آزری فوج کے ہاتھوں آرمینیا سے آزاد کرائے گئے علاقے میں اذان کی گونج

(ویب ڈیسک)آزربائیجان کی فوج کے ہاتھوں آرمینیا کے قبضے سے آزاد کرائے گئے علاقہ جبرائیل اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھا۔

آزر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے نگورنو کاراباخ کے معاملے پر 27 ستمبر سے چھڑپیں جاری ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر کی گئی گولہ باری اور میزائل حملوں میں اب تک 700 کے قریب فوجی اور سول شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ روز دونوں ممالک کے درمیان دوسری مرتبہ عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا جس کے بعد دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ رک گیا۔

پاکستان میں آزربائیجان کے سفیر علی علی زادہ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اردو میں لکھا کہ ’آرمینیائی قبضے سے آزاد ہوئے آزربائیجان کے جبرائیل میں دی گئی ’اذان‘ کی پہلی اواز۔‘

علی علی زادہ نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں بتایا کہ آزری فوج نے آرمینیا سے آزاد کرائے گئے شہر ’فضولی‘ میں آزربائیجان کا قومی پرچم لہرا دیا۔

اس کے علاوہ آزری سفیر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے یہ بھی بتایا کہ آزربائیجان کی فوج نے آرمینیا کے قبضے سے جبرائیل کے 13 علاقے آزاد کرا لیے ہیں۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک متنازع سرحدی علاقے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں، ‘ناگارنو کاراباخ’ کا علاقہ باضابطہ طور پر آذربائیجان کا حصہ ہے لیکن آرمینیا کے نسلی گروہ نے 1990 کی جنگ میں آرمینیا کی مدد سے یہاں قبضہ کرلیا تھا اور اب یہ آرمینیائی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

آرمینیائی اور آزربائیجان کی فوجوں کے درمیان اکثر اس علاقے میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، رواں سال جولائی میں بھی اسی طرح کے ایک تصادم میں دونوں جانب کے 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بلال مقصود کے بعد محسن عباس بھی یوٹیوب پر مذہبی مواد مونیٹائز نہ کرنے کے خواہاں

(ویب ڈیسک)میوزک بینڈ اسٹرنگز کے رکن اور نامور کمپوزر و گلوکار بلال مقصود نے رواں برس اگست میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوٹیوب پر مذہبی مواد کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیے۔

بلال مقصود نے یوٹیوب پر مذہبی مواد سے متعلق تشویش کا اظہار کیا تھا اور منافع بخش تنظیموں کی جانب سے مارکیٹنگ کے مقاصد سے اس میں مداخلت کو پریشان کن قرار دیا تھا۔

انہوں نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ یوٹیوب پر سورتوں اور دعاؤں کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیے۔

بلال مقصود نے لکھا تھا کہ تصور کریں آپ یوٹیوب پر سورۃ رحمٰن کی تلاوت سن رہے ہیں اور درمیان میں کسی لان یا کوکنگ آئل کا اشتہار آجائے، یہ انتہائی بے ادبی ہے۔

گلوکار کی پوسٹ پر اکثر مداحوں نے بھی ان خیالات سے اتفاق کیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں بھی ایسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تاہم کچھ لوگوں نے بلال مقصود کی پوسٹ پر تنقید بھی کی تھی اور کہا کہ یہ اشتہارات ان افراد کو مالی فائدہ پہنچانے کے لیے ہیں جنہوں نے دنیا تک کچھ اچھا پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

تاہم اب اداکار محسن عباس نے یوٹیوب پر مذہبی مواد کو مونیٹائز نہ کرنے سے متعلق بلال مقصود کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری میں ایک اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میں نے یہ یوٹیوب پر چاروں قُل چلائے اور یہ ایڈ آیا۔

محسن عباس حیدر نے کہا کہ میں بلال مقصود سے اتفاق کرتا ہوں کہ اور یوٹیوب پر قرآنی آیات /سورتوں کو مونیٹائز کرنا بند کیا جائے۔

مصباح سے کوئی اختلاف نہیں، ان کا ورک لوڈ کم کیا ہے: چیئرمین پی سی بی

(ویب ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین احسان مانی نے تسلیم کیا ہے کہ پی ایس ایل کا فنانشل ماڈل پی سی بی کے حق میں تھا، فرنچائزز کو ہر ممکن حد تک سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔

جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں چئیرمین پی سی بی احسان مانی نے پی ایس ایل اور پی سی بی تنازع کے بارے میں کہا کہ پی ایس ایل ہماری ایک خاص پراپرٹی ہے، پاکستان اور عوام کے لیے یہ برانڈ بہت ضروری ہے، ایسے اختلافات کبھی نہیں چاہیں گے کہ اس کو نقصان پہنچے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل اور پی سی بی نے جس معاہدے پر دستخط کیے ہوئے ہیں، وہ بہت زیادہ پی سی بی کے حق میں ہے۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا یہاں اگر تھوڑا سا بھی کچھ تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو انکوائریز شروع ہو جاتی ہیں، آڈٹ ہونے لگ جاتا ہے، ہم جس حد تک پی ایس ایل فرنچائزز کو اکاموڈیٹ کر سکے کریں گے کیونکہ ہم نے اسے نئی بلندیوں پر لے کر جانا ہے، اس سے پاکستان کرکٹ کا ہی فائدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے آئندہ ماہ ایسا کچھ پیش کریں گے جس سے پی ایس ایل تگڑی ہو گی، ہم نے پی ایس ایل کو نمبر ون لیگ بنانا ہے۔

پی ایس ایل کا اگلا ایڈیشن بھی پاکستان میں کرانے کیلئے پرامید ہیں: احسان مانی

چئیرمین احسان مانی پر اعتماد ہیں کہ پاکستان سپر لیگ کا اگلا ایڈیشن بھی موجودہ حالات میں پاکستان میں کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنی لیگ یو اے ای میں کرائی ہے، وہاں کورونا وائرس کے

کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں جب کہ ہمارے ہاں حالات بہتر ہیں، اوسط 500، 600 کیسز سامنے آ رہے ہیں، ہماری حکومت نے اس حوالے سے بڑی محنت کی جس پر ان کی تعریف کرنی چاہیے، ڈبلیو ایچ او نے بھی پاکستان کی تعریف کی ہے، موجودہ حالات میں بڑی تسلی اور اعتماد ہے کہ ہم پی ایس ایل کا اگلا ایڈیشن یہاں کرا سکیں گے۔

جب چئیرمین احسان مانی سے پوچھا گیا کہ پی سی بی پیٹرن انچیف وزیراعظم خان کے کہنے پر ہی آپ نے چئیرمین شپ قبول کی اور اس کا اظہار آپ اکثر کرتے ہیں تو کیا وزیراعظم تین برس کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی آپ کو ذمہ داریاں نبھانے کا کہتے ہیں تو کیا آپ ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے؟

اس حوالے سے احسان مانی نے کہا کہ ابھی اس حوالے سے کوئی بات نہیں، بلیک اینڈ وائٹ کچھ نہیں ہے، جب میں آئی سی سی میں تھا تو مجھے مدت پوری ہونے کے بعد بھی دو برسوں کے لیے پھر کہا گیا لیکن میں نے ایک برس مزید لیا تھا، جہاں تک پی سی بی کی مدت کا تعلق ہے تو جب وقت آئے گا دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے اور اس پر تب بات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا ایک بات طے ہے کہ جب میں نے عہدہ سنبھالا تھا اور کہا تھا کہ پی سی بی میں یہ کرنا ہے، اپنے اہداف مقرر کیے تھے، کوشش ہو گی کہ جب میری مدت ختم ہو وہ سب کچھ پورا ہوا ہو۔

اب ہم پاکستان میں بڑے کرکٹ ایونٹس کروا سکتے ہیں: سربراہ پاکستان کرکٹ بورڈ

‏‏چئیرمین پی سی بی نے کہا کہ اب پاکستان میں میجر ایونٹس ہو سکتے ہیں، اب تک جتنے ایونٹس ہوئے اور سیریز کا انعقاد ہوا ہے ان کی سب نے تعریف کی ہے۔

ان کا کہنا تھا پی ایس ایل کے میچز کے دوران 28 سے 30 ہزار تماشائی اسٹیڈیمز آئے، میچز کے انعقاد میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کی پیشکش کی ہوئی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہم ایونٹس کرا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں انفرا اسٹرکچر کو بہت بہتر کرنا ہے، ہمیں 5 سے 10 ارب روپے درکار ہیں اور یہ پیسے بورڈ نے خود خرچ کرنے ہیں، پی سی بی خود سرمایہ کاری کرے گا، ہمیں اسٹیڈیمز کو ورلڈ کلاس بنانا ہے، سال دو سال کے اندر ہم اس حوالے سے کام شروع کریں گے۔

مصباح پر سے ورک لوڈ کم کیا گیا: احسان مانی

احسان مانی نے کہا کہ مصباح الحق کے حوالے سے ہمارے درمیان کوئی تضاد نہیں پایا جاتا، جب مصباح الحق کو ذمہ داریاں دی گئی تھیں تو سوچا یہی گیا تھا کہ ایک ہی شخص کے پاس یہ ذمہ داریاں ہوں تاکہ کوچ اور سلیکٹرز کے درمیان فرق کو کم کیا جا سکے، شروع سے ارادہ تھا کہ ایک سال کے بعد جائزہ لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا مصباح الحق کو بھی اس وقت علم تھا کہ ایک سال کے بعد جائزہ لیا جائے گا اور اگر ورک لوڈ زیادہ ہوا تو اس ورک لوڈ کو کم کیا جائے گا، اب بھی سب ورک لوڈ کم ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔

کرکٹ کمیٹی کا ہونا ضروری ہے: چیئرمین پی سی بی

‏چئیرمین پی سی بی نے کرکٹ کمیٹی کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے معاملات کرکٹرز کو دیکھنے ہیں اور اس کے لیے کرکٹ کمیٹی کا ہونا ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے کرکٹ کمیٹی میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا محسن خان نے اچھا کام کیا، انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ چیف سلیکٹر بننے میں دلچسپی رکھتے تھے، انہوں نے عزت سے عہدہ چھوڑ دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اقبال قاسم کے بارے میں امید تھی کہ وہ کام آگے بڑھے گا کیونکہ وہ اچھے ایڈ منسٹریٹر ہیں، وہ چاہتے تھے کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو جاری رہنا چاہیے لیکن ڈپارٹمنٹل کرکٹ تو ختم ہو گئی ہے، اب اس کا پاکستان کرکٹ میں کوئی رول نہیں ہے، پی سی بی اور ان کی سوچ میں فرق تھا تو وہ چھوڑ گئے۔

کراچی: مزار قائد کے تقدس کی پامالی کا الزام، کیپٹن (ر) صفدر گرفتار

کراچی(ویب ڈیسک): پولیس نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرلیا۔

اس حوالے سے مریم نواز نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ’پولیس نے کراچی کے اس ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا جہاں میں ٹھہری ہوئی تھی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو گرفتار کرلیا‘۔

کراچی کے ضلعی شرقی کے پولیس تھانہ بریگیڈ میں وقاص احمد نامی شخص کی مدعیت میں مزار قائد کے تقدس کی پامالی اور قبر کی بے حرمتی کا مقدمہ درج کیا گیا۔

مذکورہ مقدمہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر200 نامعلوم افراد کے خلاف قائداعظم مزار پروٹیکشن اینڈ مینٹیننس آرڈیننس 1971 کی دفعات 6، 8 اور 10جبکہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506-بی کے تحت درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں مدعی نے دعویٰ کیا کہ کیپٹن (ر) صفدر اور ان کے 200 ساتھیوں نے مزار قائد کا تقدس پامال، قبر کی بے حرمتی، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی۔

خیال رہے کہ مزار قائد آرڈینس کی دفعہ 6 کی رو سے کسی شخص کو بھی مزار قائد کے اندر اور بیرونی احاطے سے 10 فٹ کے فاصلے تک کوئی اجلاس، مظاہرہ، جلسہ یا کسی قسم کی سیاسی سرگرمی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

آرڈیننس کی دفعہ8 کے مطابق کسی شخص کو ایسا فعل یا سلوک اختیار کرنے کی اجازت نہیں جو قائد اعظم کے مزار کے تقدس اور وقار کے لیے توہین آمیز ہو۔

اس کے علاوہ دفعہ 10 کے تحت مذکورہ دفعات کے خلاف عمل کرنے پر قید کی سزا ہے جس کی مدت 3 سال تک بڑھائی جاسکتی ہے یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایت پر نہیں ہوئی،صوبائی وزیر

صوبائی وزیر تعلیم سندھ اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایات پر نہیں ہوئی۔

ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس کا یہ اقدام پی ڈی ایم کی جماعتوں میں خلیج پیدا کرنے کی سازش کا حصہ ہے جسے ہم ناکام بنائیں گے۔

سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ مزار قائد پر کیپٹن صفدر نے جو کچھ کیا وہ نامناسب تھا لیکن جس انداز میں کراچی پولیس نے گرفتاری کی ہے وہ قابل مذمت ہے۔

علی زیدی کا انتباہ

خیال رہے کہ وفاقی وزیر بحری امور اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما علی زیدی نے چیف سیکریٹری سندھ اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کو انتباہ دیا تھا کہ ’مزار قائد ہر ہنگامہ کرنے والے غنڈوں‘ کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے تنبیہہ دی تھی کہ اگر انہیں کراچی سے جانے دیا گیا تو اپ انہیں فرار ہونے دینے کے براہ راست ذمہ دار ہوں گے اور جرم میں معاونت فراہم کرنے والے تصور کیے جائیں گے۔

بعدازاں وفاقی وزیر علی زیدی نے مزارِقائد کی بے حرمتی کرنےوالے ’اوباشوں‘ کے خلاف ’آئی جی سندھ کی فوری کارروائی‘ کی تعریف کی۔

علی زیدی نے کہا کہ قانون ہرحال میں نافذ بونا چاہئیے، مریم نواز ایک مرتبہ پھرجھوٹ بول رہی ہیں کہ ہوٹل کادروازہ توڑاگیا، ویڈیو اس کے برعکس ہے، آپ کو کوئی ہتھکڑی دکھائی دے رہی ہے یا لگتا ہے کہ اسے زبردستی گرفتار کیا گیا ہے۔

مزار قائد پر نعرے بازی کا معاملہ

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنما گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے۔

باغ جناح میں ہونے والے جلسے میں شرکت سے قبل رہنماؤں اور کارکنان نے مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی تھی۔

جیسے ہی فاتحہ ختم ہوئی تو قبر کے اطراف میں نصب لوہے کے جنگلے کے باہر کھڑے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے مریم نواز کے حق میں نعرے لگانے شروع کیے جس پر کیپٹن (ر) صفڈر نے بظاہر مزار قائد پر اس طرح کے نعرے لگانے سے روکنے کا اشارہ کر کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگایا اور یہ بھی مزار قائد کے پروٹوکول کے خلاف تھا۔

اس دوران مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما خاموش کھڑے رہے لیکن کیپٹن (ر) نے ایک اور نعرہ لگانا شروع کردیا ’مادر ملت زندہ باد‘ اور ہجوم نے بھی اس پر جذباتی رد عمل دیا۔

یہ صورتحال چند لمحوں تک جاری رہی جس کے بعد مریم نواز اور دیگر افراد احاطے سے نکل گئے۔

مذکورہ واقعے کو سوشل میڈیا صارفین نے توہین آمیز قرار دیا اور مسلم لیگ (ن)، کیپٹن(ر) صفدر پر برہمی کا اظہار کیا۔

دوسری جانب اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کارکنان 10 گھنٹے سے مسلسل احتجاج کرتے ہوئے تھانے کے باہر موجود تھے۔

کارکنان کے علاوہ پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان، حلیم عادل شیخ، راجہ اظہر سمیت دیگر اراکین بھی تھانے کے باہر موجود تھے۔

مقدمے کے حوالے سے ایک ٹوئٹر پیغام میں پی ٹی آئی کراچی کے صدر نے کہا کہ 10 گھنٹوں کے بعد مریم نواز، کیپٹن(ر) صفدر اور 200 ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، پاکستان میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔

پی ڈی ایم کا اتحاد غیر فطری ،جلسوں سے حکومت نہیں جائے گی:وفاقی وزرا

ملتان(ویب ڈیسک): وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) سے متعلق کہا ہے کہ لوگوں کی رائے میں یہ ایک غیر فطری اور منفی اتحاد ہے کیونکہ اس کا نہ جھنڈا ایک ہے، نہ منشور اور نہ ہی لیڈر ایک ہے۔

ملتان میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی صورت میں ملک کے خلاف سازش کی جارہی ہے لیکن میں اپنے کاروباری حضرات اور تاجروں سے اپیل کروں گا کہ وہ اپنی بقا، خوشحالی اور سلامتی کے لیے اس سازش کا شکار نہ ہوں۔

وزیر شاہ محمود قریشی نے پی ڈی ایم کے پہلے جلسے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بلاول بھٹو تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو مسلم لیگ (ن) کے ووٹرز آپس میں باتوں میں لگے ہوئے تھے جبکہ بہت سے لوگوں نے پنڈال سے جانا بھی شروع کردیا تھا اور مولانا فضل الرحمٰن نے خالی اسٹیڈیم میں مکمل خطاب کیا، جس کی ویڈیوز بھی موجود ہیں مجھے وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چند روز قبل میں چند وزرا کے ہمراہ ایک مشاورتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے لاہور گیا تھا، جس کے بارے میں ایک پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کچھ وزرا یہ سازش کرنے آئے ہیں کہ جلسے کو ناکام کیسے بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں جلسے کو ناکام نہیں کرنا تھا کیونکہ ہمیں ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی اور ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم ان کے جلسے کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں بنیں گے اور انہیں فری ہینڈ دیں گے جبکہ آپ نے دیکھا کہ ہم نے ایسا ہی کیا۔

دوران گفتگو شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کے کارکنان کو گرفتار کیا جارہا ہے، وہ یہ بتائیں کہ کون گرفتار ہوا، جلسے میں سب رہنما موجود تھے، یہ صرف ہمدردیاں حاصل کرنے اور ناکامی کے خوف سے کہا گیا تاکہ اگر جلسے میں کوئی اونچ نیچ ہوجائے تو ہم کہہ سکیں کہ گرفتاریاں ہوئیں تھیں جبکہ حقیقت میں نہ کوئی گرفتاری ہوئی اور نہ ہی کوئی ایسا ارادہ تھا۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی عمل سے گزرے ہوئے ہیں، کبھی جلسوں کو روکا نہیں جاتا، لوگوں میں اتنا شعور ہے کہ وہ جلسوں میں آتے بھی ہیں، سنتے بھی ہیں اور خود فیصلہ کرتے ہیں، وہ میرے اور آپ کے کہنے پر فیصلہ نہیں کریں گے، انہیں فیصلے کرنے آتے ہیں اور وہ وقت پر کرتے ہیں‘۔

وفاقی وزیر کا پی ڈی ایم کے رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایک 11 رکنی ٹیم کے کھلاڑی نے کہا کہ دسمبر سے پہلے ہم حکومت کو رخصت کردیں گے، یہ کیسے کریں گے اور کیوں کریں گے، دنیا میں کہاں یہ روایت ہے کہ ایک منتخب اور آئینی حکومت کو سڑکوں پر جلسے کرکے رخصت کیا جاسکے، یہ ماضی کی وہ روایات ہیں اور انہی روایات نے پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے گزشتہ حکومتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) نے 5 سال پورے کیے ہیں، ان کا دور اب ختم ہوچکا ہے، اگر آپ کے لوگ عدالتی فیصلوں سے متاثر ہوجائیں تو اس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کیا قصور ہے اس پر عمران خان کو ذمہ دار کیسے ٹھہرایا جاسکتا ہے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے حکومت کے خلاف سازش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان کو رخصت کریں گے، آپ جو کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اس سے آپ نظام کو رخصت کرسکتے ہیں اور نظام کو رخصت کرنے سے آپ کے ہاتھ کچھ نہیں آنے والا۔

وزیر نے مزید کہا کہ ایک حکومت جو منتخب ہوئی ہے، ایک حکومت جو آئینی ہے، ایک حکومت جسے بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا گیا ہے آپ خوابوں اور خواہشات سے اسے رخصت نہیں کر پائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری سازش جو آپ کرنا چاہتے ہیں وہ معیشت کی بحالی میں روڑے اٹکانا ہے، پوری قوم جانتی ہے کہ پہلے تو آپ نے معیشت کس شکل میں ہمارے حوالے کی اور اب اس مشکلات کے باوجود ہمیں کورونا جیسی وبا کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کئی ماہ سے معیشت اس سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اب جب معیشت بحال ہونا شروع ہوئی ہے تو میں اپنے کاروباری حضرات اور تاجروں سے اپیل کروں گا کہ وہ اپنی بقا، خوشحالی اور سلامتی کے لیے اس سازش کا شکار نہیں ہوں گے، وہ باشعور لوگ ہیں وہ کاروباری لوگ ہیں، وہ آپ کی لفاظی میں اس طرح نہیں بہہ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو آپ کا خیال ہے اور معیشت کی بحالی کی راہ میں جو سازش کرنا چاہ رہے ہیں وہ انشااللہ پروان نہیں چڑھے گی۔

بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلاول نے اپنی تقریر میں کشمیر کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے آئین کے آرٹیکل 370 کو حذف کردیا، بلاول آپ کو شاید اس کا علم نہیں کہ پاکستان نے 370 کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ آج میں اس پریس کانفرنس کے ذریعے بلاول سے کہنا چاہتا ہوں کہ بیٹا! آپ ہندوستان کے بیانیے کے حصے دار نہ بنیں، آپ اپنے بیانات سے کشمیریوں کو اور ان کی جدوجہد کو دکھ نہ پہنچائیں، انہیں مایوس نہ کریں اور میں بتانا چاہتا ہوں کہ کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم ایک ہے اور ایک رہے گی۔

پہلی بار مزار قائد کے اندر سیاسی نعرے تقدس پامال،ووٹ کو عزت دو کے نعرے

(ویب ڈیسک)خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنما گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے۔

باغ جناح میں ہونے والے جلسے میں شرکت سے قبل رہنماؤں اور کارکنان نے مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی تھی۔ جیسے ہی فاتحہ ختم ہوئی تو قبر کے اطراف میں نصب لوہے کے جنگلے کے باہر کھڑے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے مریم نواز کے حق میں نعرے لگانے شروع کیے جس پر کیپٹن (ر) صفڈر نے بظاہر مزار قائد پر اس طرح کے نعرے لگانے سے روکنے کا اشارہ کر کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگایا اور یہ بھی مزار قائد کے پروٹوکول کے خلاف تھا۔

اس دوران مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما خاموش کھڑے رہے لیکن کیپٹن (ر) نے ایک اور نعرہ لگانا شروع کردیا ’مادر ملت زندہ باد‘ اور ہجوم نے بھی اس پر جذباتی رد عمل دیا۔

یہ صورتحال چند لمحوں تک جاری رہی جس کے بعد مریم نواز اور دیگر افراد احاطے سے نکل گئے۔

مذکورہ واقعے کو سوشل میڈیا صارفین نے توہین آمیز قرار دیا اور مسلم لیگ (ن)، کیپٹن(ر) صفدر پر برہمی کا اظہار کیا۔

دوسری جانب اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کارکنان 10 گھنٹے سے مسلسل احتجاج کرتے ہوئے تھانے کے باہر موجود تھے۔

کارکنان کے علاوہ پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان، حلیم عادل شیخ، راجہ اظہر سمیت دیگر اراکین بھی تھانے کے باہر موجود تھے۔

اقتدار نہیں آزادی کی لڑائی ہے،فضل الرحمٰن،مریم نواز، بلاول بھٹو

(ویب ڈیسک)گوجرانوالا کے بعد کراچی میں بھی اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک نے بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا اور باغ جناح میں ہونے والے جلسے سے مرکزی قائدین نے خطاب کیا۔

اپوزیشن اتحاد نے کراچی میں مزار قائد کے سامنے باغ جناح میں پنڈال سجایا جہاں جلسہ عام میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جب کہ خواتین کی بھی بڑی تعداد جلسہ گاہ میں موجود تھی۔

جلسے میں سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر مہنگائی اور دیگر مطالبات درج تھے۔

جلسے میں کارکنوں کا جذبہ قابل دید تھا، وہ پارٹی کے نغموں اور ترانوں پر جھومتے رہے۔

ہمیں کٹھ پتلی حکومت قبول نہیں: فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا خطاب میں کہنا تھا کہ کراچی سے ہم نے آزادی مارچ کا آغاز کیا اور آپ نے خلوص سے ہماراساتھ دیا،پی ڈی ایم کا مقصد آزاد جمہوری فضاوں کو بحال کرنا ہے، ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ کہ ہم دھاندلی کے نتیجے میں قائم حکومت کو تسلیم کرلیں، ہمیں ڈرایا دھمکایا گیا، لالچ دی گئی، ہم ڈرنے والے نہیں، اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کٹھ پتلی حکومت قبول نہیں اور اس کے ہاتھ پر بیعت کیلئے تیار نہیں، گوجرانوالا میں تاریخی جلسہ ہوا، نواز شریف کی تقریر کے کچھ حصوں پر بڑا اعتراض تھا، کٹھ پتلی کو موقع ملاتو سوچا بوٹ پالش کرلیں لیکن ہمیشہ یہ جب بھی بات کرتا ہے تو بونگی مارلیتا ہے۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ریاست کی بقاء کا دارومدار اقتصادی اور معاشی قوت پر ہوتا ہے، نواز حکومت نے سالانہ معاشی ترقی کا تخمینہ ساڑھے چھ فیصد لگایا تھا لیکن نا اہل حکومت سالانہ معاشی تخمینہ ایک عشاریہ چھ پر لے آئی، جب معیشت تباہ ہوتی ہے تو ملک تباہ ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اس حکومت کو تسلیم کرلیں، عزت نفس کو قربان کرکے ہم نے زندگی گزارنا نہیں سیکھا، ہم پاکستان کو حقیقی آزادی سے ہمکنار کرنے کا علم سربلند رکھیں گے، ایک کروڑ نوکریاں دینے کا خواب 26 لاکھ نوجوانوں کی بیروزگاری پر ختم ہوا۔

کشمیر کے حوالے سے سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر پر غداری کے مقدمے سے ہندوستان خوش ہوا، کشمیری پاکستانی ہیں ، کشمیر پاکستان کا ہے۔

اٹھارویں ترمیم پر ان کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم پاس کرکے ہم نے کسی حد تک صوبوں کو خودمختاری دی تھی، سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر قبضہ اٹھارویں ترمیم اور آئین کے خلاف ہوگا، جزائر سندھ اور بلوچستان کے ہیں، ان پر سندھ اور بلوچستان کے عوام کاحق ہے ، ایسی کوئی ترمیم قبول نہیں کی جائے گی جس سے لوگوں کے حقوق میں کمی آئے، اگر سندھ کے عوام نہیں چاہتے تو کسی کا باپ سندھ کو تقسیم کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔

بلاول کا آئی لینڈز آرڈیننس واپس لینے کیلئے حکومت کو بدھ تک الٹی میٹم

جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے تاریخی دن ہے، کارساز کے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں، تمام آزادیوں کا ضامن جمہوری نظام ہے، حکمران اپنے فرض ادا کرنے سے منکر ہیں، آج غریب مہنگائی کی چکی میں پس رہےہیں، وزیراعظم کو منہگائی کی خبر ٹی وی سے ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کیلئے نیب کا اندھا قانون اور وزیراعظم کے ساتھیوں کیلئے عوام کے پیسے ہیں، پنجاب کے ساتھ ایک مذاق کیا جارہاہے، سندھ کے حقوق پر ڈاکے ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ بلوچستان اور سندھ کے جزائر پر ایک آرڈیننس کے ذریعے قبضے کی کوشش کی جاتی ہے، وفاق کو آرڈیننس واپس لینا پڑے گا، سندھ میں ایک طوفان اٹھ رہا ہے، اگر آپ آرڈیننس واپس نہیں لیتے تو ارکان پارلیمنٹ کو کہتاہوں سینیٹ میں اس آرڈیننس کو لات مار کرباہر کردیں، یہ جزائر یہاں کے مچھیروں کے ہیں، ہم آپ کو ان جزائر پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نالائق، نااہل وزیراعظم کو جانا پڑے گا، گرفتار کرنا چاہتے ہو تو شوق پورا کرو مگر یاد رکھنا عوام خاموش نہیں بیٹھیں گے، اگر ہمیں جیلوں میں ڈالا جائےگا تو ہماری حق کی صدائیں جیلوں کی دیواریں ہلا دیں گی۔


بڑوں کی لڑائی میں بچوں کا کوئی کام نہیں: مریم نواز

کراچی میں جلسہ عام سے خطاب میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہنا تھا کہ کراچی والوں نے جتنی محبتیں مجھ پر نچھاور کیں، پوری زندگی اس محبت کا قرض ادا نہیں کرسکوں، انشاءاللہ کراچی سے رفاقت پوری زندگی نبھاؤں گی۔

مریم نواز کا کہنا تھاکہ گزشتہ روز ایک شخص چیخ چیخ کر اپنی ناکامی اور شکست کا ماتم کررہا تھا، ابھی ایک جلسہ ہوا اور تم گھبرانا شروع ہوگئے، ایک ہی جلسے میں دماغی توازن کھو بیٹھے ہو، وزیراعظم کی کرسی کی ہی لاج رکھ لی ہوتی، تقریر کے ایک ایک لفظ اور آپ کی حرکات سکنات سے خوف جھلک رہا تھا اور یہی خوف آپ کے چہرے پر قوم دیکھنا چاہتی ہے۔

رہنما ن لیگ کاکہنا تھاکہ نواز شریف نے آپ کے دھرنے میں پریشر نہیں لیا، آپ کو حسرت رہے گی نواز شریف نے کیوں تقریر میں تمہارا نام نہیں لیا کیونکہ بڑوں کی لڑائی میں بچوں کا کوئی کام نہیں ہے، آپ پہلے تابعدار ملازم تھے، اب وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر تنخواہ دار ملازم ہو۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کا نام لینا پسند نہیں کرتیں اور نہ ہی اسے وزیراعظم تسلیم کیا ہے، مجھے کہا کہ بچی ہے اور نانی ہے، میں دو بچوں کی نانی ہوں اور فخر کرتی ہوں، یہ بہت خوبصورت رشتہ ہے، آپ نے یہ بات کرکے مقدس رشتے کی توہین کی ہے۔

جلسہ گاہ کے انتظامات

پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی کے مطابق جلسے کے لیے 180 فٹ لمبا، 60 فٹ چوڑا اور 20 فٹ اونچا اسٹیج بنایا گیا۔

سعید غنی کا کہنا ہے کہ شرکاء کے لیے پانی کی وافر مقدار میں فراہمی کے لیے گراؤنڈ میں مختلف مقامات پر سبیلیں لگائی گئی ہیں جب کہ پیپلز ڈاکٹرز فورم کی جانب سے میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا۔

سیکیورٹی انتظامات

جلسہ گاہ اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے  اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی تعینات کیا گیا۔

 وی آئی پیز کے لیے مخصوص راستے کے علاوہ اسٹیج کی سیکیورٹی پر پولیس کے اسپیشل سیکورٹی یونٹ کے کمانڈوز تعینات کیے گئے جب کہ جلسہ گاہ اور اسٹیج کے اطراف کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کی گئی۔

افغان صوبے غور میں دھماکا، 20 افراد جاں بحق

افغانستان کے صوبے غور میں پولیس ہیڈ کوارٹر میں ہولناک دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 20 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔

افغان میڈیا کے مطابق دھماکا صوبہ غور کے دارالحکومت فیروز کوہ میں پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب ہوا جس میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر کھڑی بارودی مواد سے لیس گاڑی کو ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔ دھماکےکی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے قریبی عمارتیں بھی تباہ ہو گئیں۔

ریسکیو ذرائع کا کہناہے کہ زخمیوں اور لاشوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جبکہ علاقے کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ واقعے کے بعد ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ۔

کامران اکمل زیادہ بار ٹونٹی ٹونٹی میں صفر سے دوچار ہونیوالے ملکی بلے بازوں میں دوسرے نمبر پر آگئے

وکٹ کیپر بلے باز خیبرپختونخواہ کیخلاف 26 ویں مرتبہ بغیر کوئی رن بنائے پوویلین لوٹے تھے

لاہور(ویب ڈیسک) سینٹرل پنجاب کے وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں زیادہ مرتبہ صفر کی خفت سے دوچار ہونے والے دوسرے پاکستانی بلے باز بن گئے ۔ راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں خیبرپختونخواہ کے خلاف میچ میں کامران اکمل نے عمران خان سینئر کا سامنا کیا اور 6 گیندوں کھیلنے کے باوجود بغیر کوئی رن بنائے وکٹوں کے پیچھے کیچ آئوٹ ہوگئے ،یہ کامران اکمل کے ٹونٹی ٹونٹی کیریئر میں 26 واں موقع تھا جب وہ صفر کی خفت سے دوچار ہوئے جس کے ساتھ وہ زیادہ بار صفر پر آئوٹ ہونے والے ملکی بلے بازوں میں دوسرے نمبر پر آگئے،کسی پاکستانی کی جانب سے اس فارمیٹ میں زیادہ بار صفرپر آئوٹ ہونے کا منفی ریکارڈ کامران اکمل کے چھوٹے بھائی عمر اکمل کے پاس ہے جواب تک 27 مرتبہ بغیر کوئی سکور بنائے آﺅ ٹ ہوئے ہیں ، قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی 24 مرتبہ بغیر کوئی رن بنائے پوویلین لوٹے،سابق ٹی ٹونٹی کپتان محمد حفیظ اور فاسٹ باﺅلر سہیل تنویر 23،23 مرتبہ صفر پر آﺅٹ ہوچکے ہیں ،قومی اوپنر احمد شہزاد 17 مرتبہ اپنے نام کے آگے انڈہ درج کروا کر پوویلین لوٹے، آل رائونڈر عماد وسیم اور وہاب ریاض 16،16 مرتبہ بغیر کوئی رن بنائے پوویلین لوٹے ہوئے ہیں ،خرم منظور بھی 15 مرتبہ صفر پر آﺅٹ ہوچکے ہیں ،سابق کپتان شعیب ملک بھی 14 مرتبہ صفر کی خفت سے دوچار ہوئے ہیں،عمر گل اور یاسر عرفات 13،13مرتبہ بغیر کوئی رن بنائے پوویلین لوٹے،فاسٹ باﺅلرمحمد سمیع، شاداب خان اورآصف علی بھی 12،12 مرتبہ صفر کی خفت سے دوچار ہوئے،لیگ سپنر یاسر شاہ اور سابق آل راﺅنڈر اظہر محمود 11،11 مرتبہ صفر کی خفت سے دوچا ر ہوئے، قومی وائٹ بال کپتان بابراعظم اور فاسٹ بائولر سہیل خان بھی 10،10 مرتبہ بغیر کوئی رن بنائے پوویلین لوٹ چکے ہیں۔

سابق ویسٹ انڈین بلے با زڈیون سمتھ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ 28 مرتبہ صفر پر آﺅٹ ہوچکے ہیں۔

عمران خان خود مان گئے کہ وہ پہلے نقلی وزیراعظم تھے: وزیر اعلیٰ سندھ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے خود کہا کہ اب اصلی وزیراعظم سامنے آئے گا یعنی وہ خود مان گئے پہلے نقلی وزیراعظم تھے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے عوام فیصلہ سنا چکے ہیں ، حکومت کے پاس گھر جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا اب کیسز تیزی سے چلیں گے۔ کیا وہ عدلیہ پر الزام لگا رہے ہیں؟ عدلیہ کو وزیراعظم کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے۔ وزیراعظم نے عدلیہ پر الزام عائد کر دیا کہ میں تیزی سے کام کراؤں گا۔ان کا کہنا تھا کہ جزائر پر آرڈیننس غیر آئینی ہے. سندھ کابینہ نے آرڈیننس واپس لینے کے لیے وفاق کو خط بھی لکھا ہے۔ صوبے کے لوگ اپنی زمین پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اندر سے گھبرائے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے خود کہا کہ اب اصلی وزیراعظم سامنے آئے گا۔ وہ خود مان گئے پہلے نقلی وزیراعظم تھے۔ملک کی معاشی صورتحال اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بے حس حکومت نے مہنگائی کا طوفان برپا کیا ہے۔ عوام پس کر رہ گئی ہے۔ پاکستان کے عوام ظلم اور مہنگائی کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔