لاہور (مہران اجمل خان سے) پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ٹیکس وصولی کا بڑا سکینڈل،22 کروڑ 9 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں بے نقاب، محکمہ صحت کی کمزور نگرانی کے باعث کروڑوں روپے کے ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع نہ ہوسکے، آڈیٹر جنرل نے ریکوری کی سفارش کر دی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں اور طبی اداروں میں ٹیکسوں کی کٹوتی اور وصولی کے نظام کی ناقص نگرانی کے باعث 22 کروڑ9 لاکھ9 ہزار206 روپے کے ٹیکس کم وصول یا وصول ہی نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے مالی معاملات پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے ذمہ دار اداروں سے رقم کی ریکوری اور سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔ آڈٹ پیرا کے مطابق مختلف سرکاری ہسپتالوں اور طبی اداروں کی جانب سے سپلائرز اور سروس فراہم کرنے والوں کو ادائیگی کے وقت انکم ٹیکس اور پنجاب سیلز ٹیکس مقررہ شرح کے مطابق منہا نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 220ملین روپے کا سرکار کو نقصان سامنے آیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق سب سے بڑی بے ضابطگی پی کے ایل آئی میں سامنے آئی جہاں ٹیکس سے مستثنیٰ ہونے کے باوجود 6 کروڑ 16 لاکھ60 ہزار68 روپے جی ایس ٹی کی ادائیگی کا معاملہ رپورٹ ہوا۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج اینڈ الائیڈ انسٹی ٹیوشنز میں سرجیکل و ڈسپوزیبل اشیا پر انکم ٹیکس کی ریکوری نہ ہونے سے2 کروڑ 77 لاکھ5 ہزار630 روپے جبکہ اسی ادارے کے کنٹین کنٹریکٹر سے پنجاب سیلز ٹیکس کی ریکوری نہ ہونے سے2 کروڑ47 لاکھ10 ہزار 400 روپے، شیخ زاید میڈیکل کالج و الائیڈ انسٹی ٹیوشنز رحیم یار خان میں مقامی خریداری پر جی ایس ٹی کی عدم وصولی سے 1 کروڑ 92 لاکھ 51 ہزار801 روپے، ساہیوال میڈیکل کالج میں ٹیکسوں کی عدم وصولی سے1 کروڑ54 لاکھ 31 ہزار731 روپے جبکہ محکمہ صحت کے کنٹریکٹر کی جانب سے مقررہ شرح کے بجائے 18 فیصد جی ایس ٹی چارج کرنے کے معاملے میں1 کروڑ21 لاکھ37 ہزار 218 روپے کی بے ضابطگی سامنے آئی۔ رپورٹ میں فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، بہاول وکٹوریہ ہسپتال، الائیڈ ہسپتال فیصل آباد، چلڈرنز’ پیڈیاٹرکس ہسپتال، لاہور جنرل ہسپتال، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، نشتر ہسپتال ملتان، لیڈی ایچیسن ہسپتال سمیت متعدد اداروں میں بھی ٹیکسوں کی عدم کٹوتی یا کم وصولی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں قرار دیا گیا کہ کمزور سپروائزری اور اندرونی کنٹرولز ٹیکسوں کی کم یا عدم وصولی کی بنیادی وجہ بنے۔ آڈٹ کے مطابق یہی مسئلہ سابقہ آڈٹ رپورٹس میں بھی مسلسل سامنے آتا رہا ہے۔ 2018-19 سے 2023-24 تک مختلف آڈٹ رپورٹس میں اسی نوعیت کی بے ضابطگیاں بار بار رپورٹ ہوئیں جن کے مالی اثرات کروڑوں روپے میں تھے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق معاملہ محکمہ صحت کے سامنے متعدد ڈی اے سی اجلاسوں میں اٹھایا گیا تاہم کئی پیراز تاحال ریکوری، تعمیل یا تحقیقات کے لیے زیرالتوا رہے۔ آڈٹ حکام نے محکمہ صحت سے 22 کروڑ 9 لاکھ 9 ہزار 206 روپے کی ریکوری، رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے اور ٹیکس وصولی کے داخلی و نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کی سفارش کی ہے۔
