پاکستان کی جانب سے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی نے بھارتی ایئرلائنز کے آپریشنز اور مالی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) نے بھارتی رجسٹرڈ طیاروں، بھارتی ایئرلائنز کے زیرِ آپریشن یا لیز پر لیے گئے طیاروں سمیت فوجی پروازوں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں مزید توسیع کردی ہے۔ تازہ نوٹم کے مطابق یہ پابندی 24 ستمبر 2026 تک برقرار رہے گی۔
یہ پابندی اپریل 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد عائد کی گئی تھی اور اس کے بعد اسے متعدد مرتبہ توسیع دی جاچکی ہے۔ پابندی کا اطلاق پاکستان کے کراچی اور لاہور فلائٹ انفارمیشن ریجنز پر ہوتا ہے۔
فضائی راستہ بند ہونے کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو یورپ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا سمیت مختلف بین الاقوامی روٹس پر پاکستان کی فضائی حدود سے گریز کرتے ہوئے طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں متعدد پروازوں کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ ایندھن کی کھپت، فضائی راستوں، لینڈنگ اور دیگر آپریشنل اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس صورتحال سے بھارتی ایئرلائنز کو مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان ہوچکا ہے، جبکہ ہر ہفتے تقریباً 800 پروازیں متاثر ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ متبادل راستوں کے باعث بعض پروازوں کے سفر میں ایک سے تین گھنٹے تک اضافہ بھی ہوا ہے۔
بھارتی ایئرلائنز کے لیے مسئلہ صرف اضافی ایندھن تک محدود نہیں بلکہ طویل روٹس کی وجہ سے طیاروں کے استعمال، عملے کے اوقات، لینڈنگ اور پارکنگ سمیت دیگر اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اس سے ایئرلائنز کے آپریٹنگ مارجنز پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب، بھارت کی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ICRA نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فضائی پابندی برقرار رہنے کی صورت میں بھارتی ایئرلائنز کو رواں سال مزید تقریباً 600 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماضی میں ایئر انڈیا نے بھی پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے طویل عرصے تک برقرار رہنے کی صورت میں سیکڑوں ملین ڈالر کے اضافی اخراجات کا تخمینہ پیش کیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے تازہ توسیع کے بعد بھارتی ایئرلائنز کے لیے متبادل فضائی راستوں پر انحصار مزید بڑھ گیا ہے۔ موجودہ پابندی 24 ستمبر 2026 تک نافذ رہے گی، جس کے بعد اس کے خاتمے یا مزید توسیع کا فیصلہ کیا جائے گا۔

