لاہور(کرائم رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف
(پی ٹی آئی) کے دھرنے کے سلسلے میں پنجاب پولیس سمیت اسلام آباد پولیس، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر پولیس کے اہلکاروں کی تعیناتی کے دوران انہیں مبینہ طور پر شدید انتظامی مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اہلکاروں کے لیے مناسب رہائش، سونے اور آرام کرنے کی جگہ، واش رومز اور کھانے پینے کے بہتر انتظامات کی کمی نے صورتِ حال کو مشکل بنا دیا ہے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ پنجاب پولیس کے لیے مختص تقریبا 40 کروڑ روپے کا بجٹ بھی انتظامات کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ اہلکاروں کو مسلسل دال اور چاول فراہم کیے جانے کے باعث خوراک کے معیار اور یکسانیت سے متعلق شکایات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ بعض اہلکار مبینہ طور پر اپنی تنخواہوں سے بازار سے مہنگی روٹی خرید کر کھانے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب مناسب آرام، صفائی اور یونیفارم تبدیل کرنے کی سہولت نہ ہونے کے باعث اہلکاروں کو مشکلات پیش آنے کی اطلاعات ہیں۔ یونیفارم سے بدبو، بیماریوں اور اعصابی تنا کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ طویل ڈیوٹی اور نامناسب انتظامات کے باعث مختلف پولیس دستوں کے اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی اور باہمی جھگڑوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، خیبر پختونخوا پولیس اور آزاد کشمیر پولیس کے اہلکاروں کے درمیان مبینہ اختلافات نے انتظامی صورتِ حال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم ان واقعات کی نوعیت اور وجوہات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی ضروری ہے جس میں سب سے بڑی رکاوٹ موجود نفری کو تحریک انصاف دھرنے کی نئی تاریخ تک وہاں موجودہ رہنا ضروری ہے جبکہ اہلکار چھٹیاں مانگنے کے باوجود چھٹی نہ ملنے پر ذہنی کچھاو کا شکار ہیں۔پولیس اہلکاروں کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیا جاتا ہے، اس لیے ان کی رہائش، خوراک، صاف پانی، حفظانِ صحت اور طبی سہولیات کا مناسب انتظام متعلقہ حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اہلکاروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔عوامی و انتظامی حلقوں میں سوالات پائے جارہے ہیں کہ اگر پولیس نفری کے لیے کروڑوں روپے مختص کیے گئے ہیں تو کیا ان رقوم کے استعمال، خوراک کے معیار اور رہائشی انتظامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے؟
