نیوزی لینڈ کی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے نیا بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے۔ مجوزہ آن لائن سیفٹی بل کے تحت انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز کو یہ یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرنا ہوں گے کہ 16 سال سے کم عمر افراد ان کی سروسز استعمال نہ کریں۔
وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کا کہنا ہے کہ حکومت نئی نسل کو آن لائن نقصان دہ مواد، نشہ آور ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے دباؤ سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق 13 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً ہر تین میں سے ایک بچے کا روزانہ کم از کم پانچ گھنٹے سوشل میڈیا پر گزر رہا ہے، جس کے اثرات خاندانی زندگی، ذہنی صحت، نیند اور تعلیم پر پڑ رہے ہیں۔

