تازہ تر ین

مشکل وقت ختم ، حکومت کا معاشی روڈ میپ کا اعلان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے آئندہ ایک سال کے لئے معاشی روڈمیپ کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بورڈ کی منظوری تک معاہدہ منظر عام پر نہیں لا سکتے، آئندہ چند ہفتوں میں آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری ہو جائے گی اور پروگرام پر عمل شروع ہو جائے گا،حکومت نے اب تک ، 4ارب ڈالر مالیاتی خسارہ کم کیا، اب ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 2سے 3ارب ڈالر اضافی قرضہ منصوبوں کےلئے لے سکیں گے، بجٹ میں ایسے فیصلے لیں گے جو ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالیں گے، 1.2 ارب ڈالر اسلامی ترقیاتی بینک سے موخر ادائیگیوں کی سہولت حاصل کریں گے، اثاثہ ظاہر کرنے والی سکیم بڑی آسان ہے،اس کا مقصد ٹیکس نیٹ بڑھانا ہے، 30 جون کے بعد اس سکیم میں حصہ نہ لینے والوں بے نامی اثاثہ رکھنے والوں کے خلاف کاروائی ہو گی، معیشت میں استحکام آ رہا ہے اور اعتماد آ رہا ہے، سٹاک مارکیٹ میں 7فیصد اضافہ ہوا ہے، عالمی اداروں کے مثبت تبصرے آنا شروع ہو رہے ہیں، حکومت کے اخراجات کم کریں گے، بجلی کے شعبہ میں دسمبر 2020ئ تک گردشی قرضہ زیروکیا جائے گا، ریکوری بڑھائی جائے گی، ترقی کےلئے ریونیو کو بڑھانا ہے، 4.8ٹریلین کا ہدف ایف بی آر کو محصولات کا رکھا ہے، امیر طبقہ کو اپنا کر دار ادا کرنا ہو گا ورنہ ہمارے بس میں نہیں ہو گا کہ قرض واپس کر سکیں اور غریبوں کو ریلیف دے سکیں، صرف 20لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، 350 کمپنیاں پاکستان کا 85فیصد ٹیکس دیتے ہیں، جو ٹیکس نہیں دے رہے ان پر بوجھ ڈالا جائے،کمزور طبقہ کےلئے سرکار سے سبسڈی دے کر حفاظت کریں گے، 216 ارب بجٹ میں غریب طبقہ کو تحفظ دینے کےلئے رکھ رہے ہیں، بجلی اور گیس کے بلوں میں تحفظ دیں گے، احساس پروگرام اور غربت کے خاتمہ کے پروگرام کےلئے بجٹ کو بڑھا کر 180 ارب کیا جا رہا ہے، کم ترقی یافتہ علاقوں کو مساوی ترقی دیں گے،خوراک کی سبڈی کےلئے 30ارب رکھے جا رہے ہیں، کامیاب جوان پروگرام کے تحت 100 ارب مختص رکھے جا رہے ہیں، تا کہ ملازمتیں پیدا ہوں، زرعی شعبہ کی گروتھ کی ترقی کےلئے 250ارب پروگرام رکھا جا رہا ہے، مینو فیکچرنگ کے شعبہ کو ترقی دیں گے، نجی شعبہ کی کمپنیوں کو گریجوایٹس کو ملازمتیں فراہم کرنے کےلئے ٹیکس مراعات دیں گے، پی ایس ڈی پی کو بڑھا رہے ہیں، 925ارب کا پی ایس ڈی پی کےلئے مختص کر رہے ہیں، مشکل وقت ختم ہو نے سے 6سے 12ماہ میں معاشی استحکام حاصل کریں گے، اس کے بعد ریکوری اور گروتھ کی طرف جائیں گے۔ہفتہ کو اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی و ترقی مخدوم خسرو بختیار، وزیر توانائی عمر ایوب، معاون خصو صی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ،وزیر مملکت برائے ریونیوحماد اظہر،چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی و دیگر اعلی حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا جب حکومت آئی تو اس وقت پاکستان کا کل قرضہ 31ہزار ارب ہو چکا تھا، غیر ملکی قرضہ 100ارب ڈالر ہو چکا ہے، زر مبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر سے کم تھے، برآمدات کی گروتھ صفر تھی، مالیاتی خسارہ 20ارب ڈالر تھا، 2.3کھرب اخراجات سے زیادہ خرچ کر رہے تھے، گروتھ میں کمی آرہی تھی اور مہنگائی کم ہو رہی تھی، گروتھ 5فیصد تھی لیکن جب حکومت آئی تو یہ کم ہو رہی تھی، 9.2ارب ڈالر دوست ممالک چین ،سعودی عرب اور یو اے ای سے لئے، امپورٹ کم کی گئی، 2ارب ڈالر امپورٹ کم کی گئی، ترسیلات زر 2ارب ڈالر بڑھائے، 4ارب ڈالر خسارہ کم کیا، گردشی قرضہ 1200 ارب سے نیچے لایا، حالات کو بگڑنے سے روکا، گیا، آئندہ چند ہفتوں میں نئے روڈ میپ پر عمل کریں گے، بجٹ اور اس کے بعد اہم معاشی فیصلے کریں گے، آئندہ چند ہفتوں میں آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری ہو جائے گی اور پروگرام فعال ہو جائے گا، پاکستان میں بے نامی قانون کے تحت اثاثوں کو ملکی معیشت میں لانے کےلئے سکیم پر عمل کررہے ہیں، سعودی عرب سے 3.2ارب ڈالر آئل کی موخر ادائیگیوں کی سہولت لی ہے، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 2سے 3ارب ڈالر اضافی قرضہ منصوبوں کےلئے لے سکیں گے، بجٹ میں ایسے فیصلے لیں گے جو ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالیں گے، 1.2 ارب ڈالر اسلامی ترقیاتی بینک سے موخر ادائیگیوں کی سہولت حاصل کریں گے، آئی ایم ایف رکن مماالک کو معاشی مسائل کے حل کےلئے بنایا گیا ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، 6 ارب ڈالر کا پروگرام لیا ہے، جس کی شرح سود3.2فیصد ہو گی، اس سے دوسرے ادارے میں پاکستان میں فنانسنگ کی طرف مائل ہوں گے، سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آئے گی، اثاثہ ظاہر کرنے والی سکیم بڑی آسان ہے۔اس کا مقصد ٹیکس نیٹ بڑھانا ہے، 30 جون کے بعد اس سکیم میں حصہ نہ لینے والوں بے نامی اثاثہ رکھنے والوں کے خلاف کاروائی ہو گی، معیشت میں استحکام آ رہا ہے اور اعتماد آ رہا ہے، سٹاک مارکیٹ میں 7فیصد اضافہ ہوا ہے، عالمی اداروں کے مثبت تبصرے آنا شروع ہو رہے ہیں، آئندہ سال معیشت کو مستحکم کرنے کا سال ہو گا، معیشت کو ایک پائدیار بنیاد پر استوار کیا جائے گا تا کہ ترقی کے سفر کو بڑھایا جائے، اخراجات کم کریں گے، بجلی کے شعبہ میں دسمبر 2020تک گردشی قرضہ زیروکیا جائے گا، ریکوری بڑھائی جائے گی، ترقی کےلئے ریونیو کو بڑھانا ہے، 4.8ٹریلین کا ہدف ایف بی آر کو محصولات کا دیں گے، امیر طبقہ کو اپنا کر دار ادا کرنا ہو گا ورنہ ہمارے بس میں نہیں ہو گا کہ قرض واپس کر سکیں اور غریبوں کو ریلیف دے سکیں، صرف 20لاکھ ٹیکس دیتے ہیں جن میں سے 6لاکھ تنخواہ دار ملازمین ہیں، 350 کمپنیاں پاکستان کا 85فیصد ٹیکس دیتے ہیں، 20فیصد لوگ پورے ملک کا ٹیکس دے رہے ہیں، ان پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، کوشش ہے جو ٹیکس نہیں دے رہے ان پر بوجھ ڈالا جائے، نیا ڈیٹا جمع کررہے ہیں،بجلی اور گیس کے 3 لاکھ 40 ہزارصنعتی صارفین سے 40ہزار رجسٹرڈ ہیں ٹیکس دیتے ہیں، 5کروڑ کروڑ بینک اکا?نٹس ہیں، ایک بینک کے ڈیٹا کے لگ 40لاکھ میں سے 4لاکھ لوگ ٹیکس دے رہے ہیں، 28ملکوں سے ڈیٹا حاصل کیاہے، تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ ہیں، ایک لاکھ کمپنیوں میں سے صرف آدھی ٹیکس دے رہی ہیں، ان سے ٹیکس لیں گے، مالی استحکام روڈ میپ کا ستون ہے، مہنگائی پر عوام کو تشویش ہے، آئل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں بڑھ کر 70ارب ڈالر ہو گئی ہے، اس سے مہنگائی بڑھتی ہے،کمزور طبقہ کےلئے سرکار سے سبسڈی دے کر حفاظت کریں گے، خوراک کی مہنگائی 3.8فیصد ہے اس کی نگرانی کریں گے، مانیٹری پالیسی کو مہنگائی کو روکنے کےلئے استعمال کر رہے ہیں، 216 ارب بجٹ میں غریب طبقہ کو تحفظ دینے کےلئے رکھ رہے ہیں، بجلی اور گیس کے بلوں میں تحفظ دیں گے، احساس پروگرام اور غربت کے خاتمہ کے پروگرام کےلئے بجٹ کو بڑھا کر 180 ارب کیا جا رہا ہے، کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی دیں گے۔فاٹا کےلئے آئندہ بجٹ میں اضافی فنڈزدیں گے، فاٹا 6ارب بجلی دی ہے، خوراک کی سبڈی کےلئے 30ارب رکھے جا رہے ہیں،ملازمتیں فراہم کرنے کےلئے معیشت کا گروتھ ریٹ اتنا نہیں ہے، ہائی گروتھ پر جانے کےلئے کوشش کریں گے، استحکام کا دورانیہ جلد مکمل کریں، 2008سے 2013تک 69لاکھ ملازمین پیدا کیں، 2013 سے 2018 تک گروتھ ریٹ زیادہ تھی، ملازمتیں57 لاکھ ہو گئیں، ہا?سنگ سکیم کےلئے کئی شہروں میں زمین ریکور کر لی ہے، مالی انتظامات کئے جا رہے ہیں، اس پر عمل سے ملازمتیں پیدا ہوں گی، کامیاب جوان پروگرام کے تحت 100 ارب مختص رکھے جا رہے ہیں، تا کہ ملازمتیں پیدا ہوں، زرعی شعبہ میں کمی آئی ہے، زرعی شعبہ کی گروتھ کی ترقی کےلئے 250ارب پروگرام رکھا جا رہا ہے، مینو فیکچرنگ کے شعبہ کو ترقی دیں گے، نجی شعبہ کو ملازمتیں پیدا کرنے کےلئے مراعات دے دیں گے، کمپنیوں کو گریجوایٹس کو ملازمتیں فراہم کرنے کےلئے ٹیکس مراعات دیں گے، پی ایس ڈی پی کو بڑھا رہے ہیں، 925ارب کا پی ایس ڈی پی کےلئے مختص کر رہے ہیں، نجی شعبہ کے تعاون سے سڑکوں کے منصوبے مکمل کرلیں گے، پرائیویٹ پبلک سیکٹر کے ادارے کو مضبوط بنائیں گے، چین اور ترکی کے ساتھ برآمدات بڑھانے کےلئے اقدامات کر رہے ہیں، صوبوں کے ریونیو میں بھی اضافہ ہو گا، صوبوں سے رابطہ رکھیں گے، رقم بہتر انداز میں خرچ ہوں گی، مشکل وقت ختم ہو نے سے 6سے 12ماہ میں معاشی استحکام حاصل کریں گے، اس کے بعد ریکوری اور گروتھ کی طرف جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میںحفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے تنقید کرنے والے تفصیلات سے لاعلم ہیں، پروگرام میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ آئی ایم ایف پر چڑھائی کریں، یہ اصلاحات کا پیکج ہے، عمر ایوب خان نے کہاکہ 31 دسمبر 2020 گردشی قرضہ کا مسئلہ حل کریں گے، چوروں کے خلاف جہاد کررہے ہیں، 81ارب کی وصولی زیادہ کی ہے۔ 80فیصد فیڈرز کو لوڈشیڈنگ کو ختم کر دیا ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ 14لاکھ ٹیکس دہندگان ہیں، 50 ہزار کمپنیوں کو سسٹم میں لائیں گے، 3لاکھ 40 ہزار کے صنعتی کنکشن ہیں جن میں سے 40ہزار ٹیکس دے رہے ہیں، اصلی ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ 925 ارب کا پی ایس ڈی پی ہے، صوبوں کو ملا کر 1837ارب کا قومی ترقیاتی بجٹ رکھا جائے گا، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت 250 ارب کے پراجیکٹ لگائیں گے، سکھر سے حیدر آباد روڈ سی پیک کی پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت بی او ٹی بنیاد پر کریں گے، نالج اکانومی طرف ملک جائیں گے، بلین ٹری سکیم کےلئے 10 ارب رکھ رہے ہیں، مساوی بنیادوں پر ترقی دیں گے، آئندہ سال کا جی ڈی پی کی گروتھ کا ہدف 4فیصد ہے، 2023 تک گروتھ 6.5 فیصد تک لے جائیں گے۔حفیظ شیخ نے کہا کہ مشکل خطے میں رہتے ہیں، ملک کی سالمیت اور خود مختاری مقدم ہے، اس کےلئے جو بھی قربانی دے سکے کریں گے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ہماری فوج سمیت سرکاری اداروں میں کفایت شعاری کی مہم شروع کی جائےگی، مختلف شعبوں میں اخراجات کو کم اور بچت کو فروغ دیا جائے گا۔حفیظ شیخ نے کہا کہ بجٹ میں سویلین اور فوج کے اخراجات کم سے کم رکھنے کی کوشش کریں گے، اخراجات میں کمی پر سویلین اور فوج ایک پیج پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ٹیکس آمدنی کا 11 فیصد ہے، 20 لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں، 6 لاکھ تنخوا دار اور 360 کمپنیاں پورے ملک کا 85 فیصد ٹیکس دیتی ہیں، کوشش ہو گی جو پہلے ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 28 ملکوں سے 1 لاکھ 52 ہزار پاکستانیوں کے ریئل اسٹیٹ اور ان کے بینک اکاو¿نٹ پر نیا ڈیٹا حاصل کیا گیا اور اس کے مطابق 1 لاکھ کمپنیاں ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہیں مگر ان میں سے آدھی ہی ٹیکس ادا کرتی ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی عمرا ایوب نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت ہمارے لیے بارودی سرنگیں لگا کر گئی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے حکومت کی معاشی ٹیم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نےگردشی قرضوں کے 450 ارب کنویں میں ڈال دیے۔ انھوں نے کہا کہ 6 سے7 ماہ میں 81 ارب کی اضافی وصولیاں کیں، نیپرا نے 3.84 فی یونٹ اضافے کا کہا، مگر ہم نے 1.27 روپے فی یونٹ اضافہ کیا، غریب صارفین کو مستثنیٰ قرار دیا۔ گزشتہ دور حکومت میں رمضان میں لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، آج پاکستان کے 80 فی صد فیڈرز پر صفر لوڈشیڈنگ ہے۔ اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ بے نامی قانون 2017 میں پاس ہوا، لیکن اس پرعمل درآمد نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ بے نامی ایکٹ کے تحت جائیداد ضبط اور سزا بھی ہو سکتی ہے، ہمارا بنیادی مقصد کاروباری افراد کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ کاروباری طبقے کو ٹیکس ادائیگی کے لئے سہولتیں دیں گے، کاروباری لوگوں کواثاثے ظاہرکرنے کا موقع دیا گیا، یکم جولائی سےبےنامی اثاثوں کےخلاف ایکشن ہوگا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے اس موقع پر کہا کہ گوادرکو نیشنل گرڈ سے منسلک کر رہے ہیں، 2023 تک ساڑھے6 فی صد گروتھ ٹارگٹ ہے۔ اس موقع پر مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بھی حکومتی پالیسیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی. ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ ملنے کے بعد سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سال ملکی معیشت کے استحکام کا سال ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved