لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اس وقت تک پوری دنیا میں کرونا وائرس کے بارے میں اس قدر معلومات پھیلائی جا چکی ہیں اور اس قدر متضاد باتیں سامنے آئی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہا گیا کہ یہ ایک سازش کے تحت چین میں وائرس پھیلایا گیا ہے۔ چائنا میں اس شہر کو بھی سیل کر دیا گیا ہے جہاں یہ سب سے زیادہ تھا ور ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے یہ وائرس پھیلایا ہے۔ یہ بات کہی جاتی ہے کہ چین کے عوام کی خوراک ٹھیک نہیں ہے وہ سانپ، چھپکلیاں اور چمگادڑ کھا جاتے ہیں جس سے یہ وائرس پھیلا ہے۔ تو پھر یہ باقی دنیا میں کیسے پھیل گیا۔ پاکستان کے اندر اخبارات میں چینلز میں اس کے حساب سے تو یہ پاکستان میں بھی آ چکا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے پاکستان کون سی بات تسلیم کی جائے۔ اگر سرکاری اعداد و شمار تسلیم کی جائے۔ اگر سرکاری اعداد و شمار تسلیم کئے جائیں کہ ہم نے اس پر قابو پا لیا ہے اور ہم اس پر بڑی دیکھ بھال کر رہے ہیں اگر وہ بات تسلیم کر لی جائے تو ڈاکٹر عاطف کی بات وہ صحیح ثابت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ اس وقت فیلڈ میں ہیں اور سرکاری اعلانات ہمیشہ یہی ہوتے ہیں کہ ہم نے بندوبست کر لیا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ بندوبست کر لیا گیا ہے اس پر کوئی خصوصی طور پر کوئی کمیٹی، ادارہ یا اتھارٹی بننی چاہئے جو اس کو فوری طور پر دیکھے کہ ہم کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔ کس طریقے سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ چین کے بعد سب سے زیادہ خطرہ پاکستان میں ہے۔ کیونکہ چین سے سب سے زیادہ ٹریفک پاکستان کی طرف کھل رہی ہے، ایتھوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا میں پاکستانی بھیک مانگتے دکھائی دیئے انسانی سمگلنگ دنیا میں ہر جگہ پائی جاتی ہے لیکن پاکستان میں جس پیمانے پر بیروزگاری کی وجہ سے پاکستان سے باہر جانا چاہتے ہیں ایتھوپیا میں لوگ بغیر ویزے کا بھی جا سکتے ہیں وہاں ان انسانی سمگلروں نے پاکستانیوں کو لا کر چھوڑ دیا اور پھر وہاں بھیک مانگ رہے ہیں۔ ظاہر ہے وہ سکلڈ لیبر نہیں ہیں وہ کوئی کام نہیں جانتے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ہنر ہے کہ وہ کما کے کھا سکیں۔ حکومت کو فوری طور پر اس کا نوٹس لینا چاہئے جن لوگوں نے ان لوگوں کو باہر بھیجا ہے ان کی گرفتاریاں ہونی چاہئیں اور ان کو سخت سے سخت سزائیں دینی چاہئیں۔ افسوس ہوا کہ ہم پاکستان کے بارے میں دنیا میں داستانیں سنتے رہتے ہیں اب نئی ایک داستان سننے میں آئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ تو غربت ہے جس جگہ بھی تھوڑی سی بنتی ہے کہ ہم کس ملک میں جا سکتے ہیں تو لوگ بھاگ پڑتے ہیں۔ اس واقعے پر کیوں ایکشن نہیں لیا گیا۔
آئی جی سندھ کی تبدیلی ایک سوالیہ نشان ہے۔ ہمیشہ سے سندھ میں آئی جی کا مسئلہ درپیش ہے۔ اصل میں سندھ میں پولیس میں اتنی کرپشن ہے جو شخص بھی آئی جی ہوتا ہے وہ جس طریقے سے فائدہ اٹھاتا ہے تو پھر یہ داستانیں پھیلتی ہیں اور ہر ایک حد تک سے پہنچ جاتی ہے تو پھر کہا جاتا ہے اس کو بدل دیا جائے۔ سرکاری ملازمین کا یہ کہنا کہ ہم مرے ہوئے ہاتھی بھی سوا لاکھ کے ہیں اور ہمیں کوئی نہیں ہو سکتا۔ یہ بغاوت کے ذیل میں آتا ہے۔ اس قسم کی گفتگو کرنے والے کسی بھی شخص کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کرنا چاہئے ایک آئی جی پولیس میں اتنا حوصلہ کس طرح سے پیدا ہوا کہ اس قسم کی گفتگو کرے کہ ہاتھی مرا بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔ اچھا ہمیشہ سندھ کے آئی جی کے بارے میں کیوں بات ہوتی ہے۔






































