لاہور(کرائم رپورٹر)پنجاب پولیس سرگودھا کے کانسٹیبل فضل احمد فرائض کی انجام دہی کے
دوران جام شہادت نوش کر گئے۔ ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ پولیس نے تھانہ کوٹ مومن کی حدود میں مطلوب ملزم کی گرفتاری کے لیے ریڈ کیا کہ ملزم نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی۔ ملزم کی فائرنگ سے ایک گولی کانسٹیبل فضل احمد کی چھاتی پر لگی۔ کانسٹیبل فضل احمد کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم نے شہید کانسٹیبل فضل احمد کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پنجاب پولیس شہید کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید کے اہلخانہ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کی فلاح و بہبود کا بھرپور خیال رکھا جائے گا۔ دریں اثناء شہید کانسٹیبل فضل احمد کی نماز جنازہ پولیس لائنز سرگودھا میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں ڈی پی او توقیر محمد نعیم، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلی افسران، ممبران پنجاب اسمبلی، پولیس افسران و ملازمین، دیگر اعلی عہدیداران اور سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید کانسٹیبل فضل احمد کے جسد خاکی کو سلامی پیش کی جبکہ شہید کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہید کا جسد خاکی تدفین کے لیے ان کے آبائی گاوں نصیر پور کلاں روانہ کر دیا گیا۔ ڈی پی او سرگودھا توقیر محمد نعیم نے شہید کانسٹیبل فضل احمد کی محکمانہ خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور شہید کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے شہید کے بلند ہمت و حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہید کے ورثا ہمارے اپنے ہیں جن کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ڈی پی او توقیر محمد نعیم نے کہا کہ پولیس کا ہر جوان غیر متزلزل ہمت و حوصلے کا مالک ہے، ہر شہید ہمارے مشن کی تکمیل میں عزم و ارادے کو مزید تقویت بخشتا ہے۔ پنجاب پولیس اپنے بہادر شہدا کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور شہدا کے خاندانوں کی ہر ممکن دیکھ بھال اور معاونت کا سلسلہ جاری رکھے گی
