تازہ تر ین

فوج کی نگرانی میں انتخابات کے باوجود الزام لگتا ہے کہ دھاندلی ہوئی،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کیا ہے
باقی صفحہ 5بقیہ نمبر 1اور اس کی تشکیل کیسے ہوتی ہے اب جھگڑا کیوں پڑا ہوا ہے کہ ممبر بھی پورے نہیں ہوتے الیکشن کمیشن کے سربراہ ان کی مدت 5 دسمبر کو ختم ہو چکی ہے۔ نیا سربراہ بھی چاہئے اور دو صوبوں کے ممبر بھی چاہئیں۔ اس وقت الیکشن موجود ہی نہیں ہے۔ ہم نے کنور دلشاد صاحب کو دعوت دی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ سابق سیکرٹری الیکشن کمشن کے ان کو اس حوالے سے بہت معلومات ہیں۔
ضیا شاہد: کنور دلشاد صاحب! اس وقت کا مسئلہ کیا ہے اور یہ پرابلم کیوں پیدا ہوا؟
کنور دلشاد: الیکشن کمیشن آف پاکستان اس کا جو ڈھانچہ بنتا آ رہا ہے پاکستان میں جب بھی الیکشن ہوا ہے پاکستان میں ہارنے والی جماعتوں سے ہمیشہ عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اگر ہم 1951ءسے لے کر 2018ءکے تمام الیکشنز کا جائزہ لیں تو جو سیاسی پارٹی الیکشن ہاری اس نے اس رزلٹ کو تسلیم نہیں کیا۔ جب ہمارے ہمسایہ ممالک میں جب بھی الیکشن ہوتے ہیں اس میں کبھی کسی نے اعتراض نہہیں کیا۔ موجودہ الیکشن کمیشن میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج بھی چیف الیکشن کمشنر لگائے گئے۔ ریٹرننگ آفیسر بھی تمام عدلیہ سے لئے گئے۔ اسی طرح تمام انتظامی مشینری میں عدلیہ کی خدمات حاصل کیں اور لاءاینڈ آرڈر کے لئے افواج پاکستان کی خدمات حاصل کیں پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر تا کہ صحیح معنوں میں انتخابات میں کوئی رکاوٹ نہ ہو کوئی ٹمپرنگ نہ ہو۔ بیلٹ پیپرز میں ہیرا پھیری نہ ہو لیکن سارے نتائج پر ہارنے والی جماعتیں اس پر عدم اعتماد کرتی ہیں اس کا کوئی طریقہ کار سوچنا چاہئے اس بارے کوئی ایسی رائے ہو۔ اور سٹیک ہولڈر کے ساتھ بات کی جائے کہ آپ بتائیں کہ کون سا طریقہ کار ہو کہ آپ الیکشن کو صاف شفاف تسلیم کر لیں۔ موجودہ حالات میں لیڈر آف اپوزیشن کی حیثیت سے شہباز شریف نے اور لیڈر آف دی ہاﺅس نے جو نام بھیجے ہیں چیف الیکشن کمشنر کے لئے اس میں کسی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ججز کا ذکر تک نہیں کیا۔ انہوں نے بیوروکریٹس کے نام لکھے ہیں۔ ہماری ساری سول سوسائٹی اور انٹرنیشنل میڈیا بھی کہتا ہے کہ پاکستان میں جتنے بھی انتخابات ہو رہے ہیں یا الیکشن کمشن کی جو مشینری ہے اس پر جوڈیشری کو مقرر کیا گیا ہے اب چاہ رہے تھے کہ بیورو کریٹ آ جائے۔ انڈیا میں جو الیکشن کمشنر یا ممبر الیکشن کمیشن لگایا جاتا ہے اس کا دس سال کا ریکارڈ چیک کیا جاتا ہے اس آﺅٹ سٹینڈنگ بیورو کریٹ کو بھارتی صدر چیف الیکشن کمشنر اور ممبر الیکشن کمشن تعینات کرتا ہے۔ ہمارے نہیں معلوم ان کا بیک گراﺅنڈ تو ہے کہ وہ بیورو کریٹ ہیں لیکن ہمارے ریکارڈ نہیں پتہ۔ اب جو ہماری پارلیمانی کمیٹی ہے اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ بیورو کریسی کے نام آتے ہیں ان کا آپ کم از کم دس سال کا ریکارڈ چیک کر لیں اگر دس سال تک ان کی آﺅٹ سٹینڈنگ رپورٹ ہے تو کنسٹرر کر لیں پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔ چیف الیکشن کمیشن کی بہت بڑی رپورٹ ہے پہلی مرتبہ پاکستان میں بیورو کریٹ کو چیف الیکشن کمشنر لایا جا رہا ہے ہمیں ان کا پورا بیک گراﺅنڈ تو معلوم ہونا چاہئے۔ ان کی آﺅٹ سٹینڈنگ رپورٹ دیکھنی چاہئے کہ وہ واقعی الیکشن کمیشن کے بارے میں ادراک ہے انہیں کیا معلوم ہے الیکشن کیسے ہوتے ہیں مشینری کو کنٹرول کیسے کیا جاتا ہے۔ یہ ہمارے لیڈر آف دی ہاﺅس، لیڈر آف دی ہاﺅس نے اس غور پر نہیں کیا۔ نام آ گئے ہم بھی پڑھ رہے ہیں۔ ہماری نظر میں اچھے نام ہیں ہم ان کی عزت کرتے ہیں ہمیں جو اپنی زندگی میں تجربہ ہوا ہے اپنی زندگی میں ہمیں کوئی شک و شبہ نہیں ہے لیکن حکومت کا کام یہ ہے کہ ان کا پورا ریکارڈ چیک کریں گے کہ کیا ان کو جوڈیشری کا تجربہ، کیا اگر وہ ڈی ایم جی گروپ کے ہیں تو انہوں نے کوئی جوڈیشری کے فیصلے دیکھے ہیں۔ وہ ساری چیزیں دیکھنی پڑتی ہیں جیسا کہ انڈیا میں دیکھا جاتا ہے۔ انڈیا کا چیف الیکشن کمشنر سپریم کورٹ کے جج کے برابر ہوتا ہے لیکن اس کے پاس پورا تجربہ ہوتا ہے۔
سوال: یہ بتایئے کہ ہمارے ہاں یہ ٹرینڈنسی کیوں قائم ہوئی اور کس طرح سے مسلسل برسوں چلتی رہی کہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جو ریٹائرڈ جج صاحبان ہیں ان کو ہی ممبر بنایا جائے ایک بحث شروع ہو گئی کہ انڈیا میں تو بیوروکریٹ بنتے ہیں اور وہ زیادہ بہتر ہوتے ہیں انڈیا کے تو کسی الیکشن میں اتنے الیکشن ہوئے کبھی کوئی بڑے پیمانے پر دھاندلی کا شور نہیں مچا اس کے برعکس پاکستان میں کوئی ایسا ہوا ہی نہیں جس کے بارے میں سب نے کہا ہو کہ جناب کسی قسم کی کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی۔ ذرا انڈیا کے الیکشن کمیشن اور پاکستان کے الیکشن کمیشن کے فرق کو واضح کریں۔ بتائیں کہ انڈیا میں کیا سیف گارڈز لئے جاتے ہیں۔
جواب: سب سے بڑی بات یہ ہے ضیا شاہد صاحب انڈیا کی ہم مثال دیتے ہیں انڈین الیکشن کمیشن بھارتی صدر کے سامنے جواب دہ ہے اور باقاعدہ دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں وہ کسی سیاسی جماعت کے انڈر نہیں ہوتے ان کا صدر بھی جب منتخب ہوجاتا ہے اس کا کوئی نام بھی نہیں جانتا لیکن بہرحال اس کا ایک کنٹرول ہوتا ہے وہ الیکشن کمیشن کے بارے میں تمام چیزوں کو چیک کرتا ہے لیکن ایک اور اہم بات ہے بدقسمتی سے ہماری بیورو کریسی عوام کا اعتماد کھو چکی ہے اور یہ بدقسمتی 1985ءمیں شروع ہوئی۔ 1985ءمیں جب نوازشریف وزیراعلیٰ پنجاب بنے تو سعید مہدی صاحب اور گورنر جیلانی نے کہا کہ آپ اپنی بیورو کریسی کا ایک گروپ تیار کریں تا کہ آپ کے ساتھ کام کر سکے وہ جو 1985ءمیں ہماری بیورو کریسی سیاست دانوں کے ہاتھوں میں کھیل گئی اس کے جراثیم اور اس کے سارے اثرات ابھی تک ختم نہیں ہوئے اور ہماری بیورو کریسی تو کسی نہ کسی جماعت کے ساتھ وابستہ ہے اور وہ باقاعدہ اس کے وفادار ہیں۔ پولیس بھی سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں کھیلتی ہے بیورو کریسی بھی کھیلتی ہے۔ اس وقت ہماری بیوروکریسی میں کوئی آﺅٹ سٹینڈنگ بیورو کریٹ نہیں ہے۔آغا شاہی کی طرح وزارت خارجہ کے جن پر پوری قوم کو اعتماد تھا اب محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہماری بیورو کریسی کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے پنجاب میں‘ سندھ‘ بلوچستان‘ خیبرپختونخوا میں بیورو کریسی سیاسی جماعتوں میں گھری ہوئی ہے ان حالات میں جب الیکشن کروائیں گے تو ظاہر ہے ان کی وفا داریاں کسی نہ کسی پارٹی کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہم نے جوڈیشری سے ریٹرننگ آفیسر لئے ہیں یہ تجربہ بھی ناکام ہوا کہ ان کی وابستگیاں بھی خاص ہوتی ہیں۔ الیکشن کمیشن جب فیصلہ کرتا ہے کسی کرپٹ پریکٹس کے بارے میں تو اس کے اندر کوئی ایسی کمزوری رہ جاتی ہے کہ ہماری ہائی کورٹس کو اس کو ریلیف دینا پڑ جاتا ہے اور وہ پھر ایسا ریلیف دیتی ہے کہ چار چار سال پانچ پانچ سال گزر جاتے ہیں الیکشن نئے آ جاتے ہیں لیکن سٹے آرڈر چلتا رہتا ہے۔ یہ معاملہ بھی دیکھنا پڑے گا۔ انڈیا میں یہ ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلوں انڈیا کی کوئی کورٹ فیصلہ نہیں دیتی۔ جو الیکشن کمیشن نے کہہ دیا ہے اس پر عملدرآمد کروا دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہر فیصلے کے لئے عدلیہ میں جانا پڑتا ہے اور عدلیہ ان کو ریلیف دے دیتی ہے اس طرح الیکشن کمیشن کی طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔
سوال: آپ کے خیال میں پاکستان کے آئین میں الیکشن کمیشن کو جو حقوق دئیے گئے ہیں جو ان کو اختیارات دئیے گئے ہیںکیا آپ کے خیال میں وہ کم ہیں۔
جواب: ول پاور نہیں ہے۔ فیصلہ کرنے میں وہ دائیں بائیں جماعتوں کو دیکھتے ہیں۔ جہاں سے ان کی تقریری ہوئی ہے۔ اب موجودہ سسٹم میں دیکھیں کہ کتنا بڑا عجیب و غریب سسٹم ہے کہ پارلیمانی پارٹی جو ہے وہ الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر کی کر رہی ہے اس میں 12ممبر ہیں 6گورنمنٹ کے 6اپوزیشن کے اب وہ جو بھی الیکشن کمشنر آئے گا یا ممبر الیکشن کمشن آئیں گے وہ ممنون احسان ہوں گے کہ اس نے مجھے نامزد کیا اس نے مجھے پوائنٹ کیا۔ یہ 18ویں ترمیم کے بعد بڑی کمزوری ہے کہ اس میں ہمارے الیکشن کمشن خود غیرجانبداری کی حیثیت کھو بیٹھے ہیں۔ یہ سسٹم تبدیل کرنا پڑے گا۔
سوال: پارلیمانی کمیٹی پر آپ کی تسلی نہیں پھر کون مقرر کرے۔
جواب: پہلے سسٹم میں تھوڑی ترمیم کر لیں۔ پہلے سسٹم میں یہ تھا کہ چیف الیکشن کمشنر صدر پاکستان مقرر کرتا تھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے۔ باقاعدہ روایت رہی اور ممبران کو وہ ہائی کورٹس کے حاضر سروس جج ہوتے تھے۔ وہ متعلقہ چیف جسٹس کی سفارش پر پوائنٹ کیا جاتا تھا۔ اس کو ڈر ہوتا تھا کہ میرے فیصلے میں اگر کوئی غلطی ہو گئی تو میرا کیرئر تباہ ہو جائیگا اور چیف جسٹس بھی دیکھ رہا ہے اب جو ممبران الیکشن کمشن آ رہے ہیں 10-10لاکھ تنخواہ لے رہے ہیں کوئی آﺅٹ پٹ نہیں ہے جب عدلیہ سے آئے تھے تو ان کو کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی۔
سوال: کبھی کوئی بیورو کریسی سے ممبر الیکشن کمشن بنا ہے۔
جواب: دو ممبروں کا تقرر چند ہفتوں تک ہو جائیگا۔
سوال: کتنے ممبر ہوتے ہیں۔
جواب: مشرف کے دور میں جب ترمیم کی گئی چار ممبر رکھے گئے اس سے پہلے الیکشن کمیشن کے دور ممبر ہوتے تھے۔ حیرانگی کی بات ہے جب ملک میں مارشل لاءلگتا ہے تو ممبر چار ہوتے تھے۔ انڈیا کی 1½ارب کی آبادی میں 35صوبوں میں ایک ممبر الیکشن ہوتا ہے اور ایک چیف الیکشن کمشنر ہیں اب انہوں نے 2002ءمیں ایک اور بڑا اضافہ کر دیا اب انڈیا میں 2ممبر ہے اور چیف الیکشن کمشنر ہے۔ ہمارے ہاں چار ممبر‘ یہ چار ممبروں کا معاملہ سمجھ نہیں آ رہا۔ بنگلہ دیش میں 2ممبر۔
سوال: ہر صوبے سے ایک کمیشن کا ایک ممبر ہو گا۔ کیا یہ آئین کا حصہ ہے۔ یا یہ روایت ہے۔
جواب: یہ روایت ہے۔ آئین کا 20آرٹیکل 217‘ 213اس میں لکھا ہے کہ چار ممبروں پر مشتمل الیکشن کمشن ہو گا۔
سوال: انتخابات پر عدم اعتماد کا اظہار تواتر سے ہوتا ہے کوئی ایسی جماعت نہیں جس نے الیکشن میں دھاندلی کی شکایت نہ کی۔ انتخابی قوانین ایسے ہونے چاہئیں جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو اتفاق ہو۔
جواب: اب چونکہ عدلیہ سے الیکشن کمشن نہیں آ رہا تو ممکن ہے جو آئندہ الیکشن ہوں گے ہمارے جو چیف جسٹس ہیں عدلیہ جو ہے وہ الیکشن کمشن کی معاونت سے انکار کر دیں۔ تب ڈپٹی کمشنر ہی الیکشن کروائے گا وہی صورتحال پیدا ہو جائے گی جو 2018ءتک الیکشن کو انہوں نے متنازعہ قرار دیا ہوا ہے۔ کوئی ایسا راستہ نظر نہیں آ رہا کہ ہماری پارلیمنٹ میں پارٹیاں بیٹھی ہیں وہ سب بیٹھ کر سوچیں کہ کیا راستہ اختیار کیا جائے کہ الیکشن صاف شفاف ہو جائیں۔ ایک الیکشن 2008ءمیں ایسا ہوا کسی جماعت نے اس پر عدم اعتماد نہیں کیا تقریباً الیکشن ٹربیونل میں بھی بہت کم درخواستیں گئیں۔ انٹرنیشنل میڈیا نے مبصرین نے اس کو بہتر قرار دیا جیسے پاکستان کے حالات تھے۔ 2018ءمیں الیکشن ٹھیک ہوئے لیکن الیکشن کمیشن سے تھوڑی بہت غلطی ہوئی ہے کہ آر ٹی ایس کا نظام بیٹھ گیا اس میں انکوائری نہیں کی برطرف نہیں کیا۔ بھئی کس کی غلطی ہے۔ افواج پاکستان پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر اس لئے ہوتی ہے کہ انڈر ٹمپرنگ نہ ہو۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved