(ویب ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف جو گیم کھیل رہے ہیں وہ بہت خطرناک ہے، یہی کام الطاف حسین نے کیا تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ ان کے پیچھے 100 فیصد انڈیا ہے کیونکہ پاکستان کی فوج کمزور کرنے میں ہمارے دشمنوں کی دلچسپی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’میں ان سے کہتا ہوں کہ خدا کے واسطے اپنی آنکھیں کھولیں اور لیبیا، عراق، شام، افغانستان، یمن اور پوری مسلم دنیا میں لگی آگ دیکھیں اور اگر آج ہماری پاکستانی فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہو جاتے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’انڈیا کے تھنک ٹینک باقاعدہ طور پر کہتے ہیں کہ پاکستان کو توڑنا ہے اور ہم اسی فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں۔‘
’جنرل باجوہ نے پوچھ کر ملاقات کی تھی‘
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’جنرل باجوہ نے مجھ سے پوچھ کر ملاقات کی تھی۔‘
عمران خان کا کہنا تھا ’گلگت بلتستان کے لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ہوں اور ایک کشمکش میں ہیں، انڈیا اس کا استعمال کر رہا تھا اس لیے جنرل باجوہ نے سکیورٹی کے مسئلے سے آگاہ کیا جو ہمارا دشمن آگے جا کر مسئلہ اٹھا رہا ہے۔’
وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا نے ملک میں شیعہ سنی انتشار کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ہماری ایجنسیوں نے ناکام بنایا اور اسلام آباد میں لوگوں کو پکڑا، بی جے پی کی موجودہ حکومت جیسی انڈیا میں پاکستان مخالف کوئی حکومت نہیں آئی۔‘
’مجھے اپوزیشن کی کوئی فکر نہیں‘
اپوزیشن کے کردار پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’یہ جو مرضی چاہے کر لیں، مجھے ان کی کوئی فکر نہیں، باہر بیٹھ کر فوج اور عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ دباؤ بڑھا کر کسی نہ کسی طرح بیٹھ کر مشرف کی طرح این آر او مل جائے۔‘
اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کی جانب سے کیے گئے استعفے کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم استعفیٰ دے گا تو ان کی چوری بچ جائے گا اور باقیوں سے یہ ڈیل کریں گے جو نہیں ہو گا، ان کے پاس پرامن احتجاج کا حق ہے۔

