تازہ تر ین

پاکستانی بنیئے ۔۔۔ پاکستانی خریدیئے ، جذبوں کو جگانے میں خبریں گروپ مہم تیز قدم

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق پاکستانی کرکٹر مدثر نذر نے چینل ۵ سے گفتگو میں اس مہم کو سراہتے ہوئے پاکستانی عوام سے اپیل کی کہ عوام پاکستان میں بنی ہوئی چیزیں ہی خریدیں اس سے پاکستان کو فائدہ ہو گا اور ڈالر نیچے آئے گا۔ خواتین شہریوں نے بھی مہم کو سراہتے ہوئے عہد کیا کہ وہ بھی پاکستانی مصنوعات خریدنے کو ترجیح دیں گی۔کراچی (نمائندہ خصوصی) تاجر برادری نے خبریں گروپ آف نیوز پیپر کی Be Pakistani By Pakistaniکی کمپین کی بھرپور حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر داروخان اچکزئی نے خبریں کی کاوش کو سراہاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کمپین کو ضرور کامیاب ہوناچاہئے کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے اگر ہم اب اپنے پا?ں پر کھڑے نہ ہوئے تو وقت کبھی ہمیں معاف نہیں کرے گا، اسی طرح ہم اپنے ملک کو معاشی مسائل سے نکال سکتے ہیں، انہوں نے خصوصی گفتگو میں خبریں کی جانب سے شروع کی جانے والی کمپین کو احسان اقدام قرار دیا۔ یوبی جی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے بھی خبریں کی جانب سے شروع کی جانے والی کمپین کو معاشی مسائل حل کرنے کیلئے اہم قرار دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ جیتنی زیادہ ہم باہر کی اشیائ کا بائیکاٹ کریں گے اور اپنی اشیا خریدیں گے پاکستانی معیشت ترقی کرے گی، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا کا کہنا تھا کہ Be pakistani By pakistaniملکی معیشت کی بہتری کیلئے بہت ضروری ہے، عوام جیتنی زیادہ پاکستانی اشیائ خریدں گے اتنا ہی پاکستان کو فائدہ ہوگا،بزنس مین پینل کے چیئرمین سراج قاسم تیلی نے بھی”پاکستانی بنو اور پاکستانی اشیائ خریدوں کی کمپین کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر سال لاکھوں ڈالر زغیرملکی اشیائ امورٹ پر ضائع کرتا ہے اگر پاکستانی غیرملکی اشیائ کا بائیکاٹ کردیں اور ملکی اشیائ کی خریداری پر توجہ دیں تو ہماری معیشت مسائل کی دلدل سے نکل آئے گی، انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چینی عوام اپنی اشیائ کودیگر ملکوں کی اشیائ پر برتری دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں چین اپنا مقام بنا چکا ہے۔ انہوں نے خبریں گروپ آف نیوز پیپرز کی جانب سے شروع کردہ کمپین کو ملکی معیشت کیلئے اہم قرار دیا۔ معروف تاجر رہنما میاں زاہد حسین، کاٹی کے صدر دانش خان، سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر سلیم پاریکھ، پاکستان ہارڈ ویئرمرچنٹس ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین ندیم اے کشتی والا،یسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے سابق چیئرمین محمد حنیف گوہر اورر ائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ)کے سابق چیئرمین رفیق سلیمان سمیت دیگر تاجر رہنماو¿ں نے بھی خبریں گروپ آف نیوز پیپر کیBe Pakistani By pakistnaiکمپین کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستانی اشیائ کو دیگرغیرملکی اشیائ پر فوقیت دے تاکہ ملکی معیشت صحیح ڈگڑ پر چل سکے۔ لاہور(جنرل رپورٹر) صدر لاہور چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری الماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصراور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معیشت کس سمت میں جارہی ہے اس کو جانچنے کا سب سے بہترین پیمانہ وہاں کی سٹاک مارکیٹ ہوتی ہے۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ گذشتہ طویل عرصہ سے جس طرح زوال پذیر ہے اس سے ملک کی معاشی صورتحال کا اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی اور بالخصوص ڈالر کی قیمت میں اضافہ ایک انتہائی پریشان کن مسئلہ بن گیا ہے جس سے تمام طبقات بہت ب±ری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ پاکستانی کرنسی کی قدر میں گذشتہ 60سال سے مسلسل کمی واقع ہورہی ہے ، 1960کی دہائی میں 4.76روپے کا ایک امریکی ڈالر تھا، 2005ئ میں ایک ڈالر 59.30روپے جبکہ آج میں اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر کی قیمت تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے 152روپے تک جا پہنچی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے نمایاں آئی ایم ایف کا دبا?، ڈالر کو اوپن مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کم ہونا شامل ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی کے بڑے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ارب ڈالر کے قرضوں کے بوجھ میں اچانک گیارہ سو ارب روپے ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوگیا ہے جس کا مطلب ہے کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں قومی آمدن کا مزید حصہ خرچ ہوگا۔ امپورٹ بل بڑھنے سے ہمارا تجارتی خسارہ بڑھا ہے۔ درآمدات کی لاگت بڑھنے سے خام مال مہنگا ہوگیا ہے جس سے صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں برآمد کنندگان کو نقصان اٹھاکر غیرملکی خریداروں سے کیے ہوئے معاہدے پورا کرنے پڑیں گے۔ اگر حکومت روپے کی قدر مستحکم کرتی ہے تو اس سے ہمیں بہت زیادہ فائدہ ہوگا کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئے گی جس سے لوگوں پر بوجھ کم ہوگا، ان کی قوت خرید بڑھے گی اور معیارِ زندگی بہتر ہوگا۔ صنعتی شعبہ خام مال سستے داموں درآمد کرسکے گا جس سے پیداواری لاگت کم ہوگی اور پاکستانی مصنوعات بہترین معیار کے ساتھ ساتھ قیمت میں بھی بہترین ہونے کی وجہ سے عالمی منڈی میں اپنا خاطر خواہ مقام حاصل کرسکیں گی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved