تازہ تر ین

وزیر خارجہ نے کشمیر میں بھارتی بربریت کو انسانی حقوق کونسل کے سامنے رکھ دیا

جنیوا(ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و بربریت کو انسانی حقوق کونسل کے سامنے رکھ دیا۔جنیوا میں انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے 6 ہفتوں سے حریت قیادت کو نظر بندکررکھا ہے، بھارت مقبوضہ وادی میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتاہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بری جیل بنادیا ہے، وادی میں مسلسل کرفیو کے باعث خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے، بھارت کا یہ دعویٰ غلط ہے، کشمیر کے لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا جارہا ہے، بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتےہوئےکلسٹر اور ہیوی بموں کا استعمال کیا، بھارت اپنے مظالم چھپانے کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشتگردی کا رنگ دے رہا ہے، بھارتی قابض افواج کے تشدد سے زخمی افراد کو ہنگامی طبی امداد تک میسرنہیں،کشمیریوں کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت چھ ہفتے سے نظربند اور قید ہے، کشمیر میں کس قانون کے بناءپر 6 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کو کئی بار مذاکرات کا کہا، بھارت نے پاکستان کی مذاکرات کی تمام پیش کش مسترد کیں، بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، بھارت جمہوریت، وفاقیت اور سیکیولرازم کا ڈھونگ رچاتا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نافذ کالے قوانین کی آڑ میں کئی کشمیریوں کو بھارت کی جیلوں میں منتقل کیاگیا ہے، چھ ہفتوں سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کے سب سے بڑے قید خانے میں تبدیل کردیا ہے، مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کو بنیادی اشیائے ضروریہ اور ذرائع مواصلات تک رسائی نہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف دنیا بھر میں اس پر بات ہورہی ہے، غیرجانبدار میڈیا اور مبصرین مقبوضہ کشمیرکے عوام پر بھارتی مظالم کی رپورٹنگ کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قابض بھارتی افواج انتہائی بے رحمی سے لوگوں کو برہنہ کرکے سرعام تشدد کا نشانہ بناتی ہے، قابض بھارتی افواج سال ہا سال سے بے گناہ کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گنزاستعمال کررہی ہے، پیلٹ گنز سے زخمی افراد کو ڈر ہے کہ انہیں گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، وہ اس خوف سے اسپتال نہیں جارہے۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ میں کسی گزرے زمانے کی بات نہیں کررہا، مقبوضہ کشمیر میں یہ بربریت آج ہورہی ہے، اکیسیویں صدی میں مقبوضہ کشمیر میں یہ تمام ظلم وستم ہورہا ہے، مجھے انسانی حقوق کونسل کو کچھ یاد کرانے کی ضرورت نہیں، یہ اقدامات عالمی انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے جس پر بھارت نے بھی دستخط کررکھے ہیں، یہ ’دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت‘ کا حقیقی چہرہ ہے، یہ اس ملک کا طرزعمل ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا آرزو مند ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کا حق خوداردیت دینے سے مسلسل انکاری ہے، سات دہائیوں سے چلا آنے والا کشمیرکا تنازع انصاف کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔شاہ محمود قریشی کاکہنا تھا کہ موجودہ بھارتی حکومت کے مذموم عزائم کی وجہ سے معاملہ مزید سنگین تر ہوگیا ہے، یہ غاصبانہ اقدام بھارتی حکمران جماعت کے منشور میں واضح درج ہے، بھارت بندوق کے زور پر جموں کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، عالمی قانون کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کا بھارتی یک طرفہ اقدامات غیر آئینی ہیں، مسئلہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تنازع تسلیم کررکھا ہے، بھارت کے طرز عمل سے ثابت ہوگیا ہے کہ اس نے جموں وکشمیر پرغیرقانونی قبضہ کررکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کے منافی ہیں، جنیوا کنونشن مقبوضہ خطے سے آبادی کی کسی دوسری جگہ منتقلی کی ممانعت کرتا ہے، جنیوا کنونشن مقبوضہ خطےمیں کسی دوسری جگہ سے آبادی کولاکر بسانے کی بھی ممانعت کرتا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved