نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آئندہ دور صدارت میں اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے لیے نامزدگیوں کا اعلان کردیا ہے، جس میں ارب پتی ایلون مسک بھی شامل ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے تاہم حلف اٹھانے سے قبل ہی انہوں نے اپنے دوسرے دور صدارت کے لیے اہم عہدوں پر نامزدگیاں کر دی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مجوزہ نئے محکمہ برائے کارکردگی (ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفی شیئنسی) کی سربراہی کے لیے ایلون مسک کا انتخاب کیا ہے جبکہ ان کی معاونت کے لیے فارماسیوٹیکل کمپنی کے مالک ویوک راماسوامی کو نامزد کیا ہے۔
اس حوالے سے ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ دونوں شاندار امریکی مل کر میری انتظامیہ کے لیے سرکاری بیوروکریسی کو ختم کرنے، اضافی قواعد و ضوابط کو کم کرنے، فضول اخراجات میں کمی لانے اور وفاقی ایجنسیوں کی تنظیم نو کے لیے راہ ہموار کریں گے‘۔
منتخب امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد بعض حلقوں کیجانب سے تنقید سامنے آئی تو ایلون مسک نے ایک پوسٹ میں اپنی ترجیح واضح کردی۔
انٹرنیٹ صارفین کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ‘میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ بیوروکریسی کے لیے خطرہ بنوں گا’۔

یاد رہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ایلون مسک ان کے اہم اتحادی کے طور پر سامنے آئے۔
انہوں نے مبینہ طور پر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے 27 ارب 76 کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی اور اپنی زیرِملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ٹرمپ کی مہم کو خوب بڑھاوا دیا۔

