پختونخوا (KP) اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرمیں گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آخری حربہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی عام طور پر گورنر راج کے حق میں نہیں ہے اور 18ویں آئینی ترمیم کے بعد کسی بھی صوبے میں اس کا نفاذ انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا ماننا ہے کہ گورنر راج مستقل حل نہیں ہے اور اسے صرف انتہائی مخصوص اور محدود حالات میں ہی آخری حربے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی اسمبلیوں کو مضبوط کیا گیا ہے، اس لیے جمہوری عمل کو معطل کرنا درست اقدام نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کو انتباہ: دوسری جانب، انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت (پی ٹی آئی) کی پالیسیاں اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال وفاقی حکومت کو سخت اقدامات کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی حالیہ گونج کے دوران بلاول بھٹو کا یہ بیان صوبے میں جمہوری بالادستی اور آئینی ضوابط کو برقرار رکھنے کی وکالت کرتا ہے۔
