تازہ تر ین

ہماری بے عزتی نیب پر فرض نہیں : شاہد خاقان کے جوابی وار

اسلام آباد (آئی ا ین پی‘ اے این این) مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چیئرمین نیب کے حالیہ انٹرویو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف کی چیئرمین نیب سے کوئی ملاقات بلواسطہ اور بلا واسطہ نہیں ہوئی، چیئرمین نیب ملک کے ٹھیکیدار نہ بنیں، انہیں سیاستدانوں کی بے عزتی کا کوئی حق نہیں، نیب کالا اور اندھا قانون ہے،معیشت تباہ کرنے میں نیب کا بہت بڑا حصہ ہے، نیب نے ملک میں بیوروکریسی کو مفلوج کر دیا ہے،ملکی معیشت کی تباہی کی ایک بڑی وجہ نیب ہے،مجھ سے جو سوالات پوچھے گئے وہ ٹوئٹر پر ڈال دوں گا تا کہ عوام ان سوالات کی نوعیت خود دیکھ سکے، یہ ابھی مشکل وقت کی ابتدائ ہے، میری حکومت سے درخواست ہے کہ ملک چلائیں یا نیب ،آنے والے وقت میں مہنگائی اور بیروزگاری کئی گنا زیادہ بڑھے گی ،حکومت نے8ماہ میں ملکی معیشت کے ساتھ جو کیا۔وہ منگل کو یہاں نیشنل پریس کلب میں لیگ رہنما?ں رانا ثنائ اللہ، احسن اقبال، مریم اورنگزیب اور مرتضیٰ جاوید عباسی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پچھلے چار دن میں نیب سے متعلق جو ہورہا ہے اس پر تشویش ہے، ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ ملک میں جو نیب ہے اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ سیاستدان کو بدنام کیا جائے اور ان پر بے بنیاد الزام لگائے جائیں۔صحافی جاوید چوہدری نے گزشتہ دنوں ”چیئرمین نیب سے ملاقات“ کے عنوان سے ایک کالم تحریر کیا تھا جس میں شہباز شریف کی جانب سے نیب کو ڈیل کی پیشکش کا ذکر کیا گیا تھا۔یا جاوید چوہدری جھوٹ بول رہے ہیں یا چیئرمین نیب جھوٹ بول رہے ہیں لیکن چیئرمین نیب کے انٹرویو کا کیا مقصد ہے یہ وقت کے ساتھ عیاں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ جو بھی بول رہا ہے بدنام سیاستدان ہو رہا ہے کیونکہ پگڑی اس کی اچھالی جارہی ہے ، یہی چیزیں ملک کی تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب نے کہا کہ شہباز شریف نے ان سے رابطہ کیا اور کیسز ختم ہونے پر سیاست سے ریٹائرمنٹ لینے کا کہا جبکہ شہباز شریف کی چیئرمین نیب سے کوئی ملاقات بلواسطہ اور بلا واسطہ نہیں ہوئی۔انہوں نے چیئرمین نیب کے ان دعوں کو بھی مسترد کیا جن میں ان کا کہنا تھا کہ ایسی ہی ڈیل نواز شریف بھی آفر کررہے ہیں۔چیئرمین نیب کے انٹرویو کا مقصد اگر سیاست کو بدنام کرنا تھا تو وہ مقصد پورا ہوگیا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ انٹرویو میں کہا گیا کہ باقی بیورو کریسی کو شکایت نہیں ، احد چیمہ کو ان کا تکبر لے گیا، کیا نیب کے قانون میں ہے کہ تکبر جرم ہے؟ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب نے ملک میں بیورو کریسی کو مفلوج کردیا ہے، علیم خان کی ضمانت ہوجاتی ہے لیکن فواد حسن فواد اور احد چیمہ کی ضمانت نہیں ہوتی ، جب 22گریڈ کے افسروں کے فیصلوں کو 12گریڈ کے افسر کیس بنانے شروع کر دیں تو اس طرح ملک نہیں چلتے، ان کی حالت کو دیکھ کر آج کون سا بیورو کریٹ کام کرے گا، نیب نے ملک میں بیوروکریسی کو مفلوج کر دیا ہے،ملکی معشت کی تباہی کی ایک بڑی وجہ نیب ہے، نیب غیرجانبدار نہیں ہے، جو مسائل نیب نے پیدا کیے ہیں ان کے جواب کون دے گا، چیئرمین نیب نے اپنی پریس کانفرنس میں جاوید چودھری کے کالم پر ایک لفظ بھی نہیں کہا ، کیا وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ باتیں غلط ہیں اور انہوں نے نہیں کہیں ، چیئرمین نیب نے اپنی پریس کانفرنس میں صرف اتنا کہا کہ ان کے خیالات کو درست پیش نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن سے زیادہ کوئی احتساب کے حق میں نہیں ، میں اس ملک کا وزیراعظم رہا ہوں ، 8گوشوارے نیب کو بھر کر دیئے ہیں،مجھ سے جو سوالات پوچھے گئے وہ ٹوئٹر پر ڈال دوں گا تا کہ عوام ان سوالات کی نوعیت خود دیکھ سکے ،میرا مطالبہ ہے کہ جس سیاستدان پرالزام لگائیں وہ سوالنامہ انٹرنیٹ پر ڈال دیں تاکہ عوام کوپتہ چلے کیا سوالات ہوئے ہیں۔میری درخواست ہے کہ انصاف کے نظام کو مضحکہ خیز نہ بنائیں ، نیب کی جانب سے سینکڑوں سرکاری ملازمین کو بلا کر کہا گیا کہ ان کے بارے میں کچھ بتائیں تا کہ ہم انہیں گرفتار کر سکیں،میری نیب سے درخواست ہے کہ مجھے گرفتار کرنا ہے تو کر لو خدا کےلئے ملک کا بیڑہ غرق نہ کرو۔انہوں نے کہا کہ آج ملک میں جو معاشی صورتحال ہے اس میں نیب کا بہت بڑا حصہ ہے،چیئرمین نیب اپنے ادارے کا جائزہ لیں ،نیب کالا اور اندھا قانون ہے ، توقیر ضیائ پر450ارب کا الزام تھا اسی طرح بلوچستان سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے وہ سب لوگ آج کہاں ہیں ؟جیل میں صرف نوازشریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو انٹرویو میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت پر بھی کیسز ہیں مگر میں ان پر ہاتھ اس لئے نہیںڈ التا کہ حکومت ٹوٹ نہ جائے ، نیب میں 3500کیسز چل رہے ہیں، کسی کا فیصلہ نہیں ہورہا، صرف سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آٹھ ماہ میں جو ملک کی معیشت کا بیڑہ غرق کیا ہے وہ کوئی حکومت نہیں کرسکی ،میری حکومت سے درخواست ہے کہ یا ملک چلائیں یا نیب ،میں عوام کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ابھی مشکل وقت کی ابتدائ ہے ،آنے والے وقت میں مہنگائی اور بیروزگاری کئی گنا زیادہ بڑھے گی۔سمندر میں کیکڑا ون ڈرلنگ کی ناکامی پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ قوم مایوس نہ ہو اس آف شور بلاک سے تیل ضرور نکلے گا،میں پیٹرولیم وزیر رہ چکا ہوں ،ہم نے اس جگہ پر کام کیا ہے ،تیل اور گیس کی تلاش کےلئے ہمیں مزید دو سے تین کنویں کھودنے پڑیں گے ، عوام مایوس نہ ہو ضرور خوشخبری ملے گی ،کیکڑا ون پر کام کرنےوالی غیر ملکی کمپنیوں کا ماضی یہ رہا ہے کہ وہ صرف اس جگہ جا کر ڈرلنگ کرتی ہیں جہاں ان کو یقین ہو کہ تیل اور گیس نکلے گا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved