چین میں منعقد ہونے والے ورلڈ ہیومنوئڈ روبوٹ گیمز میں ایک ہیومنوئڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ صرف 9.39 سیکنڈ میں مکمل کرکے دنیا کی توجہ حاصل کرلی۔
بیجنگ انوویشن سینٹر آف ہیومنوئڈ روبوٹکس کے تیار کردہ اس روبوٹ کی رفتار نے 2009 میں دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ کی قائم کردہ 100 میٹر دوڑ کے عالمی ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ بولٹ نے 2009 میں 100 میٹر کا فاصلہ 9.58 سیکنڈ میں طے کیا تھا۔
چینی روبوٹ کی یہ کارکردگی ہیومنوئڈ روبوٹکس میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت کی ایک بڑی مثال قرار دی جارہی ہے۔ تاہم روبوٹ اور انسان کی دوڑ کے حالات اور مقابلے کے طریقہ کار میں فرق کے باعث اسے براہِ راست انسانی عالمی ریکارڈ کے برابر قرار دینا محتاط انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اسی دوران چینی اسمارٹ فون کمپنی آنر (Honor) کی جانب سے تیار کیے گئے ایک اور روبوٹ نے مبینہ طور پر ٹیسٹ رن میں 9.32 سیکنڈ کا وقت ریکارڈ کیا، جو 9.39 سیکنڈ سے بھی بہتر ہے۔
ورلڈ ہیومنوئڈ روبوٹ گیمز میں صرف دوڑ ہی نہیں بلکہ باکسنگ، فٹبال اور دیگر جسمانی سرگرمیوں کے مقابلے بھی شامل ہیں۔ روبوٹس کو کپڑے تہہ کرنے جیسے گھریلو کام انجام دیتے ہوئے بھی آزمایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے مقابلے روبوٹس کی رفتار، توازن، مصنوعی ذہانت، فیصلہ سازی اور عملی صلاحیتوں کو جانچنے کا نیا ذریعہ بن رہے ہیں۔ چین سمیت دنیا بھر میں ہیومنوئڈ روبوٹس کی تیاری پر تیزی سے کام جاری ہے، جس سے مستقبل میں صنعتوں، کھیلوں اور روزمرہ زندگی میں روبوٹس کے استعمال کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

