74 ارب روپے لاگت سے تعمیر ہونے والے نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے میگا منصوبے پر پیشرفت تیز ہو گئی اور مجموعی فزیکل پروگریس 54 فیصد تک پہنچ گئی۔
انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب (آئی ڈیپ) کے مطابق کینسر کیئر کلینک 89 فیصد مکمل ہو چکا ہے جبکہ مین اسپتال بلڈنگ پر 55 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ بون میرو ٹرانسپلانٹ بلاک بھی نمایاں پیشرفت کے ساتھ تعمیر کے مراحل میں ہے۔
اسی طرح ڈاکٹرز رہائش گاہ، مسجد، ویٹنگ ایریا اور کیفے ٹیریا سمیت معاون عمارات پر مجموعی طور پر 68.7 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ ہاسپِس اینڈ پیلی ایٹو کیئر سینٹر 100 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔
حکام کے مطابق منصوبے کی پیشرفت میں تیزی لانے کے لیے تعمیراتی سرگرمیاں مختلف پیکجز میں بیک وقت جاری ہیں، جس کے باعث مجموعی رفتار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
مالی سال 2025-26 کے دوران منصوبے کے لیے 15 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے جن میں سے تقریباً 10.687 ارب روپے جاری تعمیراتی کاموں اور طبی آلات کی خریداری پر خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی فنڈز بھی رواں مالی سال کے اختتام تک استعمال کیے جانے کی توقع ہے۔
طبی سہولیات کے حوالے سے بھی اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں جدید میڈیکل آلات کی خریداری کا عمل شروع ہو چکا ہے اور آلات کی ترسیل و تنصیب عمارات کی تکمیل کے ساتھ مرحلہ وار مکمل کی جائے گی۔
تکنیکی اشاریوں کے مطابق منصوبہ مقررہ شیڈول کے مطابق بلکہ بعض پہلوؤں میں اس سے آگے ہے جہاں شیڈول پرفارمنس انڈیکس (SPI) 1.08 اور کاسٹ پرفارمنس انڈیکس (CPI) 1.73 ریکارڈ کیا گیا ہے جو منصوبے کی مؤثر رفتار اور مالی نظم و ضبط کی نشاندہی کرتا ہے۔
منصوبے کی نگرانی کے لیے چیف انجینیئرز، پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور کنسلٹنٹس پر مشتمل ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں جبکہ تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے ذریعے معیار کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبہ جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیا جا رہا ہے اور موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں اسے مقررہ وقت اور بجٹ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا، جس سے پاکستان میں کینسر کے علاج کی سہولیات میں ایک بڑا اضافہ ہوگا۔






































