وزیراعظم کی صوبائی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو بھی حکمت عملی بنارہے ہیں اس میں دیہاڑی دار مزدور پہلی ترجیح ہیں، ذخیرہ اندوز کسی نرمی کے مستحق نہیں، صوبائی حکومتیں ان کے خلاف سخت ایکشن لیں۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال اور ملک میں اشیائے ضروریہ کی بلاتعطل فراہمی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جب کہ صوبوں میں کورونا سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں حکومتی ریلیف پیکج کو مستحق افراد تک پہنچانے کے لیے رضاکار فورس کی حکمت عملی طے پا گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو خصوصی ٹاسک سونپا جائے گا اور ہزاروں پارٹی عہدے داروں کو کورونا ریلیف ٹائیگرز پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ہر شہری کو کردار ادا کرنا ہوگا، مجھے یقین ہے قوم متحد ہوکر اس آزمائش کا مقابلہ کرے گی، محدود وسائل کے باوجود ہر سرکاری ادارہ بہترین کام کررہا ہے، جو بھی حکمت عملی بنا رہے ہیں اس میں دیہاڑی دار مزدور پہلی ترجیح ہے، ہنگامی حالات میں تمام وسائل قوم پر لگائیں گے۔
وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوز کسی نرمی کے مستحق نہیں، صوبائی حکومتیں ان کے خلاف سخت ایکشن لیں۔ وزیراعظم نے شاہراہوں پر گڈز ٹرانسپورٹ بحال رکھنے سے متعلق وفاقی وزیر مراد سعید کو ٹاسک سونپتے ہوئے کہا فوڈ چین میں کسی صورت رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ کل قوم کے سامنے جامع روڈ میپ رکھوں گا، مشکل وقت میں لیڈر شپ کا امتحان ہوتا ہے، گھبراہٹ میں کئے جانے والے فیصلے درست نہیں ہوتے۔

کورونا ٹائیگر پروگرام؛ 18 سال سے زائد عمر کے صحت مند نوجوان شامل ہوں گے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم کے کورونا ریلیف ٹائیگرز پروگرام پر کام عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے، وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کو لائحہ عمل سے آگاہ کر دیا ہے، 18سال سے زائد عمر کے صحتمند نوجوان سٹیزن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کرائیں گے، ملک بھر سے رجسٹرڈ رضاکار ضلعی انتظامیہ اور این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر کام کریں گے، ڈپٹی کمشنرز، اے سی، ٹی ایم اوز اور ارکان پارلیمنٹ رضاکاروں کو سہولیات فراہم کریں گے۔ ضلعی و تحصیل انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر کورونا ریلیف ٹائیگرز کو ذمہ داریاں تفویض کرے گی۔کورونا ریلیف ٹائیگرز کی نشاندہی پر انتظامیہ اور پولیس فوری کارروائی کریں گی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں معاون خصوصی برائے یوتھ افیئرز عثمان ڈار,پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، چیئرمین نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور سٹیزن پورٹل کے فوکل پرسن عادل سعید صافی شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران ٹائیگر فورس کی تشکیل کا طریقہ کار طے کر لیا گیا، وزیراعظم نے ہنگامی صورت حال کے پیش نظر بروقت پیشگی اقدامات کی ہدایت کی۔ وزیراعظم خود بھی نوجوانوں کے لئے خصوصی پیغام ریکارڈ کروائیں گے۔ پروگرام کے مطابق رضاکار این ڈی ایم اے کے ساتھ ملکر گھروں میں راشن پہنچائیں گے، رضاکار اشیائے ضروریہ کے لیے جگہ اور سٹوریج کا بندوسبت کریں گے۔شہروں اور دیہات میں قائم قرنطینہ مراکز کے انتظامات میں بھی حصہ لیں گے، کورونا ریلیف ٹائیگرز گھروں میں قرنطینہ ہوئے لوگوں کی دیکھ بھال بھی کریں گے۔رضاکار ہسپتالوں اور عوامی مقامات پر لوگوں کو گائیڈ لائنز فراہم کریں گے اور بے روزگار افراد کا ڈیٹا اکٹھا کریں گے۔ کورونا کے مشتبہ مریضوں سے متعلق معلومات بھی اکھٹی کریں گے ، کورونا ریلیف ٹائیگرز لاک ڈاون پر عملدرآمد یقینی بنانے میں انتظامیہ اور پولیس کی مدد کرینگے۔ رضاکار ذخیرہ اندوزی اور زائد قیمتوں سے متعلق بھی نشاندہی کریں گے، رضاکار اعلانات اور جنازوں کے انتظامات میں بھی حصہ لیں گے۔ کورونا ریلیف ٹائیگرز کو متعلقہ سرکاری افسران روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ دینگے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نوجوان ہنگامی حالات میں مدد کیلئے تیار رہیں،پاکستان کو افراتفری کی صورت حال سے بچانے کے لئے پیشگی اقدامات ضروری ہیں، امید ہے نوجوان قومی فریضہ سمجھتے ہوئے اپنا بہترین کردار ادا کرینگے، چین میں بھی لاک ڈاون کے دوران نوجوانوں نے ہی ذمہ داری سے فوڈ سپلائی بحال رکھی تھی۔

پنجاب میں کورونا مریض سے میل ملاپ جاننے کیلئے کانٹیکٹ ٹریسنگ سسٹم متعارف

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریض کے لوگوں سے میل ملاپ سے متعلق جاننے کے لئے کانٹیکٹ ٹریسنگ سسٹم متعارف کرادیا گیا ہے۔کورونا وائر س کے سلسلے میں انتظامی امور، طبی سہولیات کی فراہمی اور سپلائی چین کے جائزے کیلئے چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا ہے۔ جس میں سینئر ممبر بورڈ اآف ریونیو،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، کمشنر لاہور ڈویڑن اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔چیف سیکریٹری پنجاب نے ہدایت کی کورونا وائرس کے سلسلے میں عوام میں اعتماد بڑھایا جائے کیونکہ کورونا وائرس کیخلاف جنگ عوام کے تعاون کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی، آئندہ کورونا وائرس کے مشتبہ مریض کی نشاندہی پرپولیس کی بجائے صرف انتظامیہ اور محکمہ صحت کا عملہ رابطے میں رہے گا، چیک پوائنٹس پر دشواری سے بچنے کیلئے اشیاءضروریہ، ادویات اور طبی آلات کی ٹرانسپورٹیشن کرنے والے متعلقہ کمپنیوں کے لیٹر ساتھ رکھیں۔سیکرٹری پرائمری صحت کیپٹن (ر) محمد عثمان نے بتایا کہ کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریض کے لوگوں سے میل ملاپ سے متعلق جاننے کے لئے کانٹیکٹ ٹریسنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، اس عمل میں پی آئی ٹی بی کے علاوہ محکمہ تعلیم کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سیکرٹری خوراک نے بتایا کہ تمام اضلاع میں گندم کی وافر مقدار فراہم کر دی گئی ہے،کسی بھی ضلع میں آٹے کی کوئی کمی نہیں ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے کورونا کے مشتبہ و مصدقہ مریضوں سے متعلق پالیسی جاری کردی

پشاور(ویب ڈیسک) محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے کورونا وائرس کے مشتبہ و مصدقہ مریضوں کو قرنطینہ اور آئسو لیشن میں رکھنے کے حوالے سے پالیسی جاری کردی۔ڈی جی ہیلتھ خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری پالیسی میں قرطینہ اور آئسولیشن کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ صوبے بھر کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران سمیت اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، ایم ٹی آئی اسپتالوں کے میڈیکل ڈائریکٹرز اور قرطینہ کے انچارجز کو صوبائی ہیلتھ ڈائریکٹریٹ نے پالیسی ارسال کردی ہے۔پالیسی کے مطابق قرنطینہ کا مطلب مشتبہ شخص کو 14 دن کے لئے دوسروں سے الگ رکھنا ہے، کورونا پھیلنے کے سبب کسی بھی شخص کو 14 دن کے لئے قرنطینہ کیا جاسکے گا جب کہ مذکورہ شخص میں 14 دن کی قرنطینہ مدت گزارنے کے بعد علامات ظاہر نہ ہونے کی صورت میں مشتبہ مریض کو کلیئر قرار دیا جائے گا۔پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ اگر 14 دن میں مشتبہ شخص میں وائرس کے حوالے سے علامات ظاہر ہوں تو اسے 7 دن کے لئے آئسولیشن میں رکھا جائے گا۔ آئسولیشن میں 7 دن بعد مریض کا ٹیسٹ کیا جائے گا مثبت آنے پر دوبارہ آئسولیشن میں رکھا جائے گا جبکہ پانچ دن بعد دوبارہ ٹیسٹ اور وائرس کے خلاف مریض کا علاج جاری رکھا جائے گا۔آئسولیشن ایک رسپانس اسٹریٹجی ہے جو کہ متاثرہ مریض سے انفیکشن دوسروں تک منتقلی کی روک تھام کے لئے ہوتا ہے اور بیمار شخص کو متعدی مرض کے ساتھ جو بیمار لوگ نہیں ہوتے ان سے الگ رکھا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں جس شخص میں بھی قرطینہ کی متعین کردہ مدت کے بعد کسی قسم کے انفیکشن کی علامات ظاہر ہوتی ہیں تو اس کو علحیدہ کیا جاتا ہے تاکہ اس کےلئے مزید اقدام کئے جاسکیں۔اسی طرح پالیسی میں قرطینہ میں رکھے گئے افراد کے مابین محفوظ فاصلے، جگہوں کی لازمی صفائی ستھرائی اور مستقل مانیٹرنگ کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پیٹرول پمپس صبح 8 سے شام 5 بجے تک کھلیں گے، محکمہ داخلہ سندھ

کراچی(ویب ڈیسک) محکمہ داخلہ سندھ نے پیٹرول پمپس اور ٹائر پنکچر شاپس کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق شہر میں واقع پیٹرول پمپس صبح 8 سے شام 5 بجے تک کھلیں گے البتہ ٹائر پنکچر کی دکانیں کھلی رہیں گی، پابندی کا اطلاق صوبے کے تمام شہروں اور قصبوں پر ہوگا۔محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق پیٹرول پمپس کو بھی مقررہ اوقات کے بعد بند کرایا جائے گا تاہم ہائی ویز پر قائم پیٹرول پمپس کھلے رہیں گے، محکمہ داخلہ سندھ نے تمام کمشنرز ڈی آئی جیز کو مراسلہ ارسال کردیا۔

دیہاڑی دار تک راشن یا کوئی اور مدد پہنچانے کا مکنزم بنانا چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ہم ایسا مکنزم بنانا چاہتے ہیں کہ دیہاڑی دار تک راشن یا کوئی اور مدد پہنچائی جائے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت کورونا ایمرجنسی فنڈ کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں وزیر توانائی امتیاز شیخ، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، ڈاکٹر باری، مشتاق چھاپرا اور دیگر نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 2017ءکے مردم شماری کے حساب سے سندھ میں 50 ملین آبادی ہے اور صوبہ میں 10 ملین یا 1.4 ملین خاندان روزانہ اجرت پر گزارا کرتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ غریب لوگوں خاص طور جو روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں ان خاندانوں کو راشن یا نقد رقم سے مدد کی جائے، ہمارے ہاں اوسطً 7 افراد کا خاندان ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میرے دل پر بوجھ ہے کہ ان غریب لوگوں کی مدد کی جائے، ہم صرف ان معاملات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح اصل حق دار خاندانوں کی مدد کی جائے، ہم ایسا مکنزم بنانا چاہتے ہیں کہ دیہاڑی دار تک راشن یا کوئی اور مدد پہنچائی جائے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے ایک ریلیف انیشیٹو ایپ بھی بنائی ہے، اس ایپ پر شناختی کارڈ کے ذریعے دیہاڑی دار کو رجسٹر کرنے کی بھی تجویزہے۔

کورونا وائرس کی روک تھام میں چین کی مدد کے شکرگزار ہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان کورونا وائرس کی روک تھام میں چین کی مدد کا شکرگزار ہے۔اسلام آباد میں کورونا کی وبا پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی معاونت کے لیے آنے والے چینی ماہرین کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف چینی حکومت کے اقدامات سے متاثر ہیں، چینی حکومت نے کورونا وائرس کے خلاف بروقت اور موثر اقدامات کیے، بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو چین میں مزید نقصان ہوتا،چین نے 60 ملین افراد کو قرنطینہ میں رکھ کر تاریخ رقم کی، چین نے اپنے ملک سے باہر جانیوالوں کی مکمل اسکریننگ کی، دنیا کو کورونا وائرس کے خلاف چین کے اقدامات سے سیکھنا ہوگا۔معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے 1560کیسز ہیں، پاکستان میں چین سے کورونا وائرس کا کوئی مریض نہیں آیا، چین سے پاکستان آنے والے افراد 14روز قرنطینہ میں رہے۔ حکومت نے چین سے پاکستانی طلبہ کو واپس نہ لانے کا مشکل فیصلہ کیا، چینی حکومت نے پاکستانی طلبہ کا خیال رکھا۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ چین نے مشکلات کے باوجود پاکستان کا ساتھ دیا، چین کے طبی عملے کی پاکستان آمد حوصلہ افزا ہے، مشکل وقت میں ساتھ دینے پر پاکستانی حکومت اور عوام چین کے شکرگزار ہیں، چین کے طبی عملے کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں، چینی وفد اور امداد سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور چینی طبی عملے کی آرا سے مستفید ہوں گے۔ پاکستان میں ہیلتھ پروفیشنلز کی تربیت کا پروگرام شروع کررہے ہیں۔

بھارت میں لاک ڈاون؛ سلمان خان کا 25 ہزار مزدوروں کی مدد کا اعلان

ممبئی(ویب ڈیسک) بھارت بھر میں کورونا وائرس کے پیش نظر 21 روزہ لاک ڈاون کی وجہ سے متاثر ہونے والے فلم انڈسٹری کے 25 ہزار سے زائد لوگوں کی مدد کے لیے سلمان خان میدان میں آگئے۔دنیا بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے ہوئے کورونا وائرس نے بھارت کو بھی جکڑ رکھا ہے جس کی حفاظت کے پیش نظر مودی سرکار نے بھارت بھر میں 21 روز کے لیے مکمل لاک ڈاون کر رکھا ہے۔اس صورتحال کی وجہ سے جہاں ملک بھر کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں تو وہیں بالی ووڈ انڈسٹری سے وابستہ یومیہ بنیادوں پر کمانے والے 25 ہزار سے زائد مزدور بھی فاقہ کشی کا شکار ہوگئے ہیں۔مشکل کی اس گھڑی میں ان مزدوروں کی مدد کے لیے بالی ووڈ سلطان نے میدان میں آنے کا فیصلہ کیا ہے اور 25 ہزار مزدوروں کو راشن فراہم کرنے کا بھی کہا ہے۔ اس حوالے سے فلمی انڈسٹری کی ایک تنظیم نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے سب سے زیادہ دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوا ہے اس ضمن میں سلمان خان کی تنظیم نے اس مزدوروں کی مدد کرنے کا کہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ہمارے پاس باقاعدہ طور پر 5 لاکھ مزدور ہیں جن میں سے 25 ہزار مزدورں کو مالی مدد درکار ہے، ان کی مدد کے لیے سلمان خان کی تنظیم نے تمام مزدوروں کے بینک کی تفصیلات مانگی ہیں تاکہ پیسے براہ راست ضرورت مندوں تک پہنچ سکیں۔

کرونا وائرس پھیلانے کا الزام: ماریہ بی کے شوہر کی رہائی پر تنقید

لاہور(ویب ڈیسک)رہائی کے بعد طاہر سعید نے اپنی اہلیہ ماریہ بی کے ہمراہ نیا ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے رہائی پر وزیر اعظم اور فوج کا شکریہ ادا کیا۔ لاہور سے کرونا وائرس پھیلانے کے الزام میں گرفتار معروف ڈیزائنر ماریہ بی کے شوہر کی فوری رہائی پر سوشل میڈیا میں شدید تنقید جاری ہے۔ ماریہ بی کے شوہر طاہر سعید کو پولیس نے گرفتار کرکے ایف آئی آر درج کی تھی۔ انہیں اپنے ملازم کو لیبارٹری سے ٹیسٹ میں کرونا وائرس ثابت ہونے کے باوجود وہاڑی بھجوانے پر پیر اورمنگل کی رات گرفتار کیا گیا تھا۔گرفتاری کے بعد ان کی اہلیہ ماریہ بی نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے روتے ہوئے معاملے کو پولیس کی جانب سے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش قرار دیا تھا اور وزیر اعظم سے واقعے کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد پولیس کو انہیں چند گھنٹوں کے اندر ہی ضمانت پر رہا کرنا پڑا۔رہائی کے بعد طاہر سعید نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں ماریہ بی نے خاوند کی رہائی پر وزیر اعظم اور فوج کا شکریہ ادا کیا، تاہم ان کے شوہر نے اس گرفتاری کو پولیس کی جانب سے ہراسانی قرار دیا۔ترجمان لاہور پولیس کے مطابق سوئی گیس کالونی لاہور کے رہائشی طاہر سعید جو کہ کپڑوں کی معروف برانڈ کی مالکن ماریہ بی کے خاوند ہیں، نے اپنے باورچی کی طبیعت مسلسل خراب رہنے پر نجی لیبارٹری سے کرونا کا ٹیسٹ کروایا، جو مثبت آیا، تاہم طاہر سعید نے متعلقہ حکام کو آگاہ کرنے کی بجائے مجرمانہ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذکورہ ملازم کو اس کے آبائی شہر وہاڑی کی بس میں بٹھا دیا۔ترجمان پولیس کے مطابق مذکورہ شخص دو بسیں بدل کر وہاڑی پہنچا، وہ راستے میں مسافروں سے بھی ملا اور گھر جا کر اہل خانہ سے ملاقات کی۔دوسری جانب نجی لیبارٹری کی طرف سے جب محکمہ صحت کو مذکورہ ملازم کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی رپورٹ ملی تو حکام نے کارروائی شروع کی اور لیبارٹری سے دستیاب تفصیلات کے ذریعے طاہر سعید سے رابطہ کیا، جنہوں نے بتایا کہ وہ اپنے گاو¿ں جاچکے ہیں۔جس پر محکمہ صحت کے حکام نے پولیس کی مدد سے ویہاڑی سے ان کو اپنی تحویل میں لے کر آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر دیا ہے۔دوسری جانب پولیس کے مطابق معروف ڈریس ڈیزائنر ماریہ بی کے خاوند کو بھی دفعہ 144 کے تحت حراست میں لے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا جنہیں بعدازاں قانون کے مطابق ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔شوہر کی گرفتاری اور رہائی کے وقت سے ٹوئٹر پر ماریہ بی ٹرینڈ کر رہی ہیں جبکہ اس معاملے پر سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔طے شدہ قواعد کے مطابق جس گھر میں یا جس علاقے میں کوئی مریض مثبت آئے تو اسے اور ان سے ملنے والوں کو قرنطینہ میں رکھنا لازم ہے، لیکن ماریہ بی اور ان کے خاوند کو قرنطینہ میں نہ رکھنے اور اس کے مقابلے میں عام شہریوں کو زبردستی علیحدہ رکھنے پر عوامی سطح پر شدید تنقید جاری ہے۔ واضح رہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اکثر لوگ گھروں میں قرنطینہ کریں تو بہتر ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سرمایہ دار اور بڑے لوگوں کے لیے علیحدہ قانون جبکہ عام شہریوں کے لیے سختی سے قواعد کی پابندی حکومت کا دوہرا معیار ہے۔ ایسے حالات میں سب کے لیے ایک طرح کا طریقہ ہونا چاہیے۔ لوگ وہ شکایت کر رہے ہیں کہ امتیازی سلوک سے عام لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔

مولانا طارق جمیل کی انڈین بلاگر ’ری ایکشن کڑی‘ سے ویڈیو کال پر گفتگو

لاہور(ویب ڈیسک)سوشل میڈیا پر معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کو ایک یوٹیوب بلاگر ’ری ایکشن کڑی‘ کے ساتھ بات چیت ایک ویڈیو کے چرچے ہورہے ہیں ۔ویڈیو کے آغاز میں بظاہر بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک یوٹیوب بلاگر اپنے سبسکرائبرز سے مخاطب ہیں۔ جو کہتی نظر آتی ہیں کہ تھوڑی دیر میں انہیں مولانا طارق جمیل کی جانب سے ایک کال موصول ہونے والی ہے اور پھر چند ہی لمحوں میں مولانا طارق جمیل کو سکرین پر دیکھا جا سکتا ہے۔ویڈیو میں ’ری ایکشن کڑی‘ مولانا کو یہ بتا رہی ہیں کہ جب ان کی ٹیم کی جانب سے ان سے رابطہ کیا گیا تو انہیں یقین نہیں آیا کہ مولانا طارق جمیل ان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ جس کے جواب میں مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ ‘میں نے ایک بار یوٹیوب پر آپ کی ویڈیو دیکھی جس میں آپ رو رہی تھیں تو میں نے اپنی ٹیم سے آپ کے بارے میں معلوم کرنے کو کہا۔گفتگو میں مولانا ری ایکشن کڑی کو بیٹی کہہ کر مخاطب کرتے رہے۔’ری ایکشن کڑی‘ مولانا طارق جمیل کو بتاتی ہیں کہ وہ پہلے مختلف اقسام کی ویڈیوز پر ری ایکشن یا ردعمل دیتی تھیں لیکن مولانا کی تقاریر سننے کے بعد اب وہ صرف مذہبی نوعیت کی ویڈیوز پر ری ایکشن دیتی ہیں اور انہوں نے حجاب لینا بھی شروع کر دیا ہے۔انہوں نے خواہش ظاہر کی وہ پاکستان آنا چاہتی ہیں۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ان کی مادری زبان بنگالی ہے جس پر مولانا نے ان کے ساتھ بنگالی زبان میں بھی بات کی۔مولانا طارق جمیل عالمی شہرت یافتہ خطیب ہیں۔ اس سے قبل وہ بولی وڈ سٹار عامر خان سمیت پاکستان کی مشہور شخصیات جن میں جنید جمشید، وینا ملک، فلم سٹار نرگس اور فیروز خان سمیت باقی شخصیات کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز میں سامنے آتے رہے ہیں۔مولانا کے مطابق ان کی مذکورہ شخصیات کے ساتھ ہونے والے ملاقاتیں دعوت تبلیغ کا حصہ تھیں۔مولانا صاحب سے گفتگو میں ‘ری ایکشن کڑی’ کی مسرت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ تاہم ابھی یہ معلوم نہیں کہ مولانا اس طرح اکثر لوگوں کو کال کرکے بات کرتے ہیں یا یہ ایک منفرد کال تھی۔