تازہ تر ین

کراچی طیارہ حادثہ،شہداءکی تدفین شروع،10,10 لاکھ امداد کا اعلان، وزیراعظم کے حکم پر تحقیقات شروع

کراچی(اے این این )گزشتہ روز قومی ائیرلائن پی آئی اے کی پرواز کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 97 ہوگئی جب کہ صرف 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔لاہور سے کراچی آنے والی قومی ائیرلائن کی پروازپی کے 8303 ائیرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگئی جس میں 91 مسافر اور عملے کے7 ارکان سوار تھے۔محکمہ صحت کے مطابق 66 لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جن میں 20 خواتین، 43 مرد اور 3 بچے شامل ہیں۔محکمہ صحت کے مطابق تمام لاشوں کا جناح اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا گیا اور 16 لاشوں کی شناخت کی گئی جب کہ دیگر کی لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔محکمہ صحت نے بتایا کہ سول اسپتال میں 31 لاشیں منتقل کی گئی ہیں جن میں 6 خواتین اور 25 مرد ہیں۔محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ سول اسپتال میں صرف 3 میتوں کی شناخت ہوئی جب کہ 28 لاشوں کی شناخت نہیں ہو پائی ہے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے سول اور جناح اسپتال سے اب لاشوں کو ایدھی سردخانہ سہراب گوٹھ اور ایف ٹی سی چھیپا سردخانہ منتقل کردیا گیا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق تمام لاشوں کے ڈی این اے کے لیے نمونے لینے کے بعد منتقل کیا گیا جب کہ اب تک صرف 19 لاشوں کی شناخت ہوسکی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر)نے بھی جائے حادثہ سے 97 لاشیں نکالنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صرف 2 مسافر محفوظ رہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقے کے 25 مکانات کوکلیئرکردیا گیا ہے اور متاثرہ مکانات کے رہائشی مختلف مقامات پررہائش پذیر ہیں۔نادرا ترجمان کا کہنا ہےکہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے زیادہ ترافراد کی لاشیں جھلسی ہوئی ہیں جوناقابل شناخت ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ 3 جاں بحق افراد کے موقع پرانگوٹھوں کے نشان لیے گئے جس میں سے 2 لاشوں کی نادرا نے شناخت کرلی ہے۔دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ لاشوں کی شناخت کے لیے ٹیم میں تین فوکل پرسن تعینات کیے ہیں تاہم جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل ڈی این اے کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بتایا کہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی جنید احمد ٹیم کی سربراہی کریں گے، ڈی ایس پی رستم سول اسپتال میں تعینات ہوں گے جب کہ جناح اسپتال میں ڈی ایس پی آفتاب عالم ڈیسک کی نگرانی کریں گے۔دوسری جانب طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کی شناخت کرنے کے لیے پنجاب فرانزک لیب کی ٹیمیں لاہور سے کراچی پہنچ گئیں۔اس حوالے سے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے سربراہ ڈاکٹر طاہر اشرف نے نجی ٹی وی سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی ایشیا کی سب سے بڑی لیبارٹری ہے اور حکومت پنجاب نے سندھ حکومت کی مشاورت سے فرانزک ٹیمیں کراچی بھیجی ہیں۔ڈاکٹر طاہر اشرف نے کہا کہ 8 فرانزک سائنسدانوں پر مشتمل تین ٹیمیں کراچی بھیجی گئی ہیں تاکہ لاشوں کے نمونے لے کر شناخت کی جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ فرانزک ٹیمیں آج نمونے اکٹھا کرنا شروع کریں گی جو میتوں، ان کے والدین، بہن بھائی یا اولاد میں سے کسی کے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نمونے لاہورپہنچتے ہی فرانزک ایجنسی دن رات کام کرےگی اور 24 گھنٹوں بعد ڈی این اے نتائج دینا شروع کردیں گے، اس سلسلے میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے سائنسدانوں کی عید چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔ڈاکٹر طاہر اشرف کا کہنا تھا کہ زیادہ جھلسی ہوئی لاشوں کے دانت یاہڈیوں سے ڈی این اے لیا جائےگا۔ادھر قومی ائیرلائن پی آئی اے نے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تدفین کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان کے مطابق طیارے میں شہید ہونے والوں کے جسد خاکی لواحقین کے حوالے کرنے کا عمل جاری ہے اور لواحقین کو تدفین کے لیے پی آئی اے کے قوانین کے مطابق 5 لاکھ روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر تدفین کےلیے فی کس 10 لاکھ روپے ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ تدفین کے اخراجات پی آئی اے کے ڈسٹرکٹ مینیجرز خود لواحقین کے گھر جا کے ادا کریں گے۔ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ جائے حادثہ سے تمام لاشیں نکال لی گئی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی ائیرلائن کی پرواز کو پیش آنےوالےحادثےکے نتیجے میں جہاز کے عملے سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے۔ وزیراعظم کی ہدایات پرتحقیقاتی ٹیم نے کراچی میں تباہ ہونے والے پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقات شروع کردیں۔ذرائع کے مطابق ٹیم نے باقاعدہ طور پر تحقیقات کا آغاز کردیا اور ایک ماہ میں اپنی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ تحقیقاتی ٹیم نے جہاز کی لاگ بک، بلیک باکس اور کوئیک ایکسیس ریکارڈر طلب کر لیا۔اس کے علاوہ ٹیم کی جانب سے جہاز کاریکارڈ، منٹیننس ریویو سرٹیفیکیٹ، فلائنگ ہسٹری، پائلٹس کا ڈیٹا بھی طلب کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم آج کراچی میں ایئرٹریفک کنٹرولر، پی آئی اے انجینئرنگ عملہ سے بھی معلومات حاصل کرے گی اور آخری پرواز آپریٹ کرنے والے پائلٹ سے جہاز سے متعلق معلومات اکھٹی کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارہ حادثے کی تحقیقات چار حصوں پر مشتمل ہوگی، پہلے متاثرہ جہاز کی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائےگی، پی آئی اے انجینئر ڈیپارٹمنٹ اور سول ایوی ایشن ایئر وردی نیس ڈیپارٹمنٹ کے جہاز سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لیا جائے گا۔ تباہ شدہ جہاز کے متاثرہ حصوں انجنوں، لینڈنگ گیئرز اور دیگر حصوں کا معائنہ کیا جائے گا اور آخر میں متاثرہ جہاز کے بلیک باکس کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے فرانس بجھوایا جائےگا۔وزیر اعظم عمران خان نے پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کی اصولی منظوری دی تھی اور ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم فوری طور پر حادثہ کی تحقیقات شروع کرے۔ دوسری جانب وزارت ہوابازی کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی باضابطہ منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا مسافر بردار طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا، جہاز میں 91 مسافر اور عملے کے 7 افراد سوار تھے جن میں سے 96 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوگئی جب کہ دو افراد زندہ بچ گئے۔


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved