لاہور( این این آئی) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کو پوری امتمسلمہ پر حملے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب دفاع حرمین شریفین کے لیے عملی کردار ادا کرنے کا وقت آگیا ہے،جب حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی کوشش ہو تو اس سے بڑھ کر کوئی معاملہ باقی نہیں رہتا،مکہ مکرمہ مسلمانوں کے لیے محض ایک ریڈ لائن نہیں بلکہ اس سے بھی آگے کا معاملہ ہے، بیت اللہ شریف اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہیں اور ان مقدس مقامات کے دفاع کی ذمہ داری کسی ایک حکومت نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ پر عائد ہوتی ہے۔ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان معاہدہ اپنی جگہ موجود ہے لیکن اس معاہدے سے ہٹ کر بھی ایک مسلمان کی حیثیت سے پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ دفاع حرمین شریفین کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ یمن بھی ایک مسلم ملک ہے اور وہاں سے مکہ مکرمہ جیسے مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے۔مکہ معاہدے اور پاکستان کے ممکنہ عملی کردار سے متعلق سوال پر سردار محمد یوسف نے کہا کہ اگر حرمین شریفین پر حملہ ہوجائے تو اس سے آگے کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔معاہدہ بھی موجود ہے لیکن معاہدے سے ہٹ کر بھی ایک مسلمان کی حیثیت سے حرمین شریفین کا دفاع لازم ہے
