Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • آٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانا ہمارا مشن: ڈاکٹر ناصر محمود
    • دہشت گردوں کیخلاف کامیابآپریشنز فورسز کی اعلیٰ مہارت کا منہبولتا ثبوت ہیں: حنیف عباسی
    • فضل الرحمان کے قریبی رفقا کیخلاف ادارے متحرک، مولانا کی اسلام آباد رہائشگاہ کے مالک کو بھی نوٹس جاری
    • اسلام آباد :سرپرست اعلی یوبی جی ایس ایم تنویر ودیگر کی جانب سے ایف پی سی سی آئی کے صدارتی امیدوار ایس ایم تنویر کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے ہیں ۔
    • راولپنڈی پولیس کی ڈکیتی ،موٹر سائیکل ودیگر وارداتوں میں ملوث گینگز کیخلاف کارروائیاں ،زیر حراست افراد سے بر آمد ہونیوالے مسروقہ موٹر سائیکل ۔
    • لاہور بورڈ کا تعلیمی اداروں کو الحاق کیلئے آن لائن سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ
    • ایمرجنسی کالز پر فوری رسپانس ‘بروقت معاونت، سیف سٹی شہریوں کے تحفظ کیلئے سرگرم
    • کراچی کے شہریوں کا نئے صوبوں کے قیام اور شہر کو الگ صوبہ بنانیکا مطالبہ
    • اسلام آباد کے شہریوں کیلئے ہیلتھ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح
    • لاہور ہائیکورٹ’ مانگا منڈی میں پاسپورٹ آفس کے قیام کیلئے درخواست دائر
    • ایف ایف سی نے ای ایس جی رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیا
    • راولپنڈی :ایس ایس پی انوسٹی گیشن سیف اللہ پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں کھلی کچہری کے دوران شہریوں کے مسائل سن کر احکامات جاری کرتے ہوئے ۔
    • ایس ایس پی انوسٹیگیشن سیف اللہ کی پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں کھلی کچہری
    • توہین مذہب کیس میں سزا میں 2 ماہ 25 دن باقی رہ جانے والے مجرم کی سزا معطلی کی درخواست منظور
    • اسلام آباد بلدیاتی الیکشن،تاحال 39 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، آخری تاریخ چھ نومبر مقرر
    • گھریلو امور سنبھالنے والا ملازم مالک کے لاکھوں روپے اور سامان لیکر غائب
    • وکلا پلازہ کی ایکوزیشن معاوضے کی عدم ادائیگی پر ڈسٹرکٹ بار کا 72 گھنٹے کا الٹی میٹم
    • ایف پی سی سی آئی کی صدارت کیلئے نامزدگی میرے لیے اعزاز : ایس ایم تنویر
    • منشیات اسمگلنگ کیخلاف اے این ایف کی عدالتی محاذ پر اہم کامیابی
    • اٹک :وزیر اعلی پنجاب لیپ ٹاپ اسکیم میں راولپنڈی ڈویژن کی طلباء کا کامسیٹس یونیورسٹی کے باہر انٹری کیلئے خوار اور لیپ ٹاپ نہ ملنے پر واپس جاتے ہوئے ۔
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سائفر اور ارشد شریف کی موت سے جڑے حقائق کی جڑ تک پہنچنا ضروری ہے:پاک فوج

    By Khabrain Newsاکتوبر 27, 2022
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    راولپنڈی: (ویب ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سائفر اور ارشد شریف کی موت سے جڑے حقائق کی جڑ تک پہنچنا ضروری ہے، ارشد شریف پاکستانی صحافت کے آئیکون تھے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف پاکستانی صحافت کے آئیکون تھے، اداروں پر بے جا الزام تراشی کی گئی، حقائق کا درست ادراک انتہائی ضروری ہے۔
    انہوں نے کہا ہے کہ ارشد شریف قتل پر آرمی چیف پر بھی الزام تراشی کی گئی، حقائق کا ادراک ضروری ہے، ارشد شریف محنتی صحافی تھے، سائفر اور ارشد شریف کی موت سے جڑے حقائق کی جڑ تک پہنچنا بہت ضروری ہے، ارشد شریف کی موت کا ہم سب کو دکھ ہے، صحافی ارشد شریف کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ اداروں کوبدنام کرنے کی کوشش کی گئی، لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، ارشد شریف کی موت کا ایک جھوٹا بیانیہ بنایا گیا۔
    سائفر کی من گھڑت کہانی کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا، ہمارے لیے یہ بہت حیران کن تھا کہ ایک کاغذ کے ٹکڑے کو لہرایا گیا اور من گھڑٹ کہانی کھڑی گئی۔
    لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سائفر پر آئی ایس آئی کی تحقیقات کو عوام کے سامنے لانا چاہتے تھے، ارشد شریف نے سائفر پر بھی کئی پروگرام کیے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو کہا گیا کہ سائفر سفیر کی ذاتی رائے ہے، سائفر کی من گھڑت کہانی کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا، سائفر اور ارشد شریف کی موت سے جڑے حقائق کی جڑ تک پہنچنا بہت ضروری ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ارشد شریف ملک چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے، سلمان اقبال نے چیف ایگزیکٹو کو ہدایت کی کہ ارشد شریف کو جلد از جلد ملک سے باہر بھیج دیا جائے، تھریٹ الرٹ کا مقصد ارشد شریف کو باہر جانے پر مجبور کرنا تھا، بار بار انہیں باور کرایا جاتا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں بہت سے سوالات جواب طلب ہیں، افسوس ناک واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں، ہم نے حکومت سے اعلیٰ سطح تحقیقات کی درخواست کی ہے، عالمی اداروں کی ضرورت ہو تو انہیں بھی شامل کرنا چاہے، اے آر وائی نیوز نے اداروں کیخلاف رجیم چینج کا مخصوص ایجنڈا پروان چڑھایا، ارشد شریف کی موت پرجھوٹا بیانیہ بنایا گیا،لوگوں کو گمراہ کیا گیا، ارشد شریف کے قتل کے سلسلے میں سلمان اقبال کو واپس لا کر انہیں شامل تفتیش کرنا چاہیے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھائے کہ ارشد شریف سے رابطہ میں رہنے والے لوگ کون تھے اور کس نے ارشد شریف کا ان سے رابطہ کروایا؟ یو اے ای میں ان کے قیام و طعام کا انتظام کون کر رہا تھا، کون انہیں یقین دلا رہا تھا، کس نے انہیں کینیا جانے کا کہا گیا کیوں کہ مزید 34 ممالک ہیں جہاں پاکستانیوں کے لیے ویزہ فری انٹری ہے، ارشد شریف کو کس نے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا تھا؟۔
    ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کو سائفر سے متعلق کسی سازش کے شواہد نہیں ملے، لیکن ارشد شریف اور بہت سے ان جیسے صحافیوں کو رجیم چینج کا بیانیہ فیڈ کیا گیا، شہباز گل نے اے آر وائی پر فوج میں بغاوت پر اکسانے کا بیان دیا، اے آر وائی چینل نے پاک فوج اور اس کی قیادت کے خلاف جھوٹے اورسازشی بیانیے کو فروغ دیا۔
    لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ لفظ نیوٹرل کو گالی بنادیا گیا ہے، ہمارے شہدا کا مذاق بنایا گیا، ہم غدار سازشی یا قاتل نہیں ہوسکتے، سائفر کا بہانہ بنا کر أفواج پاکستان کی تضحیک کی گئی، غیر آئینی کام سے انکار کرنے پر میر جعفر اور میر صادق کے القاب دیے گئے۔
    لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا اپنے اداروں پر اعتماد رکھیں، ماضی میں ہوئی غلطیوں کو پچھلے 20 سالوں سے اپنے خون سے دھو رہے ہیں، ہم کمزور کو کستے ہیں، ہم سے غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر ہم سارشی نہیں ہو سکتے کیونکہ ایک بہت مشہور اسکالر نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کو توڑنا ہے تو اس کی فوج کو کمزور کرنا ہو گا۔
    ان کا کہنا تھا ایک متحد قوم ہی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے، ہم بطور ادارہ کبھی اپنی قوم کو مایوس نہیں کریں گے، یہ وقت اتحاد، تنظیم اور نظم و ضبط کا ہے۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      پیپلز پارٹی کی اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شرکت کی دعوت

      سنگاپور کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، علاقائی و عالمی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

      خیبرپختونخوا؛ پشاور سمیت دیگر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.