تازہ تر ین

بھارت کرتارپور راہداری میں دہشت گردی کرا کے ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا تھا،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد ے کہا ہے کہ کردار پور راہداری کے معاملے میں بھارت اس لئے پریشان ہے کہ پوری دنیا میں یہ شور مچ جائے گا کہ پاکستان نے ازحود یہ کام کیا اور یہ خود کروایا اصل سازش تو یہ ہے کہ اسرائیل اور انڈیا نے یہ کام کیا ہے۔ کشمیر کے سلسلے میں ہم جتنے جذباتی اور بیت المقدس کے سلسلے میں عالم اسلام کی دونوں ایشوز پر کوئی 10 فیصد بھی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ کشمیر کے سلسلے میں تو لگتا ہے سب اپنے منہ کنگنیاں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پوری دنیا میں اسرائیل کے مصر کے ساتھ صحیح ہیں سعودی عرب عرب امارات کے ساتھ صحیح ہیں اور اب بہت سارے ممالک ترکی کے ساتھ صحیح ہیں اور اب لگتا یہ ہے کہ صرف پاکستان ہی ایک ملک رہ گیا ہے کہ جو ہر جگہ پر اسرائیل کا مخالفت کرتا ہوا دکھای دیتا ہے اور پوری دنیا میں اسرائیل اس وجہ سے پاکستان کے مخالف جا کر کتنا فاصلہ طے کر کے انڈیا کے ساتھ معاہدے کر کے اور انڈیا کی جو فوج ہے انڈیا کی جو انٹیلی جینسوں کو مضبوط کر رہا ہے۔ نوازشریف اور آصف زرداری نے سکیورٹی کے نام پر 2 کھرب ضائع کئے ہیں اور حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ بات الزام برائے الزام تک تو صحیح ہے باقی اصل تو اس کی نظر نہیں آتی جتنے الزام لگے تھے ان کی تو وصولی ہوئی، نہیں تو ان سے کھرب روپے کی کیا وصولی ہو گی۔ پانامہ کا جو کیس تھا وہ پاکستان کا کیس نہیں تھا وہ دنیا بھر کا کیس وہ سارے کا سارا انٹرنیشنل ایشو تھا۔ اس لئے پاکستانپر پریشر پڑا اور اسی بنیاد پرفیصلہ ہوا۔ وہ فیصلہ پاکستان نے نہیں کیا۔ اگر حکومت واقعی کچھ کرنا چاہتی ہے تو ہمیں اگلے ایک مہینے میں نظر آنا چاہتے ہیں کہ کس طرح سے ان سے 2 کھرب واپس لے رہے ہیں لیکن اگر صرف باتیں ہی باتیں ہوئیں تو یہ پھر ہمیشہ کی طرح سے ایک الزام برائے الزام ہی سمجھا جائے گا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے 17 ماہ ہو گئے ہیں عمران خان کی ایمانداری پر کوئی حرف نہیں آتا۔ لیکن وعدے پورے نہیں ہو سکے۔ اگلے ایک ہفتے میں اندازہ ہو جائے گا کہ حکومت اس مسئلے پر کتنی سنجیدہ ہے۔ اگر یہ ہی الزام برائے الزام ہی رہا تو اس کا تحریک انصاف کی حکومت پر بُرا اثر پڑے گا۔ چار پاکستانی طلباءمیں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے وہ چین میں موجود ہیں۔ پوری دنیا میں اب یہ معاملہ عہدیدار ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ حکومت پاکستان اس پوزیشن کے اندر جا کر ایک صوبے میں ایک علاقے میں 4 پاکستانیوں کی مدد کر کے گا ان کا ان تک پہنچنا بھی مشکل ہے لہٰذا میرا خیال ہے کہ سوائے صبر کرنے کے اور دیکھنے کے اب اور کیا کر سکتے ہیں ہم احتیاطی تدابیر ہی کر سکتے ہیں۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain