:چودھری نثار کی گفتگو سن کر بہت دکھ ہوا۔ اگر ان کو ٹکٹ نہیں ملا تو ایسی گفتگو کہ میں راز کھول دوں گا اور جو زبان استعمال کی، عجیب بات ہے۔ ان کے پاس آپ کے لیڈر کے کیا راز ہیں؟
پرویز رشید: جن کے پاس کوئی بات نہیں ہوتی وہ اس طرح کی ہی باتیں کرتے ہیں۔
ضیا شاہد:آپ ہی ان کو ٹکٹ دے دیتے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ میں نے نوازشریف کو صدر بنایا۔ میرے علم میں تو یہ بات نہیں؟
پرویز رشید: اگر چودھری نثار کے پاس صدر بنانے کا کوئی اختیار ہوتا تو وہ صرف خود کو صدر بناتے۔ انہیں اپنے وجود کے علاوہ کوئی دوسرا بھاتا نہیں۔ ان کے نزدیک دنیا کے سب سے عظیم مفکر، سیاستدان، دانشور صرف وہی ہیں۔
ضیا شاہد:آپ کے ساتھ ان کا کیا جھگڑا ہے؟
پرویز رشید: کسی کا بھی ان کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں، بس وہ گرم ہوا کے پرندے نہیں ہیں۔ نون لیگ کے لئے گرم ہوا چل پڑی ہے اب وہ ٹھنڈی ہوا کی طرف بھاگ رہے ہیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ چودھری نثار 10 بار کہہ چکے کہ میری پارٹی ہے، مشکل وقت میں ساتھ نہیں چھوڑوں گا اور کون سا مشکل وقت ہو گا۔ دوسری طرف جو وہ زبان استعمال کر رہے ہیں، میں اپنے بدترین دشمنوں کے بارے میں بھی ایسی گفتگو نہیں کر سکتا۔ سیاسی اختلافات ہوتے ہیں لیکن باہمی اخلاقیات کو بالکل نظر اندا نہیں کر دینا چاہئے۔ چودھری نثار کی باتیں سن کر دکھ ہوا وہ پتہ نہیں کس وقت کی بات کر رہے ہیں، میں تو نوازشریف کو تب سے جانتا ہوں جب وہ سیاست میں آئے تھے۔

 

پاکستانی ٹیم کی قسمت اچھی جو چھٹے سے 5 ویں نمبر پر آئی ، ڈومیسٹک کرکٹ میں بال ٹمپرنگ کو روکنا ہو گا : طاہر شاہ ، چینل ۵ کے پروگرام ” گگلی “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ بال ٹمپرنگ ایک بہت پرانا کینسر ہے جو پھیلا ہوا ہے۔ جب پاکستانی ٹیم بال ٹمپرنگ کرتی تھی اس وقت کسی کو اس کا پتہ نہیں تھا۔ چینل ۵ کے پروگرام گگلی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہماری ڈومیسٹک کرکٹ میں بال ٹمپرنگ کھلم کھلا ہے کیونکہ امپائر بڑے باﺅلرز سے ڈرتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ بال ٹمپرنگ کو قانونی قرار دیا جائے جو کہ کرکٹ کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی قسمت ہے جو چھٹے سے پانچویں نمبر پرآ گئی ہے اگر فتح ملے تو اسے برقرار رکھنا چاہئے۔

قومی ہاکی ٹیم نے آسٹریا کیخلاف سیریز 0-2 سے جیت لی

لاہور(ویب ڈیسک) ایف آئی ایچ چیمپئنز ٹرافی کی تیاریوں میں مصروف پاکستان ہاکی ٹیم نے آسٹریا کے خلاف3 میچوں کی سیریز 0-2 سے جیت لی۔چیمپئنز ٹرافی کی تیاریوں کے لیے پاکستان ہاکی ٹیم ان دنوں ہالینڈ کے شہر بریڈا میں موجود ہے اور ہالینڈ اور وہاں کے مقامی کلب اور آسٹریا کے خلاف 5 میچوں کی سیریز بھی مکمل کرچکی ہے۔ ان میچوں کے دوران رضوان سینئر نے ٹیم کی قیادت کی۔گزشتہ روز پاکستان نے آسٹریا کو سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں بھی صفر کے مقابلے میں 3 گول سے زیر کرکے سیریز 2-0 سے اپنے نام کی۔ سیریز کے دوران ارسلان قادر بھر پور فارم میں دکھائی دیے، انھوں نے آخری میچ میں 2 گول کرنے کے علاوہ مجموعی طور پر5 گول کر کے سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔بریڈا میں ہونے والے اس میچ میں پاکستانی ٹیم نے آغاز میں ہی جارحانہ انداز اپنایا اور نویں منٹ میں ارسلان قادر کے ذریعے ابتدائی گول کرنے میں کامیاب ہوگئی۔دوسرے کوارٹر میں پاکستانی ٹیم نے ایک بار پھر عمدہ موو بنائی اور گیند کو حریف سائیڈ کے ڈی ایریا میں لے جانے میں کامیاب ہوگئی، اس بار مبشر علی نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ گیند کو جال کے اندر پھینک کر پاکستانی ٹیم کی برتری دگنی کر دی۔ تیسرے کوارٹر میں کوئی بھی ٹیم مزید گول کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔چوتھے کوارٹر میں پاکستانی ٹیم نے گول کی ہیٹ ٹرک مکمل کرنے کے لیے بھر پور کوشش کی، کھیل ختم ہونے سے صرف پانچ منٹ قبل ارسلان قادر نے انفرادی طور پر دوسرا اور مجموعی طور پر تیسرا گول کر کے فتح پاکستانی ٹیم کی جھولی میں ڈال دی۔میچ کے دوران ا?سٹریا کی ٹیم کو بھی گول کرنے کے متعدد مواقع میسر ا?ئے لیکن ان کے فاروڈز پاکستانی ٹیم کے دفاعی حصار میں شگاف ڈالنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔