آبنائے ہرمز میں حالیہ فوجی جھڑپوں اور میزائل حملوں کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی (Ceasefire) اب بھی برقرار ہے۔
آج (8 مئی 2026) کی تازہ ترین مستند تفصیلات درج ذیل ہیں:
صدر ٹرمپ کا بیان: “سیز فائر اب بھی قائم ہے”
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو اور سوشل میڈیا (Truth Social) پر اپنے پیغامات میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ:
-
حملوں کو “معمولی” قرار دیا: ٹرمپ نے حالیہ ایرانی حملوں کو “Trifle” (معمولی بات) قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ان کے نزدیک جنگ بندی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
-
“لو ٹیپ” (Love Tap): امریکی صدر نے ایرانی ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملوں کو محض ایک “لو ٹیپ” قرار دیا، جس کا مقصد ایران کو وارننگ دینا تھا نہ کہ مکمل جنگ کا آغاز۔
-
مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں اور وہ کسی بھی وقت کسی بڑے معاہدے (Deal) کی توقع کر رہے ہیں۔
حالیہ فوجی کشیدگی کی تفصیل
اگرچہ صدر ٹرمپ اسے معمولی قرار دے رہے ہیں، لیکن زمین پر صورتحال کافی کشیدہ رہی:
-
امریکی تباہ کن جہازوں پر حملہ: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین امریکی بحری جہازوں (USS Truxtun, USS Mason, USS Rafael Peralta) پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا۔
-
امریکی دفاع: پینٹاگون کے مطابق تمام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا اور امریکی جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
-
جوابی کارروائی: امریکی سینٹ کام (CENTCOM) نے جوابی کارروائی میں ان ایرانی مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے یہ میزائل داغے گئے تھے۔
ٹرمپ کی سخت وارننگ
جنگ بندی برقرار رکھنے کے دعوے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں دھمکی بھی دی:
“اگر یہ سیز فائر ختم ہوا تو آپ کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، آپ کو صرف ایران کی طرف سے اٹھتا ہوا ایک بہت بڑا شعلہ (Glow) نظر آئے گا۔”






































