پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو یہ بات پسند ہو یا نہ ہو، عمران خان سابق وزیراعظم ہیں اور ان کے ساتھ اسی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات کیے جانے چاہئیں۔
شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ حکومت پہلے ہی عمران خان کو ہسپتال منتقل کرکے ان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دے سکتی تھی۔ ان کے مطابق اس معاملے کو غیر ضروری طور پر طول دینے کے بجائے بروقت طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں تھیں۔
پیپلز پارٹی رہنما نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عوام کو بجلی، پٹرول اور غربت جیسے اہم مسائل کا سامنا ہے، لیکن سیاسی بحث کا مرکز عمران خان کی ہسپتال منتقلی بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کو آخر کس بات کی پریشانی یا خوف ہے؟ ان کے مطابق اس بارے میں حکومت ہی بہتر طور پر وضاحت کرسکتی ہے۔
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ملک میں اس وقت سیاسی کشمکش کی صورتحال ہے، جبکہ دوسری جانب آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی دھاندلی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ایسے ماحول میں سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وزیراعظم کو فلور آف دی ہاؤس پر مخاطب کرنے کے معاملے پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ اس معاملے کو بھی متنازع بنا دیا گیا۔
شرمیلا فاروقی کے بیان کے بعد عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال ایک بار پھر سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گئی ہے۔

