Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • محمد خان بھٹی کو انکوائری نوٹس بھیجنے پر ڈی جی اینٹی کرپشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت
    • لاہور ہائیکورٹ’ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت
    • سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد پر پابندی’ کرتارپور راہداری کی بندش کا معاملہ ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا
    • سربیا، ایگزٹ پولز کے نتائج کے بعد سابق صدر نے شکست تسلیم کرلی
    • لاہور ہائیکورٹ ‘ دفعہ 144 کے نفاذ اور پابندیوں کیخلاف دائر درخواست ‘ وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت
    • مریدکے میں تجاوزات مافیا کیخلاف پیرا فورس کا کریک ڈائون، جرمانے اور انتباہ جاری
    • کراچی: 25 روز بعد پانی ملا تو بجلی غائب، مکینوں کا ناگن چورنگی پر احتجاج کا انتباہ
    • پختونخوا کے عوام نو منتخب انتظامیہ سے امن کی بحالی’ ترقی کیلئے پرامید
    • ملتان ‘ مبینہ پولیس مقابلے کی شفاف تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع
    • پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کا بغل بجتے ہی جوڑ توڑ تیز، امیدواروں نے لنگوٹ کس لئے
    • موٹروے پولیس ‘436 افسران کی 15ویں پاسنگ آئوٹ پریڈ
    • لاہور ہائیکورٹ ‘ چیک ڈس آنر کیس میں 5سال سے ملزم کی عدم گرفتاری پر چیف جسٹس کا اظہار برہمی
    • گلیشیئرز سے متعلق تباہ کن واقعات کو اعداد و شمار کے طور پر دیکھنے کے بجائے انکے انسانی پہلوئوں کو سمجھنا ضروری : مصدق ملک
    • مقبوضہ کشمیر،2019ء سے ابتک16ہزارسے زائد خواتین اور لڑکیاں لاپتہ
    • مالی سال کی پہلی سہ ماہی’ پاکستان کی معیشت میں مسلسل بہتری کے آثار ہیں: خرم شہزاد
    • لاہور:مغلپورہ روڈ پر کوڑے کے ڈھیر کو لگی آگ سے اٹھنے والا دھواں ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
    • سرگودھا، منشیات فروشوں کیخلاف جاری مہم میں متعدد ملزمان گرفتار
    • حافظ آباد،زمین کے تنازع پر بیٹوں نے باپ ‘ اس کے دوست کو قتل کردیا
    • فیروزپور روڈ پر ٹرک الٹنے سے 18 سالہ نوجوان جاں بحق، ایک شخص زخمی
    • کولمبین، گلوکارہ نے اسرائیلی پرچم پائوں تلے روند دیا، آزاد فلسطین کے نعرے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    انجلا ایگلر،یہ ملاقات اِک بہانہ ہے

    By Daily Khabrainاکتوبر 29, 2021
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    عارف بہار
    آئی ایس آئی کی سربراہی کے سوال پر سول ملٹری کشمکش کے آثار کیا پیدا ہوئے کہ امریکی ناظم الامور انجلاایگلرنے اچانک حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ براہ راست رابطے شروع کر دئیے۔امریکی ناظم الامور نے لاہور میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف،مریم نواز کے ساتھ ساتھ چوہدری پرویز الٰہی سے بھی ملاقات کی اور بتایا گیا کہ امریکی ناظم الامور نے ان راہنماوں کے ساتھ خطے کے معاملات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی۔امریکی سفارت کاروں کا پاکستانی سیاست میں سرگرم ہو کر کردار ادا کرنا یا اپنی موجودگی کا احساس دلانا کوئی نئی بات نہیں۔ماضی میں امریکی سفارت کار اعلانیہ اور دھڑلے سے پاکستان کی سیاست کا نین نقش تراشا کرتے تھے۔
    ملکی سیاست میں سرگرم جاگیردار،گدی نشین اور سرمایہ دار امریکی سفار ت خانے کا چکر لگا کر سیاسی بادنما پر آنے والے موسموں کا اندازہ کرتے تھے اور اس کے بعد اپنا رخ اسی سمت میں کرتے تھے۔ان وڈیروں،سرمایہ داروں اور پیر صاحبان کو جدید اصطلاح میں الیکٹیبلز کہا جانے لگا ہے۔کبھی امریکی سفارت کا ر خود انہیں کسی مشترکہ شکار کے دوران،کسی شام کی محفل اور پارٹی میں آنے والے موسموں کی رتوں کا پتا دیتے تھے اور کبھی یہ خود امریکی سفار ت خانے کا طواف کرکے مستقبل شناسی کرلیتے تھے۔جب سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بگاڑ آیاہے اور امریکہ اور ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کے تار کمزو ر پڑتے چلے گئے امریکی سفارت کاروں کی سرگرمیوں کا یہ انداز بھی بدل کر رہ گیا۔اس کے بعد امریکہ خلیجی ملکوں کے سفارت کاروں اور خصوصی نمائندوں کے ذریعے پاکستانی سیاست کی الجھی ہوئی زلف کو سلجھانے لگا۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان میں ان برادر اسلامی ملکوں کی اس ادا کو مداخلت سمجھا گیا اور رائے عامہ میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
    امریکہ سے سو جوتوں او ر سو پیاز کا رشتہ تو تاریخ کے ایک جبر کے طور پر گوارا ہی تھا مگر برادر ملکوں کی یہ ادا برداران ِ یوسف کی سی شبیہہ بنانے کا باعث بنتی رہی۔جس کے بعد ان ملکوں نے بھی اپنی اس انداز سے موجودگی میں احتیاط برتنا شروع کی۔جنرل مشرف سے کمانڈ اینڈ کنٹرول سٹک حاصل کرنے کے بعد جنرل کیانی نے پاکستان کے طول عرض میں امریکی کنٹریکٹرز،این جی اوز سمیت پس پردہ کام کرنے والے افراد کو واپس بھیجنے کے مشکل ترین کام کا آغاز کیا تو یہ سلسلہ کم نہیں ہوا اور چند برس میں مکمل ہوگیا تو جواب میں امریکہ نے پاکستانی فوج کے ساتھ اپنے ماضی کے رشتوں اور تعلقات کا بوجھ اتارنا شروع کیا۔ اورسلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے کے انداز میں امریکہ کی فوجی اکیڈمیوں میں پاکستانی فوجی کی تربیت، مشترکہ مشقوں کا سلسلہ اور جدت لانے کے لئے فنڈز دینے کے تمام سلسلے ختم کردئیے۔ اب تو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پچہتر سالہ تاریخ کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔موجودہ حکومت کے دوران تو ان تعلقات کی حالت مزید پتلی ہو کر رہ گئی۔یہاں تک کہ امریکی صدر جوبائیڈن ہمارے وزیر اعظم سے ٹیلی فونک گفتگو سے بھی گریز کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں اور جواباً وزیر اعظم عمران خان اس سے کمتر درجے کے کسی اہلکار کو منہ لگانے سے انکار کی راہ پر چل رہے ہیں۔کیسے کیسے طاقتور اہلکار ان کی دہلیز کے پاس سے گزر گئے مگر نہ حال احوال پوچھا گیا اور نہ چائے کی پیالی کی دعوت ملی بلکہ تعلقات کا بھرم رکھنے کو ایک تصویر بنانے کی نوبت بھی نہ آسکی۔
    پہلے امریکہ پاکستان کے لئے اوپر والا ہاتھ تھا جو کچھ رعایتیں،چند سہولتیں اور مشکل لمحوں میں کچھ سہارا دیتا تھا اور لامحالہ نیچے والے ہاتھ بہت سی خواہشات کا احترام کرنے پر مجبور ہوتا تھا۔جب سے اوپر والے اور نیچے والا ہاتھ کا یہ رشتہ کلائی مروڑنے والے ہاتھ میں بدل گیا ہے تب سے پاکستان امریکہ کے دوستانہ اثر رسوخ سے آزاد ہو گیا ہے۔اب امریکہ کے پاس پاکستان کو کوئی بات کہنے لئے دباؤ اور دھمکی ہی باقی رہ گئی ہے۔دباؤ اور دھمکی کا کیا اثر ہوا تو ہوا نہ ہوا تو وقت کا دھارا اپنے ہی انداز سے بہتا چلا جاتا ہے۔ایسے میں سول ملٹری کشمکش کا تاثر ابھرتے ہی امریکی سفارت کا روں کا مسلم لیگ کی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں سے کوئی طوفان تو شاید ہی اٹھے مگر اس مرحلے پر یہ دونوں فریقوں کے لئے ایک جُوّا ہے۔یہ فریقین کے درمیان نظریہ ء ضرورت کا اطلاق تو ہے مگر اس کی حیثیت علامتی ہی سہی مگر اس نے فریقین کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچایا۔یہ ملاقات امریکی خواہش پر ہوئی یا مسلم لیگ کی دعوت پر مگراس کا کوئی نہ کوئی تعلق موجودہ سول ملٹری کشمکش کی خبروں سے ضرور ہے۔اس مرحلے پرمسلم لیگ ن نے ملکی اسٹیبلشمنٹ کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ امریکہ ان کی پشت پر ہے اور اگر اسٹیبلشمنٹ ان پر اعتماد کرے تو وہ امریکہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پُل کا کردار ادا کرسکتے ہیں اور امریکہ کو پاکستان کی کلائی مروڑنے کے عمل سے باز رکھ سکتے ہیں۔امریکہ اور پاکستان کے سٹریٹجک مفادات میں اتنی دوری پیدا ہو گئی ہے کہ اسے قربت میں بدلنا مسلم لیگ یا پیپلزپارٹی کے بس میں نہیں۔دونوں کے بس میں ہوتا تو اپنے ماضی قریب کے دو الگ ادوا ر میں وہ یہ کارنامہ انجام دی چکی ہوتیں۔دونوں کوشش بسیار کے باجود اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوئیں۔
    دوسری طرف بظاہر دباؤ میں آئے ہوئے عمران خان کو امریکہ نے یہ پیغام دیا کہ ”ہرگز نہیں“ کا جواب ان کے پاس موجود ہے کہ وہ ان کے سخت گیر ناقدین کے ساتھ معاملات طے کرسکتا ہے۔وہ یہ بات بھول گئے کہ ہرگز نہیں سول حکمران کا تنہا فیصلہ نہیں بلکہ یہ سول ملٹری مشترکہ اعلامیہ ہے۔اس پارٹنر شپ کو توڑکر بھی اس فیصلے کو بدلا تو نہیں جا سکتا مگر اس میں کسی حد تک نقب لگائی جا سکتی ہے۔اس طرح پاکستان پر اثرو رسوخ کی صلاحیت سے محروم امریکہ نہ پاکستان کی اپوزیشن کو کچھ دے سکتا ہے اور نہ اسٹیبلشمنٹ کی اشیرباد سے محروم حزب مخالف کی کوئی جماعت امریکہ کو کوئی عملی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔یوں ان ملاقاتوں پر کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کاکا محاورہ ہی صادق آتا ہے۔
    (کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.