چینی ٹیکنالوجی کمپنی شیاؤمی نے روبوٹکس کے میدان میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے اپنی نئی نسل کا ہیومنائیڈ روبوٹ ’’Tieda‘‘ متعارف کرا دیا ہے۔ روبوٹ کی رونمائی 2026 ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں کی گئی، جہاں اسے صنعتی اور فیکٹری کے کاموں کے لیے تیار کردہ جدید روبوٹ کے طور پر پیش کیا گیا۔
Tieda کا قد تقریباً 1.7 میٹر اور وزن 66 کلوگرام ہے، جبکہ اس کے جسم میں 66 ڈگریز آف فریڈم موجود ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے روبوٹ مختلف سمتوں میں پیچیدہ حرکات اور باریک نوعیت کے کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شیاؤمی کے مطابق روبوٹ کو فیکٹری ماحول میں تقریباً چار ماہ تک تربیت دی گئی۔ اس تربیت کے بعد Tieda نے دونوں جانب سیلف ٹیپنگ نٹ لگانے جیسے مخصوص صنعتی کام میں 98 فیصد کامیابی کی شرح حاصل کی، جبکہ دیگر فیکٹری ٹاسکس میں اس کی کامیابی کی شرح تقریباً 90 فیصد رہی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ Tieda روایتی روبوٹس کی طرح صرف پہلے سے پروگرام کیے گئے ایک محدود عمل پر انحصار نہیں کرتا بلکہ Embodied AI ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھتے ہوئے مختلف کام خودمختاری سے انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کا مقصد ایسے ہیومنائیڈ روبوٹس تیار کرنا ہے جو مستقبل میں صنعتی ماحول میں انسانوں کے ساتھ کام کرسکیں اور مختلف پیداواری سرگرمیوں میں مدد فراہم کریں۔ تاہم شیاؤمی کے مطابق Tieda کی بڑے پیمانے پر کمرشلائزیشن ابھی فوری طور پر ممکن نہیں اور اس کے لیے مزید تحقیق، تربیت اور عملی تجربات درکار ہوں گے۔
ہیومنائیڈ روبوٹس کی تیزی سے ترقی نے یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ مستقبل کی فیکٹریوں میں انسانی کارکنوں کا کردار کس حد تک تبدیل ہوگا۔ ماہرین کے مطابق روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت پیداواری صلاحیت بڑھا سکتے ہیں، تاہم بڑے پیمانے پر انسانی ملازمتوں کی جگہ لینے کے لیے ٹیکنالوجی، لاگت، حفاظت اور قابلِ اعتماد کارکردگی سمیت کئی عوامل اہم ہوں گے۔

