راولپنڈی(سٹاف رپورٹر) وفاقی وصوبائی حکومتوں نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں، اور داخلی راستوں پر خندقیں کھودی جار ہی ہیں اور مورچے بنائے جارہے ہیں جس کے لیے مزدوروں کو کام پر لگایا گیا ہے، پی ٹی آئی کے مظاہرین کو داخلے سے روکنے کے لیے سخت اقدات کرتے ہوئے اہم شاہراہوں پر رکھے گئے کنٹینروں میں مٹی کی بوریاں بھرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ ریڈزون کے گرد رکھے گئے کنٹینرز میں مٹی سے بھری بوریاں ڈالی جائیں گی، اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی آمدروفت روکنے کے لیے مٹی کی بوریاں رکھی جائیں گی۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ بوریوں میں مٹی بھرنے کے لیے درجنوں مزدوروں کو کام پر لگا دیا گیا ہے، مزدور صبح سے شام تک مٹی کی بوریاں بھرنے میں لگے ہوئے ہیں، بوریاں بھرنے کے لیے مٹی کی ٹرالیاں ریڈزون میں منگوائی جا رہی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ریڈزو ن کے داخلی راستوں پر مٹی کی بوریوں سے مورچے بھی بنائے جائیں گے اور مظاہرین کو روکنے کے لیے داخلی راستوں پر سڑکیں کھودنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ داخلی سڑکوں پر خندقیں کھودکر وہاں سے آمدورفت ناممکن بنانے کا پلان بنایا گیا،راولپنڈی اسلام آباد پولیس کے افسران کو خندقیں کھودنے کے لیے مشینری اور مزدور جمع کرنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔ذرائع نے کہا کہ سڑکیں روکنے اور کنٹینروں میں بھرنے کے لیے دو لاکھ بوریاں مٹی سے بھرنے کا ٹاسک بھی دیا گیا ہے، 26 نمبر چونگی، پیرودھائی، آئی جے روڈ سمیت خیبر پختونخواہ سے آنے والی سڑکوں پر خندقیں کھودی جائیں گی،دوسری جانب حکومت نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت مارچ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی اور کسی کو بھی اسلام آباد بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔جبکہ راولپنڈی میں تعلیمی ادارے، ہوٹل، مارکیٹس اور ٹرانسپورٹ ٹرمینلز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔20 سے 27 ستمبر کے دوران متوقع لانگ مارچز کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ راولپنڈی میں سیف سٹی منصوبے کے تحت نصب تمام ایک ہزار 500 کیمروں کو مظاہرین کی نگرانی کے لیے فعال کردیا گیا ہے۔راولپنڈی میں تمام اسکول، کالجز اور جامعات، ہوٹل، موٹل، ریسٹ ہاسز اور سرائے آئندہ ہفتے بند رہیں گے، ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے ٹرمینلز بھی مکمل طور پر بند رہیں گے، جبکہ میٹرو بس اور گرین الیکٹرک بس سروس بھی معطل رہے گی۔شہر کی تمام مارکیٹس اور ہول سیل مارکیٹس بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جڑواں شہروں کے داخلی راستوں پر بڑے اسپائکس والے کنٹینرز نصب کیے جارہے ہیں، جن میں 8 انچ کے اسپائکس لگے ہوئے ہیں۔ فیض آباد، چونگی نمبر 26، روات، چکری، اڈیالہ روڈ، پیرودھائی، بھارہ کہو اور 17 میل سمیت مختلف داخلی راستوں کو بند کیا جارہا ہے، جبکہ ڈرونز کے ذریعے بھی نگرانی کی جائے گی۔جڑواں شہروں کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔رینجرز اور پنجاب کانسٹیبلری کے مزید دستے بھی طلب کرلیے گئے ہیں، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس کو ہزاروں ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل فراہم کیے گئے ہیں۔اٹک پولیس کو بھی رینجرز کی بھاری نفری، بکتر بند گاڑیاں، قیدیوں کی وینز، بھاری ہتھیار اور اہلکار فراہم کیے گئے ہیں، جو بدھ اور جمعرات کو ڈیوٹی سنبھالیں گے۔ حکام کے مطابق خیبرپختونخوا سے آنے والے مرکزی لانگ مارچ کو ہر صورت روکا جائے گا۔ایدھی مراکز کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے۔ آئندہ ہفتے اڈیالہ جیل میں قید ملزمان کو راولپنڈی اور اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں کیا جائے گا، جبکہ جیل کے عملے کو بھی شہر میں سیکیورٹی ڈیوٹی سونپ دی گئی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پیر سے طاقت کا مظاہرہ بھی شروع کیا جائے گا۔جماعت اسلامی کا لانگ مارچ گزشتہ روز کراچی سے شروع ہوگا، جبکہ راولپنڈی ڈویژن کے تمام 6 اضلاع سے قافلے بھی اتوار سے لیاقت باغ پہنچنا شروع ہوجائیں گے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن بھی اتوار کو ٹرین کے ذریعے کراچی سے راولپنڈی روانہ ہوں گے اور ان کا ٹرین مارچ 22 ستمبر کو راولپنڈی پہنچے گا۔سڑکوں کی بندش اور مختلف مقامات پر اسپائکس والے کنٹینرز کی تنصیب کے باعث راولپنڈی میں 21 سے 27 ستمبر تک تمام کاروباری، تجارتی اور سماجی سرگرمیاں معطل رہنے کا امکان ہے۔
خندقیں
