تازہ تر ین

قطرسے مہنگی ایل این جی کیوں خریدی ،شاہد خاقان عباسی کو جواب دینا پڑا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کے خلاف یہ کیس سکینڈل موجود تھا اور الیکشن سے پہلے ہی شیخ رشید نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ انہیں ایل این جی کے اصل ریٹس نہیں مل رہے باوجود وشش کے اور انہوں نے خطوط بھی لکھے ہیں لیکن حکومت کسی خaط کا جواب نہیں دیتی یہ وہی کیس ہے اور اب نیب نے عدم تعاون کی بنیادپر شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا ہے البتہ شہباز شریف اور صدیق الفاروق، مریم اورنگزیب اور دوسرے مسلم لیگ ن کے لوگوں کا کہنا ہے کہ بدترین قسم کا انتقام ہے ظاہر ہے جو کنسرن پارٹی ہے جو لوگ گرفتار ہوئے انہوں نے اپنے آپ کا دفاع کرنا ہے یہ بات پرانی نہیں ہے نئی بات ہے کہا جا رہا تھا کہ اس سلسلے میں تعاون نہیں کر رہے ہیں اس سلسلے میں وہ سوالو ںکا جواب نہیں دیتے اور پیش نہیں ہوئے۔ اس کیس میں سارے لوگوں کے نام آئیں گے اور مفتاح اسماعیل نے تو بعد میں بجٹ بھی پیش کیا۔ مشیر بن گئے وزیر کے برابر سٹیٹس بھی مل گیا لیکن ان کے جو پرانے اللّے تللّے ختم نہیں ہوتے جب بھی کیس کھلے گا مفتاح اسماعیل کا نام آئے گا۔ لہٰذا ان کے گھر ٹیم پہنچی ہے لیکن نہیں مل سکے اس لئے ٹیم واپس آ گئی بالااخر ان کی گرفتاری بھی یقینی ہے۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ بدترین انتقام ہے کیسے انتقام ہے ٓاپ اڑھائی تین ڈالر کی چیز وہ 11.50 ڈالر پر خریدتے ہیں اور 15 سال کا معاہدہ کر دیتے ہیں تا کہ ہماری نسلیں بھی فروخت کر دیں کیونکہ ان سے پوچھا جائے۔ کامل علی آغا نے بھی خود بھی یہ کیس سینٹ میں پیش کیا تھا اور بار بار اس ایگریمنٹ کی کاپی مانگی تھی یہ فرمایئے یہ کیس کافی دیر سے چل رہا تھا اب وہ اپنے منطقی انجام تک پہنچا ہے تو اس میں مسلم لیگ تو ایک پارٹی ہے مسلم لیگ ن کے خلاف تو کوئی الزام نہیں ہے سب سے بڑا الزام تو یہی لگایا جا رہا تھا اس وقت سے کہ اڑھائی تین ڈالر ریٹ پر انڈیا نے گیس لی اور ہم نے 17 ڈالر کی لی فرق اتنا زیادہ ہے کہ یہ تو پورا نہیں ہوتا کسی طریقے سے بھی۔
ضیا شاہد نے کہا کہ کل پرسوں وعدہ معاف گواہ بھی سامنے آ رہا ہے تو اور بہت ساری چیزیں واضح ہو جائیں گی۔ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ ہوتے ہیں جو کسی کام میں کسی سکینڈل میں براہ راست ملوث ہوتے ہیں ان کے لئے نکلنا مشکل ہوتا ہے لیکن جو لوگ سائڈ لائن پر ہوتے ہیں وہ پسند کرتے ہیں کہ فوراً وعدہ معاف بنیں اور اپنی جان بچائیں چنانچہ جو بھی حقائق ہیں ان سے پردہ اٹھا کر وہ ایک طریقے سے سکینڈل واصگاف کر دیتے ہیں تو وعدہ معاف گواہ از خود میرے ساتھ گزرا میں نے یہ کام کیا اور میں نے اپنی آنکھوں سے پڑھا یا اپنے کانوں سے سنا اگر وعدہ معاف گواہ آ رہے ہیں واقعی کل پرسوں آ جاتے ہیں تو حقائق آسانی سے سامنے آ جائیں گے۔
مریم اورنگزیب نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اگر وزیراعظم ان ہتھکنڈوں سے باز نہ آئے تو ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ کوشش تو ہو رہی ہے اور اپوزیشن جب مکمل طور پر مایوس ہو جاتی ہے تو پھر یہی کچھ کرتی ہے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ شہباز شریف پر جو الزامات ہیں وہ جو ان کے حق میں دلائل ہیں وہ دیں گے جو دوسری طرف سے حقائق آئیں گے ان کو کنفرم کرنا پڑے گا لہٰذا اب ایک طرح سے ٹسل شروع ہوئی ہے اس دوران ہی حقائق سامنے آئیں گے۔ کامل علی آغا صاحب آپ سینٹ کے ممبر رہے ہیں اب ایک فائٹ جاری ہے سینٹ کے چیئرمین کے حوالے سے۔ کہا جاتا ہے کہ 55 لوگ زیادہ سے زیادہ حکومتی پارٹی جمع کر سکی اور زیادہ تعداد دوسری طرف ہے۔ آپ کے خیال میں حاصل بزنجو کی کامیابی یقینی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آغا صاحب کے حساب سے دیکھا جائے تو پھر کامیابی ان کی ہے لیکن جو دوسری طرف تعداد آ رہی ہے وہ شاید 65 کے قریب ہے 10 ارکان اپوزیشن زیادہ کلیم کرتی ہے۔ بظاہر یہ کافی ٹف مقابلہ ہے اتنا آسان نہیں ہے اپوزیشن کا جیتنا خاص طور پر وہ لوگ جو ملک سے باہر ہیں وہ آتے ہیں یا نہیں آتے، سب سے بڑی اس انتخاب مںی داﺅ پیچ ہوتے ہیں جو لوگ حاضر ہی نہ ہوں ان کا کیا جائے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved