Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ایلون مسک دنیا کے پہلے ٹریلینئر کا اعزاز کھو بیٹھے
    • ورلڈ کپ 2026: ایک ہی خاندان کے دو بھائی مختلف ممالک کی جانب سے مدمقابل
    • خطے میں حالات بہتر، کویت میں امریکی سفارتخانے کی قونصلر اور سفارتی خدمات بحال
    • گھانا کے خلاف انگلینڈ کی مایوس کن کارکردگی کالے جادو‘ کے چرچے
    • سائنسی تحقیق میں سپر ماڈل بیلا حدید کے چہرے کے خدوخال 94.35 فیصد مثالی تناسب سے ہم آہنگ قرار پائے، جسکے بعد انہیں دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں سرفہرست قرار دیا گیا
    • قومی آل راؤنڈر شاداب خان کا لنکاشائر کے ساتھ معاہدہ
    • ریکارڈ گرمی نے فرانس میں بجلی کا بحران پیدا کر دیا
    • ایئربس کے وِنگ میں دراڑوں کے خدشات، ایمریٹس کا A380 طیاروں کا معائنہ کرنے کا فیصلہ
    • اسرائیل کے وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکی مطالبے کے باوجود فوج لبنان سے واپس نہیں جائے گی
    • پاور ہٹنگ ٹریننگ کے لیے قومی کھلاڑی امریکا جا سکتے ہیں۔
    • پی سی بی نے فٹنس خدشات کے باعث چار کھلاڑیوں کو ٹریننگ کیمپ میں شامل کر لیا
    • ایرانی صدر پزشکیان کو پاکستان میں کارڈیک سرجری کی اعزازی فیلوشپ سے نواز دیا گیا
    • کرسٹیانو رونالڈو 6 ورلڈ کپ میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے
    • شفا انٹرنیشنل نے ڈوئل JCI سرٹیفکیشن حاصل کر کے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا
    • "ہم آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے” وزیراعظم شہباز شریف کا ایران سے بھرپور یکجہتی اور حمایت کا اظہار
    • فرانس میں ڈی آر کانگو سے لوٹنے والے ڈاکٹر میں ایبولا کی تصدیق
    • فرانس کے کوچ دیدیہ دیشا مپس والدہ کے انتقال پر وطن لوٹ گئے
    • آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس عائد کرنے کے کسی ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرینگے: قطری وزیرِ اعظم
    • قومی اسمبلی میں وزیراعظم اور فضل الرحمٰن کے درمیان دلچسپ مکالمہ
    • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی آگئی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    شادی بیاہ میں ناچ گانوں پر پابندی؟

    By Khabrain Newsنومبر 5, 2024
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    زندگی کے دو بنیادی اجزا ہیں پہلے نمبر پر خوشی اور دوسرے نمبر پر دکھ یا غم۔ اور ہم انسانوں کا جب ان سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو ہمارا ردعمل دینا ایک فطری عمل ہے۔ جیسے خوشی کی خبر سن کر وہ جھوم اٹھتا ہے، ناچ اٹھتا ہے مگر جب غم کی کوئی خبر سنتا ہے تو اس کا ردعمل مختلف ہوتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ثقافت کا جنم ہوتا ہے، کیونکہ کچھ ردعمل اگر ہمارے احساسات وضع کرتے ہیں تو قوائد و ضوابط معاشرتی اقدارمہیا کرتے ہیں۔ یہ ثقافت ہی ہے جو معاشروں میں تقسیم کو ختم کرتی ہے اور لوگوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔

    حاجی صاحب نے اتنا کہہ کر چائے کا کپ اٹھایا اور گھونٹ بھرتے ہوئے میری طرف دیکھا۔ جب بھی وہ کچھ اَپ سیٹ ہوتے تو اس کی کوئی نہ کوئی معاشرتی وجہ ہی ہوتی تھی کیونکہ ملکی سیاست یا اس موضوع پر بات کرنے کو وہ بس وقت کا ضیاع سمجھتے تھے اور ایک حد تک ٹھیک ہی سمجھتے تھے۔ کچھ دیر بعد حاجی صاحب نے اپنا آئی پیڈ میری طرف بڑھایا جس کی اسکرین پر موجود خبر کے مطابق پنجاب اسمبلی میں کسی حکومتی رکن نے ایک قرارداد پیش کی تھی کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں رقص و سرود پر پابندی لگائی جائے۔

    کیونکہ اس رکن صوبائی اسمبلی کے مطابق کسی معاشرے میں اس کے تہوار اور خاندانی تقریبات، جیسا کہ شادی، بیاہ وغیرہ اس کی معاشرتی و ثقافتی روایات اور مذہبی تعلیمات کی آئینہ دار ہوتی ہیں اور ایسی محافل میں نہ صرف رقص کے نام پر انتہائی فحش اور بے حیائی سے بھرپور مجروں کا اہتمام کیا جاتا ہے بلکہ شراب کے نشے میں دھت شرکاء (ویسے اس کی جگہ شرفاء لکھنا چاہیے) انتہائی غیر اخلاقی اور غیر انسانی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔

    قرارداد پر بحث کے دوران کچھ ارکان نے اس کی مخالفت میں بہت مثبت دلائل بھی دیے تھے۔ مجموعی طور پر مجھے اور حاجی صاحب کو پنجاب اسمبلی کے اس سیشن میں جمہوریت کے رنگ حاوی دکھائی دیے جس سے یہ یقین بھی ہوا کہ ملک میں جہوریت نافذالعمل ہے اور ہمارے ارکان کچھ ایسی قانون سازی بھی کرسکتے ہیں۔ مگر دوسری طرف افسوس اس پر ہوا کہ کیا صوبے کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ شادی بیاہ میں ڈھول باجے، گانے، رقص اور شراب و شباب کی محافل ہیں؟ اور کیا ایسا پنجاب کی ہر شادی میں تسلسل کے ساتھ ہورہا ہے؟ ہر شادی کی تقریب میں رقاصاؤں یا خواجہ سراؤں کا جنسی استحصال پابندی کے ساتھ مجموعی طور پر کیا جاتا ہے؟

    ہماری اس معزز رکن صوبائی اسمبلی کا تعلق یقیناً اسی صوبے سے ہوگا اور انہیں یہ علم بھی ہوگا کہ پنجاب جو کبھی میلوں اور تہواروں سے بھرپور ہوتا تھا، اب اس میں بچا ہی کیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا شہر لاہور اسموگ کی زد میں آکر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آچکا ہے۔ پنجاب جو کبھی پانچ دریاؤں کی سرزمین تھا اور جس میں جنگلات کی بہتات تھی، جس کا ایک قدیم اور تاریخی ثقافتی ورثہ ہے، جس نے نہ صرف اس پر بسنے والوں کو ایک دوسرے سے جوڑا بلکہ دور دور کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچا۔ اس سرزمین کا ہر تہوار ہر جلوس اور شادی بیاہ کی رسوم صاف ستھری تہذیب کو بیان کرتی ہیں اور انہی لوازمات سے بھرپور ہیں۔ یہ فیصلہ اگر لوگ طے کریں کہ انہوں نے اپنی خوشیاں، تہوار یا اپنے غم اپنی ثقافت کے مطابق اپنے آبا و اجداد کے طریقے سے منانے ہیں تو پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کے کسی بھی صوبہ میں ایسی کوئی بداخلاق، بدتہذیب یا غیر اخلاقی رسم یا تہوار نہیں، جسے خاندان بھر کے افراد ایک ساتھ مناتے ہوئے یہ محسوس کریں کہ یہ اخلاقی، معاشرتی اور جرم کے زمرے میں آتا ہے اور اگر کوئی ایسی رسم یا تہوار ہے تو پھر یہ مجرمانہ سرگرمی ہوگی جسے ثقافتی آڑ میسر ہوگی۔

    جب صوبہ بھر میں پتنگ اڑانے، بیچنے اور بنانے پر پابندی لگائی گئی تھی تو کیا آج پتنگ کی کیمیکل والی ڈور سے مرنے کا سلسلہ رک گیا ہے یا ڈور کے سرے پر لگی لوہے کی تاریں بجلی کے بریک ڈاؤن کا اور ٹرانسفارمرز کی تباہی کا باعث نہیں بن رہیں؟ ہم نے اس پر پابندی لگا کر نہ صرف ایک خوبصورت تہوار کو گم کردیا بلکہ پتنگ بازی کی ایک پوری صنعت کو تباہ کرتے ہوئے لاہور شہر سے اس کی شناخت ہی چھین لی۔

    اب اگر کسی شادی کی تقریب میں فائرنگ، شراب و رقص کی محافلیں جاری و ساری رہیں تو ایک وقت ایسا آئے گا جب یہی حل آسان لگے گا کہ گلی محلے، گھر یا میرج ہال میں دلہا دلہن، دو گواہان اور نکاح خواں کے علاوہ کسی بھی چھٹے شخص کا پایا جانا سنگین جرم سمجھا جائے گا اور نکاح و رخصتی ضلع انتظامیہ کے فلاں درجہ کے مجسٹریٹ کے روبرو ہی ممکن ہوگی۔ نہ باجا ہوگا اور نہ ہی باجا بجے گا۔

    اگر کوئی ایسا واقعہ ہو بھی جاتا ہے جس میں بیک وقت اخلاقی و قانونی جرائم سرزد ہورہے ہوں تو ایسے میں بلاتفریق ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حرکت میں آکر میرٹ پر انصاف کرنا ہوگا اور قوانین تو پہلے سے موجود ہیں لیکن اگر انہیں ہم نے شادی بیاہ یا تہوار سے منسلک کردیا تو یہ بنیادی حقوق کی نہ صرف خلاف ورزی ہوگی بلکہ معاشرے کو گھٹن زدہ کرتے ہوئے متشدد رویوں کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہوگی۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      بغیر ٹانگوں والے روسی شخص نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے تاریخ رقم کر دی

      بکریوں کی انسانوں کے حوالے سے حیرت انگیز صلاحیت کا انکشاف

      جرمن نوجوان نے ایک منٹ میں سوا کلو شہد کھانے کا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا

      تازہ ترین

      ایلون مسک دنیا کے پہلے ٹریلینئر کا اعزاز کھو بیٹھے

      ورلڈ کپ 2026: ایک ہی خاندان کے دو بھائی مختلف ممالک کی جانب سے مدمقابل

      خطے میں حالات بہتر، کویت میں امریکی سفارتخانے کی قونصلر اور سفارتی خدمات بحال

      قومی آل راؤنڈر شاداب خان کا لنکاشائر کے ساتھ معاہدہ

      ایئربس کے وِنگ میں دراڑوں کے خدشات، ایمریٹس کا A380 طیاروں کا معائنہ کرنے کا فیصلہ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.